سبق نمبر 3: افسانہ عبرت، خلاصہ، سوالات و جوابات

0

سوال:اردو میں افسانے کے ارتقا پر مختصر نوٹ لکھیں۔

اُردو میں مختصر افسانے نے بیسویں صدی میں زبردست ترقی کی۔ ہندوستان میں کتھا کہانی کا رواج تو صدیوں سے چلا آرہا ہے، اسی طرح عربی اور فارسی ادب میں حکایت کی روایت ملتی ہے لیکن مختصر افسانے کی صنف اردو میں مغرب کے اثرات کی دین ہے۔ گذشتہ صدی کے شروع میں سب سے پہلے پریم چند نے افسانے لکھنے شروع کیے اور دیکھتے ہی دیکھتے صنف افسانہ نے ایسی ترقی کی کہ اردو فکشن کی مقبول ترین صنف ہو گئی۔

اُردو میں مختصر افسانے کے فروغ سے پہلے داستانوں اور تمثیلی قصوں کا رواج تھا۔ ناول کی ابتدا بھی ہو چکی تھی لیکن جیسے جیسے حالات بدلے اور زندگی کی کشمکش بڑھی، نیز فرصت اور فراغت کم ہونے لگی ، تو مختصر افسانے کا رواج عام ہوا۔ مختصر افسانے سے مراد ایسی نثری کہانی ہے جس میں کوئی ایسا واقعہ بیان کیا گیا ہو جس کی ابتدا ہو، ارتقا ہو اور خاتمہ ہو اور جو زندگی کی بصیرت میں اضافہ کرے۔

افسانے کی یہ بھی تعریف کی گئی ہے کہ کوئی ایسا بیان جو اپنی جگہ مکمل ہو اور ایک ہی نشست میں پڑھا جا سکے۔ افسانے میں ایک یا ایک سے زیادہ کردار ہو سکتے ہیں۔ منظر نامہ، پلاٹ یا مکالمہ بھی ہو سکتا ہے لیکن ادھر افسانے میں بہت تبدیلیاں ہوئی ہیں اور افسانے کی کوئی ایک تعریف مکمل نہیں کی جاسکتی۔ دراصل بدلتی ہوئی زندگی اور زمانے کے بدلتے ہوئے مزاج کے ساتھ ساتھ افسانے کی پیش کش اور ہئیت میں بھی تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔

پریم چند کے علاوہ سجاد حیدر یلدرم اور سلطان حیدر جوش نے بھی اُردو میں مختصر افسانے کے اولین نمونے پیش کیے۔ شروع میں پریم چند نے بنگالی ادب سے متاثر ہو کر لکھنا شروع کیا تھا۔ اُن کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ”سوز وطن“ ۱۹۰۸ء میں شائع ہوا۔ ان افسانوں میں سامراج دشمن اور وطن دوستانہ جذبات کی ترجمانی کی گئی تھی اس لئے انگریز حاکموں نے اس مجموعے کو ضبط کر لیا۔

پریم چند کی ابتدائی کہانیوں میں داستانوں کے انداز کی جھلک تھی لیکن بعد میں ان کا فن برابر ارتقا پزیر رہا اور انھوں نے اُردو افسانہ نگاری کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ پریم چند کے زمانے میں اُردو میں رومانی طرز کے افسانے بھی لکھے گیے۔ ایسے افسانہ نگاروں میں سجاد حیدر یلدرم ، نیاز فتح پوری اور مجنوں گورکھپوری کے نام قابل ذکر ہیں۔ ۱۹۳۶ء میں ترقی پسند تحریک کا آغاز ہوا۔ اس سے چند برس پہلے ”انگارے“ کے نام سے باغیانہ کہانیوں کا ایک مجموعہ شائع ہو چکا تھا، جس نے موضوع اور فن دونوں اعتبار سے ایک ایسی بغاوت کی بنیاد ڈال دی تھی جس کے بغیر کسی جہانِ نو کی تخلیق نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے چند برسوں میں سعادت حسن منٹو، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی اور عصمت چغتائی کے ہاتھوں اُردو افسانے نے بے حد ترقی کی اور زندگی کے گوناگوں مسائل پر بھر پور انداز سے لکھا جانے لگا۔ اس کے ساتھ ساتھ انسان دوستی ، سماجی اصلاح اور قومی شعور کا اظہار بھی ترقی کرتا رہا۔

آزادی کے بعد ہندوستان اور پاکستان میں کئی برس تک فسادات کے موضوع پر بہترین افسانے لکھے گیے اور انسانی قدروں کے زوال، نیز تہذیبیں اور اخلاقی قدروں کی پامالی کا احساس عام ہوا۔ آزادی کے بعد ابھرنے والے افسانہ نگاروں میں قرۃ العین حیدر نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔ اُن کے افسانوں میں ایک خاص طرح کا تاریخی شعور اور وقت کا احساس ملتا ہے۔ وہ جبر کی ان طاقتوں کا بھی پردہ فاش کرتی ہیں جن کے شکنجے میں انسان بے بس اور مجبور ہے۔

۱۹۵۵ء کے آس پاس اُردو میں علامتی افسانے کا آغاز ہوا۔ اس رنگ کے نمائندہ افسانہ نگار انتظار حسین، سریندر پرکاش ، انور سجاد، رشید امجد و غیره ہیں۔ بدلتے ہوئے حالات اور زندگی کی بڑھتی ہوئی پیچیدگی کے ساتھ ساتھ افسانہ بھی پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے اور نئی نسل کے افسانہ نگار براہِ راست طرز بیان کے بجائے رمزیہ طرزِ بیان کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ افسانے میں حقیقت نگاری کی روایت کو آگے بڑھانے والوں میں اختر اورنیوی، علی عباس حسینی ، احمد ندیم قاسمی ، حیات اللہ انصاری ، خواجہ احمد عباس ، سہیل عظیم آبادی ، غلام عباس ، صالحہ عابد حسین ، اشفاق احمد ، شوکت صدیقی ، غیاث احمد گدی ، جوگیندر پال، سلام بن رزاق ، انور خان اور احمد یوسف خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

سوال: افسانہ عبرت کا خلاصہ لکھیں۔

”عبرت“ پریم چند کا لکھا ہوا افسانہ ہے۔پنڈت چندر دھر اس کا مرکزی کردار ہے جو ایک اَپر پرائمری اسکول میں استاد کی حیثیت سے کام کرتے تھے اور ہمیشہ یہ سوچتے رہتے کہ اگر کسی اور محکمے میں نوکری کی ہوتی تو چار پیسے کمائے جا سکتے تھے اور زندگی آرام سے گزر سکتی تھی۔

پنڈت چندر دھر کے پڑوس میں ایک ٹھاکر رتی بل سنگھ (پولیس ہیڈ کانسٹیبل) اور دوسرا منشی بیچ ناتھ جو اکاؤنٹ کلرک تھا، رہتے تھے۔ ان دونوں کی تنخواہ پنڈت چندر دھر سے بہت کم تھی لیکن ان کی زندگی بہت آرام سے گزرتی تھی۔ حالانکہ علم و لیاقت کے اعتبار سے وہ پنڈت جی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھے لیکن انہیں بازار سے چیزیں بھی سستی ملتی تھیں۔ پنڈت جی ان کی یہ ٹھاٹھ باٹھ دیکھ کر کڑتے تھے۔ کبھی کبھی یہ دونوں پنڈ جی کے گھر تھوڑی سی سبزیاں یا دودھ بھیج دیتے لیکن اس کے بدلے پنڈت جی کو ان کے بچوں کو پڑھانا پڑتا تھا۔

پنڈت جی نے محکمہ بدلنے کی کافی کوشش کی لیکن انہیں کامیابی حاصل نہ ہوئی۔انہیں بے شک اپنے پیشے سے ناراضگی تھی لیکن وہ اپنے کام میں کبھی کوتاہی نہیں کرتے تھے اور دل لگا کر پڑھایا کرتے تھے اس لئے قصبے کے لوگ ان سے خوش تھے۔

رتی بل سنگھ نے اپنے اہل و عیال سمیت اجودھیا کی زیارت پر جانے کا پروگرام بنایا اور پنڈت جی کو بھی ساتھ لے گئے۔ پنڈت جی اور داروغہ جی (رتی بل سنگھ) ریل کے ایک ڈبے میں سوار ہوئے اور منشی جی کو ایک الگ ڈبہ مل گیا۔ داروغہ اور پنڈت جی جس کمرے میں گئے وہاں چار آدمی پہلے سے بیٹھے ہوئے تھے۔ داروغہ جی نے انہیں جگہ دینے کے لیے کہا لیکن مسافروں میں سے ایک، جس نے داروغہ جی کو پہچانا تھا، نہایت بد تمیزی کے ساتھ پیش آیا اور کہا کہ تم وہی داروغہ ہو جس نے مجھ پر چھپ کر چیزیں بیچنے کا الزام لگایا تھا اور رشوت کے طور پر 25 روپے لیے تھے۔ساتھ میں بیٹھا ایک اور مسافر بھی داروغہ جی سے بری طرح پیش آیا اور کہا کہ تم نے میلے میں مجھے ڈنڈے سے مارا تھا۔ میں وہ مار بھولا نہیں ہوں اگر تم نے زیادہ باتیں کیں تو میرے سر پر شیطان سوار ہو جائے گا اور میں اس دن کا بدلہ لے لوں گا۔

پنڈت جی یہ سن اور دیکھ رہے تھے۔ وہ ڈر رہے تھے کہ کہیں یہ جھگڑا زیادہ نہ بڑھ جائے اس لیے انہوں نے داروغہ جی کو خاموش رہنے کے لیے کہا۔ اگلے اسٹیشن پر داروغہ نے اپنے بیوی بچوں کو اس ڈبے سے اتارا۔ ان دونوں مسافروں نے داروغہ جی کا سامان باہر پھینک دیا اور جب وہ گاڑی سے اترنے لگے تو انہیں زور سے دھکا دیا وہ پلیٹ فارم پر گرپڑے۔

منشی بیج ناتھ کی حالت اس سے بھی بری تھی، وہ کافی بھیڑ والے ڈبے میں بیٹھے تھے۔ ہر اسٹیشن پر جیب سے شراب کی بوتل نکالتے اور پیتے چلے جاتے۔ جب حد سے زیادہ شراب پی گئے تو پیٹ میں درد محسوس ہوا۔ اسہال کے آثار دکھائی دیے اس لئے ایک اسٹیشن پر اتر گئے، بیوی بھی اتر پڑی اور جلدی میں اپنا ٹرنک اتارنا بھول گئے۔

داروغہ جی نے انہیں زمین پر لیٹے ہوئے دیکھا اس لئے وہ بھی اتر گئے۔ منشی جی کی حالت بگڑتی جا رہی تھی اسٹیشن ماسٹر نے سمجھا کہ یہ ہیضے کا مریض ہے اس لئے اسے اسٹیشن سے باہر لے جانے کے لیے کہا۔ بہرحال وہ لوگ لے دے کے منشی کو ایک قریبی شفاخانے میں لے گئے۔ وہاں ایک کمپوڈر ڈاکٹر کا کام چلا رہا تھا۔ وہ بلہور کا ہی رہنے والا تھا اور اس کا نام چوکھے لال تھا۔

منشی اور ان کے ساتھی جوں ہی برآمدے کی طرف بڑھنے لگے تو چوکھے لال نے ڈانٹ کر انہیں وہیں روک دیا اور کہا کہ ہیضے کے مریض کو اندر لانے کی اجازت نہیں ہے۔ منشی جی نے چوکھے لال کی آواز پہچانی اور اونچی آواز میں پوچھا کہ چوکھے لال تم مجھے پہچانتے ہو؟ چوکھے لال نے جواب دیا کہ ہاں میں تمہیں اچھی طرح پہچانتا ہوں لیکن پہلے فیس لاؤ پھر تمہارا علاج کروں گا۔ میں تم سے فیس لوں گا جیسی فیس تم مجھ سے لگان داخل کرتے وقت وصول کرتے تھے، دس روپے نکالو ورنہ اپنا راستہ لے لو۔ داروغہ جی نے منشائن سے پیسے مانگے تو منشائن کو یاد آیا کہ پیسے تو ڈرنک میں تھے جو ریل کے ڈبے میں ہی رہ گیا تھا۔ داروغہ جی نے دس روپے نکال کر چوکھے لال کو دیے اور اس نے دوائی دی۔

اگلے دن دوائی لینے کے لئے منشائن کا ایک زیور بیچنا پڑا اور تب چوکھے لال نے دوائی دی اور شام تک منشی جی تندرست ہوئے۔ اب یہ لوگ اجودھیا پہنچ گئے یہاں بھیڑ ہونے کی وجہ سے انہیں کہیں جگہ نہ ملی۔ کچھ ہی دیر میں گرج چمک کےساتھ بارش ہوئی وہ سب لوگ بہت گھبرائے کہ اندھیری رات میں اب کہاں سر چھپانے کی جگہ ڈھونڈیں۔ اسی وقت ندی کی طرف سے ایک آدمی لالٹین لیے نمودار ہوا۔ جب وہ نزدیک پہنچا تو پنڈت جی نے اس سے پوچھا کہ کیا یہاں کہیں ایک رات گزارنے کے لئے جگہ مل سکتی ہے؟ لالٹین والے آدمی نے پنڈت جی کو پہچانا اور ان کے پیر چھونے کے لیے جھکا۔ وہ پنڈت جی کا ایک پرانا شاگرد کرپا شنکر تھا۔ اس نے ان لوگوں کو اپنے گھر لیا جہاں انہیں بڑی عزت و احترام سے کھانا پانی میسر ہوا اور کرپا شنکر خود نوکر کی طرح پنڈت جی کی ہر بات سننے اور اس پر عمل کرنے کے لئے تیار تھا۔

باقی سب کھا پی کر سو گئے لیکن پنڈت جی سفر کے دوران بیتے ہوئے تمام واقعات پر غور کررہے تھے، ریل گاڑی میں داروغہ جی کا حشر، ہسپتال میں منشی جی کی حالت اور پھر کرپا شنکر کا مثالی بھرتاؤ۔ یہ سوچ کر پنڈت جی کو اپنے پیشے کی عظمت کا احساس ہوا اور اس کے بعد انہوں نے نہ کبھی اپنا پیشہ بدلنے کے بارے میں سوچا اور نہ اپنی قسمت سے کوئی شکایت کی۔

3. سوالات و جوابات۔

سوال: پنڈت چندر دھر اپنے پیشے سے کیوں بیزار تھے؟

پنڈت چندر دھر اپنے پیشے سے اس لیے بیزار تھے کیونکہ 15 روپے کی تھوڑی سی تنخواہ میں ان کا گزر بسر اچھے سے نہیں ہوتا تھا جبکہ ان سے کم تنخواہ لینے والے داروغہ جی اور منشی جی ان کے مقابلے میں اچھی زندگی گزار رہے تھے کیونکہ کہ وہ رشوت کی کمائی سے اپنا گھر چلاتے تھے۔

سوال: داروغہ جی کا پنڈت چندر دھر کے ساتھ کیسا برتاؤ تھا؟

دروغہ جی کا پنڈت چندر دھر جی کے ساتھ خود غرضی کا برتاؤ تھا کیونکہ وہ ان کے گھر کبھی کبھی تھوڑی سی سبزیاں یا دودھ بھیج دیتے تھے لیکن اس کے بدلے میں پنڈت جی کو ان کے بچوں کو پڑھانا پڑتا تھا۔

سوال: دورانِ سفر داروغہ جی کے ساتھ پیش آیا واقعہ اپنے الفاظ میں لکھیے۔

پنڈت جی اور داروغہ جی ریل کے ایک ڈبے میں سوار ہوئے۔ وہ جس کمرے میں گئے وہاں چار آدمی پہلے سے بیٹھے ہوئے تھے۔ داروغہ جی نے انہیں جگہ دینے کے لیے کہا لیکن ان میں سے ایک نے داروغہ جی کے ساتھ بدتمیزی کی اور کہا کہ یہ تھانہ نہیں ہے اس لیے تم مجھ سے زبان سنبھال کر بات کرو۔ تم وہی داروغہ ہو جس نے مجھ پر چھپ کر چیزیں بیچنے کا الزام لگایا تھا اور رشوت کے طور پر مجھ سے 25 روپے لیے تھے۔ان دونوں میں مزید تلخ کلامی ہو رہی تھی کہ ساتھ میں بیٹھے دوسرے مسافر نے بھی داروغہ جی سے کہا کہ تم نے میلے میں مجھے ڈنڈے سے مارا تھا۔ میں وہ مار بھولا نہیں ہوں اگر تم نے زیادہ باتیں کیں تو میرے سر پر شیطان سوار ہو جائے گا اور میں اس دن کا بدلہ لے لوں گا۔ پنڈت جی نے یہ حالات دیکھ کر خاموشی اختیار کی۔اگلے اسٹیشن پر داروغہ جی نے اپنے بیوی بچوں کو اس ڈبے سے اتارا۔ ان دو مسافروں نے داروغہ جی کا سامان باہر پھینک دیا اور جب گاڑی سے اترنے لگے تو انہیں زور سے دھکا دیا اور وہ پلیٹ فارم پر گر پڑے۔

سوال: کرپا شنکر نے پنڈت جی، داروغہ جی اور منشی جی کے ساتھ کیسا سلوک کیا؟

کرپا شنکر پنڈت جی کا ایک پرانا شاگرد تھا۔ اس نے پنڈت جی اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ بہت بہتر سلوک کیا۔ کرپا شنکرنے پنڈت جی کو کہا کہ میرا بڑا سا مکان خالی ہے آپ چلیے اور وہاں آرام سے رہیے۔ وہ لوگ کرپا شنکر کے گھر چلے گئے جہاں انہیں بڑی عزت و احترام سے کھانا پانی میسر ہوا۔

سوال: پنڈت چندر دھر کو اپنے پیشے کی عظمت کا احساس کس طرح ہوا؟

پنڈت جی نے سفر کے دوران بیتے ہوئے تمام واقعات پر غور کیا۔ ریل گاڑی میں دروغہ جی کا حشر، ہسپتال میں منشی جی کی حالت اور پھر کرپا شنکر کا احترام و محبت بھرا سلوک۔ کرپا شنکر کا اپنے استاد کے تئیں عزت اور احترام دیکھ کر پنڈت جی کو اپنے پیشے کی عظمت کا احساس ہوا۔

سوال: اس افسانے کا نام ”عبرت“ کیوں رکھا گیا ہے؟

استاد کے قابلِ احترام پیشے سے آمدنی کی کمی کے سبب پنڈت چندر دھر کو اپنے پیشے سے چڑ ہو جاتی ہے اور وہ اپنا پیشہ بدلنے کے جتن کرنے لگتے ہیں اور اپنے ہمسائے داروغہ جی اور منشی جی کی عیش و عشرت والی زندگی دیکھ کر ان پر رشک کرنے لگتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ مجھے بھی کوئی ایسا محکمہ مل جائے جہاں چار پیسے ہوں لیکن جب سفر کے دوران وہ ان دونوں کے ساتھ لوگوں کا رویہ دیکھتے ہیں کہ کس طرح لوگ ان سے ان کی رشوت خوری کی وجہ سے نفرت کرتے ہیں تو انہیں عبرت ہوتی ہے کہ اپنے پیشے کے بارے میں ان کی سوچ ابھی تک کس قدر غلط تھی۔ چنانچہ اسی لئے اس افسانے کا نام ”عبرت“ رکھا گیا ہے جو بالکل صحیح عنوان ہے۔

4. درج ذیل اقتباس پڑھ کر سوالات کے جوابات لکھیے۔

” دروغہ جی نے منشائن سے روپے مانگے۔ تب اسے بکس کی یاد آئی۔ چھاتی پیٹ لی۔ روپے اسی میں رکھے تھے۔ دروغہ جی واجبی خرچ لے کر چلے تھے۔کسی طرح دس روپے نکال کر چوکھے لال کی نظر کئے۔ انہوں نے دوا دی۔ دن بھر کچھ افاقہ نہ ہوا۔ مگر رات کو کچھ طبیعت سنبھلی۔ دوسرے دن پھر دوا کی ضرورت ہوئی۔ دروغہ نے بہت منت کی۔ لیکن چوکھے لال نے ایک نہ سنی۔ آخر منشائن کا ایک زیور جو چوبیس روپے سے کم کا نہ تھا، بازار میں بیچا گیا تب چوکھے لال نے دوا دی۔ شام تک منشی جی چنگے ہو گئے۔

١. مشاین کیوں چھاتی پیٹنے لگی؟

چوکھے لال جب دروغہ جی سے منشی کے علاج کے سلسلے میں دس روپے مانگ رہا تھا تو دروغہ جی نے منشائن سے پیسے دینے کو کہا اور منشائن چھاتی پیٹنے لگی کیونکہ پیسے اس ٹرنگ میں تھے جو ریل کے ڈبے میں رہ گیا تھا۔

٢. منشائن کا زیور کیوں بیچا گیا؟

منشائن کا زیور اس لیے بیچا گیا کہ چوکھے لال کو منشی جی کے علاج کے سلسلے میں فیس دی جا سکے۔

5. اوپر دی ہوئی عبارت میں یہ الفاظ مذکر استعمال ہوئے ہیں یا مونث؟
﴿یاد، نذر، دوا، منت۔﴾

اس عبارت میں یہ چاروں الفاظ مونث کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔

6. اقتباس میں موجود درج ذیل محاورں کے معنی لکھیے۔

نذر کرناتحفہ دینا
ایک نہ سنناکوئی بات نہ ماننا
چھاتی پیٹنادکھ اور پریشانی کا اظہار کرنا۔
افاقہ ہوناروگ یا مرض کا کم ہونا۔

7. اوپر دی ہوئی عبارت کا ماحاصل اپنے الفاظ میں لکھیے۔

یہ اقتباس پریم چند کے افسانے ”عبرت“ سے لیا گیا ہے۔ اس میں پریم چند منشی بیج ناتھ کی بیماری اور کمپوڈر چوکھے لال کے اس کے ساتھ کیے گئے سلوک کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ منشی جی کو بیماری کی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا وہاں کے کمپوڈر چوکھے لال نے ان کو پہچان لیا۔ اس کو یاد آیا کہ یہ تو وہی منشی ہے جو مجھ سے لگان داخل کرتے وقت اپنی رشوت وصول کرتا تھا۔ اس لئے چوکھے لال نے بھی موقع جان کر کہا کہ پہلے فیس لاؤ اور پھر میں تمہارا علاج کروں گا۔دروغہ جی کے پاس بھی اپنے ضروری خرچ سے زیادہ پیسے نہیں تھے اس لئے دروغہ جی نے مشائن سے پیسے مانگے تو وہ چھاتی پیٹنے لگی کیونکہ پیسے تو اس ٹرنک میں رہ گئے تھے جو ریل کے ڈبے میں رہ گیا تھا۔چنانچہ دروغہ جی نے دس روپے چوکھے لال کو دیے اور اس نے دوائی دی۔ رات تک منشی جی کی حالت کچھ سنبھل گئی۔ اگلےدن دوائی لینے کے لیے منشائن کا ایک زیور بیچنا پڑا اور تب چوکھے لال نے دوائی دی اور شام تک منشی جی تندرست ہوئے۔

8. ”عبرت“ افسانہ پڑھنے کے دوران آپ کو کس موقع پر:

١. دکھ محسوس ہوا؟

افسانے کے شروع میں جب پنڈت چندر دھر اپنے پیشے سے اکتاہٹ اور نفرت کا اظہار کرتے ہیں اور رشوت لینے والے ملازموں اور ان کے محکموں کو بہتر سمجھتے ہیں اور استاد کے پیشے کو گھٹیا سمجھتے ہیں تو یہ پڑھتے ہوئے بڑا دکھ محسوس ہوتا ہے۔

٢. ہمدردی پیدا ہوگئی؟

جب منشی جی کی بیوی اپنے شوہر کی بے تحاشہ شراب نوشی کے بعد ان کے ساتھ ایک اسٹیشن پر اترنے کے لئے مجبور ہو جاتی ہے اور ان کا ٹرنک پریشانی کی حالت میں ریل کے ڈبے میں ہی رہ جاتا ہے جس میں ان کے پیسے بھی تھے۔ تو اس سین کو پڑھتے ہوئے ہمارے دل میں منشائن کے لیے ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے۔

٣. ہنسی آگئی؟

داروغہ کے ساتھ ریل کے ڈبے میں دو آدمی جس قسم کی گفتگو کرتے ہیں ان کے طریقۂ گفتگو پر ہنسی آجاتی ہے اور پنڈت جی کی گھبراہٹ دیکھ کر بھی ہنسی آتی ہے جب وہ سوچتے ہیں کہ کہیں گہیوں کے ساتھ گن بھی نہ پس جائے۔

9. آپ کو کون سا کردار زیادہ پسند آیا اور کیوں؟
١. دروغہ یا منشی جی۔ ٢ دروغہ یا پنڈت جی

منشی جی کے مقابلے میں داروغہ جی کا کردار زیادہ پسند آیا اگرچہ وہ بھی اچھے انسان نہیں تھے لیکن اتنا ضرور ہے کہ سفر کے دوران شراب نوشی نہیں کرتے۔ ریل کے ڈبے میں ان کے ساتھ بدتمیزی ہوتی ہے جس سے ظاہر ہے کہ ان کے اہل و عیال بھی بےعزتی محسوس کرتے ہونگے۔ لیکن منشی بیج ناتھ کے اہل و عیال کو منشی جی کی وجہ سے جو بےعزتی اٹھانی پڑتی ہے اور ان کی بیماری کی وجہ سے جو پریشانی جھیلنی پڑتی ہے وہ حد سے زیادہ ہے۔اور وہ بلا وجہ بیمار نہیں ہوتے بلکہ بے تحاشا شراب پی کر خود اپنے آپ کو بیمار کر دیتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں دروغہ جی کا کردار زیادہ مزے دار اور دلچسپ ہے۔

10. ان کرداروں کے بارے میں پانچ جملے لکھیے۔

١. کرپا شنکر:

  • کرپا شنکر پنڈت جی کا ایک پرانا شاگرد تھا۔
  • وہ ایک با اخلاق اور فرماں بردار شخص تھا۔
  • اس نے پنڈت جی اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا۔
  • وہ پنڈت جی کی ہر بات سننے اور ان پر عمل کرنے کے لئے تیار رہتا تھا۔
  • اس افسانے میں کرپا شنکر کا کردار ایک بہترین کردار ہے۔

٢. چوکھے لال:

  • چوکھے لال ایک ہسپتال میں کمپوڈر کی حیثیت سے کام کر رہا ہوتا ہے۔
  • وہ منشی جی کو احساس دلاتا ہے کہ رشوت لینے والے کو بھی کبھی کسی کے پاس کام پڑتا ہے۔
  • چوکھے لال اپنی ڈیوٹی پر ہو کر بھی منشی بیج ناتھ سے رشوت کے دس روپے مانگتا ہے۔

٣. پنڈت جی:

  • پنڈت جی ایک اَپر پرائمری سکول میں استاد کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔
  • وہ ایک شریف طبیعت انسان تھے۔
  • ان کو افسانے کے آخر میں اپنے پیشے کی عظمت کا احساس ہوتا ہے۔
  • وہ کبھی کسی سے رشوت نہیں لیتے تھے۔
  • دروغہ جی اور منشی جی ان کے پڑوس میں رہتے تھے۔

12. گرامر۔

وہ لفظ جس سے کسی اسم کی برائی، بھلائی، خاصیت یا کیفیت ظاہر ہو جائے صفت کہلاتا ہے اور جس اسم کی برائی ، بھلائی بیان کی جائے موصوف کہلاتا ہے۔ مثلا خوبصورت پھول، اچھا آدمی، محنتی لڑکا۔ ان تینوں میں خوبصورت، اچھا اور محنتی صفت ہیں جبکہ پھول، آدمی اور لڑکا موصوف ہیں۔

مرکب توصیفی:

وہ مرکب جو صفت اور موصوف سے مل کر بنے مرکب توصیفی کہلاتا ہے۔ فارسی اور عربی میں موصوف پہلے اور صفت بعد میں آتی ہے جبکہ اردو میں صفت پہلے اور موصوف بعد میں آتا ہے۔
مثال دیکھ کر مرکب توصیفی بنائیں۔

صفتموصوفمرکب توصیفی
چالاککواچالاک کوا
سفیدگھوڑاسفید گھوڑا
سرخاونٹسرخ اونٹ
اونچادرختاونچا درخت
ٹھنڈاپانیٹھنڈا پانی
کوراکاغذکورا کاغذ