Advertisement

خاکہ نثری ادب کی ایک دلکش صنف ہے۔ خاکہ انگریزی لفظ اسکیچ((SKETCHکا ترجمہ ہے۔ خاکہ کے معنی نقشہ یا لکیروں سے بنائی ہوئی تصویر کے ہیں لیکن ادبی اصطلاح میں خاکہ سے مراد ایک نثری تحریر ہوتی ہے جس میں کسی شخصیت کی منفرد اورنمایاں خصوصیات کو اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے کہ اس کی ہو بہو تصویر آنکھوں کے سامنے آجائے۔

Advertisement

خاکہ نگاری نہ سیرت نگاری ہے نہ سوانح نگاری، یہ کسی دل آویز شخصیت کی دھندلی سی تصویر ہے۔ اس میں نہ اس کی زندگی کے اہم واقعات کی گنجائش ہے نہ خاص خاص تاریخوں اور نہ زیادہ تفصیل کی۔مصنف نے کسی شخص میں کچھ قابل ذکر خصوصیات دیکھی ہوں اور اُنھیں دلچسپ انداز سے بیان کر دے تو یہی خاکہ ہے۔

Advertisement

اردو میں خاکہ نگاری کے اولین نقوش و جھلکیاں اردو شعراء کے تذکروں میں ملتے ہیں جن میں میر تقی میرؔ کے ”نکات الشعراء“مصحفیؔ کے ”تذکرہ ہندی“شفیتہؔ کے ”گلشن بے خار“وغیرہ مثال کے طور پیش کیے جاسکتے ہیں۔ لیکن اردو میں خاکہ نگاری کا باقاعدہ آغاز مرزا مرحت اللہ کے ہاتھوں ہوا جب انھوں نے نذیر احمد کا خاکہ لکھ کر اس صنف کی بنیاد ڈالی۔ اردو کے دیگر خاکہ نگاروں میں عصمت چغتائی،منٹو،اعجاز حسین،شوکت تھانوی،شاہد احمد دہلوی وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement