قادیانیت کا تعاقب کیسے کریں

0

قادیانیت کا تعاقب کیسے کریں ؟

معروضی حالات کے پیش نظر چیف جسٹس ، سپریم کورٹ اور حکومت کے خلاف سخت بیان بازی کا عمل بالعموم پاکستانی عوام کی طرف سے اور بالخصوص مذہبی طبقہ کی طرف سے بہت زیادہ جاری ہے اور وجہ مبارک ثانی کیس کا فیصلہ ہے ہمارے نزدیک یہ فیصلہ میں آئین اور شریعت دونوں سے بدیانتی اور غداری کی گئی ہے اہم ترین دفعات جو لگنی چاہییں تھی ان کو نظر انداز کر کے قادیانیوں کو اپنے مذہب کی تعلیم و تبلیغ کے ضمن میں توہین مذہب اور توہین قرآن کی بھی گنجائش دی ہے تو ظاہر ہے ایسے فیصلے کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

مکمل طور پر غیر مشروط انداز میں مسترد کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی صورتحال میں مذہبی طبقے بالخصوص مذہبی رہنمائوں ، خطیبوں کی طرف سے جو بیانات اور سوشل میڈیا پر پوسٹس کا سلسلہ چل رہا ہے کیا یہ دینِ اِسلام کیلیے مفید ہے ؟ کیا یہ انداز قادیانی فتنے کا سد باب بن سکتا ہے ؟ کیا اس طرح کے جذباتی بیانات دینے سے حکومت پریشر میں آ کر فیصلہ واپس لے گی ؟ کیا موجودہ حالات میں یہ حکمت عملی کا تقاضہ ہے ؟

یقیناً نہیں بلکہ اس سے عالمی سطح پر اسلام کا منفی تاثر اس طور پر پیش کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں پر ظلم و ستم ہو رہا ہے بہت مظلوم طبقہ ہے یہاں تک کہ مذہبی آزادی ہندو ، سکھ عیسائی کو تو حاصل ہے قادیانیوں کو نہیں ، یہ قادیانیت کارڈ کھیل کر دنیا کے سامنے ہیومنزم کا ڈھونگ رچا کر خود کو نسانیت کے بنیادی حقوق سے بھی محروم ظاہر کر کے مغربی طاقتوں کی ہمدردیاں بٹور رہے ہیں اور ہم ان لوگوں کو مواقع دیے جا رہے ہیں۔

ایسے حالات میں لازمی یہ ہے کہ ایسا کوئی متفقہ لائحہ عمل تیار کیا جائے اور کوئی ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے کہ ہمیشہ کیلیے اس کا سد باب ہو سکے جس کیلیے ہمیں آئین اور قانون کو سبوتاژ کیے بغیر فقط قادیانیوں کی آئینی حیثیت اگر نافذ کروا دی جائے ، مذہبی رہنمائوں کی طرف سے متفقہ طور پر آئین کی شق 298 کے نفاذ پر حکومت کو مجبور کریں تو قانونی حیثیت سے ہی اس کا سد باب ہوجائے گا جیسا کہ اسی 298 سی کے تحت آئین میں موجود ہے کہ

Any person of the Quadiani group or the Lahori group who directly or indirectly, poses himself as a Muslim, or calls, or refers to, his faith as Islam, or preaches or propagates his faith, or
invites others to accept his faith, by words, either spoken or written, or by visible
representations, or in any manner whatsoever outrages the religious feelings of Muslims
shall be punished with imprisonment of either description

یعنی قادیانی گروہ یا لاہوری گروہ کا کوئی بھی فرد جو بالواسطہ یا بلاواسطہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتا ہے، یا اپنے عقیدے کو اسلام کہتا ہے، یا اپنے عقیدے کی تبلیغ یا تبلیغ کرتا ہے، یا دوسروں کو اپنے عقیدے کو قبول کرنے کی دعوت دیتا ہے، الفاظ کے ذریعے، زبان یا تحریری، یا ظاہری نقوش پر نمائندگی، یا کسی بھی طریقے سے جو مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرے۔ کسی بھی تفصیل کی قید کی سزا دی جائے گی۔

مزید اسی آرٹیکل کے تحت یہ اپنی مذہبی رسومات کو اسلامی اصطلاحات سے ظاہر نہیں کر اکتے جیسے عبادت کیلیے بلانے کو اذان نہیں کہہ سکتے ، عبادتگاہ کو ماجد نہیں کہہ سکتے ، اداروں کے نام اسلامی اصطلاحات کے جیسے نہیں رکھیں گے ۔ اس آئینی وضاحت کے بعد چند قانونی اور آئینی اقدامات کا نفاذ اگر حکومت سے کرا لیا جائے تو بہت حد تک اس فتنے کو ختم کیا جا سکتا ہے مثلاً:

1 ۔ ان کے نام مسلمانوں کے ناموں جیسے ہی ہیں تو نام کیساتھ ان کا مذہب کا کالم سرکاری تمام دستاویز میں شامل کیا جائے۔
قادیانی دعوا کرتے ہیں کہ پاکستان میں ہماری کمیونٹی کی تعداد دس ملین سے زیادہ ہے ، اگر واقعی ایسا ہے بھی تو نادرا کے ڈیٹا میں ظاہر کیوں نہیں ؟ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ سے لے کر نجی دستاویزات تک ان کا مذہب واضح ہونا چاہیے تاکہ کوئی بھی مسلمان ان کے نام سے دھوکا نا کھائے۔

2 ہندوؤں کی عبادتگاہ مندر ، عیسائیوں کی عبادتگاہ چرچ ، مسلمانوں کی عبادتگاہ مسجد جب تمام ہی مذاہب کی عبادتگاہ کے نام جدا ، ان کی تعمیرات کا انداز اور نقشہ جدا ہے تو قادیانیوں کی عبادتگاہ کا نام مسجد کیوں ؟ ان کی عبادتگاہ مسجد کے نقشے کے مطابق منبر اور محراب کیوں ؟ آئینی طور پر منع کے باوجود حکومت کی طرف سے پابندی کیوں نہیں لگائی گئی ؟

3 ۔ مذہبی تعلیمی اداروں کے نام ان کے اداروں کے نام مدرسہ یا جامعہ رکھنا قانوناً جرم ہے لیکن اس کے باوجود ان کے اداروں کے نام مدرسہ کے نام سے مسوم رجسٹرڈ ہیں جیسا کہ مبارک ثانی کا کیس ہوا اسی میں مدرسہ الحفظ کے نام سے ادارا تھا جس کا سالانہ پروگرام منعقد کیا گیا ، حیرت کی انتہا ہے کہ جس آئین کی پاسداری کا حلف اٹھاتے ہیں اسی آئین کی مخالف رجسٹریشن کر کے دیتے ہیں لہذا تمام ہی قادیانی اداروں کے نام تبدیل کر کے ان کے مذہبی اداروں سے موسوم کیے جائیں۔

4 عوامی مقامات میں مذہبی پروگرام کا انعقاد
آئینی طور پر اپنے مذہب کا پرچار فقط ادارے کی چار دیواری میں کر اکتے ہیں عوامی مقامات پر نہیں۔ لیکن موجودہ مسئلہ بھی ایک نصرت جہاں کالیج کا گرائونڈ تھا جہاں پر یہ پروگرام منعقد کیا گیا بہت تعداد میں مسلمان بچیاں شامل تھیں جس میں تفسیر صغیر تقسیم کی گئی لہذا اگر حکومت قانون پر عمل کروا کر ان کی مذہبی حرکات و سکنات ادارے تک محدود کرائے تو مسلمانوں کو دھوکا نہیں ہوگا۔

5 غیر مسلم کو قرآن مجید کی تفسیر لکھنا شایع کرنا
قرآن مجید ہماری مذہبی مقدس کتاب ، اللّٰہ پاک کا کلام ہے اس کی تفسیر و تشریح کرنا فقط ایک مسلمان عالم دین ہی کا حق ہے لیکن یہاں ستم تو یہ ہے کہ قادیانی قرآن مجید کا ترجمہ کر رہے ہیں تفسیر کر رہے ہیں اور س کے بعد جو تحریف معنوی کر رہے ہیں کوئی پوچھنے والے ہی نہیں۔

یہ تو چند وہ تجاویز تھیں جو میری موٹی عقل میں آئی اگر قانونی ماہرین جو مذہبی حمیت و غیرت رکھتے ہوں ، ختم نبوت کے عقیدے کی اہمیت و حساسیت سمجھتے ہوں اگر عمیق و دقیق نظر و فکر کریں تو بہت سے قوانین ایسے موجود ہیں جن کے نفاذ سے قادیانیت کے مسلمانوں کو دھوکا دینا یا مسلمانوں کے قلبی جذبات کو مجروح کرنے سے مستقل طور روکا جا سکتا ہے۔

از قلم ابو عمر غلام مجتبیٰ قادری