فاضلینِ درسِ نظامی کیلیے چند نصائح

0
تحریر:ابو عمر غلام مجتبیٰ قادری

تمام جامعات اہلسنّت سے فارغ ہونے والے نوجوانوں کو تکمیلِ درسِ نظامی اور دستارِ فضیلت کے اہم ترین موقعہ پر ہدیۂ تبریک و تہنیت پیش کرتا ہوں ، دستار فضیلت بظاہر تو اک اعزازِ عمامہ ہے لیکن ایک نباض القوم اور حساس عالِم دین کیلئے اس ایک عمامہ کے ہر پیچ کے ضمن میں کئی ذمیداریاں ہیں جن کو مکمل احساسِ ذمہ داری سے ادا کرنا ہوتا ہے ۔ اس لیے چند پند و نصائح نوجوان علماء کرام کی بارگاہ میں پیش کر نے کی جسارت کر بیٹھا ہوں۔

اس وقت پوری دنیا میں عموماً اور ہمارے برصغیر پاکستان میں خصوصاً اباحیت پسندی، آزاد خیالی، فکری شورش، مغربی افکار ، ذہنی کج روی اور بے دینی کا زور ہے ایسے پُرآشوب دور میں جہاں عقائد میں خلل و تشکیک پیدا کر دی گئی ہیں وہاں الحاد وزندقہ اور بدعات کے بھوت بھی منہ کھولے کئی سادہ لوح لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے اس لیے ضروری ہے کہ عقائد و نظریات کا اندرونی و بیرونی دفاع و تحفظ اور عقائد اہلسنّت کی تبلیغ و ترویج لازم لازم لازم ہے ۔ آپ کے پاس جو علمِ نافع کی نعمت و نور ہے اس کو عام کرنا اس لیے ضروری ہے کہ اگر اس سے قوم کو فائدہ نا پہنچا تو مقصدِ تفضیل عالم علی العابد جاتا رہے گا ۔ کہا جاتا ہے کہ
لا ینبغی لاحد عندہ شیء من العلم ان یضیع نفسہ کہ جس آدمی کے پاس کچھ تھوڑا بہت بھی علم ہے اس کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو ضائع کرے۔

موجودہ زمانے کے تقاضوں کے مطابق اپنی ترجیحات کی سمت کا تعین کرنا از حد ضروری ہے کیونکہ مذہبی قائدین کی اکثریت اسلام کو درپیش جدید چیلنجز سے نا بلد ہوتے ہوئے صدیوں پرانی غیر ضروری روایات کی لکیریں پیٹنے کا مقابلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ( 🙏 مستثنیٰ بہت ہے ) اس لیے ترجیحات کا تعین کرنا ہمارے لیے ضروری ہے ، نوجوان علماء کیلئے عملی زندگی شروع کرنے میں ایک بڑا امتحان کونسے منصبِ عالی کا انتخاب اس لیے بھی ہے کہ اعلاءِ کلمۃ الحق پر مراعات کو ترجیح دینا معمول نظر آتا ہے اور یہیں سے درباریت کی ابتدا ہوتی ہے کسی شاعر نے کہا تھا کہ

پیچ رکھتے ہو بہت صاحبو دستار کے بیچ
ہم نے سر گرتے ہوئے دیکھے ہیں بازار کے بیچ
قاتل اس شہر کا جب بانٹ رہا تھا منصب
ایک درویش بھی دیکھا اسی دربار کے بیچ

دنیا کا مال طلب کرنا ضرورت بالکل ہے لیکن فطرت میں حرص بھی شامل ہے اور یہ حرص و طمع ہی امتحان ہے جس سے کامیابی کیساتھ گذرنا ہی مقصدِ حیات ہے حدیث مبارکہ میں ہے کہ
لَوکَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ ذَھَبٍ لَا بْتَغٰی الثَّالِثَ

ابن آدم کو دو سونے کی وادیاں مل جائیں تو بس نہیں کرے گا بلکہ تیسری وادی کی کوشش میں جت جائے گا۔
وَلَا یَمْلأَءُ جَوفَ ابْنِ آدَمَ اِلَّا التُّرَابُ
’’ابن آدم کا پیٹ تو قبر کی مٹی ہی بھرے گی۔‘‘(مسند أحمد: 117/5)

اس وقت ساری دنیا میں افراتفری پھیلی ہوئی ہے۔ ہر کوئی آگے جانے کے خبط میں ہے۔ ہرکسی کی اپنی ترجیحات ہیں جن میں اخلاقیات نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ ضروری اور غیر ضروری کی کوئی تمیز نہیں ہے حلال حرام کا کوئی فرق نہیں ، اگر یہ سارے معاملات عام بندہ کرے تو نا پسندیدہ ضرور ہے لیکن جب علماء کرام کی جانب سے ایسا رویہ اختیار کیا جائے تو قابلِ مذمت اور افسوسناک بن جاتا ہے۔

ایک طرف ملاحدہ کی طرف سے سائنسی نظریات و جدید فلسفہ کو بنیاد بنا کر نظریاتِ اسلام کے بارے میں تشکیک کا بیج بویا جا رہا ہے تو دوسری طرف اندرونی اختلاف و انتشار کی وجہ سے تفسیق و تضلیل کی گولہ باری ، دینِ اسلام سے دوری کے اسباب پیدا کیے جا رہے ہیں ان تمام نظریاتی محاذ کو سنبھالنے کی ذمہ داری کا بوجھ ہی دستار کے ہر پیچ کے واسطے ہمارے اور آپ کے کندھوں پر آتا ہے۔

کبھی سیکیولرازم کا نام لے کر مزین و مرصع الفاظ و انداز سے دین کو ریاست اور سماج سے لا تعلق کر کے ذاتی رائے تک محدود کرکے بے دینی پھیلائی جا رہی ہے تو کبھی فیمینزم کا نام لے کر اسلام میں عورت کی گواہی دیت ترکہ وغیرہ کے غیر منطقی سوالات ابھار کر مغربی غلامی کی دعوت دی جا رہی ہے مقصد کہ حالات کی ابتریت کچھ مخفی نہیں ایسے حالات میں حقیقی وارثانِ انبیاء کا حق ادا کرنے کیلیئے تمام ہی فکری محاذوں کی بھاگ دوڑ سنبھالنا آپ لوگوں کیلیے ضروری ہے کیونکہ بہت ساری امیدیں وابستہ آپ لوگوں سے ہی ہیں۔