نام و نسب:☜

محمد نام اور لقب جلال الدین شہرت مولانا روم یا مولانا رومی کے لقب سے ہیں۔ آپکا نسب باپ کی جانب سے نو واسطوں سے حضرت ابو بکر صدیقؒ تک پہنچتا ہے اور ماں کی جانب سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے۔ مولانا کے آباء واجداد بلخ واقع خراسان کے رہنے والے تھے۔مولانا کی وہیں شادی ہوئی۔مولانا کے پدری و مادری سلسلہ میں اجلہ علماء و سلاطین وقت ہیں۔مولانا کی دادی بلکہ جہانِ شاہان خوارزم کے خاندان سے تھیں۔

مولانا روم کے والد کا نام محمد لقب بہاؤ الدین ولد تھا۔بہاؤ الدین ولد تمام علوم میں کامل و ماہر تھے۔آپکے علم و فضل کی کیفیت یہ تھی کہ اقصائے خراسان سے مشکل فتوے آپ ہی کے پاس آتے تھے۔مجلس کا طریق بادشاہوں کا سا تھا۔سلطان العلما کا خطاب بھی تھا۔معمول تھا کہ صبح سے دوپہر تک درس عام ہوتا ظہر کے بعد اپنے خاص اصحاب کے حلقے میں حقائق و معارف بیان فرماتے۔ دو شنبہ اور جمعہ کو عام واعظ فرماتے۔ہیبت نمایاں رہتی اور ہمیشہ متفکر معلوم ہوتے۔

مولانا کی پیدائش اور ابتدائی تعلیم:☜

مولانا جلال الدین رومیؒ کی پیدائش 6 ربیع الاول 604ھ کو ہوئی۔ سلطان العلماء کے مریدان ایک بلند پایہ بزرگ سید برھان الدین محقق ترمذی تھے۔ سلطان العلماء نے آپ ہی کو مولانا کا اتالیق مقرر فرمایا اور چار، پانچ سال تک مولانا آپ ہی کی زیر تربیت رہے اور اپنے والد بزرگوار کے انتقال کے بعد آپ ہی کے زیر ہدایت منازل سلوک طے کیے۔

اخلاق و خصوصیات:☜

مولانا شبلی مرحوم سوانح مولانا روم میں لکھتے ہیں؛ "مولانا جب تک تصوف کے دائرے میں نہیں آئے آپکی زندگی عالمانہ جاہ و جلال کی ایک شان رکھتی تھی۔انکی سواری جب  نکلتی تھی تو علماء اور طلباء بلکہ امراء کا ایک بڑا گروہ رکاب میں ہوتا تھا۔سلاطین و امراء کے دربار سے بھی انکو تعلق تھا۔لیکن سلوک میں داخل ہونے کے ساتھ ساتھ یہ حالت بدل گئی۔درس و تدریس، افتاء و افادہ  کا سلسلہ اب بھی جاری تھا لیکن وہ پچھلی زندگی کی ایک محض یادگار تھی ورنہ زیادہ تر محبت و معرفت کے نشہ میں سرشار رہتے تھے۔”

ریاضت و مجاہدہ:☜

ریاضت و مجاہدہ حد سے بڑھا ہوا تھا۔سپہ سالار برسوں ساتھ رہے ہیں۔انکا بیان ہے کہ میں نے انکو کبھی شب خوابی کے لباس میں نہیں دیکھا۔بچھونا اور تکیہ بالکل نہیں ہوتا تھا۔قصدًا لیٹتے نہیں تھے۔نیند غالب ہوتی تو بیٹھے بیٹھے سو جاتے۔ روزہ اکثر رکھتے تھے اور کئی کئی روز مسلسل کچھ نہ کھاتے تھے۔

زہد و قناعت:☜

مزاج میں انتہائی درجہ کی زہد و قناعت تھی۔تمام سلاطین و امراء نقدی اور ہر قسم کے تحائف بھجتے تھے لیکن مولانا اپنے پاس کچھ نہیں رکھتے تھے۔جو چیز آتی اسی طرح صلاح الدین زرکوب یا چلپی حسام الدین کے پاس بجھواتے۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا کہ گھر میں نہایت تنگی ہوتی اور مولانا کے صاحبزادے سلطان ولد اصرار کرتے تو کچھ رکھ لیتے۔جس دن گھر میں کھانے کا سامان کچھ نہ ہوتا تو بہت خوش ہوتے اور فرماتے کہ ہمارے گھر میں درویشی کی بو آتی ہے۔

آپ بچپن ہی سے اعلی استعداد اور جزبہ محبت کے حامل تھے۔مناقب العارفین میں خود آپ ہی کی زبانی منقول ہے کہ ابھی سن بلوغ کو بھی نہیں پہنچے تھے کہ نبی کریمﷺ کے عشق میں تیس تیس چالیس چالیس دن تک غذاءض کی خواہش نہیں ہوتی تھی۔علوم ظاہری سے فارغ ہونے کے بعد آپ شیخ ابو بکر سلہ باف کے مرید ہوئے۔ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ شیخ زین الدین سنجاسی کے مرید تھے۔بعض روایتوں میں دوسرے نام لیئے گئے ہیں۔

جب آپکو اس طرح سیری نہ ہوئی تو آپ اطراف عالم میں مردان کدا کی تلاش میں پھرنے لگے۔یہ سفر اس طرح کرتے تھے کہ لوگ آپکی ولایت و کمال سے واقف نہ ہوتے تھے۔نمد سیاہ پہنتے اور جہاں جاتے سراۓ میں قیام کرتے۔دروازے میں قیمتی قفل لگا دیتے تھے تاکہ لوگ سمجھیں کہ کوئی بڑا تاجر ہے۔مگر اندر سوائے بورے کے کچھ نہ ہوتا تھا۔کثرت اسفار کی وجہ سے لوگ آپکو شمس پرندہ کہنے لگے۔

تبریز، بغداد، اردن ، روم ، قیصر ، دمشق کا سفر فرمایا۔معاش کا یہ طریقہ تھا کہ ازار بن لیا کرتے تھے اور اسی کو بیچ کر کام چلاتے تھے۔غذا کی کیفیت یہ تھی کہ دمشق میں ایک سال رہے، ہفتہ میں ایک پیالہ سری کا شوربہ وہ بھی بنا روغن پی لیا کرتے تھے۔کسی کو اپنی صحبت کا متحمل نہیں پاتے تھے۔خدایا کوئی رفیق ایسا عطا کر جو میری صحبت کا متحمل ہو۔

مولانا کی ملاقات اور تغیر عظیم:☜

آپ کے شیخ نے آپ سے فرمایا کہ روم جاؤ وہاں ایک دل سوختہ ہے اسے روشن کر آؤ۔ 22 جمادی آخر 642 کو قونیہ پہنچے شکر فروش کے یہاں قیام کیا۔ایک روز دیکھا کہ مولانا سوار چلے آ رہے ہیں اور لوگ گرد وپیش استفادہ کر رہے ہیں۔شمس نے آگے بڑھ کر پوچھا کہ ریاضت و علوم کی غرض کیا ہے۔؟؟؟ مولانا نے کہا آداب و شریعت کا جاننا!  شمس نے کہا کہ نہیں بلکہ غرض یہ کہ معلوم تک رسایئ ہو جائے۔

مولانا حضرت شمس کو لے کر اپنے مقام پر آۓ اور بقول افلاکی چالیس روز تک حضرت شمس کے ساتھ ایک حجرے میں رہے جس میں کوئی داخل نہیں ہو سکتا تھا۔سپہ سالار نے لکھا ہے کہ چھ مہینہ تک صلاح الدین زرکوب کے حجرے میں دونوں بزرگ عزلت نشین رہے۔ سواۓ شیخ صلاح الدین کے کسی کی مجال نہ تھی کہ کمرے میں داخل ہو جائے۔

شمس کی ملاقات نے مولانا کو نئی روح عطاء کی۔نتیجہ یہ ہوا کہ شمس کی ملاقات کے بعد مولانا نے درس و تدریس، واعظ گوئی سب یک قلم ترک کر دی۔

شورش عام:☜

مولانا اس طرح ہر بات میں حضرت شمس کی پیروی کرنے لگے اور تمام تعلقات منقطع ہونے لگے، تو یہ امر مولانا کے شاگردوں اور مریدوں پر سخت شاق گزرا۔ ایک شورش کی کیفیت سی پیدا ہوگئی۔ایک برہمی کے ساتھ گو نہ حیرت بھی شامل تھی۔شمس کے حالات سے لوگ واقف نہ تھے۔مریدوں کا خیال تھا کہ ہم نے عمریں مولانا کی خدمت میں گزاری ہیں۔مولانا کی کرامتوں کو دیکھا تمام اطراف و کناف میں آپکی شہرت کا باعث ہوۓ۔اب ایک بے نام و نسب شخص آیا اور مولانا کو سب سے الگ کر لیا۔ آپکی صورت تک دیکھنا نصیب نہیں ہوتی۔ درس و تدریس واعظ و نصیحت سب بند ہو گئی۔ ضرور یہ کوئی  مکار یا ساحر شخص ہے، ورنہ اسکی کیا ہستی ہے کہ ایک پہاڑ کو تنکے کی طرح بہا لے جائے۔

غرض سب کے سب شمس کے دشمن ہو گئے۔مولانا کے سامنے کچھ نہ کہہ سکتے تھے۔ادھر ادھر ٹل جاتے تو برا بھلا کہتے اور دن رات اسی فکر میں غلطیاں و پینچا رہتے کہ کسی طرح حضرت شمس کو وہاں سے نکالیں کہ پھر حسب سابق مولانا کی صحبت سے فیضیاب ہو سکیں۔

شمس کی غیبت:☜

شمس الدین ان لوگوں کی گستاخیوں کا تحمل کرتے رہے اور سمجھتے رہے کہ مولانا کے وفورِ عقیدت کی وجہ سے یہ لوگ اس طرح آزردہ ہیں۔مگر جب معاملہ حد سے تجاوز کر گیا اور آپ نے سمجھ لیا کہ اب انجام اسکا فتنہ اور فساد پر ہوگا تو آپ ایک دن خاموشی کے ساتھ قونیہ سے نکل گئے۔ افلاکی نے اس غیبت اول کی تاریخ یکم شوال 643 ھ دی ہے۔اس طرح بار اول قونیہ میں آپکا قیام برسوں رہا۔

شمس کی جدائی مولانا پر بہت شاق گزری۔ مریدوں نے جو کچھ سوچا تھا اسکے برعکس واقع ہوا۔ اسکے بجائے کہ شمس کے چلے جانے کے بعد مولانا ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے لیکن جو کچھ توجہ تھی وہ بھی جاتی رہی اور ان ناقصوں کی وجہ سے اصحاب صدق و وفا بھی مولانا کی صحبت سے محروم ہو گئے۔

مولانا کی بیقراری اور شمس کی واپسی:☜

بقول سپہ سالار انقطاع کلی کی یہ حالت اس وقت تک قائم رہی کہ دمشق سے اچانک شمس الدین کا خط مولانا کے نام آیا۔ یہ خط کے پانے کے بعد مولانا کی کچھ حالت بدلی اور شمس کے شوق و عشق میں سماع کی جانب متوجہ ہوئے اور جن لوگوں نے حضرت شمس کے خلاف حرکات میں شرکت نہیں کی تھی ان پر حسب سابق عنایت فرمانے لگے۔اس عرصہ میں مولانا نے حضرت شمس کی خدمت میں چار منظوم خط لکھے۔جس میں اپنی کیفیت اور اشتیاق ملاقات کی بیتابی کا ذکر کیا ہے۔

اسی اثناء میں شورش بہت کچھ کم ہو گئی اور لوگوں نے شمس کی مخالفت ترک کر دی اور مولانا نے شمس کو واپس بلانے کی تدبیر کی۔ صاحبزادے سلطان ولد سے فرمایا کہ تم میری طرف سے اس شاہ مقبول کی طرف جاؤ اور یہ لے جا کر انکے قدموں پر نثار کر دو اور میری جانب سے کہو کہ جن مریدوں نے گستاخی کی تھی وہ صدق دل سے توبہ کرتے ہیں اور التجا کرتے ہیں کہ جو خطایئں ہوئی ہیں درگزر فرمائیں اور اس جانب قدم رنجہ فرمائیں۔ انکے ہاتھ جو نیاز نامہ بھیجا ان میں مفارقت سے اپنی حالت بیان کرتے ہیں۔ پھر سلطان ولد حضرت کو عزت و احترام شہانہ کے ساتھ واپس قونیہ لے آئے۔

مثنوی روم کی تحریک:☜

مثنوی شریف کی تصنیف اسی زمانے کا کارنامہ ہے۔اسمیں حضرت حسام الدین کی تحریک کو بہت بڑا دخل ہے۔بلکہ یہ کہنا کچھ بیجا نہ ہوگا کہ مثنوی شریف کا وجود میں آنا آپ ہی کی وجہ سے تھا۔

فروز انفر نے لکھا ہے کہ مثنوی شریف کی تالیف چلپی حسام الدین کی طلب و فرمائش کا نتیجہ ہے۔چلپی دیکھتے تھے کہ مولانا کے احباب شیخ عطار و سئنائی کے تصنیفات و کلام کے مطالع میں مصروف رہتے ہیں۔ مولانا کی غزلیات کا اگر چہ بڑا ذخیرہ ہے مگر اسمیں حقائق و تصوف و دقائق سلوک سے زیادہ مولانا کی گرم طبع و جوش عشق ہے۔وہ موقع کے منتظر تھے۔ایک رات مولانا کو تنہا دیکھ کر انہوں نے عرض کیا کہ کوئی کتاب حدیقہ سنائی و منطق الطیر کے طرز پر لکھی جائے۔ مولانا نے سنتے ہی اپنے عمامہ میں سے ایک کاغذ نکالا جس میں 18 شعر لکھے تھے۔پہلا شعر وہ جسکو مثنوی کا آغاز اور مطالع بننا نصیب ہوا۔پس یہ مثنوی کی تالیف کا آغاز تھا۔

مثنوی کا اثر:☜

مثنوی نے عالم اسلام کے افکار و ادبیات پر بہت گہرا اثر ڈالا۔ اسلامی ادب میں ایسی شاد و نادر کتابیں ملیں گی جنہوں نے عالم اسلام کے اتنے وسیع حلقہ کو اتنی طویل مدت تک متاثر رکھا ہے۔ چھ صدیوں سے دنیائے اسلام کے مسلسل ادبی علمی اور عقلی حلقے اس کے نغمات سے گونج رہے ہیں اور دماغ کو نئی روشنی دلوں کو نئی حرارت بخش رہی ہے۔ اس سے ہر دور میں شاعروں نے نئے مضامین نئی زبان نیا اسلوب نکالا ہے اور وہ انکے قواۓ فکر اور ادبی صلاحیتوں کو ابھارتی رہی۔معلمین و متکلمین کو اپنے زمانہ کے سوالات و شبہات کو حل کرنے کے لئے اس سے نئے نئے مسائل اور دلائل دلنشین مثالیں اور جواب کی نئی راہیں ملتی رہی۔اس لئے ہر دور کے اہل محبت اور اہل معرفت نے اس کو شمع محفل اور ترجمان دل بنا کر رکھا۔

مولانا کی وفات:☜

سپہ سالار کا قول ہے کہ قونیہ میں مولانا روم کے انتقال سے قبل چالیس روز زلزلہ آتا رہا۔افلاکی کا بیان ہے کہ مولانا ابھی صاحب فراش تھے اور سات روز مسلسل زلزلہ آتا رہا۔ تمام لوگ عاجز آ گئے مولانا سے طلب و امداد کی۔ فرمایا زمین بھوکی ہوگئی ہے۔ لقمہ چرپ چاہتی ہے۔جلد کامیاب ہو جائیگی۔ یہ زحمت تم لوگوں سے جلدی رفع ہو جائیگی۔

چلپی حسام کی روایت ہے کہ ایک دن شیخ صدرالدین اکابر درویشوں کے ساتھ مولانا کی عیادت کو آئے۔مولانا کی حالت دیکھ کر رنجیدہ ہوئے اور فرمایا کہ خداء شفا عاجلہ عطا فرماے اور امید ہے کہ صحت کلی حاصل ہو جائیگی۔مولانا نے فرمایا اب شفا آپ ہی کو مبارک ہو۔عاشق و معشوق میں بال کا پیراہن آ گیا ہے۔کیا آپ نہیں چاہتے کہ وہ بھی اٹھ جاۓ اور نور نور میں شامل ہو جائے؟۔

5 جمادی الآخر کو 572ھ کو بوقت غروب آفتاب حقائق و معارف بیان فرماتے ہوئے انتقال فرمایا۔انتقال کے وقت مولانا کی عمر 68 سال 3 ماہ تھی۔ آپکے جنازے کو جب باہر لاۓ تو قیامت کا ازدہام برپا ہو گیا۔ہر قوم و ملت کے لوگ ساتھ تھے۔سب روتے جاتے یہودی اور عیسائی تورات اور انجیل پڑھتے جاتے۔مسلمان انکو ہٹاتے مگر وہ باز نہیں آتے۔فساد کا اندیشہ ہوا جب یہ خبر  معین الدین پروانہ کے حاکم کو پہنچی تو اس نے راہبوں اور قسسیوں سے پوچھا کہ تمہیں اس امر سے کیا تعلق ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے انبیاء سابقین کی حقیقیت کو ان کے بیان سے ہی سمجھا ہے۔وہ لوگ اسی طرح تابوت کے ساتھ رہے۔ہجوم کی حالت یہ رہی کہ تابوت صبح سویرے مدرسہ سے روانہ ہوا تھا۔اور شام کے قریب قبرستان پہنچا۔ آخر بوقت شب یہ آفتاب فقر و تصوف دیدۂ ظاہر سے نہا ہو گیا۔۔۔۔۔ان للہ وان الیہ رجعون۔

Advertisements