بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اللہ تعالیٰ کے وہ خاص ایمان والے مسلمان بندے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت میں اپنی خواہشوں کو فنا کر دیتے ہیں اور ہمیشہ خدا اور رسولِ کریم ﷺ کی اطاعت وفرمانبرداری میں مصروف رہتے ہیں، اولیاء اللہ کہلاتے ہیں۔ اولیاء اللہ غم اور خوف سے آزاد ہوتے ہیں۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ بندوں میں سے بعض ایسے ہیں جو نہ تو نبی ہیں اور نہ شہید، لیکن اللہ کے نزدیک ان کا مرتبہ دیکھ کر انبیاء اور شہداء بھی ان کی تحسین اور تعریف کریں گے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہمیں خبر دیں کہ وہ کون لوگ ہونگے؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں سے محض اللہ کی وجہ سے محبت کرتے ہیں، حالانکہ وہ لوگ ان کے رشتہ دار ہوتے ہیں نہ ان کو ان سے کوئی مالی فائدہ ہوتا ہے۔ اللہ کی قسم ان کے چہرے منور ہونگے اور بے شک وہ نور کے منبر پر فائز ہونگے اور جب لوگ خوفزدہ ہونگے تو انہیں خوف نہیں ہوگا۔ اور جب لوگ غمزدہ ہونگے تو انہیں غم نہیں ہوگا۔ پھر آپ ﷺ نے اس آیت مبارکہ کی تلاوت فرمائی؛

أَلاَ إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللّهِ لاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَo

یہ کورس اولیاء اللہ کے متعلق ہے۔ اس باب میں ہم مختلف اولیاء کرام کے حالات و واقعات بیان کرنے کی کوشش کریں گے۔نیچے دیئے گئے مختلف اولیاء کرام کے ناموں پر کلک کرکے ان کے حالات و واقعات پڑھیں اور اپنے تاثرات سے ہمیں [email protected] پر ضرور آگاہ کریں۔

Section 1 

Section 2