Advertisement

سوال: افسانہ عبرت کا خلاصہ لکھیں۔

عبرت پریم چند کا لکھا ہوا افسانہ ہے۔پنڈت چندر دھر اس کا مرکزی کردار ہے جو ایک پرائمری اسکول میں استاد کی حیثیت سے کام کرتے تھے اور ہمیشہ سوچتے رہتے کہ اگر کسی اور محکمے میں نوکری کی ہوتی تو چار پیسے کمائے جا سکتے تھے اور زندگی آرام سے گزر سکتی تھی۔

Advertisement

پنڈت چندر دھر کے پڑوس میں ایک ٹھاکراتی بل سنگھ (پولیس ہیڈ کانسٹیبل) اور دوسرا منشی بیچ ناتھ جو اکاؤنٹ کلرک تھا، رہتے تھے۔ ان دونوں کی تنخواہ پنڈ چندر سے بہت کم تھی لیکن ان کی زندگی بہت آرام سے گزرتی تھی۔ حالانکہ علم و لیاقت کے اعتبار سے وہ پنڈت جی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھے لیکن انہیں بازار سے چیزیں بھی سستی ملتی تھیں۔ پنڈت جی ان کی کی یہ ٹھاٹھ باٹھ دیکھ کر کڑتے تھے۔ کبھی کبھی یہ دونوں پنڈ جی کے گھر تھوڑی سی سبزیاں یا دودھ بھیج دیتے لیکن اس کے بدلے پنڈت جی کو ان کے بچوں کو پڑھانا پڑتا تھا۔

Advertisement

پنڈت جی نے محکمہ بدلنے کی کافی کوشش کی لیکن انہیں کامیابی حاصل ہوئی نہیں۔انہیں بے شک اپنے پیشے سے ناراضگی تھی لیکن وہ اپنے کام میں کبھی کوتاہی نہیں کرتے تھے اور دل لگا کر پڑھایا کرتے تھے اس لئے قصبے کے لوگ ان سے خوش تھے۔

Advertisement

بل سنگھ نے اپنے اہل و عیال سمیت اجودھیا کی زیارت پر جانے کا پروگرام بنایا اور پنڈت جی کو بھی ساتھ لے گئے۔ پنڈت جی اور دروغہ جی (بل سنگھ) ریل کے ایک ڈبے میں سوار ہوئے اور منشی جی کو ایک الگ ڈبہ مل گیا۔ دروغہ اور پنڈت جی جس کمرے میں گئے وہاں چار آدمی پہلے سے بیٹھے ہوئے تھے۔ داروغہ جی نے انہیں جگہ دینے کے لیے کہا لیکن مسافروں میں سے ایک جس نے دروغہ کو پہچانا تھا، نہایت بد تمیزی کے ساتھ پیش آیا اور کہا کہ تم وہی دروغہ ہو جس نے مجھ پر چھپ کر چیزیں بیچنے کا الزام لگایا تھا اور رشوت کے طور پر 25 روپے لیے تھے۔ساتھ میں بیٹھا ایک اور مسافر بھی دروغہ سے بری طرح پیش آیا اور کہا کہ تم نے میلے میں مجھے ڈنڈے سے مارا تھا۔ میں وہ مار بھولا نہیں ہوں اگر تم نے زیادہ باتیں کیں تو میرے سر پر شیطان سوار ہو جائے گا اور میں اس دن کا بدلہ لے لوں گا۔

پنڈت جی یہ سن اور دیکھ رہے تھے۔ وہ ڈر رہے تھے کہ کہیں یہ جھگڑا زیادہ نہ بڑھ جائے اس لیے انہوں نے دروغہ جی کو خاموش رہنے کے لیے کہا۔ اگلے اسٹیشن پر دروغہ نے اپنے بیوی بچوں کو اس ڈبے سے اتارا۔ ان دو مسافروں نے دروغہ جی کا سامان باہر پھینک دیا اور جب وہ گاڑی سے اترنے لگا تو اسے زور سے دھکا دیا اور وہ پلیٹ فارم پر گرپڑا۔

Advertisement

منشی بیج ناتھ کی حالت اس سے بھی بری تھی، وہ کافی بھیڑ والے ڈبے میں بیٹھے تھے۔ ہر اسٹیشن پر جیب سے شراب کی بوتل نکالتے اور پیتے چلے جاتے۔ جب حد سے زیادہ شراب پی گئے تو پیٹ میں درد محسوس ہوا۔ اسہال کے آثار دکھائی دیے اس لئے ایک اسٹیشن پر اتر گئے، بیوی بھی اتر پڑی اور جلدی میں اپنا ٹرنک اتارنا بھول گئے۔

دروغہ نے انہیں زمین پر لیٹے ہوئے دیکھا اس لئے وہ بھی اتر گئے۔ منشی جی کی حالت بگڑتی جا رہی تھی اسٹیشن ماسٹر نے سمجھا کہ یہ ہیضے کا مریض ہے اس لئے اسے اسٹیشن سے باہر لے جانے کے لیے کہا۔ بہرحال وہ لوگ لے دے کے منشی کو ایک قریبی شفاخانے میں لے گئے ۔ وہاں ایک کمپوڈر ڈاکٹر کا کام چلا رہا تھا۔ وہ بلہور کا ہی رہنے والا تھا اور اس کا نام چوکھے لال تھا۔

Advertisement

منشی اور اس کے ساتھی جوں ہی برآمدے کی طرف بڑھنے لگے تو چوکھے لال نے ڈانٹ کر انہیں وہیں روک دیا اور کہا کہ ہیضے کے مریض کو اندر لانے کی اجازت نہیں ہے۔ منشی جی نے چوکھے لال کی آواز پہچانی اور اونچی آواز میں پوچھا کہ چوکھے لال تم مجھے پہچانتے ہو؟ چوکھے لال نے جواب دیا کہ ہاں میں تمہیں اچھی طرح پہچانتا ہوں لیکن پہلے فیس لاؤ پھر تمہارا علاج کروں گا۔ میں تم سے فیس لوں گا جیسی فیس تم مجھ سے لگان داخل کرتے وقت وصول کرتے تھے، دس روپے نکالو ورنہ اپنا راستہ لے لو۔ دروغہ جی نے منشائن سے پیسے مانگے تو منشائن کو یاد آیا کہ پیسے تو ڈرنک میں تھے جو ریل کے ڈبے میں ہی رہ گیا تھا۔ داروغہ جی نے دس روپے نکال کر چوکھے لال کو دیے اور اس نے دوائی دی۔

اگلے دن دوائی لینے کے لیئے منشائن کا ایک زیور بیچنا پڑا اور تب چوکھے لال نے دوائی دی اور شام تک منشی جی تندرست ہوئے۔ اب یہ لوگ اجودھیا پہنچ گئے یہاں بھیڑ ہونے کی وجہ سے انہیں کہیں جگہ نہ ملی۔ کچھ ہی دیر میں گرج چمک کےساتھ بارش ہوئی وہ سب لوگ بہت گھبرائے کہ اندھیری رات میں اب کہاں سر چھپانے کی جگہ ڈھونڈیں۔ اسی وقت ندی کی طرف سے ایک آدمی لالٹین لئے نمودار ہوا۔ جب وہ نزدیک پہنچا تو پنڈت جی نے اس سے پوچھا کہ کیا یہاں کہیں ایک رات گزارنے کے لئے جگہ مل سکتی ہے؟ لالٹین والے آدمی نے پنڈت جی کو پہچانا اور اس کے پیر چھونے کے لیے جھکا۔ وہ پنڈت جی کا ایک پرانا شاگرد کرپا شنکر تھا۔ اس نے ان لوگوں کو اپنے گھر لیا جہاں انہیں بڑی عزت و احترام سے کھانا پانی میسر ہوا اور کرپا شنکر خود نوکر کی طرح پنڈت جی کی ہر بات سننے اور اس پر عمل کرنے کے لئے تیار تھا۔

Advertisement

باقی سب کھا پی کر سو گئے لیکن پنڈت جی سفر کے دوران بیتے ہوئے تمام واقعات پر غور کررہے تھے، ریل گاڑی میں دروغہ جی کا حشر، ہسپتال میں منشی جی کی حالت اور پھر کرپا شنکر کا مثالی بھرتاؤ۔ یہ سوچ کر پنڈت جی کو اپنے پیشے کی عظمت کا احساس ہوا اور اس کے بعد انہوں نے نہ کبھی اپنا پیشہ بدلنے کے بارے میں سوچا اور نہ اپنی قسمت سے کوئی شکایت کی۔

3. سوالات و جوابات۔

سوال: پنڈت چندر دھر اپنے پیشے سے کیوں بیزار تھے؟

پنڈت چندر دھر اپنے پیشے سے اس لیے بیزار تھے کیونکہ 15 روپے کی تھوڑی سی تنخواہ میں ان کا گزر بسر اچھے سے نہیں ہوتا تھا جبکہ ان سے کم تنخواہ لینے والے دروغہ جی اور منشی جی ان کے مقابلے میں اچھی زندگی گزار رہے تھے کیونکہ کہ وہ رشوت کی کمائی سے اپنا گھر چلاتے تھے۔

Advertisement

سوال: دروغہ جی کا پنڈت چندر دھر کے ساتھ کیسا برتاؤ تھا؟

دروغہ جی کا پنڈت چندر دھر جی کے ساتھ خود غرضی کا برتاؤ تھا کیونکہ وہ ان کے گھر کبھی کبھی تھوڑی سی سبزیاں یا دودھ بھیج دیتے تھے لیکن اس کے بدلے میں پنڈت کو ان کے بچوں کو پڑھانا پڑتا تھا۔

سوال: دوران سفر دروغہ کے ساتھ پیش آیا واقعہ اپنے الفاظ میں لکھیے۔

پنڈت جی اور دروغہ جی ریل کے ایک ڈبے میں سوار ہوئے۔ وہ جس کمرے میں گئے وہاں چار آدمی پہلے سے بیٹھے ہوئے تھے۔ دروغہ جی نے انہیں جگہ دینے کے لیے کہا لیکن ان میں سے ایک نے دروغہ جی کے ساتھ بدتمیزی کی اور کہا کہ یہ تھانہ نہیں ہے اس لیے تم مجھ سے زبان سنبھال کر بات کرو۔ تم وہی دروغہ ہو جس نے مجھ پر چھپ کر چیزیں بیچنے کا الزام لگایا تھا اور رشوت کے طور پر مجھ سے 25 روپے لیے تھے۔ان دونوں میں مزید تلخ کلامی ہو رہی تھی کہ ساتھ میں بیٹھے دوسرے مسافر نے بھی دروغہ جی سے کہا کہ تم نے میلے میں مجھے ڈنڈے سے مارا تھا۔ میں وہ مار بھولا نہیں ہوں اگر تم نے زیادہ باتیں کیں تو میرے سر پر شیطان سوار ہو جائے گا اور میں اس دن کا بدلہ لے لوں گا۔ پنڈت جی نے یہ حالات دیکھ کر خاموشی اختیار کی۔اگلے اسٹیشن پر دروغہ نے اپنی بیوی بچوں کو اس ڈبے سے اتارا۔ ان دو مسافروں نے دروغہ جی کا سامان باہر پھینک دیا اور جب گاڑی سے اترنے لگا تو اسے زور سے دھکا دیا اور وہ پلیٹ فارم پر گر پڑا۔

Advertisement

سوال: کرپا شنکر نے پنڈت جی، دروغہ جی اور منشی جی کے ساتھ کیسا سلوک کیا؟

کرپا شنکر پنڈت جی کا ایک پرانا شاگرد تھا۔ اس نے پنڈت جی اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ بہت بہتر سلوک کیا۔ کرپا شنکرنے پنڈت جی کو کہا کہ میرا بڑا سا مکان خالی ہے آپ چلیے اور وہاں آرام سے رہیے۔ وہ لوگ کرپا شنکر کے گھر چلے گئے جہاں انہیں بڑی عزت و احترام سے کھانا پانی میسر ہوا۔

سوال: پنڈت چندر دھر کو اپنے پیشے کی عظمت کا احساس کس طرح ہوا؟

پنڈت جی نے سفر کے دوران بیتے ہوئے تمام واقعات پر غور کیا۔ ریل گاڑی میں دروغہ جی کا حشر، ہسپتال میں منشی جی کی حالت اور پھر کرپا شنکر کا احترام و محبت بھرا سلوک۔ کرپا شنکر کا اپنے استاد کے تئیں عزت اور احترام دیکھ کر پنڈت جی کو اپنے پیشے کی عظمت کا احساس ہوا۔

Advertisement

سوال: اس افسانے کا نام ”عبرت“ کیوں رکھا گیا ہے؟

استاد کے قابل احترام پیشے سے آمدنی کی کمی کے سبب پنڈت چندر دھر کو اپنے پیشے سے چڑ ہو جاتی ہے اور وہ اپنا پیشہ بدلنے کے جتن کرنے لگتے ہیں اور اپنے ہمسائے دروغہ جی اور منشی جی کے عیش و عشرت کی زندگی دیکھ کر ان پر رشک کرنے لگتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ مجھے بھی کوئی ایسا محکمہ مل جائے جہاں چار پیسے ہوں لیکن جب سفر کے دوران وہ ان دونوں کے ساتھ لوگوں کا رویہ دیکھتے ہیں کہ کس طرح لوگ ان سے ان کی رشوت خوری کی وجہ سے نفرت کرتے ہیں تو انہیں عبرت ہوتی ہے کہ اپنے پیشے کے بارے میں ان کی سوچ ابھی تک کس قدر غلط تھی۔ چنانچہ اسی لئے اس افسانے کا نام عبرت رکھا گیا ہے جو بالکل صحیح عنوان ہے۔

4. درج ذیل اقتباس پڑھ کر سوالات کے جوابات لکھیے۔

” دروغہ جی نے منشائن سے روپے مانگے۔ تب اسے بکس کی یاد آئی۔ چھاتی پیٹ لی۔ روپے اسی میں رکھے تھے۔ دروغہ جی واجبی خرچ لے کر چلے تھے۔کسی طرح دس روپے نکال کر چوکھے لال کی نظر کئے۔ انہوں نے دوا دی۔ دن بھر کچھ افاقہ نہ ہوا۔ مگر رات کو کچھ طبیعت سنبھلی۔ دوسرے دن پھر دوا کی ضرورت ہوئی۔ دروغہ نے بہت منت کی۔ لیکن چوکھے لال نے ایک نہ سنی۔ آخر منشائن کا ایک زیور جو چوبیس روپے سے کم کا نہ تھا، بازار میں بیچا گیا تب چوکھے لال نے دوا دی۔ شام تک منشی جی چنگے ہو گئے۔

Advertisement

١. مشاین کیوں چھاتی پیٹنے لگی؟

چوکھے لال جب دروغہ جی سے منشی کے علاج کے سلسلے میں دس روپے مانگ رہا تھا تو دروغہ جی نے منشائن سے پیسے دینے کو کہا اور منشائن چھاتی پیٹنے لگی کیونکہ پیسے اس ٹرنگ میں تھے جو ریل کے ڈبے میں رہ گیا تھا۔

Advertisement

٢. منشائن کا زیور کیوں بیچا گیا؟

منشائن کا زیور اس لیے بیچا گیا کہ چوکھے لال کو منشی جی کے علاج کے سلسلے میں فیس دی جا سکے۔

5. اوپر دی ہوئی عبارت میں یہ الفاظ مذکر استعمال ہوئے ہیں یا مونث؟
﴿یاد، نذر، دوا، منت۔﴾

اس عبارت میں یہ چاروں الفاظ مونث کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔

Advertisement

6. اقتباس میں موجود درج ذیل محاورں کے معنی لکھیے۔

نذر کرناتحفہ دینا
ایک نہ سنناکوئی بات نہ ماننا
چھاتی پیٹنادکھ اور پریشانی کا اظہار کرنا۔
افاقہ ہوناروگ یا مرض کا کم ہونا۔

7. اوپر دی ہوئی عبارت کا ماحاصل اپنے الفاظ میں لکھیے۔

یہ اقتباس پریم چند کے افسانے ”عبرت“ سے لیا گیا ہے۔ اس میں پریم چند منشی بیج ناتھ کی بیماری اور کمپوڈر چوکھے لال کے اس کے ساتھ کیے گئے سلوک کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ منشی جی کو بیماری کی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا وہاں کے کمپوڈر چوکھے لال نے ان کو پہچان لیا۔ اس کو یاد آیا کہ یہ تو وہی منشی ہے جو مجھ سے لگان داخل کرتے وقت اپنی رشوت وصول کرتا تھا۔ اس لئے چوکھے لال نے بھی موقع جان کر کہا کہ پہلے فیس لاؤ اور پھر میں تمہارا علاج کروں گا۔دروغہ جی کے پاس بھی اپنے ضروری خرچ سے زیادہ پیسے نہیں تھے اس لئے دروغہ جی نے مشائن سے پیسے مانگے تو وہ چھاتی پیٹنے لگی کیونکہ پیسے تو اس ٹرنک میں رہ گئے تھے جو ریل کے ڈبے میں رہ گیا تھا۔چنانچہ دروغہ جی نے دس روپے چوکھے لال کو دیے اور اس نے دوائی دی۔ رات تک منشی جی کی حالت کچھ سنبھل گئی۔ اگلےدن دوائی لینے کے لیے منشائن کا ایک زیور بیچنا پڑا اور تب چوکھے لال نے دوائی دی اور شام تک منشی جی تندرست ہوئے۔

Advertisement

8. ”عبرت“ افسانہ پڑھنے کے دوران آپ کو کس موقع پر:

١. دکھ محسوس ہوا؟

افسانے کے شروع میں جب پنڈت چندر دھر اپنے پیشے سے اکتاہٹ اور نفرت کا اظہار کرتے ہیں اور رشوت لینے والے ملازموں اور ان کے محکموں کو بہتر سمجھتے ہیں اور استاد کے پیشے کو گھٹیا سمجھتے ہیں تو یہ پڑھتے ہوئے بڑا دکھ محسوس ہوتا ہے۔

Advertisement

٢. ہمدردی پیدا ہوگئی؟

جب منشی پریم چند کی بیوی اپنے شوہر کی بے تحاشہ شراب نوشی کے بعد اس کے ساتھ ایک اسٹیشن پر اترنے کے لئے مجبور ہو جاتی ہے اور اس کا ٹرنک پریشانی کی حالت میں ریل کے ڈبے میں ہی رہ جاتا ہے جس میں اس کے پیسے بھی تھے۔ تو اس سین کو پڑھتے ہوئے ہمارے دل میں دروغہ جی کی بیوی منشائن کے لیے ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے۔

٣. ہنسی آگئی؟

دروغہ کے ساتھ ریل کے ڈبے میں دو آدمی جس قسم کی گفتگو کرتے ہیں ان کے طریقۂ گفتگو پر ہنسی آجاتی ہے اور پنڈت جی کی گھبراہٹ دیکھ کر بھی ہنسی آتی ہے جب وہ سوچتے ہیں کہ کہیں گہیوں کے ساتھ گن بھی نہ پس جائے۔

Advertisement

9. آپ کو کون سا کردار زیادہ پسند آیا اور کیوں؟
١. دروغہ یا منشی جی۔ ٢ دروغہ یا پنڈت جی

منشی جی کے مقابلے میں دروغہ جی کا کردار زیادہ پسند آیا کیوں کہ اگرچہ وہ بھی اچھے انسان نہیں ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ سفر کے دوران شراب نوشی نہیں کرتے۔ ریل کے ڈبے میں ان کے ساتھ بدتمیزی ہوتی ہے جس سے ظاہر ہے کہ ان کے اہل و عیال بھی بےعزتی محسوس کرتے ہونگے۔ لیکن منشی بیج ناتھ کے اہل و عیال کو منشی جی کی وجہ سے جو بےعزتی اٹھانی پڑتی ہے اور ان کی بیماری کی وجہ سے جو پریشانی جھیلنی پڑتی ہے وہ حد سے زیادہ ہے۔اور وہ بلاوجہ بیمار نہیں ہوتے بلکہ بے تحاشا شراب پی کر خود اپنے آپ کو بیمار کر دیتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں دروغہ جی کا کردار زیادہ مزے دار اور دلچسپ ہے۔

10. ان کرداروں کے بارے میں پانچ جملے لکھیے۔

١. کرپا شنکر:

  • کرپا شنکر پنڈت جی کا ایک پرانا شاگرد تھا۔
  • وہ ایک با اخلاق اور فرماں بردار شخص تھا۔
  • اس نے پنڈت جی اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا۔
  • وہ پنڈت جی کی ہر بات سننے اور ان پر عمل کرنے کے لئے تیار رہتا تھا۔
  • اس افسانے میں کرپا شنکر کا کردار ایک بہترین کردار ہے۔

٢. چوکھے لال:

  • چوکھے لال ایک ہسپتال میں کمپوڈر کی حیثیت سے کام کر رہا ہوتا ہے۔
  • وہ منشی کو احساس دلاتا ہے کہ رشوت لینے والے کو بھی کبھی کسی کے پاس کام پڑتا ہے۔
  • چوکھے لال اپنی ڈیوٹی پر ہو کر بھی منشی بیج ناتھ سے رشوت کے دس روپے مانگتا ہے۔

٣. پنڈت جی:

  • پنڈت جی ایک پرائمری سکول میں استاد کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔
  • وہ ایک شریف طبیعت انسان تھے۔
  • ان کو افسانے کے آخر میں اپنے پیشے کی عظمت کا احساس ہوتا ہے۔
  • وہ کبھی کسی سے رشوت نہیں لیتے تھے۔
  • دروغہ جی اور منشی جی ان کے پڑوس میں رہتے تھے۔

12. گرامر۔

وہ لفظ جس سے کسی اسم کی برائی، بھلائی، خاصیت یا کیفیت ظاہر ہو جائے صفت کہلاتا ہے اور جس اسم کی برائی ، بھلائی بیان کی جائے موصوف کہلاتا ہے۔ مثلا خوبصورت پھول، اچھا آدمی، محنتی لڑکا۔ ان تینوں میں خوبصورت، اچھا اور محنتی صفت ہیں جبکہ پھول، آدمی اور لڑکا موصوف ہیں۔

Advertisement

مرکب توصیفی:

وہ مرکب جو صفت اور موصوف سے مل کر بنے مرکب توصیفی کہلاتا ہے۔ فارسی اور عربی میں موصوف پہلے اور صفت بعد میں آتی ہے جبکہ اردو میں صفت پہلے اور موصوف بعد میں آتا ہے۔
مثال دیکھ کر مرکب توصیفی بنائیں۔

صفتموصوفمرکب توصیفی
چالاککواچالاک کوا
سفیدگھوڑاسفید گھوڑا
سرخاونٹسرخ اونٹ
اونچادرختاونچا درخت
ٹھنڈاپانیٹھنڈا پانی
کوراکاغذکورا کاغذ
Advertisement

Advertisement

Advertisement