Advertisement

تعارفِ نظم :

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”راہرو“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام جوش ملیح آبادی۔ یہ نظم کتاب ”سرود و خروش“ سے ماخوذ کی گئی ہے۔

Advertisement

تعارفِ شاعر :

آپ کا اصل نام شبیر احمد خاں تھا، جسے تبدیل کر کے آپ نے اپنا نام شبیر حسن خاں رکھا، آپ کا تخلص جوش تھا۔ ۵؍دسمبر ۱۸۹۸ء کو ضلع ملیح آباد(یوپی) میں پیدا ہوئے۔ ابتدا میں عزیز لکھنوی سے اصلاح لی، مگر بعد میں اپنے وجدان و ذوق کو رہبر بنایا۔ پاکستان آنے کے بعد اردو ترقیاتی بورڈ، کراچی کے مشیر خاص مقرر ہوئے۔ جوش ۲۲؍فروری ١٩٨٢ء کو راہی ملک عدم ہو گئے۔

Advertisement
جہاں زمین پر رگڑ کا نشاں ہویدا ہے
دلیل اس کی ہے سانپ اس طرف سے گزرا ہے

تشریح : اس شعر میں جوش ملیح آبادی نے گزرنے والوں کے نشان چھوڑنے اور نشان دیکھ کر گزرنے والوں کے بارے میں سراغ پا لینے کی بات کی ہے۔ شاعر زمین پر ایک ٹیڑھی بل کھاتی لکیر دیکھ کر قیاس آرائی کر رہے ہیں کہ ادھر سے شاید سانپ گزرا ہوگا۔ یاد رہے کہ سانپ کی ٹانگیں نہیں ہوتیں اور وہ اپنی ناخن نما ساختوں کی مدد سے چلتا ہے تو جس راستے سے وہ گزرتا ہے اس راستے پر سانپ ہی کی طرح بل کھاتی لکیر بنتی چلی جاتی ہے، جس سے اس راستے پر سے سانپ کے گزرنے کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔

Advertisement
نشان بلال نما راہ میں بتاتے ہیں
کہ تھوڑی دور پہ آگے سوار جاتے ہیں

تشریح : اس شعر میں جوش ملیح آبادی نے گزرنے والوں کے نشان چھوڑنے اور نشان دیکھ کر گزرنے والوں کے بارے میں سراغ پا لینے کی بات کی ہے۔ اس شعر میں شاعر نے پہلی رات کے چاند جیسے نشانوں کو دیکھ کر کسی قافلے کے گزرنے کی بات کی ہے۔ یہ قافلہ گھڑ سواروں کا ہے۔ ہلال نما نشان گھوڑوں کے سموں کے ہیں جن سے یہ قیاس بالکل درست ہے۔ گھوڑوں کے سموں کے نشان ابھی گرد و غبار سے مٹے نہیں اور نہ دیگر راہ گزرنے والوں کے قدموں کے نشانات سے گڈ مڈ ہوۓ ہیں۔ اس لیے یہ اندازہ بھی درست ہے کہ قافلہ ابھی ابھی گزرا ہے اور یہ زیادہ دور نہیں گیا۔ یہاں شاعر کی مراد یہ ہے کہ ہم کسی نہ کسی نشان ، علامت یا ذریعے سے جانے اور گزرنے والے کا کھوج لگا سکتے ہیں ، فقط ذرا سا سوچنے اور دماغ کو کام میں لانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

غبار راہ نشاں ہے کسی تگ و پو کا
یقین ہوتا ہے نقش قدم سے رہرو کا

تشریح : جوش ملیح آبادی اس شعر میں زمین پر باقی رہنے والے نشانات سے منزلوں کی نشان دہی کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ یہ جو راستوں پر غبار اڑ رہا ہے، یہ کسی گروہ کی دوڑ دھوپ اور جد و جہد کی نشان دہی کر رہا ہے۔ شعر کہتے ہیں کہ لگتا ہے زندگی کے کار راز میں کچھ لوگ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے سرگرم عمل رہے ہیں۔ وہ اس راستے سے بہت تیزی سے گزرے ہیں اس لیے دھول بہت زیادہ اٹھ رہی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بہت جلدی میں تھے اور تیز رفتاری سے اپنا سفر طے کر کے منزل تک پہنچنا چاہ رہے ہیں۔

Advertisement
صنم تراش نہ ہو تو صنم نہیں بنتا
قدم نہ ہو تو نشان قدم نہیں بنتا

تشریح : اس شعر میں شاعر نے ایک مثال دے کر اپنے نقطہ نظر کی مزید وضاحت کی ہے کہ سنگ تراشی میں فن کا شاہکار کسی بڑے فن کار کے ہونے کا ثبوت ہے۔ اگر بت تراش نہ ہو تو بت نہیں بن سکتا اسی طرح قدموں کے نشان کسی کے قدموں کی علامت ہیں۔ اگر قدم نہ ہوں تو قدموں کے نشان کہاں سے آئیں گے؟ اور صنم تراش نہ ہوں تو صنم کہاں سے وجود میں آئیں گے۔ اس شعر میںشاعر منطقی انداز میں ہر جواز کی وجہ جواز بیان کر رہے ہیں۔ شاعر کی بات پوری طرح سمجھنے کے لیے یہ مثال کافی ہوگی کہ تاج محل کسی بڑے فن کار کا شاہکار ہے۔

شعر نمبر ۵ – ۷ :

یونہی یہ راہ کہ ہے جس کا نام کاہکشاں
یونہی یہ نقش قدم ماه و نیر تاباں
یونہی یہ گرد سر راه خوش نما تارے
رواں ہیں جن کی جبینوں کے حسن کے دھارے
زمیں کا نور ہیں اور آسماں کی زینت ہیں
کسی کی شوخی رفتار کی علامت ہیں

تشریح : نظم میں ان اشعار کے ماقبل شعروں میں شاعر نے زمین پر موجود مختلف چیزوں کے نشاں چھوڑنے والوں کی نشان دہی کی ہے۔ اب شاعر کا حسن تخیل آسمان پر پہنچ گیا ہے۔ جوش کہتے ہیں کہ آسمان پر کروڑوں اربوں ستارے موجود ہیں، اکٹھے ہو کر انھوں نے جھرمٹ کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اسے کہکشاں کہتے ہیں اور یہ زمین سے بھی نظر آتی ہے۔ کہکشاں نامی اس راستے یا گزرگاہ پر نہ صرف ستارے بلکہ چاند اور روشن سورج بھی سفر کرتے ہیں۔ کہکشاں کے بعض ستارے اور سیارے ہمارے سورج سے بہت بڑے ہیں۔

کہکشاں میں موجود ستارے ہمیں گرد و غبار کی مانند نظر آتے ہیں مگر دراصل وہ روشن ہیں اور ان کی ضوفشانی کے سبب ان کی پیشانیوں سے حسن پھوٹ پھوٹ کر بہتا ہے۔ بہر حال کیا ستارے، کیا چاند اور کیا سورج سب کے سب آسمان کی زینت کا باعث ہیں اور زمین ان کی روشنی سے منور ہے۔نظم کے آخری شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ یہ سب جس ہستی کی شوخی رفتار کے نشان ہیں ، وہ ہستی کس عظیم الشان اور بلند حیثیت کی مالک ہو گی۔ یہاں شاعر کی مراد یہ ہے کہ یہ سارا نظام کسی زبردست دانا و حکیم کا قائم کردہ ہے اور وہی اسے چلا بھی رہا ہے۔

Advertisement

سوال ۱ : مختصر جواب دیجیے۔

الف۔ دیہات میں کسی کچے راستے پر صبح کے وقت رگڑ کا نشان دیکھ کر کیا گمان گزرتا ہے؟

جواب : دیہات میں کسی کچے راستے پر صبح کے وقت رگڑ کا نشان دیکھ کر یہ گمان گزرتا ہے کہ اس طرف سے کوئی سانپ رینگ کر گیا ہوگا۔

ب۔ ”نشان ہلال نما‘‘ سے کیا مراد ہے؟ ان سے کس قسم کے سواروں کا تعلق ہے؟

جواب : ”نشان ہلال نما‘‘ سے گھوڑے کے سموں پر لگے ہوۓ نعلوں کا نشان مراد ہے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابھی ابھی ادھر سے کچھ سوار گزرے ہیں۔

Advertisement

ج۔ غبار راہ سے تگ و پو کا کیا تعلق ہے؟

جواب : غبار راہ سے مراد یہ ہے کہ جب کسی کام کے لیے دوڑ دھوپ کوشش اور جستجو کی جائے تو راستے کی سخت سے سخت مٹی بھی غبار راہ کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

د- آسمان پر کہکشاں اور ستارے کس امر کی دلیل ہیں؟

جواب : کہکشاں اور ستارے، زمین کے لیے روشنی اور نور کا باعث ہیں اور آسماں کی زیب و زینت کا سبب ہیں۔ چوں کہ متحریک بھی ہیں اس لیے یہ علامت ہیں ، کائنات میں تحرک اور شوخی رفتار کی۔

Advertisement

سوال ۲ : درج ذیل الفاظ کے معنی لکھیے۔

غبار راه ، تگ و پو ، نقش قدم ، نیر تاباں ، سرِ راہ ، شوخی رفتار۔

غبار راہ : راستے سے اٹھنے والا گرد و غبار ، قافلے یا گروہ کے قدموں کی دھول سے اٹھنے والے ذرات۔
تگ و پو : کوشش جستجو ، دوڑ دھوپ۔
نقش قدم : قدموں کے نشان ، پاؤں کے نشانا۔
نیر تاباں : نہایت روشن اور چمکتا ہوا سورج۔
سرِ راہ : راستے میں چلتے چلتے سڑک پر۔
شوخی رفتار : خوش رفتاری۔

سوال نمبر ۴ : کالم الف اور کالم ب میں دیے گئے الفاظ میں مطابقت پیدا کر کے کالم ج میں لکھیے۔

کالم (الف)
رگڑ کا نشاں
نشان ہلال نما
غبارِ راہ
نقشِ قدم
تارے
راہ

Advertisement

کالم (ب)
تگ و پو
حسن کے دھارے
سانپ
راہرو
سوار
کاہ کشاں

کالم (ج)

Advertisement
رگڑ کا نشاں :سانپ
نشان ہلال نما :سوار
غبارِ راہ :تگ و پو
نقشِ قدم :کاہ کشاں
تارے :حسن کے دھارے
راہ :راہرو
Advertisement

Advertisement

Advertisement