Advertisement

شاعر : حسرت موہانی

Advertisement

تعارفِ غزل :

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی غزل سے لیا گیا ہے۔ اس غزل کے شاعر کا نام حسرت موہانی ہے۔

Advertisement

تعارفِ شاعر :

حسرت موہانی کا اصل نام سید فضل الحسن تھا۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت امام علی موسی کاظم سے ملتا ہے۔ آپ حق گو ، بے باک اور درویش مزاج انسان تھے۔ آپ جدید اندازِ غزل کے شاعر تھے۔ آپ کو رئیس المتغزلین بھی کہا جاتا ہے۔ آپ نے ایک رسالہ اردو معلی کے نام سے جاری کیا تھا۔ آپ کا کلام کلیاتِ حسرت کے نام سے موجود ہے۔ نکاتِ سخن آپ کی مشہور کتاب ہے۔

Advertisement
بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں
الٰہی ترک الفت پر وہ کیونکر یاد آتے ہیں

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ محبوب کی محبت میں میں نے کتنی منازل طے کر لی ہیں۔ میں نے دکھ پریشانیاں صدمے سہے۔ ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کیا، لوگوں کی باتوں سے مجھے تکلیف پہنچتی رہی مگر میں نے کبھی راہ وفا نہ چھوڑی۔میں نے محبوب کے لئے اتنے سخت حالات کاٹے مجھے اس کے صلے میں محبوب سے نامناسب رویہ ملا جو کہ میرے لئے ناقابل برداشت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے سارے جذبات اپنی کیفیات اس پر وا کر دیں مگر وہ میری محبت سے زرا بھی متاثر نہیں ہوا۔ وہ خدا کو مخاطب کرکے کہتے ہیں کہ اب جب میں تھک چکا ہوں تو میں اب اسے بھلانے کی کوشش کرتا ہوں مگر وہ بھولتا نہیں مجھ سے۔

نہ چھیڑ اے ہم نشیں کیفیت صہبا کے افسانے
شراب بے خودی کے مجھ کو ساغر یاد آتے ہیں

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ایک شخص جس نے تمام عمر مے نوشی کی ہو۔ جس کی شامیں مے نوشی کی محفلوں میں گزرتی ہوں، جس کے شب و روز مے نوشی سے بھرے ہوتے ہوں۔ مگر بعد میں اس نے اپنی اس عادت پر قابو پا لیا ہو، مگر پھر اس کے سامنے جب وہ تذکرہ کیا جائے تو وہ منع کرتا ہوگا کیونکہ اس سے اسے سرور کی کیفیت چھانے لگتی۔ اسی طرح شاعر کہتے ہیں کہ میں بھی ترک محبت کر چکا ہوں اب میرے سامنے اس کا ذکر کرے میرا دل مت جلاؤ۔ شاعر کے سامنے اس کے محبوب کا ذکر کرنے سےکئی اچھے برے باب وا ہو جاتے ہیں۔ اس کے ستم اور بے رخی سبھی کچھ اسے یاد آتے ہیں جو اس کے لیے غم کا سبب بنتے ہیں۔

Advertisement
نہیں آتی تو یاد ان کی مہینوں تک نہیں آتی
مگر جب یاد آتے ہیں تو اکثر یاد آتے ہیں

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ جب ایک عاشق کسی کی محبت میں مبتلا ہو جاتا ہے تو وہ گھنٹوں اس کی یادوں میں پڑا رہتا ہے۔ اسے دنیا کی کسی اور چیز میں رنگینی نظر نہیں آتی۔ وہ دنیا سے کٹ کر محبوب کی یادوں میں کھویا رہتا ہے۔ مگر پھر شاعر نے ترک محبت کر لی اور اپنے دنیاوی معاملات میں کھو گیا۔ اب وہ خود کو اتنا مصروف رکھتا ہے کہ محبوب کی یاد اس کے قریب نہیں آتی۔ مگر جب وہ کبھی محو خیال ہوتا ہے تو اس پر یکسر محبوب کی یادوں کے باب وا ہو جاتے ہیں۔ کبھی وہ مہینوں تک اسے یاد نہیں کرتا تو کبھی فرصت ملتےہی اسی کی یادوں میں کھویا رہتا ہے۔

حقیقت کھل گئی حسرتؔ ترے ترک محبت کی
تجھے تو اب وہ پہلے سے بھی بڑھ کر یاد آتے ہیں

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ میں نے جب محبوب سے اظہار محبت کیا تو اس نے مجھے جھڑک دیا تھا۔ میں نے کوشش جاری رکھی اور اسے اپنی محبت کا احساس دلاتا رہا مگر بے سود۔ وہ میری محبتوں کو کسی خاطر میں نہیں لاتا۔ اس لیے میں نے ترک محبت کے بارے سوچا اور دنیا کی مصروفیات میں خود کو گم کر دیا۔ اب میں اسے یاد نہیں کرتا نہ اس کی یادوں میں ہر وقت الجھا رہتا ہوں۔ مگر درحقیقت میں اسے اب پہلے سے زیادہ یاد کرنے لگا ہوں جب اس کا ذکر آجائے تو دل ملول ہو جاتا ہے۔ میں نے لاکھ خود کو سمجھایا میں اب اسے یاد نہیں کروں گا مگر پھر اس کی یادیں میرے دل میں آکر گھر کر لیتی ہیں۔ ترک محبت کی حقیقت یہی ہے کہ اب وہ مجھے میں ا سکی یادوں کو فراموش نہیں کر سکتا۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement