تعارفِ نظم 

یہ بند ہماری درسی کتاب کی نظم ”او دیس سے آنے والا ہے بتا “ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام اختر شیرانی ہے۔

تعارفِ شاعر 

کچھ ادیب و شاعر ایسے ہوتے ہیں جن کے لئے وقت اور زمانہ سازگار ہوتا ہے اور جو اپنے زمانہ میں اور اس کے بعد بھی وہ مرتبہ حاصل کر لیتے ہیں جس کے دراصل وہ حقدار نہیں ہوتے،دوسری طرف کچھ ایسے ادیب و شاعر ہوتے ہیں جو غلط وقت پر پیدا ہوتے ہیں غلط ڈھنگ سے جیتے ہیں اور غلط وقت پر مر جاتے ہیں اور ان کو وہ مرتبہ نہیں مل پاتا جس کے وہ حقدار ہوتے ہیں۔اختر شیرانی اسی قبیل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا قصور یہ تھا کہ وہ ترقی پسند نہیں تھے جبکہ ان کے عہد میں، اور اسس کے بعد بھی طویل عرصہ تک ،تخلیق و تنقید پر ترقی پسندوں کی حکمرانی رہی۔ لہٰذا زمانہ نے بڑی فراخدلی کا ثبوت دیتے ہوئے ان کو شاعر رومان کی سند دے کر ان کا اعمال نامہ بند کر دیا۔ اختر شیرانی نے صرف 43 برس کی عمر پائی اور اس عمر میں انہوں نے نظم و نثر میں اتنا کچھ لکھا کہ بہت کم لوگ اپنی طویل عمر میں اتنا لکھ پاتے ہیں ۔ اردو تنقید پر اختر شیرانی کا جو قرض ہے وہ اسے ابھی تک پوری طرح ادا نہیں کر پائی ہے۔

او دیس سے آنے والا ہے بتا
او دیس سے آنے والے بتا
کس حال میں ہیں یاران وطن
آوارۂ غربت کو بھی سنا
کس رنگ میں ہے کنعان وطن
وہ باغ وطن فردوس وطن
وہ سرو وطن ریحان وطن
او دیس سے آنے والے بتا
او دیس سے آنے والے بتا

یہ نظم ایک پردیسی کے جذبات کی عکاسی کرتی ہے، جو پردیس میں اپنے ہم وطن مسافروں کو دیکھ کر ان سے اپنے وطن کا حال پوچھتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اے دیس سے آنے والے مسافر مجھے میرے دیس کی باتیں بتاؤ، تاکہ میرے بے چین دل کو کچھ قرار آۓ۔ شاعر کہتے ہیں کہ اے وطن سے آنے والے کیا میرا وطن اب بھی ویسا ہی ہے، جیسا میں چھوڑ کر آیا تھا۔ کیا اس کے باغ اب بھی ہرے ہرے ہیں۔ کیا اب بھی وہاں کلیاں کھلتی ہیں۔ کیا اب بھی وطن کی ہواؤں میں وہ سرور ہے جو پہلے ہوتا تھا۔ کیا اب بھی میرے وطن کی ہواؤں میں وہ نغمہ ہے جو پہلے تھا۔ مجھے میرے وطن کا حال بتاؤ، مجھے وہاں کی کہانیاں قصے سناؤ۔

کیا اب بھی وہاں کے باغوں میں
مستانہ ہوائیں آتی ہیں
کیا اب بھی وہاں کے پربت پر
گھنگھور گھٹائیں چھاتی ہیں
کیا اب بھی وہاں کی برکھائیں
ویسے ہی دلوں کو بھاتی ہیں
او دیس سے آنے والے بتا
او دیس سے آنے والے بتا

یہ نظم ایک پردیسی کے جذبات کی عکاسی کرتی ہے، جو پردیس میں اپنے ہم وطن مسافروں کو دیکھ کر ان سے اپنے وطن کا حال پوچھتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اے دیس آنے والے مسافر مجھے میرے دیس کی باتیں بتاؤ، تاکہ میرے بے چین دل کو کچھ قرار آۓ۔ شاعر کہتے ہیں کہ اے وطن سے آنے والے کیا میرے وطن کے باغوں میں اب بھی وہ مہکتی ہوائیں آتی ہیں۔ کیا اب بھی وہاں پہاڑوں کی بلند چوٹیوں پر بادل سے روئی کے گالے بنتے ہیں اور گھٹائیں چھاتی ہیں۔ اے وطن سے آنے والے مجھے بتاؤ کیا اب بھی وہاں پہلے جیسی بارشیں ہوتی ہیں۔ جس سے لوگوں کے دل سرشار ہوجاتے تھے۔

شاداب و شگفتہ پھولوں سے
معمور ہیں گل زار اب کہ نہیں
بازار میں مالن لاتی ہے
پھولوں کے گندھے ہار اب کہ نہیں
اور شوق سے ٹوٹے پڑتے ہیں
نوعمر خریدار اب کہ نہیں
او دیس سے آنے والے بتا
او دیس سے آنے والے بتا

یہ نظم ایک پردیسی کے جذبات کی عکاسی کرتی ہے، جو پردیس میں اپنے ہم وطن مسافروں کو دیکھ کر ان سے اپنے وطن کا حال پوچھتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اے دیس آنے والے مسافر مجھے میرے دیس کی باتیں بتاؤ، تاکہ میرے بے چین دل کو کچھ قرار آۓ۔ شاعر کہتے ہیں کہ اے وطن سے آنے والے کیا اب تک میرے وطن کی شادابی قائم ہے۔ کیا اب بھی وہاں کے باغوں میں وہ رنگ برنگی پھولوں کی بہار ہوتی ہے، وہ مالن جو میرے وہاں ہوتے بازار میں پھول بیچنے آتی تھی کیا اب بھی وہاں آتی ہے اور کیا اب بھی کم عمر لوگ اس سے پھول خریدنے کی لیے بے قرار رہتے ہیں۔ میرے وطن سے آنے والا زرا مجھ کو کچھ تو بتا۔

کیا اب بھی پہاڑی گھاٹیوں میں
گھنگھور گھٹائیں گونجتی ہیں
ساحل کے گھنیرے پیڑوں میں
برکھا کی ہوائیں گونجتی ہیں
جھینگر کے ترانے جاگتے ہیں
موروں کی صدائیں گونجتی ہیں
او دیس سے آنے والے بتا
او دیس سے آنے والے بتا

یہ نظم ایک پردیسی کے جذبات کی عکاسی کرتی ہے، جو پردیس میں اپنے ہم وطن مسافروں کو دیکھ کر ان سے اپنے وطن کا حال پوچھتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اے دیس آنے والے مسافر مجھے میرے دیس کی باتیں بتاؤ، تاکہ میرے بے چین دل کو کچھ قرار آۓ۔ شاعر کہتے ہیں کہ اے وطن سے آنے والے کیا میرے وطن کے آسمان پر اب بھی وہ گھٹائیں چھاتی ہیں، کیا ساحل سمندر پر اب بھی وہ بارش کے حسین منظر کا لطف اٹھایا جاتا ہے۔ کیا اب بھی بارش کے بعد راتوں کے سناٹے میں جھنگروں کی آواز سنائی دیتی ہے، جیسے پچپن میں سنائی دیتی تھی۔ کیا اب بھی میرے وطن میں مور کی آواز کا شور سا آتا ہے۔

کیا پہلی سی ہے معصوم ابھی
وہ مدرسے کی شاداب فضا
کچھ بھولے ہوئے دن گزرے ہیں
جس میں وہ مثال خواب فضا
وہ کھیل وہ ہم سن وہ میداں
وہ خواب گہہ مہتاب فضا
او دیس سے آنے والے بتا
او دیس سے آنے والے بتا

یہ نظم ایک پردیسی کے جذبات کی عکاسی کرتی ہے، جو پردیس میں اپنے ہم وطن مسافروں کو دیکھ کر ان سے اپنے وطن کا حال پوچھتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اے دیس آنے والے مسافر مجھے میرے دیس کی باتیں بتاؤ، تاکہ میرے بے چین دل کو کچھ قرار آۓ۔ شاعر کہتے ہیں کہ اے وطن سے آنے والے کیا میرے وطن کے وہ دوست جو میرے ساتھ ہوا کرتے تھے، اب بھی پہلے کی طرح معصوم ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ مجھے مدرسے میں گزرے وہ دن یاد آتے ہیں جہاں ہم پڑھا کرتے تھے۔ مگر پڑھتے کم اور سوتے زیادہ تھے اور خوب مار بھی کھایا کرتے تھے۔ کیا اب وہاں وہ کھیل کا میدان بھی ہے جس میں چھٹی کے دن ہم کھیلنے جاتے تھے۔ کیا اب میرے وطن کی فضا اتنی پرسکون اور دلفریب ہے جتنی میرے بچپن میں تھی۔

کیا شام کو اب بھی جاتے ہیں
احباب کنار دریا پر
وہ پیڑ گھنیرے اب بھی ہیں
شاداب کنار دریا پر
اور پیار سے آ کر جھانکتا ہے
مہتاب کنار دریا پر
او دیس سے آنے والے بتا
او دیس سے آنے والے بتا

یہ نظم ایک پردیسی کے جذبات کی عکاسی کرتی ہے، جو پردیس میں اپنے ہم وطن مسافروں کو دیکھ کر ان سے اپنے وطن کا حال پوچھتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اے دیس آنے والے مسافر مجھے میرے دیس کی باتیں بتاؤ، تاکہ میرے بے چین دل کو کچھ قرار آۓ۔ شاعر کہتے ہیں کہ اے وطن سے آنے والے کیا اب بھی میرے وطن کے لوگ دریا کے کنارے آکر وہاں کی تازہ ہوا اور پانی سے لطف اٹھاتے ہیں۔ کیا دریا کے کنارے وہ پیڑ اب بھی سینہ تان کر کھڑا ہے، جو بچپن سے وہاں تھا، جس کے سائے میں ہم بیٹھا کرتے تھے۔ جس کی خوشبو سے وہاں کی فضائیں مہکتی تھی۔ کیا اب بھی دریا کے پانی میں چاند کا وہ عکس نظر آتا ہے جو ہمارے ساتھ آنکھ مچولی کھیلا کرتا تھا۔

کیا ہم کو وطن کے باغوں کی
مستانہ فضائیں بھول گئیں
برکھا کی بہاریں بھول گئیں
ساون کی گھٹائیں بھول گئیں
دریا کے کنارے بھول گئے
جنگل کی ہوائیں بھول گئیں
او دیس سے آنے والے بتا
او دیس سے آنے والے بتا

یہ نظم ایک پردیسی کے جذبات کی عکاسی کرتی ہے، جو پردیس میں اپنے ہم وطن مسافروں کو دیکھ کر ان سے اپنے وطن کا حال پوچھتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اے دیس آنے والے مسافر مجھے میرے دیس کی باتیں بتاؤ، تاکہ میرے بے چین دل کو کچھ قرار آۓ۔ شاعر کہتے ہیں کہ مجھے وطن سے یہاں پردیس آئے کئء زمانے بیت گئے ہیں۔ اب تو میری یاداشت سے سب کچھ مٹ چکا ہے۔ وطن کی مہکتی ہوا، باغوں کی رنگینیاں، وہ دریاؤں کی سیروں کو جانا، وہ جنگل کی ہوائیں، وہ سہانے وقت میں بھول چکا ہوں۔ اے میرے وطن سے آنے والے مسافر زرا مجھے وہ سب یاد دلا۔

کیا اب بھی کسی کے سینے میں
باقی ہے ہماری چاہ بتا
کیا یاد ہمیں بھی کرتا ہے
اب یاروں میں کوئی آہ بتا
او دیس سے آنے والے بتا
للہ بتا للہ بتا
او دیس سے آنے والے بتا

یہ نظم ایک پردیسی کے جذبات کی عکاسی کرتی ہے، جو پردیس میں اپنے ہم وطن مسافروں کو دیکھ کر ان سے اپنے وطن کا حال پوچھتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اے دیس آنے والے مسافر مجھے میرے دیس کی باتیں بتاؤ، تاکہ میرے بے چین دل کو کچھ قرار آۓ۔ شاعر کہتے ہیں کہ اے وطن سے آنے والے کیا میرے ہم وطنوں میں اب بھی کوئی مجھے یاد رکھے ہوئے ہے، یا وہاں کے سب لوگ مجھے بھول چکے ہیں۔ کیا وہ دوست جن کے ساتھ میں نے سارا بچپن گزرا ہے، وہ مجھے یاد کرتے ہیں یا میں ان کے لیے بھولی بسری یاد بن چکا ہوں۔ اس بند میں شاعر وطن سے آنے والے مسافر سے التجا کرتے ہیں کہ وہ شاعر کو ان کے وطن کے بارے میں بتاۓ۔

سوال نمبر ۱ : پہلے، پانچواں اور چھٹے بند کی تشریح کیجیے۔

بند نمبر ۱ :

او دیس سے آنے والا ہے بتا
او دیس سے آنے والے بتا
کس حال میں ہیں یاران وطن
آوارۂ غربت کو بھی سنا
کس رنگ میں ہے کنعان وطن
وہ باغ وطن فردوس وطن
وہ سرو وطن ریحان وطن
او دیس سے آنے والے بتا
او دیس سے آنے والے بتا

یہ نظم ایک پردیسی کے جذبات کی عکاسی کرتی ہے، جو پردیس میں اپنے ہم وطن مسافروں کو دیکھ کر ان سے اپنے وطن کا حال پوچھتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اے دیس سے آنے والے مسافر مجھے میرے دیس کی باتیں بتاؤ، تاکہ میرے بے چین دل کو کچھ قرار آۓ۔ شاعر کہتے ہیں کہ اے وطن سے آنے والے کیا میرا وطن اب بھی ویسا ہی ہے، جیسا میں چھوڑ کر آیا تھا۔ کیا اس کے باغ اب بھی ہرے ہرے ہیں۔ کیا اب بھی وہاں کلیاں کھلتی ہیں۔ کیا اب بھی وطن کی ہواؤں میں وہ سرور ہے جو پہلے ہوتا تھا۔ کیا اب بھی میرے وطن کی ہواؤں میں وہ نغمہ ہے جو پہلے تھا۔ مجھے میرے وطن کا حال بتاؤ، مجھے وہاں کی کہانیاں قصے سناؤ۔

بند نمبر ۵ :

کیا پہلی سی ہے معصوم ابھی
وہ مدرسے کی شاداب فضا
کچھ بھولے ہوئے دن گزرے ہیں
جس میں وہ مثال خواب فضا
وہ کھیل وہ ہم سن وہ میداں
وہ خواب گہہ مہتاب فضا
او دیس سے آنے والے بتا
او دیس سے آنے والے بتا

یہ نظم ایک پردیسی کے جذبات کی عکاسی کرتی ہے، جو پردیس میں اپنے ہم وطن مسافروں کو دیکھ کر ان سے اپنے وطن کا حال پوچھتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اے دیس آنے والے مسافر مجھے میرے دیس کی باتیں بتاؤ، تاکہ میرے بے چین دل کو کچھ قرار آۓ۔ شاعر کہتے ہیں کہ اے وطن سے آنے والے کیا میرے وطن کے وہ دوست جو میرے ساتھ ہوا کرتے تھے، اب بھی پہلے کی طرح معصوم ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ مجھے مدرسے میں گزرے وہ دن یاد آتے ہیں جہاں ہم پڑھا کرتے تھے۔ مگر پڑھتے کم اور سوتے زیادہ تھے اور خوب مار بھی کھایا کرتے تھے۔ کیا اب وہاں وہ کھیل کا میدان بھی ہے جس میں چھٹی کے دن ہم کھیلنے جاتے تھے۔ کیا اب میرے وطن کی فضا اتنی پرسکون اور دلفریب ہے جتنی میرے بچپن میں تھی۔

بند نمبر ۶ :

کیا شام کو اب بھی جاتے ہیں
احباب کنار دریا پر
وہ پیڑ گھنیرے اب بھی ہیں
شاداب کنار دریا پر
اور پیار سے آ کر جھانکتا ہے
مہتاب کنار دریا پر
او دیس سے آنے والے بتا
او دیس سے آنے والے بتا

یہ نظم ایک پردیسی کے جذبات کی عکاسی کرتی ہے، جو پردیس میں اپنے ہم وطن مسافروں کو دیکھ کر ان سے اپنے وطن کا حال پوچھتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اے دیس آنے والے مسافر مجھے میرے دیس کی باتیں بتاؤ، تاکہ میرے بے چین دل کو کچھ قرار آۓ۔ شاعر کہتے ہیں کہ اے وطن سے آنے والے کیا اب بھی میرے وطن کے لوگ دریا کے کنارے آکر وہاں کی تازہ ہوا اور پانی سے لطف اٹھاتے ہیں۔ کیا دریا کے کنارے وہ پیڑ اب بھی سینہ تان کر کھڑا ہے، جو بچپن سے وہاں تھا، جس کے سائے میں ہم بیٹھا کرتے تھے۔ جس کی خوشبو سے وہاں کی فضائیں مہکتی تھی۔ کیا اب بھی دریا کے پانی میں چاند کا وہ عکس نظر آتا ہے جو ہمارے ساتھ آنکھ مچولی کھیلا کرتا تھا۔

سوال نمبر ۲ : شاعر اپنے بچپن کے حوالے سے اپنے دیس کے جن مناظر کو یاد کرتا ہے ان کی تفصیل لکھیے۔

جواب : شاعر اپنے بچپن کے حوالے سے اپنے دیس کے مناظر کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مجھے مدرسے میں گزرے وہ دن یاد آتے ہیں، جب ہم بھولے بھالے چہرے لیے مدرسہ پڑھنے جاتے، مگر وہاں ہم پڑھتے کم اور سوتے زیادہ تھے اور خوب مار بھی کھایا کرتے تھے۔ اس لے علاوہ شاعر اپنے ہم وطن سے ہوچھتے ہیں کہ کیا اب وہاں وہ کھیل کا میدان ہے جس میں چھٹی کے دن ہم کھلنے جاتے تھے۔ شاعر اپنے ہم وطن سے اپنے وطن کی فضا کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ کیا اب میرے وطن کی فضا اتنی پرسکون اور دلفریب ہے جتنی کہ میرے بچپن میں تھی۔

سوال نمبر ۳ : اس نظم میں سے اپنا پسندیدہ بند منتخب کیجیے اور انتخاب کی وجہ بتائیے۔

کیا ہم کو وطن کے باغوں کی
مستانہ فضائیں بھول گئیں
برکھا کی بہاریں بھول گئیں
ساون کی گھٹائیں بھول گئیں
دریا کے کنارے بھول گئے
جنگل کی ہوائیں بھول گئیں
او دیس سے آنے والے بتا
او دیس سے آنے والے بتا  

اس بند کو پسند کرنے کی وجہ یی ہے کہ شاعر نے اس بند میں پردیسیوں کی دلگرفتی کی بخوبی عکاسی کی ہے۔ وہ اپنا دیس اور گھر والوں کو چھوڑ کر روزگار کمانے جاتے ہیں اور وہاں کی تکلیفوں اور مشکلوں میں سب بھول جاتے ہیں۔ شاعر نے اس شعر میں ان پردیسوں کا درد بیاں کیا ہے۔
سوال ۴ : اس نظم میں وطن یا دیس کس معنی میں استعمال کیا گیا ہے اور کیوں؟
جواب : اس نظم میں وطن یا دیس گھر کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے کیونکہ انسان کا وطن اس کا گھر اور اس کے گھر والے ہوتے ہیں۔

سوال ۵ : مندجہ ذیل میں سے ہر ایک کے چار چار ہم قافیہ الفاظ لکھیے۔

ریحان : مہران، احسان، شان، کان۔
ہوائیں : دائیں، بائیں، کھائیں، جائیں۔
مہتاب : شاداب، سہراب، عقاب، نقاب۔
چاہ : واہ، آہ، ساہ، راہ۔
وطن : برتن ، دھوبن، ہتھیارن، بیسن۔
شور : کور، بور، سور، مور۔

سوال ٦ : اس نظم کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیے۔

  • نظم : او دیس سے آنے والے بتا
  • شاعر : اختر شیرانی

اس نظم میں ایک پردیسی اپنے وطن سے آنے والے ہم وطن کے سامنگ اپنے دل کا حال بتاتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ کس طرح اس کو وطن کی یاد ستاتی ہے۔ اور وہی بے قراری کم کرنے کے لیے وہ اس مسافر سے اپنے وطن کا حال پوچھتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ مجھے بتاؤ کہ میرے یہاں آنے کے بعد میرے وطن میں کوئی تبدیلی آئی ہے یا سب ویسا ہے جیسا میں چھوڑ کر آیا تھا۔ کیا میرے وطن کے باغوں میں اب بھی پھولوں کی بہار ہوتی ہے، کیا اب بھی ان کی خوشبو سے فضاء مہکتی ہے۔ کیا بادل اب بھی وہاں کے آسمان پر چھاتے ہیں، کیا سمندر کنارے وہ بڑا سا درخت جس کی چھاؤں میں ہم بیٹھا کرتے تھے اب بھی اپنے مقام ہر تنا کھڑا ہے۔ وہ میرے بھولے بھالے سے دوست جو میرے ساتھ مدرسہ پڑھتے تھے اب بھی موجود ہیں۔ کیا اب بھی چاند بادلوں کی اوٹ سے نکل کر دریا میں ڈوبکی لگاتا ہے۔ کیا وہاں کے لوگ اور میرے وہ دوست اب بھی مجھے یاد کرتے ہیں۔شاعر کہتا ہے میں یہاں پردیس کی مشکلات میں ایسا الجھا ہوں کے مجھے اب اپنے وطن کے بارے میں یہ سب یاد ہی نہیں رہا اور اب میں دوبارہ اپنے وطن کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں۔