سبق نمبر 9: میر کی غزلوں کی تشریح، سوالات و جوابات

0

میرتقی میرکی غزل نمبر 1

ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا
دلِ ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا

مشکل الفاظ کے معانی

کسوکسی
تراتیرا
دل ستم زدہ ـوہ دل جس پر ظلم ڈھایا گیا ہو
تھام لیاپکڑ لیا

تشریح

یہ شعرمیرتقی میرؔ کی ایک غزل سے لیا گیا ہے اور یہ غزل ہماری درسی کتاب “بہارستانِ اردو” اُردوکی دسویں کتاب’ کے حصہ شعر میں شامل ہے۔ اس مطلع میں میرؔ اپنے محبوب سے مخاطب ہوکر ارشاد فرماتے ہیں کہ اے میرے محبوب جب کسی انجان بندے نے تیرا نام میرے سامنے لیا میرا دل تڑپنے لگا ، بے قرار ہونے لگا اور میں نے ہمت کرکے اپنے بے چین و بے قرار دل کو اپنے دو ہاتھوں کے سہارے تھام لیا۔

وہ کج روش نہ ملا راستی میں مجھ سے کبھو
نہ سیدھی طرح سے اُن نے میرا سلام لیا

مشکل الفاظ کے معانی

کج روش ٹیرھی راہ چلنے والا
راستیایمانداری
کبھوکبھی

تشریح

یہ شعر میرؔ کی ایک غزل سے ماخوذ ہے۔ اس شعر میں میرؔ اپنے محبوب کی بے رخی کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب بھی میں کبھی اپنے محبوب سے ملا اس نے ظلم وستم کی انتہا یہاں تک کی کہ کبھی بھی میرے سلام کا مکمل و بھرپور جواب نہ دیا یعنی وعلیکم السلام بھی نہ کہا۔

میرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں
تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا

مشکل الفاظ کے معانی

سلیقےتمیز ہنر
نبھی کامیابی

تشریح

یہ شعر میر تقی میرؔ کی ایک غزل سے لیا گیا ہے اس شعر میں شاعر اپنے آپ کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ مجھے محبت کے سوا کسی بھی کام میں کامیابی نہیں ملی کیوں کہ میں محبت و اُلفت کے طور طریقوں سے خوب آشنا ہوں باقی دوسرے دنیا کے کاموں میں مجھے مایوسی ہی ہاتھ لگی ہے۔

اگرچہ گوشئہ گزیں ہوں میں شاعروں میں میرؔ
پہ میرے شعر نے روئے زمیں تمام لیا

مشکل الفاظ کے معانی

  • گوشئہ گزیں:تنہائی میں بیٹھنے والا

تشریح

یہ شعرمیرتقی میرؔ کی ایک غزل کا آخری شعر ہے۔ اس مقطع والےشعر میں میرؔ فرماتے ہیں کہ اگر چہ مجھے دنیا، و دنیا بھر کی شاعری و شاعروں میں زیادہ اونچا مقام اب تک نہیں ملا پھر بھی میرے اشعار پوری دنیا میں کافی مقبولیت حاصل کرچکے ہیں اور اِن اشعار کی بدولت سے میری شہرت بھی آگے بڑھ رہی ہے۔

غزل نمبر (2)

ہنگامہ گرم کُن جو دل ناصبور تھا
پیدا ہر ایک نالے سے شورِ نشور تھا

مشکل الفاظ کے معانی

ہنگامہ گرم کن ـفتنہ و فساد کو بڑھانے والا
ناصبوربے صبر
شورِ نشورقیامت کاشور

تشریح

یہ شعرمیرتقی میرؔ کی ایک غزل کا مطلع ہے۔ اس شعر میں میرؔ اپنے محبوب کے ظلم وستم کا بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میرا دل محبوب کے ظلموں کی وجہ سے اب بے صبر ہوگیا ہے اور میرے دل سے ہر اٹھتی ہوئی آہ و فریاد سے اب ایک قسم کی قیامت برپا ہوتی ہے۔

پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا تئیں
معلوم اب ہوا کہ بہت میں بھی دور تھا پہلے

تشریح

یہ شعرمیرؔ کی ایک غزل سے لیا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر اپنے آپ کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ جب میں نے اپنے پیر و مرشد کا ہاتھ تھاما اور ان کی بیعت اختیار کی۔تو اُنہوں نے مجھے خدا کے بارے میں پوری واقفیت و آگاہی عطا کی جس سے میں اپنے حقیقی معبودِ برحق کو پہنچان گیا ورنہ میں اپنے پیر و مرشد کا ہاتھ تھامنے سے پہلے خدا کی ربوبیت سے بالکل نا واقف تھا۔

آتش بلند دل کی نہ تھی ورنہ اے کلیم
یک شعلہ برقِ خرمن صد کوہِ طورتھا

مشکل الفاظ کے معانی

آتشآگ
یکایک
برقبجلی
خرمنوہ روشنی جو آفتاب کے اردگرد دکھائی دیتی ہے
صدسو
کلیمحضرت موسٰی علیہ السلام کا لقب یعنی آ پ علیہ السلام رُب العالمین سے کلام کرتے تھے اسی بنا پر آ پ علیہ السلام کو کلیم کہا جاتا ہے۔

تشریح

یہ شعر میرؔ کی ایک غزل سے موخوذ ہے اس میں صنعت تلمیح کا استعمال کیا گیا ہے، شاعرفرماتے ہیں کہ جب موسٰی علیہ السلام نے اللہ سے دیدار کے لیے دعا کی اس پر اللہ تعالٰی نے موسی علیہ السلام سے کہا کہ آپ علیہ السلام مجھے ہرگز دیکھ نہیں سکتے ہیں۔ جوں ہی اللہ نے کوہ طور پر اپنے نور کی ایک تجلی ڈالی ، حضرتِ موسی علیہ السلام اس کو دیکھ کر بے ہوش ہوگئے۔ دراصل حضرت موسی علیہ السلام کے دل میں محبوب کو دیکھنے کی انتہا عشق کی حد تک نہ تھی، اگر ایسا ہوتا تو عشق کی بدولت ہزارہا ہزار کوہ ِطور جل کے راکھ ہوجاتے مگر افسوس ایسا نہ تھا۔

کل پاؤں ایک کاسئہ سر پہ جو آگیا
یکسر وہ استخواں شکستوں سے چور تھا

مشکل الفاظ کے معانی

کاسئہ سر ــ کھونپڑی
استخواںہڈی

تشریح

یہ شعر میر تقی میرؔ کی ایک غزل سے لیا گیا ہے اس شعر میں شاعر فرماتے ہیں کہ جب میں کل ایک راستے سے گزر رہا تھا تو میرا پاؤں اچانک ایک مرے ہوئے انسان کی کھونپڑ ی پر پڑا اور وہ کھونپڑ ی میرے پاؤں کے نیچے آنے سے چکنا چور ہوگئی۔

کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر
میں بھی کبھو کسی کا سرِ پُرغرور تھا

تشریح:

یہ شعر بھی اِس سے پہلے شعر کی مزید وضاحت کے طور پر استعمال ہوا ہے،یعنی قطعہ بند شعر ہے، اس شعر میں میرؔ فرماتے ہیں کہ جب میرا پاؤں ایک مرے ہوئے انسان کی کھونپڑی پر پڑ گیا تو کھوپڑ ی نے مجھ سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ اے بے خبر انسان ذرا سنبھل کر چل کر اور اپنا پاؤں رکھ، میں تمہارے پاؤں کےنیچے آنے سے چکنا چور ہوگئی ہوں یاد رکھ میں بھی تیری طرح ایک زمانے میں کسی مٖغرور جیتے جاگتے انسان کے سر کی عزت ہوا کرتی تھی۔

تھاوہ رشکِ حورِ بہشتی ہمیں میں میرؔ
سمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنی قصور تھا

مشکل الفاظ کے معانی

حورِ بہشتیجنت کی حور
فہم عقل , سمجھ
قصورخطا

تشریح:

یہ میرؔ کی ایک غزل کا آخری مقطع والا شعر ہے۔ اس شعر میں شاعر فرماتے ہیں کہ جب میرا محبوب میرے سامنے تھا تو میں نے اُس کی قدوقیمت نہ کی۔ میرا محبوب جنت کی حوروں سے بڑھ کر خوبصورت ہے مگر یہ میری نادانی تھی میں اُس حسین وجمیل محبوب کے ہوتے ہوئے جنت کی حوروں کا طلب گار بن بیٹھا۔

سوالات:

1.شاعر نے دل ستم زدہ کو کیوں تھام لیا ؟

جواب: کیوں کہ جب کسی نے شاعر کے سامنےاُس کے پیارے محبوب کا نام لیا جس کی وجہ سے شاعر کا دل تڑپنے لگا اُس نے تب اپنے بے چین و بے قرار دل کو اپنے دونوں ہاتھوں کے سہارے تھا م لیا یعنی صبر و استقلال کا مظاہرہ کیا۔

2.دونوں غزلوں میں سے ایسا شعر تلاش کیجئے جس میں شاعرانہ تعلی موجود ہو؟

اگرچہ گوشئہ گزیں ہوں میں شاعروں میں میرؔ
پہ میرے وشعر نے روئے زمیں تمام لیا

3.کھونپڑی نے کون سی پتے کی بات بتائی؟

جواب:کھونپڑی نے پتے کی بات یہ بتائی کہ وہ بھی کبھی کسی زمانے میں ،کسی غروری، گھمنڈی انسان کی جاہ وجلال،عزت اور زندگی تھی مگر اب زمیں کے اندر سڑ رہی ہے۔

4.دوسری غزل کے تیسرے شعر میں حضرت موسیٰ سے متعلق تلمیح کو بیان کیجیے۔

جواب :تلمیح اس صنعت کو کہتے ہیں جس میں شاعر ماضی کے کسی واقعے کو اپنے شعر میں بیان کرتا ہے۔ اس شعر میں جس تلمیح کا ذکر کیا گیا ہے وہ اس طرح سے ہے کہ جب حضرت موسیٰ کوہ ِ طور پر اللہ تعالیٰ سے کلام کرنے کی غرض سے گئے اور ہاتھ اٹھاکے دل سے دعا کی کہ اے میرے رب میں نے جب چاہا آپ سے کلام کیا مگر اے میرے رب آج یہ تیرا بندہ و رسول دعا کرتا ہے مجھے اپنے دیدار سے سرفراز فرما۔جوں ہی رُب العالمین نے حضرت موسیٰ کی دعا کو قبول کیا اور کوہِ طور پر اپنے نور کی ایک تجلی ڈالی حضرتِ موسیٰ علیہ السلام نورِ تجلی کو دیکھ کر بے ہوش ہوگئے۔

سوال میر تقی میرؔکی زندگی اورشاعری کے بارے میں ایک مختصر نوٹ لکھیے۔

جواب : شہنشاہ غزل میر تقی میرؔ کی پیدائش آگرہ میں 1722ء میں ہوئی۔ آ پ کا اصلی نام محمد تقی اور تخلص میرؔ تھا۔ آپ کے والد محتر م کا نام میرعلی متقی تھا۔ابتدائی تعلیم اپنے والد سے ہی حاصل کی، ابھی گیارہ سال کے ہی تھے والد صاحب اللہ کو پیارے ہوگئے۔ میر کا ایک بڑا سوتیلا بھائی تھا جنھوں نے میر پر بڑے ظلم ڈھائے۔ میر مجبوراََ آگرہ چھوڑکر دہلی اپنے ماموں کے پاس رہنے کو چلے آئے۔ یہاں دہلی میں خانہ جنگی کی وجہ سے حالات ابتر ہوگئے، میر دہلی کو بھی خیر آباد کہہ کر لکھنو چلے آئے یہیں پر اپنی باقی تمام تر زندگی کے دن گذار دیے۔ بالآ خر اس فانی دنیا کو لکھنو میں 1810ء میں خیر باد کہہ کر چلے گئے۔

ادبی خدمات:

میرتقی میرؔ کو شاعرِ غم کہا جاتا ہے۔ میر کی زندگی جس ظلم ستم و کرب میں گزری اس کا اثر ان کے کلام پربھی پڑا ،میر نے یوں تو ہر صنف میں طبع آزمائی کی مگر غزل کو انھوں نے اپنی فکر سے ترقی کی بلندیوں تک پہنچایا۔ میر کی کلیات چھ دواین پر مشتمل ہے۔آپ نے غزلوں کے علاوہ کئی مثنویاں اور مرثیے بھی تحریر کئے ہیں۔ اردو شعراء کا پہلا تذکرہ “نکات الشعراء” اور خود نوشت “ذکر میر” بھی ان کی یادگار ہیں۔