تعارف

اختر شیرانی کا اصل نام داؤد خان تھا۔ وہ ۱۹۰۵ میں ریاست راجستھان میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق افغانستان کے ایک قبیلے شیرانی سے تھا۔ ۱۹۲۱ میں انھوں نے لاہور میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔

شاعری

اختر کو بچپن سے ہی شاعری کا شوق رہا تھا۔ منشی فاضل کا امتحان پاس کیا لیکن والد کی کوشش کے باوجود کوئی اور امتحان پاس نہ کر سکے اور شعروشاعری کو مستقل مشغلہ بنا لیا۔
اردو شاعری میں جدت کے ساتھ رومانوی شاعری کا فروغ کیا اس عہد کے بیشتر شعراء اکرام کی شاعری میں ان کا اثر معلوم ہوتا تھا۔ انھوں نے عشق میں ہارے ہوئے شخص کے احساسات محبوب سے دوری کرب و وصال کا احوال لکھا۔ انھوں نے بہت سے شاعروں کی طرح رقیب کو دشمن نہیں بلکہ انھوں نے رقیب کو اپنا چارہ ساز لکھا۔

فطرت

اختر شیرانی کی جنت یوں تو سلمیٰ ، یا ریحانہ یا عذرا کی آغوش میں ہے لیکن اس جنت کی تعمیر میں فطرت کا حسن و جمال بھی بڑا اہم عنصر ہے۔ یوں بھی فطرت کی آغوش میں انہیں بڑا سکون ملتا ہے۔ فطرت اور اس کے مناظر و مظاہر کے ساتھ ان کا رشتہ محض عشق و شباب ہی کے حوالے سے قائم نہیں ہوتا بلکہ فطرت کی رعنائی اور اس کے مظہراتی حسن و جمال کا ان کی شاعری میں اپنا ایک مقام ہے۔ بادل، بہار، برسات اور چاندنی کے مناظر خاص طور پر انہیں متاثر کرتے ہیں۔

نظمیں

اختر شیرانی کی نمائندہ نظموں میں ’او دیس سے آنے والے بتا‘، ’ایک نوجوان بت تراش کی آرزو‘، ’تاثراتِ نغمہ‘، ’سلمیٰ‘، ’عذرا‘، ’انتظار‘، ’گجرات کی رات‘، ’اے عشق کہیں لے چل‘، ’بستی کی لڑکیوں میں‘، ’یہی وادی ہے وہ ہمدم جہاں ریحانہ رہتی تھی‘، ’اے عشق ہمیں برباد نہ کر‘، ’ایک دیہاتی لڑکی کا گیت‘، ’نذر وطن‘ اور
’وادیِ گنگا میں ایک رات‘ وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔

آخری ایام

۹ ستمبر ۱۹۴۸ء کو اختر شیرانی کا رشتۂ حیات منقطع ہو گیا۔ اختر شیرانی لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ ان کی قبر کا کتبہ پاکستان کے مشہور خطاط صوفی خورشید عالم خورشید رقم کی خطاطی کا شاہکار ہے۔ ممتاز شاعر نے صرف ۴۳ برس کی عمر پائی ، اگرچہ انہوں نے زیادہ عمر نہیں پائی لیکن کام بہت کیا۔ اردو ادب میں جب بھی رومانوی شاعری کا ذکر ہو گا اختر شیرانی کا نام سرِ فہرست ہوگا۔

منتخب کلام

  • اختر شیرانی کی غزل سے چند اشعار؂
  • اگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کر دے
  • تو ذرے کو ماہتاب اور ماہتاب کو آفتاب کر دے
  • تری محبت کی وادیوں میں مری جوانی سے دور کیا ہے
  • جو سادہ پانی کو اک نشیلی نظر میں رنگیں شراب کر دے
  • حریم عشرت میں سونے والے شمیم گیسو کی مستیوں سے
  • مری جوانی کی سادہ راتوں کو اب تو سرشار خواب کر دے
  • مزے وہ پائے ہیں آرزو میں کہ دل کی یہ آرزو ہے یا رب
  • تمام دنیا کی آرزوئیں مرے لیے انتخاب کر دے
  • نظر نا آنے پہ ہے یہ حالت کہ جنگ ہے شیخ و برہمن میں
  • خبر نہیں کیا سے کیا ہو دنیا جو خود کو وہ بے نقاب کر دے

اختر شیرانی کی نظم کے چند اشعار مندرجہ ذیل ہیں؀

  • اے عشق کہیں لے چل اس پاپ کی بستی سے
  • نفرت گہہ عالم سے لعنت گہہ ہستی سے
  • ان نفس پرستوں سے اس نفس پرستی سے
  • دور اور کہیں لے چل!
  • اے عشق کہیں لے چل!
  • ہم پریم پجاری ہیں تو پریم کنہیا ہے
  • تو پریم کنہیا ہے یہ پریم کی نیا ہے
  • یہ پریم کی نیا ہے تو اس کا کھویا ہے
  • کچھ فکر نہیں لے چل!
  • اے عشق کہیں لے چل!

Quiz on Akhtar Shirani

اختر شیرانی 1
Advertisements