Advertisement

کلام یا جملوں کو ایک دوسرے سے الگ سمجھنے اور جدا کرنے کے لئے جو علامات استعمال کی جاتی ہیں انہیں رموز اوقاف کہتے ہیں۔ جملے کے درست مطلب کے لئے ان کا جاننا اور استعمال کرنا اشد ضروری ہوتا ہے۔ ایک علامت جسے وقفہ کہتے ہیں اس کا استعمال دیکھیے “ٹھہرو مت جاؤ” کے دو مطلب لیے جا سکتے ہیں ٹھہرو، مت جاؤ اور ٹھہرو مت، جاؤ۔ ایک علامت کے آگے پیچھے کرنے سے پورا مطلب تبدیل ہو جاتا ہے۔ رموز اوقاف میں بہت سی علامات ہوتی ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔

سکتہ

اس کی علامت یہ (،)ہے، ایک جملے کے الفاظ یا مرکبات کے درمیان استعمال ہوتا ہے اس پر تھوڑا ٹھہرنا چاہیے۔

Advertisement

وقفہ

اس کی علامت (؛) مفرد جملہ کے اختتام پر یہ علامت لگائی جاتی ہے۔ سکتہ کی نسبت یہاں زیادہ ٹھہرنے کا حکم ہے۔

Advertisement

وقف کامل

اس کی علامت یہ (۔) ہے اس پر ٹھہرنا ہوگا۔

Advertisement

علامت حذف

اس کی علامت یہ (°)ہے، اگر عبارت میں کسی چیز کا ذکر نہ کرنا ہو تو اس علامت کا استعمال کرتے ہیں۔

علامت استفہام

اس کی علامت یہ (؟) ہے یہ علامت سوالیہ جملے کے آخر میں آتی ہے۔

Advertisement

علامت تعجب یا ندا

اس کی علامت یہ (!) ہے۔ کسی تعجب یا حیرانگی یا جذبات کے اظہار کے بعد یہ علامت استعمال کی جاتی ہے۔

علامت تفصیلہ

اس کی نشانی یہ (:)ہے، کسی جملے کے مفہوم کو واضح کرنا ہو تو یہ علامت استعمال کی جاتی ہے۔ مثلا یہ وقت: جو گزر رہا ہے اسے واپس نہیں لایا جاسکتا۔

Advertisement

علامت ترک

اس کی نشانی یہ (.) ہے، عبارت میں کسی لفظ کے چھوٹ جانے پر استعمال کی جاتی ہے۔

علامت ذیل

اس کی نشانی یہ (:-) ہے اور ذیل کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

Advertisement

علامت اقبتاس

اس کی نشانی یہ (” “)ہے، یہ علامت کسی عبارت کے شروع میں اور آخر میں لگائی جاتی ہے۔

علامت شعر

یہ علامت (؀) نثر کے درمیان شعر کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

Advertisement

علامت مصرع

نثر کے درمیان مصرع آ جائے تو یہ علامت (ع) استعمال کرتے ہیں۔

علامت صفحہ

یہ علامت(؃) کسی عبارت میں صفحہ کے حوالہ کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔

Advertisement

علامت قوسین

اسے خطوط وحدانی بھی کہتے ہیں۔ اس کی نشانی یہ تین خطوط [{()}] ہیں۔ کسی شے کی وضاحت کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

علامت حاشیہ

کسی جملے یا لفظ کا مطلب حاشیہ میں لکھنا ہو تو یہ (؂) علامت استعمال کی جاتی ہے۔

Advertisement

علامت تخلص یا بیت

شاعر کے تخلص پر استعمال ہوتی ہے اس کی نشانی یہ ؔ ہے۔

علامت خط

کسی جملہ معترضہ کو اصل جملے سے الگ کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے، اس کی علامت یہ(-) ہے۔

Advertisement

علامت الخ

یہ علامت الی آخرہ کا مخفف ہے، عبارت کے کچھ الفاظ لکھ کر کچھ نقطے ڈال کر آخر میں الخ(۔۔۔۔الخ) لکھ دیتے ہیں۔

Advertisement

Advertisement