Advertisement

غزل نمبر 1

ایسا نہیں تھا کہ سر پہ سدا آسمان تھا
میرا بھی شہر میں کبھی کوئی مکان تھا

تشریح:

یہ شعر ہمدم کاشمیری کی ایک غزل سے نکالا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر اپنی حالت بیان کرتے ہوتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگرچہ میں آج لاچاری ومفلسی کی زندگی گذارتا ہوں مگر ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب اس شہر میں میرا نام ،شہرت، دھن ودولت،رہنے بسنے کے لئے ایک عالی شان مکان بھی تھا۔

اس روشنی کے شہر میں ظُلمت کرے گی راج
مجھ کو یقین تھا نہ تجھے ہی گُمان تھا

تشریح:

ہمدمؔ کاشمیری اس غزل کے شعر میں فرماتے ہیں کہ اے میرے چاہنے والو اس ہمارے وطن پر ہمیشہ عادل اور علم والوں نے حکومت کی مگر میں نے اور نہ تم لوگوں نے کبھی سوچا ہوگا کہ اس ہمارے وطنِ عزیر پر کبھی لُنڈے لفنگے بھی راج کریں گے۔

دھویا نہیں گیا جو کسی برشگال میں
میری زمین پر وہ لہو کا نشان تھا
  • برشگال : بارش ، برسات

تشریح :

اس شعر میں ہمدم فرماتے ہیں کہ اس ہمارے ملک پر اب ظالم لوگوں کا راج چل رہا ہے۔ ہر روز بے گناہ لوگوں کا خون بہایا جارہا ہے۔ یہ خون کے دھبے کسی بارش کے پانی سے نہیں دھوئیں جاسکے گے یعنی مجھے لگ رہا ہے کہ اب کبھی حق کا بول بالا نہ ہوگا۔

Advertisement
ہمدم کو چُپ لگی ہے زمانہ گذر گیا
اس شہر خامشی میں وہ صاحبِ اذان تھا

تشریح:

اس غزل کے مقطع میں شاعر اپنے بارے میں فرماتے ہیں کہ مجھے بھی بہت دن ہوگے کہ میں بھی ظالم ارباب اختیار کے خلاف کچھ بھی نہیں بولتا۔مگر ایک زمانہ وہ بھی تھا جب میں لوگوں کو ظلم کے خلاف تھا اور لوگوں میں بیداری پیدا کرتا تھا، میں بھی اب تھک چکا ہوں۔

غزل نمبر 2

ایک بھی موسم میرے اندر نہ تھا
اورآنکھوں میں کوئی منظر نہ تھا

تشریح:

‌یہ شعرہمدمؔ کی ایک غزل سے لیا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں کوئی خوشیوں کا موسم نہیں دیکھا۔ اسی لئے میری آنکھوں میں کوئی خوبصورت منظر بھی نہیں ہے۔

میرے دائیں بائیں تھیں پرچھائیاں
میرے ہاتھوں میں کوئی پتھر نہ تھا

تشریح:

اس شعرمیں ہمدمؔ فرماتے ہیں کہ میرے آگے پیچھے،دائیں بائیں صرف دشمن ہی دشمن تھے، مگر میر ے پاس اتنی ہمت باقی نہ رہی کہ اُن کا مقابلہ ایک پتھر اُٹھا‌ کے کرتا۔

خواب اپنے کیا حقیقت ہوگئے
لمس کیسا تھا اگر پیکر نہ تھا
  • لمس : کسی چیز کو چھو کرمعلوم کرنا، ہاتھ لگانا،
  • پیکر: صورت

تشریح:

یہ شعرہمدمؔ کاشمیری کی ایک غزل سے لیا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر فرماتے ہیں کہ جس طرح خواب میں کوئی چیز اصلی اور حقیقی لگتی ہے مگر حقیقت میں اس کا کوئی وجود نہیں ہوتا ہے۔ اسی طرح اب میری حقیقی زندگی خواب سی لگنے لگی ہے اور مجھے لگنے لگا ہے کہ کوئی تو ہے جو میرے دکھوں کا مداوا کرے گا لیکن حقیقت میں اس کا کوئی وجود نہیں ایک خواب کی طرح۔

چھا گیا تھا شہر پر افسوں کوئی
چاند جب نکلا کوئی چھت پر نہ تھا

تشریح :

ہمدم ؔ اس غزل کے شعر میں فرماتے ہیں کہ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب شہر میں امن کی بہاریں چاروں طرف تھیں اورلوگ خوشی کے ساتھ نیا چاند دیکھنے کے لئے چھتوں پر چڑھتے تھے فگر اب شہرکے حالات ابتر ہوگئے ہیں، ہر دل دُکھی ہے اب کوئی بھی نیا چاند کا لطف و مزا اُٹھانے کو چھتوں پر نہیں چڑھتا ہے۔

اک صداگونجی مکاں میں دیرتک
کیا تھا ‍یہ ہمدمؔ کوئی در پر نہ تھا

تشریح:

اس غزل کے مقطع میں شاعر فرماتے ہیں کہ میرے وطن عزیرکی حالت آج نہائت خراب ہے لوگوں پر ظلم وزیادتی کی وجہ سے اکثر میرے گھر میں دردکرب کی آوازیں سنائی دیتی ہیں جیسا، کہ محسوس ہوتا ہے میرے گھر کے در ہی پرکسی ستم زدہ کی آواز ہے مگر یہ سب کچھ ہاہر شہر میں ظلم وزیادتیوں کی وجہ سے محسوس ہوتا ہے۔

2: صنعتِ تضاد:

جب کسی شعرمیں دو یا دو سے زیادہ ایسے الفاظ جو معنی کے لحاظ سے ایک دوسرے کی ضد ہوں آ جائیں تو یہ صنعتِ تضاد کہلاتا ہے۔ جیسے دن رات ، صبح شام وغیرہ

3: سواالات

سوال: پہلی غزل کا دوسرا شعر پڑھکر بتائیے کہ شاعر کو کس چیز کاگُمان نہیں تھا؟

جواب شاعرکو یہ گُمان نہیں تھا کہ اُس کے امن وسکوں والے شہر میں کبھی لُنڈےو لفنگے اور ظا لم لوگوں کی حکومت قائم ہوگی

سوال:

دھویا نہیں گیا جو کسی برشگال میں
میری زمین پر وہ لہو کانشان تھا

تشریح

اس شعر میں ہمدم فرماتے ہیں کہ اس ہمارے ملک پر اب ظالم لوگوں کا راج چل رہا ہے، ہر روز بے گناہ لوگوں کا خون بہایا جارہا ہے۔ یہ خون کے دھبے کسی بارش کے پانی سے نہیں دھوئیں جاسکے گےیعنی مجھے لگ رہا ہے کہ اب کبھی حق کا بول بالا نہ ہوگا

4: صنعت تضاد سے کیا مراد ہے؟ ہمدم کاشمیر ی کی دونوں غزلوں میں صنعتِ تضاد والے اشعار تلاش کیجئے۔

جواب: صنعتِ تضاد:

جب کسی شعرمیں دویادو سے زیادہ ایسے الفاظ جو معنی کے لحاظ سے ایک دوسرے کی ضد ہوں صنعتِ تضاد کہلاتا ہے جیسے دن رات ، صبح شام وغیرہ

اس روشنی کے شہر میں ظُلمت کرے گی راج
مجھ کو یقین تھا نہ تجھے ہی گُمان تھا
میرے دائیں بائیں تھیں پرچھائیاں
میرے ہاتھوں میں کوئی پتھر نہ تھا

5: تشریح کیجئے۔

چھا گیا تھا شہر پر افسوں کوئی
چاند جب نکلا کوئی چھت پر نہ تھا

تشریح:

ہمدم ؔ اس غزل کے شعر میں فرماتےہیں کہ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب شہر میں امن کی بہاریں چاروں طرف تھی اورلوگ خوشی کے ساتھ نیا چانی دیکھنے کے لئےچھتوں پر چڑھتے تھے فگر اب شہر کے حالات ابتر ہوگئے ہیں ہر دل دُکھی ہےاب کوئی بھی نیا چاند کا لطف و مزا اُٹھانے کو چھتوں پر نہیں چڑھتا ہے۔

6 مختصر نوٹ لکھیے۔

ہمدم کاشمیری غزل گوئی

حالاتِ زندگی:

ہمدم کاشمیری کی ولادت 15 اپریل 1937ء کو شہید گنج سرینگر کشمیر میں ہوئی۔ آپ کا نام عبدالقیوم خان اورہمدم تخلص کیا کرتے تھے۔ والد کا اسمی گرامی نور محمد خان تھا جو کہ پیشے سے ایک تاجر تھے۔

غزل گوئی:

ہمدم کاشمیری نے اپنی شاعری کا آغاز 1958ء میں کیا۔آپ اردو کے کہنہ مشق شاعر ہیں۔ آپ کی غزلوں کا پہلا مجموعہ 2003ء” دھوپ لہو کی” کے نام کے ساتھ شائع ہوا۔ آپ نے نظمیں، نعتیں بھی کہیں ہیں لیکن غزل آپ کی محبوب صنف ہےآپ نے غزلوں میں ذاتی اجتماعی زندگی کےتجربات کو تخلیقی انداز سے پیش کیا۔ آپ کے کلام میں نیا لہجہ اورسلاست ملتی ہے۔