جوش ملیح آبادی

جوشؔ ملیح آبادی کی پیدائش 5 دسمبر 1896ء کو ہوئی- ان کا اصلی نام شبیر احمد خان تھا لیکن 1907ء میں اسے بدل کر شبیر حسن خان رکھ دیا گیا- جوش کے والد کا نام بشیر احمد خان تھا- جوش کے والد بھی ایک شاعر تھے- ان کے دادا اور پردادا بھی شاعر تھے- جوش کو اپنی شاعرانہ عظمت وراثت میں ملی تھی جس پر جوشؔ کو بہت زیادہ فخر تھا- جوشؔ کی دادی کا رشتہ غالب کے خاندان سے تھا-

جوشؔ نے اپنی شاعری میں آزادی کا جذبہ دکھایا ہے- انہوں نے اپنے مضامین لکھ کر عوام میں جوش اور جذبہ پیدا کردیا۔ جوش نے نو سال کی عمر میں شاعری شروع کی اور پہلا شعر کہا کہ؀

شاعری کیوں نہ راس آئے مجھے
یہ میرا فن خاندانی ہے

جوش ایک ایسے شاعر ہیں جو نثر اور نظم دونوں میں درجہ کمال رکھتے ہیں- جوش نے دس سال تک میڈلیسن کی سبھی کتابوں کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کیا-جوش نے شاعری کی ابتدا غزلوں سے کی تھی اور اپنے والد بشیر احمد خان کے مشورے پر 1912ء مرزا محمد ہادی عزیز لکھنوی کی شاعری میں شاگردگی اختیار کی تھی۔

1972ء میں جوش کی خود نوشت سوانح "یاروں کی بارات” شائع ہوئی جو پانچ ابواب میں منقسم ہے۔جوش اس کو دو جلدوں میں شائع کرنا چاہتے تھے مگر آخر میں یہ ایک ہی جلد میں شائع ہوئی۔

1954ء میں جوش کو پدم بھوشن سے نوازا گیا-جوش کو دیگر بہت سے القاب دیے گئے جن میں "شاعر شباب، مصور شباب، شاعر رومان، الفاظ کے جادوگر، لفظوں کا بادشاہ، قبلہ زندان جہاں، شاعر فطرت، و شاعر انقلاب قابل ذکر ہیں۔

جوش نے اپنی شاعری کو دنیا کی رنگینیوں سے بھر دیا تھا- انہوں نے اپنی شاعری کو ایسے لفظوں سے بھرا جس سے ان کی شاعری اور زیادہ دلچسپ ہو گئی- جوش کے غزل کے اشعار ملاخطہ ہوں-

فکر ہی ٹھہری تو دل کو فکر خوباں کیوں نہ ہو
خاک ہونا ہے تو خاک کوئے جاناں کیوں نہ ہو

اک نہ اک ہنگامہ پر موقوف ہے جب زندگی
میکیدے میں رند رقصاں و غزل خواں کیوں نہ ہو

جوشؔ ایک ایسے شاعر ہیں جنہوں نے اپنی شاعری میں اپنی بہترین شخصیت کا بھی استعمال کیا ہے- جوش کے دل میں دنیاوی ہمدردی ہے- ایک دن انھوں نے اپنی ماں کا ہار چرا کر ایک ضرورت مند کو دے دیا تھا۔ یہ ان کی بہترین شخصیت کا ثبوت ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں فکر٬ درد اور غریب مظلوم کے لیے آفسوس نظر آتا ہے۔

جوشؔ کو اپنے دور میں سب کچھ حاصل ہوا.. دولت٬ شہرت٬ لکھنؤ کی نوابی٬ کوٹھے بازی٬ شراب وغیرہ- جوش نے ان سب چیزوں کا استعمال بڑی خوبی سے اپنے مضامین میں کیا ہے-

جوش کی شاعری نے غدر کی لڑائی میں لوگوں کے دل میں ایک جذبہ پیدا کردیا- سب کے دل میں ایک انقلاب جاگ گیا-

جوش کی کچھ مشہور کتابوں کے نام- عرش و فرش٬ آوازہ حق، آیات و نغمات، آزادی کی نظمیں، فکر و نشات روح ادب٬ شاعر کی راتیں، جوش کے سو شعر٬ نقش و نگار، شعلہ و شبنم، پیغمبراسلام، جنوں و حکمت، حرف و حکایت، حسین اور انقلاب، رامش و رنگ، سنبل و سلاسل، سیف و سبو-

جوشؔ نے ان سب کتابوں کو لکھ کر اردو ادب کو ایک نیا موڑ عطا کیا- اردو ادب میں جوش کا مرتبہ ایک بلند پایہ میں روشن ہے-اردو ادب میں بہترین سرمایہ چھوڑ جانے کے بعد یہ مشہور شاعر بلآخر 22 جنوری 1982ء کو اسلام آباد پاکستان میں اس دنیا سے کوچ کرگئے۔

Quiz On Josh Malihabadi

جوش ملیح آبادی 1

Written By

Zarnain Nisar

Close