Back to: ابو عمر غلام مجتبیٰ قادری
مبارک ثانی کیس میں بددیانتی
مبارک ثانی قادیانی کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ پاکستان نے 27 صفحات پر مشتمل تفصیلی عام کر دیا جس کے 49 پیرا گراف ہیں۔ اتنا تفصیلی جواب ہونے کے باوجود بہت سارے ابہامات پائے جانے کی وجہ سے تقریباً تمام ہی پاکستانی مسلمانوں کے ذہنوں میں خدشات و تحفظات پائے جاتے ہیں۔ کیونکہ بظاہر ایسا لگ رہا کہ اس فیصلے میں پاکستانی آئین کےساتھ بدیانتی کرتے ہوئے قادیانیت کو نوازا گیا ہے بلکہ توہین اسلام اور توہین قرآن کے مواقع قانونی طور پر دیے گئے ہیں۔ آئیے کچھ کیس کا جائزہ لیتے ہیں۔
ملزم پر چھ دسمبر 2022 کو ضلع چنیوٹ میں درج ایف آئی آر کے مطابق صوبہ پنجاب میں قرآن کی طباعت کے قانون 2011، تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 298 سی اور دفعہ 295 بی کے تحت تین الزامات لگائے گئے تھے۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ملزم ممنوعہ کتاب ’تفسیرِ صغیر‘ تقسیم کر رہا تھا جبکہ ضمانت کی درخواست میں ملزم کے وکیل کا مؤقف تھا کہ ایف آئی آر کے مطابق اس جرم کا ارتکاب 2019 میں کیا گیا جبکہ کسی بھی ممنوعہ کتاب کی تقسیم یا اشاعت کو پنجاب قرآن شریف (ترمیم) قانون کے تحت سنہ 2021 میں جرم قرار دیا گیا تھا۔
عدالت عظمیٰ نے واضح طور پر کہا کہ 298سی دفعہ یہاں نہیں لگ سکتی کیونکہ 298 کا مطلب ہے کہ کوئی قادیانی جا اقلیتی فرد بالواسطہ یا بلاواسطہ خود کو مسلمان یا اپنے مذہب کو اسلام کا نام سے ظاہر کرے یا اپنے مذہب کا پرچار اور دعوت و تبلیغ کرے یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرے اس کو تین سال کی سزا اور جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
کیونکہ اسلامی ریاست میں اقلیتی افراد کو اپنے مذہب احکامات پر اپنی عبادتگاہوں اور گھروں کے اندر مکمل آزادی ہے لہذا عدالت کے مطابق انہوں نے ایسا کوئی جرم نہیں کیا جا پر دفعہ 298سی لگتی ہو۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو پروگرام قادیانی گروپ نے سالانہ منعقد کیا تھا ، وہ ان کا اپنا گھر تھا یا عبادتگاہ ؟ ایف آئی آر کے مطابق وہ نصرت جہاں کالیج کا گرائونڈ تھا جو کہ کھلا عوامی مقام OPEN PUBLICALLY GROUND میں انہوں سالانہ پروگرام منعقد کیا ، جبکہ آئین میں اجازت عوامی مقامات کی نہیں ۔ قانون کے مطابق تو جرم بنتا ہے لیکن پھر بھی اس کی نظر انداز کیا گیا۔
دوسری بات دفعہ 298 بی کے مطابق قادیانی اپنے عبادت گاہ کو مسجد ، یا اسلامی نام سے موسوم اصطلاحات استعمال نہیں کر سکتے اگر کریں گے تو تین سال اور جرمانہ عائد ہوگا۔
یہ پروگرام مدرسۃ الحفظ عائشہ اکیڈمی مدرسۃ البنات کے تحت سالانہ تقریب اسناد کا کیا گیا۔
مجھے بتائیں یہ نام مسلمانوں کی اصطلاحات کے نہیں ان ناموں سے کوئی یہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ قادیانیوں کے ادارے ہیں ؟ جبکہ یہی وجہ ہے اسلامی نام سے موسوم نا کرنے کی کہ عوام دھوکا میں نا پڑیں لہذا اپنے جدا نام رکھے جائیں۔ ان ناموں میں ایسا کوئی امتیاز نہیں پایا جاتا جن سے واضح ہو کہ یہ غیر مسلم اقلیتی مذہب کا پروگرام ہے تو اس طرح 298بی بھی لاگو ہو نا چاہیے لیکن محترم عدالت نے بالکل نظر انداز کر دیا۔
تیسری بات جو سب سے اہم ترین ہے جس کی بنیاد پر کیس سپریم کورٹ تک پہنچا وہ ہے 295بی جو توہین قران کے تعلق سے ہے کہا گیا ہے کہ
Whoever wilfully defiles, damages or descrates a copy of the Holy Quran or of an extract therefrom or uses it in any derogatory manner or for any unlawful purpose shall be punishable with imprisonment for life
یہی پیراگراف آئین میں موجود ، یہی پیرا گراف اس فیصلے سے پہلے سپریم کورٹ پاکستان کے ایک فیصلے ” طاہر نقاش بنام ریاست ” میں بھی لکھا تھا اور اسی کا ریفرنس مبارک ثانی کیس کے فیصلے میں بھی دیا اور بار بار زور دے کر کہا گیا کہ قران کی قصداً بے حرمتی ہو تب جا کر 295بی ایکٹ لاگو ہوگا اور اگر غیر مسلم کے فقط قران رکھنے یا پڑھنے سے توہین اور بے حرمتی نہیں ہوتی اور یہی صورتحال اس کیس میں بھی ہے۔
اس پیرا گراف کے شروع میں تین چیزوں کا ذکر ہے کہ ، قران پاک کے نسخے یا کسی ایک اقتباس کو کوئی بھی قصداً نقصان پہچائے ، بے حرمتی کرتے یا غیر قران کو قران کے ساتھ ملا دے ، یعنی تحریف کرے تو اس کو عمر قید سزا سنائی جا سکتی ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی وہ تفسیر کبیر جس میں تحریفات کی گئی ہوں اور اپنے مذہب کی تائیدات کھینچ تان کر ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہو جن کی دو مثالیں پیش کرتا ہوں ، کیا یہ تحریف کرنے اور اس تحریف اور اپنے مذہب کی تبلیغ و ترویج وہ بھی کھلم کھلا عوامی مقامات پر آئینی طور پر جرم نہیں ہے ؟ کیا اس عمل پر بھی 295بی لاگو نہیں ہوگا ؟
آخر کیا وجہ ہے کہ عدالت عظمیٰ اس طرف کان دھرنے کیلیے تیار ہی نہیں۔
کونسا دباؤ چیف جسٹس پر ڈالا گیا ہے کہ قرآن پاک کی تحریف کے چھاپنے ، تقسیم کرنے اور اس طرح کے عمل کو ڈوامی مقامات پر سرانجام دینے کی اجازت دینی پڑ گئی ؟
تفسیر صغیر کی تحریفات معنوی کی خو مثالیں۔
{وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ } [البقرة: 4]
مرزا بشیر الدین نے اس آیت میں تحریف کرتے ہوئے آخرت کی جگہ پر مرزا غلام قادیانی کی وحی پر ایمان لانا ضروری قرار دیا ہے۔ (تفسیر صغیر سورۃ بقرہ آیتِ مذکورہ)
جبکہ مرزا نے آخرت سے مراد مسیح موعود کی وحی لی ہے۔(تفسیر مرزا ص445 جلد اول)
{وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا} [النساء: 69]
قادیانی عقیدے کے مطابق کوئی بھی انسان اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کرکے نبوت جیسا عہدہ بھی حاصل کرسکتا ہے۔ اس عقیدے کو بالا آیت کے ترجمہ میں تحریف کرکے ثابت کیا گیا ہے۔ جس سے آپ ﷺ کی امتیازی شان ومرتبہ، ختم نبوت کی نفی کی گئی ہے۔ مرزا بشیر الدین کے الفاظ یہ ہیں:
’’اور جو لوگ بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرینگے وہ ان لوگوں میں شامل ہونگے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے یعنی انبیاء اور صدیقین ،اور شہداء اور صالحین (میں)اور یہ لوگ (بہت ہی) اچھے رفیق ہیں‘‘۔(تفسیر صغیر120)
یہ تو واضح ہوا کہ جو تفسیر شایع کی جا رہی تھی اور عوامی اجتماعات میں تقسیم کی جا رہی تھی اسی میں تحریفات موجود ہیں لہذا چیف جسٹس صاحب سے سوال تو بنتے ہیں۔
1، کیا سالانہ تقریب منعقد کرنا اپنے مذہب کی ترویج و تبلیغ وہ بھی عوامی مقامات پر نہیں پایا گیا ؟
2۔ کیا مدرسۃ الحفظ عائشہ اکیڈمی مسلمانوں کے نام استعمال نہیں کیے گئے ؟
3 ۔ کیا تحریفات قران نہیں کی گئی ؟
4 کیا غیر مسلم اپنے ادارے اور گھر کے اندر توہین مقران ، توہین مذہب اور توہین رسالت کا ارتکاب آئینی اور قانونی طور پر کر سکتے ہیں ؟ اگر نہیں تو کیا اس کیس میں توہین نہیں پائی گئی ؟
| تحریر | ابو عمر غلام مجتبیٰ قادری |