Advertisement

تعارفِ نظم :

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”اسلامی مساوات“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام مولانا الطاف حسین حالی ہے۔ یہ نظم کتاب مسدس حالی سے ماخوذ کی گئی ہے۔

Advertisement

تعارف شاعر :

الطاف حسین ۱۸۷۳ء میں پانی پت میں پیدا ہوئے۔ آپ کا نام الطاف حسین، حالی تخلص، اور شمس العلماء خطاب تھا۔ آپ کے والد کا نام خواجہ ایزد بخش انصاری تھا۔ آپ نے پہلے قرآن پاک حفظ کیا پھر عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ آپ کی شادی سترہ برس کی عمر میں کردی گئی۔ آپ دہلی بھی گئے جہاں آپ کو مزرا غالب اور نواب مصطفی خان شیفتہ کی صحبت میسر آئی۔ اس کے بعد آپ لاہور آگئے اور پنجاب بک ڈپو میں ملازمت اختیار کرلی۔ وہاں انھوں نے کتب کے اردو تراجم پر نظر ثانی اور درستی کا کام کیا۔ اس کام سے حالی کو انگریزی زبان اور اس کے ادب سے آگاہی حاصل ہوئی۔ یہیں انھوں نے مولانا محمد حسین آزاد کے ساتھ مل کر موضوعاتی مشاعروں کی بنیاد ڈالی ، جن میں شاعر مختلف موضوعات پر نظمیں لکھر کر لایا کرتے تھے۔ انھی مشاعروں میں حالی نے ” برکھا رُت ، رحم و انصاف ، حُبِ وطن اور امید“ کے عنوان سے نظمیں پڑھیں۔ حالی نے سرسید کی مشہور تحریک پر اپنا مشہور مسدس ”مدّ و جزرِ اسلام“ بھی لکھا جو مسدسِ حالی کے نام سے مشہور ہوا۔ ”حیاتِ سعدی، مقدمہ شعر و شاعری ، یادگارِ غالب اور حیاتِ جاوید“ حالی کی اہم نثری تصانیف میں سے قابلِ ذکر ہیں۔

Advertisement
کسی قوم کا جب الٹتا ہے دفتر
تو ہوتے ہیں مسخ ان میں پہلے تو نگر
کمال ان میں رہتے ہیں باقی نہ جوہر
نہ عقل ان کی ہادی نہ دین انکا رہبر
نہ دنیا میں ذات نہ عزت کی پروا
نہ عقبیٰ میں دوزخ نہ جنت کی پروا

تشریح : مسدس مد و جزر اسلام حالی کی شہرہ آفاق نظم ہے۔ اس میں حالی نے مسلمانوں کے شان دار ماضی اور پس ماندہ حال کے پس منظر کو بیان کیا ہے۔ مسدس کے اس حصے کے پہلے بند میں حالی نے مسلمانوں کے صاحب حیثیت اور امیر افراد کی ان عادات کو بیان کیا ہے ، جن کی وجہ سے مسلمان زوال پذیر ہوئے۔

Advertisement

حالی کہتے ہیں کہ تہذیب یافتہ، متمدن اور دنیا پر حکمران قوموں کے صاحب اقتدار اور صاحب ثروت افراد جس وقت اپنے اخلاق بگاڑ لیتے ہیں ، اپنی دولت کے نشے میں اپنے گرد و پیش سے بے خبر ہو جاتے ہیں اور معاشرے کے ضرورت مندوں کی طرف سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں تو دنیا سے اس قوم کے مٹنے کا آغاز ہو جاتا ہے۔ یعنی کسی قوم پر جب زوال کے آثار شروع ہوتے ہیں تو سب سے پہلے اس کے دولت مند افراد کی عادات بدلنے لگتی ہے۔ وہ دولت کو سب کچھ سمجھنے لگتے ہیں ، اس لیے وہ نہ تو کسی شعبے میں کمال حاصل کرتے ہیں اور نہ ان میں کوئی ہنر باقی رہتا ہے۔ وہ یہ خیال کرنے لگتے ہیں کہ جب ہمارے پاس مال و دولت کی فراوانی ہے تو ان کمالات کو حاصل کرنے کی کوشش کیوں کی جائے۔

چنانچہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسے افراد ایک طرف عقل سے کام لینا چھوڑ دیتے ہیں تو دوسری جانب دین کی پیروی کو بھی ضروری خیال نہیں کرتے ، اس طرح نہ تو وہ دنیاوی فلاح و بہبود کے لیے اپنے مال کو خرچ کرتے ہیں اور نہ نیک انجام کے لیے صدقہ وخیرات پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ اس تصور کے پابند ہو جاتے ہیں کہ دولت ہی سے عزت ہے۔ چناں چہ وہ عزت اور ذلت کی حقیقی صورتوں کو نظر انداز کر کے محض دولت جمع کرنے کی جستجو میں مگن ہو جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں نہ تو وہ دنیاوی ذلت کی پروا کرتے ہیں اور نہ آخرت میں حلال وحرام کی وجہ سے جنت اور دوزخ کو پیش نظر رکھتے ہیں۔

Advertisement
نہ مظلوم کی آہ و زاری سے ڈرنا
نہ مفلوک کے حال پر رحم کرنا
ہوا و ہوس میں خودی سے گزرنا
تعیش میں جینا نمائش پہ مرنا
سدا خوابِ غفلت میں بیہوش رہنا
دمِ نزع تک خود فراموش رہنا

تشریح : مسدس مد و جزر اسلام حالی کی شہرہ آفاق نظم ہے۔ اس میں حالی نے مسلمانوں کے شان دار ماضی اور پس ماندہ حال کے پس منظر کو بیان کیا ہے۔ مسدس کے اس بند میں حالی فرماتے ہیں کہ جب انسان دولت کو سب کچھ سمجھ لیتا ہے تو اسے اس کی پروا نہیں رہتی کہ دولت جائز طریقے سے آرہی ہے یا اس میں دوسروں کی حق تلفی اور نا جائز ذرائع کے استعمال سے حرام کا عصر شامل ہورہا ہے۔

چنانچہ ان غلط طریقوں سے جمع کی ہوئی دولت سے انسان دولت کا پجاری بن کے رہ جاتا ہے۔ اب وہ یہ خیال کرنے لگتا ہے کہ یہ ساری دولت اس کی اپنی محنت، اس کی منصوبہ بندی اس کی چالاکی اور اس کی اپنی ذہانت سے جمع ہوئی ہے، اس لیے وہ اس میں دوسروں کے حق سے بھی انکار کر دیتا ہے۔ ایک مہذب معاشرے کے آسودہ حال افراد سماج کے ضرورت مندوں اور محتاجوں کی احتیاجات کا ہرممکن خیال رکھتے ہیں اور اسلامی معاشرہ تو اس بات پر سب سے زیادہ زور دیتا ہے کہ مساکین ، غربا ، ضرورت مند ، مسافر، لاچار اور یتیموں کا ہر طرح سے خیال رکھا جاۓ۔ اس کی معاشی اور معاشرتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اسلام نے زکوۃ صدقات اور خیرات کے شاندار تصورات دیے ہیں لیکن زوال پذیر قوم کے آسودہ حال افراد اپنی دولت کے نشے میں دوسروں کے ساتھ زیادتی سے بھی نہیں چوکتے اور مفلس اور نادار افراد پر رحم کرنا بھی بھول جاتے ہیں۔ دولت کی ہوس انھیں اندھا کر دیتی ہے اور وہ غرور اور تکبر میں اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ ان کی زندگی عیش وعشرت اور آرایش و زیبایش میں بسر ہونے لگتی ہے۔ مال و دولت کی فراوانی ان کی آنکھوں پر اس وقت تک غفلت کی پٹی باندھے رکھتی ہے، جب تک ان کی زندگی کے آخری لمحات نہیں آجاتے۔

Advertisement
پریشاں اگر قحط سے اک جہاں ہے
تو بے فکر ہیں کیونکہ گھر میں سماں ہے
اگر باغِ امت میں فصلِ خزاں ہے
تو خوش ہیں کہ اپنا چمن گل فشاں ہے
بنی نوعِ انساں کا حق ان پہ کیا ہے
وہ اک نوع، نوعِ بشر سے جدا ہے

تشریح : اس بند میں حالی کہتے ہیں کہ جب کوئی قوم تباہی کی جانب گامزن ہوتی ہے تو اس میں بدخصلتوں کا آغاز ہو جاتا ہے ۔اسلامی معاشرہ ایثار و قربانی اور احسان کے جذبات کا حامل ہوتا ہے، جب کہ ایک خود غرض اور ہوس پرست معاشرے میں افراد قوم میں اجتماعی سوچ کی جگہ محض انفرادی نفع ونقصان کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔

حالی کہتے ہیں چوں کہ مسلمان قوم زوال کی طرف تیزی سے گامزن ہے، اس لیے مالی و معاشی اعتبار سے اس کے برتر طبقے میں ایثار و احسان کے جذبات ختم ہو گئے ہیں۔ چناں چہ جب ملک و قوم کو خشک سالی یا قحط جیسی سنگین صورت کا سامنا ہوتا ہے تو یہ طبقہ عوام الناس کی مجبوری اور بھوک کو نظر انداز کرتے ہوۓ فقط یہ سوچ کے مطمئن ہو جاتا ہے کہ میرے بچوں کے لیے تو خوراک موجود ہے۔ ملک بھر کے بچے اگر خوراک کی کمی کا شکار ہیں تو میں کیا کروں؟ کیا ان کی بھوک مٹاتے ہوۓ میں اپنے بچوں کو قربان کر دوں۔ حالاں کہ اپنے پاس محفوظ ذخائر سے اگر وہ لوگ اپنے ضرورت مند عزیزوں، لاچار ہمسایوں اور معاشرے کے محتاجوں کو بھی ضرورت کی چند اشیاء دے دیتے تو باہمی تعاون سے قوم پر سے یہ کڑا وقت سہولت سے گزر سکتا تھا لیکن وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم پر ان لوگوں کا حق ہی کیا ہے۔

Advertisement
کہاں بندگانِ ذلیل اور کہاں وہ
بسر کرتے ہیں بے غمِ قوت و ناں وہ
پہنتے نہیں جز سمور و کتاں وہ
مکاں رکھتے ہیں رشکِ خلدِ جناں وہ
نہیں چلتے وہ بے سواری قدم بھر
نہیں رہتے بے نغمہ و ساز دم بھر

تشریح : حالی کہتے ہیں کہ قوم کے ایسے افراد اپنے طبقے کو قوم کے رہبر، قوم کے محسن ، افضل و برتر اور قوم کے سرکردہ سمجھتے ہیں۔ عوام الناس غریب غربا، پس ماندہ علاقوں کے مکین دیہات کے باشندے اور مزدور اور کسان ان کی نظر میں کیڑے مکوڑوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ وہ خود کو اعلی طبقہ، ذہین ، باصلاحیت ، خداداد کمالات کے حامل تصور کرتے ہیں۔ اس لیے وہ عوام الناس کی غربت ، ان کی بیماریوں اور ان کے مسائل کو قابل توجہ خیال نہیں کرتے۔ عوام الناس کی ہلاکتوں پر ان کے دل نہیں پسیجتے۔

وہ اپنے دل میں یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان جاہلوں اور گنواروں کے تحفظ اور ان کی بدحالی کو دور کرنے کے لیے دولت کیوں صرف کریں ، چوں کہ وہ خود خوش خوراک اور آسودہ حال ہیں لہذا انھیں نچلے طبقوں کی بدتر زندگی اور بے بسی و بے چارگی کی موت کی کوئی پروا نہیں۔ ان کے پہننے کو شاندار ، نرم و نازک اور دیدہ زیب ملبوسات موجود ہیں ، ان کی قیام گاہیں پر آسائیش اور پر زیبائیش ہیں۔ ان کے لیے مزین سواریاں حاضر ہیں کہ مختصر سا فاصلہ بھی انھیں اپنے قدموں پر طے کرنے کی ضرورت نہیں حتی کہ فارغ اوقات میں عیش نہایت خوش گوار اور مسرت آمیز ہے۔ چناں چہ ادنی طبقوں کے مصائب اور مسائل سے انھیں کیا سروکار ہو سکتا ہے؟

Advertisement
کمر بستہ ہیں لوگ خدمت میں ان کی
گل و لالہ رہتے ہیں صحبت میں ان کی
نفاست بھری ہے طبعیت میں ان کی
نزاکت سو داخل ہے عادت میں ان کی
دواؤں میں مشک ان کی اٹھتا ہے ڈھیروں
وہ پوشاک میں عطر ملتے ہیں سیروں

تشریح : مولانا الطاف حسین حالی طبقہ امرا کی مخدومیت کا حال بیان کرتے ہوۓ کہتے ہیں کہ وہ بندگان ذلیل، اپنی ذات اور دوسروں میں اس لیے بھی امتیاز کرتے ہیں کہ گویا قدرت نے ان حقیر انسانوں اور شاگرد پیشہ لوگوں کو ان کی خدمت کے لیے پیدا کیا ہے۔ ان کے خیال میں اعلی طبقے سے تعلق کی بنا پر ان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ نچلے طبقے کے افراد سے خدمت لیں چوں کہ انھیں دنیا جہاں کی نعمتیں میسر ہیں لہذا ان کے لیے محنت مشقت کی کیا ضرورت؟ چناں چہ وقت گزرانے کے لیے انھیں محافل عیش و نشاط برپا کرنی پڑتی ہیں۔ نغمہ و سرور سے جی بہلانا پڑتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ امرا کے ہاں کنیزوں ، حسینوں اور رقاصاؤں کی موجودگی لازمی خیال کی جاتی ہے، تا کہ وہ بے کاری کا وقت نہایت خوش گوار انداز میں گزارسکیں۔ فرصت کے لمحات اور عیاشی کی عادت ان میں کام کرنے کی صلاحیت اور محنت کرنے کا حوصلہ ختم کر کے رکھ دیتی ہے جس سے ان کی جسمانی قوتیں جاتی رہتی ہیں اور مردانگی کے بجاۓ نزاکت ان کی شناخت قرار پاتی ہے۔ یہی نزاکت آہستہ آہستہ نفاست کے احساس میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

Advertisement

ایک محنت کش اپنی توانائیوں کے استعمال کے وقت جسمانی نزاکتوں اور لباس کی نفاستوں کو نظر انداز کر دیتا ہے لیکن یہ طبقہ، جو قوم کے افراد کو کم تر خیال کرتا ہے اور قوم کی بربادی کا سبب بنتا ہے محنت کشوں ، مزدوروں ، کسانوں، ہنرمندوں اور کاری گروں کو اس لیے حقیر سمجھتا ہے کہ ان کے ہاں نفاست اور نزاکت نام کو نہیں۔ حالی کہتے ہیں کہ یہ طبقہ اپنی دواؤں کو بھی عام آدمی سے برتر ثابت کرنے کے لیے اس کی تلخہ کو شیرینی میں بدل دیتا ہے اور اپنے جسمانی عوارض اور موسمی شدت سے پیدا ہونے والی تبدیلیوں کو عطر وغیرہ کے بے تحاشا استعمال سے دور کر کے خود کو اعلی مخلوق خیال کرنے لگتا ہے۔ علامہ اقبال نے بھی ایسے آرام پسند اور عیاش لوگوں کو قوم کے حق میں زہر قاتل قرار دیا تھا۔ وہ مردوں میں سخت کوشی کے اوصاف دیکھنا چاہتے تھے۔ چنانچہ انھوں نے فرمایا :

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندہ صحرائی یا مرد کہستانی
یہ ہوسکتے ہیں ان کے ہم جنس کیونکر
نہیں چین جن کو زمانے سے دم بھر
سواری کو گھوڑا نہ خدمت کو نوکر
نہ رہنے کو گھر اور نہ سونے کو بستر
پہننے کو کپڑا نہ کھانے کو روٹی
جو تدبیر الٹی تو تقدیر کھوٹی

تشریح : حالی کہتے ہیں کہ عام طور پر خیال کیا جاسکتا ہے کہ یہ طبقہ خواہ مخواہ خود کو عوام الناس سے افضل سجھتا ہے لیکن حالی نے ان کی نفسیات سے پردہ اٹھایا ہے۔ حالی کے خیال میں وہ افراد قوم کو اس لیے حیوانات کی مانند سمجھتے ہیں کیوں کہ ان کی زندگی میں بھی قرار کو دخل نہیں۔ کبھی وہ جسمانی عوارض میں مبتلا رہتے ہیں۔ کبھی بھوک کے مارے نڈھال کبھی لباس سے بے نیاز ، مومی شدائد کا شکار ، جبکہ آسودہ حال لوگ ہر طرح کے مصائب اور مسائل سے بے نیاز ۔ چناں چہ ان میں برابری کا تصور کیوں کر ممکن ہے۔ یہ حقیر لوگ تو کیڑے مکوڑوں کی سی حیثیت رکھتے ہیں۔

Advertisement

ان کے پاس تو کہیں آنے جانے کے لیے سواری تک نہیں۔ ان کے کام کاج کرنے کو کوئی خدمت گار نہیں۔ یہ سہولتیں تو انھیں تب میسر آئیں اگر انھیں سر چھپانے کے لیے کوئی چھت نصیب ہو۔ گھر کا تصور تو بعد کی بات ہے۔ ان کے ہاں تو سونے کے لیے بستر تک دستیاب نہیں۔ یہاں تک کہ انسان کی بنیادی ضروریات بھی انھیں حاصل نہیں۔ ستر پوشی کے لیے ان کے پاس پوری طرح لباس نہیں۔ ان کے بچے ننگ دھڑ تک گندی گلیوں میں گھومتے رہتے ہیں، خوراک ان کی پوری نہیں ہوتی۔ اگر صبح کو کچھ کھانے کے لیے میسر ہے تو دوپہر کو فاقہ ہے اور اگر کبھی دوپہر کی حلال روٹی کھالی تو رات بھوکے گزارنی پڑی بلکہ ان حقیر لوگوں کو قدرت نے پیدا ہی بد نصیب کیا ہے۔ ان کے خیال میں اگر یہ لوگ کسی قابل ہوتے تو ان حالوں زندگی بسر نہ کرتے۔

یہ پہلا سبق تھا کتاب ہُداٰ کا
کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا
وہی دوست ہے خالقِ دوسرا کا
خلائق سے ہی جس کو رشتہ ولا کا
یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں

تشریح : مولانا الطاف حسین حالی نے اسلامی مساوات کے آخری بند میں اونچ نیچ، طبقہ بندیوں اور تفرقہ بازیوں کا شکار لوگوں کو مخاطب کرتے ہوۓ کہا ہے کہ مسلمان ہونے کے ناطے تمھارا یقینا اللہ کے آخری پیغمبر اور کتاب برحق یعنی قرآن پاک پر بھی کامل ایمان ہو گا۔ یہ کتاب یقینا ہر دور کے انسانوں کے لیے ہدایت کا منبع ہے۔ اس کتاب میں اللہ تعالی نے انساں کو فلاح اور اصلاح کے سیکڑوں طریقے بتاۓ ہیں ، ان میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالی اس انسان سے محبت کرتا ہے جو اس کی مخلوق سے پیار کرے۔ حقوق العباد کو دیانت داری سے ادا کرے۔ تیسرے مصرعے میں اس حدیث کی طرف بھی اشارہ ہے جس کا ترجمہ ہے :

Advertisement

تمام مخلوق خدا کا کنبہ ہے ،اللہ کے نزدیک خلق میں پسندیدہ تر وہ ہے جو اس کے کنبے سے حسن سلوک کرے۔

Advertisement

خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر بھی آنحضور نے نہایت واشگاف الفاظ میں ارشاد فرمایا تھا کہ تم سب آدم کے بیٹے ہو اور آدم مٹی سے بنا تھا۔ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں ، سوائے تقوی اور حسن عمل کے۔ غرض یہ کہ دنیا کا کوئی مذہب ، کوئی اخلاقیات کسی شخص کو دولت کے بل بوتے پر بڑا آدمی تسلیم نہیں کرتی بلکہ اس کا معیار کل بھی انسان سے محبت اور انسانیت کا احترام قرار پاتا تھا، آج بھی یہ عظمت خدمت خلق میں پوشیدہ ہے۔ خدائے بزرگ و برتر نے نہ صرف انسانی حقوق معاف نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے بلکہ انسان سے محبت کو عین عبادت اور دین کی اصل قرار دیا ہے۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جس شخص نے بھی دولت یا زیادہ عبادت کے زعم میں خود کو دوسروں سے افضل رکھنا شروع کر دیا اسے دھتکار دیا گیا اور جس کسی نے خدا کی مخلوق سے محبت کو اپنا وتیرہ بنالیا، وہ دنیا میں بھی کامران ٹھہرا اور خدا کی نظروں میں بھی سرخرو قرار پایا۔ مولانا الطاف حسین حالی نے ایک اور شعر میں بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے :

کرو مہربانی تم اہل زمیں پر
خدا مہربان ہو گا عرش بریں پر

۱۔ جب کسی قوم کا بیڑا تباہی کے قریب ہوتا ہے تو سب سے پہلے قوم کے کن افراد میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے؟

جواب : جب کسی قوم کا بیڑا تباہی کے قریب ہوتا ہے تو سب سے پہلے قوم کے طبقہء امرا میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔

Advertisement

۲۔ نظم کے حوالے سے بتائیے کہ قوم کے امیروں میں کون کون سے بگاڑ پیدا ہوتے ہیں؟

جواب : نظم کے حوالے سے قوم کے امیروں میں یہ پگاڑ پیدا ہوتے ہیں کہ ان کے کمالات ختم ہو جاتے ہیں، ایسے میں وہ عقل سے کام نہیں لیتے ہیں اور دین سے بھی رہنمائی حاصل نہیں کرتے۔ وہ دنیا و آخرت میں عزت و ذلت کے احساسات سے بھی عاری ہو جاتے ہیں۔ وہ نہ غریب کے حال پر رحم کرتے ہیں نہ ان کی آہ فریاد سے خود کھاتے ہیں بلکہ عیش و عشرت میں پڑ کے آپے سے گزرجاتے ہیں۔ اوروں کی بھوک کا وہ ذرا اثر نہیں لیتے۔ اپنے آپ کو دوسروں سے جدا مخلوق سمجھتے ہیں۔ وہ اچھی سواری، اعلیٰ لباس، عمدہ کھانوں اور شاندار مکانات پر مرمٹتے ہیں۔ وہ عیش و طرب کی محفلیں سجائے رہتے ہیں۔ متعدد خدمت گاروں کا ہر حکم بجا لانے کو ہمیشہ تیار ہوتے ہیں۔ وہ مرتے دم تک احساس برتری کے نشے میں مبتلا رہتے ہیں۔

Advertisement

۳۔ نظم "اسلامی مساوات” کا خلاصہ اپنے الفاظ میں بیان کیجیے۔

  • جواب : نظم کا خلاصہ :

جب کسی قوم پر زوال آتا ہے تو اس کے امراء اخلاقی ابتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ انسانی واخلاقی کمالات سے عاری ہو جاتے ہیں ، وہ نہ عقل سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں ، نہ دینی احکامات کی پروا کر تے ہیں حتی کہ آخرت کا تصور بھی ان کے ذہن سے محو ہو چکا ہوتا ہے۔ وہ نہ مظلوم کی آہ وزاری کو خاطر میں لاتے ہیں ، نہ مفلوک الحال لوگوں پر ان کو ترس آتا ہے بلکہ وہ دنیاوی عیش وعشرت میں پڑ کر آپے سے باہر ہو جاتے ہیں۔

Advertisement

ان کا عام آدمی سے کوئی موازنہ نہیں، وہ ایک انوکھی مخلوق ہوتے ہیں جسے نہ روٹی روزی کی فکر ہے، نہ کپڑے اور مکان کا غم ہے۔ وہ قیمتی سے قیمتی لباس پہنتے ہیں اور محل نما مکانات میں رہتے ہیں۔ درجنوں نوکر اور کنیزیں ان کی خدمت پر کمر بستہ ہوتی ہیں۔ وہ دن رات رنگینیوں اور خوشبوؤں میں بسر کرتے ہیں۔ دوسری جانب عام آدمی کا حال یہ ہے کہ انھیں زندگی میں ایک لمحہ چین نہیں۔ وہ روٹی ، کپڑے اور مکان جیسی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں۔ ذاتی سواری کا تو وہ تصور بھی نہیں کر سکتے معاشرے میں وہ مکمل طور پر بے بس ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے کہ تمام مخلوق اللہ تعالی کے کنبے کی حیثیت رکھتی ہے ، وہی شخص اللہ کا دوست ہوسکتا ہے جو اس کی مخلوق سے محبت کرتا ہو۔ نیز سب سے بڑی عبادت یہی ہے کہ انسان حقوق العباد کو نہایت دیانت داری سے پورا کرے۔

۴۔ درج ذیل تراکیب کے معنی لکھیے :

بندگان ذلیل :غریب لوگ، ٹٹ پونجیے
خالق دوسرا :رب تعالیٰ کی ذات
دم نزع :وقت مرگ
فصلِ خزاں :خزاں کا موسم، ابتر حالت
کتابِ ہدیٰ :ہدایت بخشنے والی کتاب، قرآن پاک
گل فشاں : پھولوں کا کھلنا ، خوشیوں اور مسرتوں کی ریل پیل۔
گل و لالہ : گلاب اور لالہ کے پھول، ان سے خوشیاں اور پھولوں جیسے لوگ مراد ہوتے ہیں۔
ہوا و ہوس : حرص، طمع، نفس پرستی۔

۵۔ درج ذیل محاورات کو اپنے جملوں میں اس طرح استعمال کیجیے کہ ان کا مفہوم واضح ہو جائے.

دفتر الٹنا :اللہ کے نافرمانوں کے تاج و تخت کے دفتر الٹتے دیر نہیں لگتی۔
خودی سے گزرنا : کم ظرف لوگ ذاتی مفادات کی خاطر خودی سے گزر جاتے ہیں۔
کمر بستہ ہونا : پیرصاحب کے مریدوں کا ایک بڑآ گروہ پیر صاحب کی خدمت کے لئے ہمہ وقت کمر بستہ رہتا ہے۔
تدبیر الٹنا : بدقسمتی کے ایام میں ہر تدبیر الٹ جاتی ہے۔
تقدیر کھوٹی ہونا : مسلسل کوششوں کے بعد بھی ایوب اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ لگتا ہے اس کی تقدیر کھوٹی ہو چکی ہے۔

۶۔ نظم "اسلامی مساوات” کا دوبارہ مطالعہ کیجیے اور کالم "الف "اور کالم "ب” سے چن کر مترادف الفاظ کے جوڑے بنائیے اور صحیح جواب کالم "ج” میں لکھیے۔

  • الف :
  • کمال، ہادی، آہ، ہوا، بےہوش، قوت
  • ب :
  • ہوس، خودفراموش، ناں، جوہر، رہبر، زاری
کمال ،جوہر
ہادی،رہبر
آہ ،زاری
ہوا –ہوس،
بے ہوش ، خود فراموش
قوت ناں

۸۔ اگر کوئی نظم چھے چھے مصرعوں کے بندوں پر مشتمل ہو تو اسے "مسدس” کہتے ہیں۔ "اسلامی مساوات” کی ہیت "مسدس” ہے اور یہ مولانا حالی کی شہرہ آفاق طویل نظم "مد و جزر اسلام” (مسدس حالی) سے اقتباس ہے۔ آپ لائبریری سے علامہ اقبال کی کتاب "بانگ درا” لیجیے اور دیکھیے کہ ان کی نظموں "شکوہ” اور "جواب شکوہ” کی ہیئت کیا ہے اور پھر ان دونوں نظموں کے آخری بند اپنی کاپی میں درج کیجیے۔

Advertisement

جواب : علامہ اقبال کی دونوں نظمیں "شکوہ” اور "جواب شکوہ” بھی حالی کی نظم کی طرح مسدس ترکیب بند کی ہیئت میں لکھی گئی ہیں۔

نظم "شکوہ” کا آخری بند کچھ یوں ہے۔

چاک اس بُلبلِ تنہا کی نوا سے دل ہوں
جاگنے والے اسی بانگِ درا سے دل ہوں
یعنی پھر زندہ نئے عہدِ وفا سے دل ہوں
پھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوں
عجَمی خُم ہے تو کیا، مے تو حجازی ہے مری
نغمہ ہندی ہے تو کیا، لَے تو حجازی ہے مری!

اسی طرح "جواب شکوہ” کا آخری بند بھی ملاحظہ کیجیے :

عقل ہے تیری سِپَر، عشق ہے شمشیر تری
مرے درویش! خلافت ہے جہاں‌گیر تری
ماسِوَی اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تری
تُو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری
کی محمّدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
Advertisement

Advertisement

Advertisement