Advertisement

نظم : رات اور ریل
شاعر : اسرار الحق مجاز

Advertisement

تعارفِ نظم 

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”رات اور ریل“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام اسرار الحق مجاز ہے۔

Advertisement

تعارفِ شاعر 

اسرارالحق مجازؔ بیسویں صدی کی چوتھی دہائی میں اردو شاعری کے افق پر اک وقوعہ بن کر طلوع ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنی دلنواز شخصیت اور اپنے لب و لہجہ کی تازگی اور غنائیت کے سبب اپنے وقت کے نوجوانوں کے دل و دماغ پر چھا گئے۔ فیض احمد فیض،سردار جعفری،مخدوم محی الدین جذبی،اور ساحر لدھیانوی جیسے شعراء ان کے ہم عصر ہی نہیں ہم پیالہ اور ہم نوالہ دوست بھی تھے۔ لیکن جس زمانہ میں مجازؔ کی شاعری اپنے شباب پر تھی،ان کی شہرت اور مقبولیت کے سامنے کسی کا چراغ نہیں جلتا تھا۔

Advertisement
پھر چلی ہے ریل اسٹیشن سے لہراتی ہوئی
نیم شب کی خامشی میں زیر لب گاتی ہوئی

اس نظم میں شاعر ریل کے سفر کی تصویر کشی کررہے ہیں۔ یہ سفر رات کے اندھیرے میں ہورہا ہے۔ شاعر اس نظم میں ریل گاڑی کے عزم کو بیان کررہے ہیں کہ جب ایک ریل گاڑی اپنے سفر کی جانب گامزن ہوتی ہے تو راستے میں آئی ہر مصیبت اور رکاوٹ کو پیچھے دھکیل دیتی ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں ریل گاڑی کا یہ عزم و حوصلہ صرف ریل گاڑی کو نہیں بلکہ اس کے مسافروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے اور تمام مسافر اپنی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان بھی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جس کا عزم و حوصلہ اس کے علاوہ اس کے آس پاس بسنے والے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں لوگ آتے ہیں اور ایک مدت کے بعد چلے جاتے ہیں بالکل ایسے ہی ریل گاڑی میں مسافر آتے ہیں اور سفر مکمل ہوتے ہی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں اور ریل گاڑی کو اکیلا کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ریل گاڑی اپنے فرائض کو ایمانداری سے پورا کرتی ہے، بالکل اسی طرح انسان کو بھی اہنے فرائض پورے کرنے چاہیے اور لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ پھر ریل گاڑی عزم و ہمت کے ساتھ لہراتی ہوئی اسٹیشن سے چل پڑی ہے۔ اس وقت رات ہورہی ہے اور ریل گاڑی رات کے اندھیرے میں زیرِ لب گنگناتی ہوئی اپنے سفر پر نکل چکی ہے۔

ڈگمگاتی جھومتی سیٹی بجاتی کھیلتی
وادی و کہسار کی ٹھنڈی ہوا کھاتی ہوئی

اس نظم میں شاعر ریل کے سفر کی تصویر کشی کررہے ہیں۔ یہ سفر رات کے اندھیرے میں ہورہا ہے۔ شاعر اس نظم میں ریل گاڑی کے عزم کو بیان کررہے ہیں کہ جب ایک ریل گاڑی اپنے سفر کی جانب گامزن ہوتی ہے تو راستے میں آئی ہر مصیبت اور رکاوٹ کو پیچھے دھکیل دیتی ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں ریل گاڑی کا یہ عزم و حوصلہ صرف ریل گاڑی کو نہیں بلکہ اس کے مسافروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے اور تمام مسافر اپنی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان بھی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جس کا عزم و حوصلہ اس کے علاوہ اس کے آس پاس بسنے والے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں لوگ آتے ہیں اور ایک مدت کے بعد چلے جاتے ہیں بالکل ایسے ہی ریل گاڑی میں مسافر آتے ہیں اور سفر مکمل ہوتے ہی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں اور ریل گاڑی کو اکیلا کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ریل گاڑی اپنے فرائض کو ایمانداری سے پورا کرتی ہے، بالکل اسی طرح انسان کو بھی اہنے فرائض پورے کرنے چاہیے اور لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ریل گاڑی اسٹیشن پر چلتے ہوئے ڈگمگا رہی ہے، جھوم رہی ہے، سیٹی بجا کر لوگوں کو اپنے جانے کا پتہ دے رہی ہے اور پھر وہ وادی کہار میں سے گزر کر وہاں کی ٹھنڈی ہوا کو بھی محسوس کررہی ہے۔

Advertisement
تیز جھونکوں میں وہ چھم چھم کا سرود دل نشیں
آندھیوں میں مینہ برسنے کی صدا آتی ہوئی

اس نظم میں شاعر ریل کے سفر کی تصویر کشی کررہے ہیں۔ یہ سفر رات کے اندھیرے میں ہورہا ہے۔ شاعر اس نظم میں ریل گاڑی کے عزم کو بیان کررہے ہیں کہ جب ایک ریل گاڑی اپنے سفر کی جانب گامزن ہوتی ہے تو راستے میں آئی ہر مصیبت اور رکاوٹ کو پیچھے دھکیل دیتی ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں ریل گاڑی کا یہ عزم و حوصلہ صرف ریل گاڑی کو نہیں بلکہ اس کے مسافروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے اور تمام مسافر اپنی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان بھی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جس کا عزم و حوصلہ اس کے علاوہ اس کے آس پاس بسنے والے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں لوگ آتے ہیں اور ایک مدت کے بعد چلے جاتے ہیں بالکل ایسے ہی ریل گاڑی میں مسافر آتے ہیں اور سفر مکمل ہوتے ہی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں اور ریل گاڑی کو اکیلا کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ریل گاڑی اپنے فرائض کو ایمانداری سے پورا کرتی ہے، بالکل اسی طرح انسان کو بھی اہنے فرائض پورے کرنے چاہیے اور لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ہوا کے تیز جھونکے ریل گاڑی سے ٹکرا رہے ہیں اور ریل گاڑی کی تیز رفتاری کے باعث ماحول کے سکوت میں چھم چھم کی آواز ارتکاز پیدا کررہی ہے۔ اور کہیں کہیں سے بارش برسنے کی آواز بھی آرہی ہے۔

جیسے موجوں کا ترنم جیسے جل پریوں کے گیت
ایک اک لے میں ہزاروں زمزمے گاتی ہوئی

اس نظم میں شاعر ریل کے سفر کی تصویر کشی کررہے ہیں۔ یہ سفر رات کے اندھیرے میں ہورہا ہے۔ شاعر اس نظم میں ریل گاڑی کے عزم کو بیان کررہے ہیں کہ جب ایک ریل گاڑی اپنے سفر کی جانب گامزن ہوتی ہے تو راستے میں آئی ہر مصیبت اور رکاوٹ کو پیچھے دھکیل دیتی ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں ریل گاڑی کا یہ عزم و حوصلہ صرف ریل گاڑی کو نہیں بلکہ اس کے مسافروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے اور تمام مسافر اپنی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان بھی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جس کا عزم و حوصلہ اس کے علاوہ اس کے آس پاس بسنے والے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں لوگ آتے ہیں اور ایک مدت کے بعد چلے جاتے ہیں بالکل ایسے ہی ریل گاڑی میں مسافر آتے ہیں اور سفر مکمل ہوتے ہی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں اور ریل گاڑی کو اکیلا کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ریل گاڑی اپنے فرائض کو ایمانداری سے پورا کرتی ہے، بالکل اسی طرح انسان کو بھی اہنے فرائض پورے کرنے چاہیے اور لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ یوں محسوس ہورہا ہے جیسے پانی کی موجیں بھی ایک سُر پیدا کررہی ہیں اور اس پانی پر پریاں بیٹھ کر گانے گنگنا رہی ہیں۔ شاعر کہتے ہیں اس ماحول میں ریل گاڑی بھی ایک ہی لے میں بہت سے سُر گارہی ہے اور اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے۔

Advertisement
ٹھوکریں کھا کر لچکتی گنگناتی جھومتی
سر خوشی میں گھنگروؤں کی تال پر گاتی ہوئی

اس نظم میں شاعر ریل کے سفر کی تصویر کشی کررہے ہیں۔ یہ سفر رات کے اندھیرے میں ہورہا ہے۔ شاعر اس نظم میں ریل گاڑی کے عزم کو بیان کررہے ہیں کہ جب ایک ریل گاڑی اپنے سفر کی جانب گامزن ہوتی ہے تو راستے میں آئی ہر مصیبت اور رکاوٹ کو پیچھے دھکیل دیتی ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں ریل گاڑی کا یہ عزم و حوصلہ صرف ریل گاڑی کو نہیں بلکہ اس کے مسافروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے اور تمام مسافر اپنی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان بھی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جس کا عزم و حوصلہ اس کے علاوہ اس کے آس پاس بسنے والے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں لوگ آتے ہیں اور ایک مدت کے بعد چلے جاتے ہیں بالکل ایسے ہی ریل گاڑی میں مسافر آتے ہیں اور سفر مکمل ہوتے ہی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں اور ریل گاڑی کو اکیلا کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ریل گاڑی اپنے فرائض کو ایمانداری سے پورا کرتی ہے، بالکل اسی طرح انسان کو بھی اہنے فرائض پورے کرنے چاہیے اور لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ریل گاڑی ٹھوکریں کھا کر لچکتی ہوئی اور گنگناتی ہوئی اپنے سفر کی جانب رواں دواں ہے۔ اور ریل گاڑی اپنی خوشی میں گھونگرو کی تال پر گاتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔

رات کی تاریکیوں میں جھلملاتی کانپتی
پٹریوں پر دور تک سیماب جھلکاتی ہوئی

اس نظم میں شاعر ریل کے سفر کی تصویر کشی کررہے ہیں۔ یہ سفر رات کے اندھیرے میں ہورہا ہے۔ شاعر اس نظم میں ریل گاڑی کے عزم کو بیان کررہے ہیں کہ جب ایک ریل گاڑی اپنے سفر کی جانب گامزن ہوتی ہے تو راستے میں آئی ہر مصیبت اور رکاوٹ کو پیچھے دھکیل دیتی ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں ریل گاڑی کا یہ عزم و حوصلہ صرف ریل گاڑی کو نہیں بلکہ اس کے مسافروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے اور تمام مسافر اپنی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان بھی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جس کا عزم و حوصلہ اس کے علاوہ اس کے آس پاس بسنے والے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں لوگ آتے ہیں اور ایک مدت کے بعد چلے جاتے ہیں بالکل ایسے ہی ریل گاڑی میں مسافر آتے ہیں اور سفر مکمل ہوتے ہی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں اور ریل گاڑی کو اکیلا کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ریل گاڑی اپنے فرائض کو ایمانداری سے پورا کرتی ہے، بالکل اسی طرح انسان کو بھی اہنے فرائض پورے کرنے چاہیے اور لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ریل گاڑی رات کے اندھیرے میں کانپتی ہوئی اور جھلملاتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ اور ریل گاڑی پٹریوں پر دور تک روشنی بکھیر رہی ہے۔

Advertisement
سینۂ کہسار پر چڑھتی ہوئی بے اختیار
ایک ناگن جس طرح مستی میں لہراتی ہوئی

اس نظم میں شاعر ریل کے سفر کی تصویر کشی کررہے ہیں۔ یہ سفر رات کے اندھیرے میں ہورہا ہے۔ شاعر اس نظم میں ریل گاڑی کے عزم کو بیان کررہے ہیں کہ جب ایک ریل گاڑی اپنے سفر کی جانب گامزن ہوتی ہے تو راستے میں آئی ہر مصیبت اور رکاوٹ کو پیچھے دھکیل دیتی ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں ریل گاڑی کا یہ عزم و حوصلہ صرف ریل گاڑی کو نہیں بلکہ اس کے مسافروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے اور تمام مسافر اپنی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان بھی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جس کا عزم و حوصلہ اس کے علاوہ اس کے آس پاس بسنے والے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں لوگ آتے ہیں اور ایک مدت کے بعد چلے جاتے ہیں بالکل ایسے ہی ریل گاڑی میں مسافر آتے ہیں اور سفر مکمل ہوتے ہی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں اور ریل گاڑی کو اکیلا کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ریل گاڑی اپنے فرائض کو ایمانداری سے پورا کرتی ہے، بالکل اسی طرح انسان کو بھی اہنے فرائض پورے کرنے چاہیے اور لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے ریل گاڑی ایک ناگن کی طرح اپنی مستی میں مست، بے اختیار کہسار کے سینے پر چڑھ رہی ہے۔

اک بگولے کی طرح بڑھتی ہوئی میدان میں
جنگلوں میں آندھیوں کا زور دکھلاتی ہوئی

اس نظم میں شاعر ریل کے سفر کی تصویر کشی کررہے ہیں۔ یہ سفر رات کے اندھیرے میں ہورہا ہے۔ شاعر اس نظم میں ریل گاڑی کے عزم کو بیان کررہے ہیں کہ جب ایک ریل گاڑی اپنے سفر کی جانب گامزن ہوتی ہے تو راستے میں آئی ہر مصیبت اور رکاوٹ کو پیچھے دھکیل دیتی ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں ریل گاڑی کا یہ عزم و حوصلہ صرف ریل گاڑی کو نہیں بلکہ اس کے مسافروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے اور تمام مسافر اپنی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان بھی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جس کا عزم و حوصلہ اس کے علاوہ اس کے آس پاس بسنے والے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں لوگ آتے ہیں اور ایک مدت کے بعد چلے جاتے ہیں بالکل ایسے ہی ریل گاڑی میں مسافر آتے ہیں اور سفر مکمل ہوتے ہی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں اور ریل گاڑی کو اکیلا کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ریل گاڑی اپنے فرائض کو ایمانداری سے پورا کرتی ہے، بالکل اسی طرح انسان کو بھی اہنے فرائض پورے کرنے چاہیے اور لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اگر ریل گاڑی میدان سے گزرتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی آگ کا گولا میدان کی جانب بڑھ رہا ہو۔ اور اگر ریل گاڑی جنگل میں جاتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ریل گاڑی کوئی آندھی ہو جو جنگل میں اپنا زور ہوا کہ بل پر دکھا رہی ہو۔

Advertisement
ایک رخش بے عناں کی برق رفتاری کے ساتھ
خندقوں کو پھاندتی ٹیلوں سے کتراتی ہوئی

اس نظم میں شاعر ریل کے سفر کی تصویر کشی کررہے ہیں۔ یہ سفر رات کے اندھیرے میں ہورہا ہے۔ شاعر اس نظم میں ریل گاڑی کے عزم کو بیان کررہے ہیں کہ جب ایک ریل گاڑی اپنے سفر کی جانب گامزن ہوتی ہے تو راستے میں آئی ہر مصیبت اور رکاوٹ کو پیچھے دھکیل دیتی ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں ریل گاڑی کا یہ عزم و حوصلہ صرف ریل گاڑی کو نہیں بلکہ اس کے مسافروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے اور تمام مسافر اپنی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان بھی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جس کا عزم و حوصلہ اس کے علاوہ اس کے آس پاس بسنے والے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں لوگ آتے ہیں اور ایک مدت کے بعد چلے جاتے ہیں بالکل ایسے ہی ریل گاڑی میں مسافر آتے ہیں اور سفر مکمل ہوتے ہی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں اور ریل گاڑی کو اکیلا کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ریل گاڑی اپنے فرائض کو ایمانداری سے پورا کرتی ہے، بالکل اسی طرح انسان کو بھی اہنے فرائض پورے کرنے چاہیے اور لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ریل گاڑی بہت برق رفتاری کے ساتھ سفر کر رہی ہے۔ اور وہ اپنے راستوں میں آتے ہوئے خندق اور ٹیلوں سے بچتی بچاتی اور انہیں پھلانگتی ہوئی اپنے سفر کی جانب رواں دواں ہے۔

مرغزاروں میں دکھاتی جوئے شیریں کا خرام
وادیوں میں ابر کے مانند منڈلاتی ہوئی

اس نظم میں شاعر ریل کے سفر کی تصویر کشی کررہے ہیں۔ یہ سفر رات کے اندھیرے میں ہورہا ہے۔ شاعر اس نظم میں ریل گاڑی کے عزم کو بیان کررہے ہیں کہ جب ایک ریل گاڑی اپنے سفر کی جانب گامزن ہوتی ہے تو راستے میں آئی ہر مصیبت اور رکاوٹ کو پیچھے دھکیل دیتی ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں ریل گاڑی کا یہ عزم و حوصلہ صرف ریل گاڑی کو نہیں بلکہ اس کے مسافروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے اور تمام مسافر اپنی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان بھی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جس کا عزم و حوصلہ اس کے علاوہ اس کے آس پاس بسنے والے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں لوگ آتے ہیں اور ایک مدت کے بعد چلے جاتے ہیں بالکل ایسے ہی ریل گاڑی میں مسافر آتے ہیں اور سفر مکمل ہوتے ہی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں اور ریل گاڑی کو اکیلا کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ریل گاڑی اپنے فرائض کو ایمانداری سے پورا کرتی ہے، بالکل اسی طرح انسان کو بھی اہنے فرائض پورے کرنے چاہیے اور لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ریل گاڑی مرغزاروں میں جوئے شیریں کی مانند لگتی ہے اور وادیوں میں وہ پانی کی طرح یہاں سے وہاں منڈلاتی ہے۔

Advertisement
چھیڑتی اک وجد کے عالم میں ساز سرمدی
غیظ کے عالم میں منہ سے آگ برساتی ہوئی

اس نظم میں شاعر ریل کے سفر کی تصویر کشی کررہے ہیں۔ یہ سفر رات کے اندھیرے میں ہورہا ہے۔ شاعر اس نظم میں ریل گاڑی کے عزم کو بیان کررہے ہیں کہ جب ایک ریل گاڑی اپنے سفر کی جانب گامزن ہوتی ہے تو راستے میں آئی ہر مصیبت اور رکاوٹ کو پیچھے دھکیل دیتی ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں ریل گاڑی کا یہ عزم و حوصلہ صرف ریل گاڑی کو نہیں بلکہ اس کے مسافروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے اور تمام مسافر اپنی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان بھی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جس کا عزم و حوصلہ اس کے علاوہ اس کے آس پاس بسنے والے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں لوگ آتے ہیں اور ایک مدت کے بعد چلے جاتے ہیں بالکل ایسے ہی ریل گاڑی میں مسافر آتے ہیں اور سفر مکمل ہوتے ہی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں اور ریل گاڑی کو اکیلا کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ریل گاڑی اپنے فرائض کو ایمانداری سے پورا کرتی ہے، بالکل اسی طرح انسان کو بھی اہنے فرائض پورے کرنے چاہیے اور لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ریل گاڑی پورے دنیا میں ایک ساز سرمدی کو چھیڑتی ہے۔ اور اپنے انجن سے یوں دھواں نکالتی ہے کہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ غیظ کے عالم میں اپنے منہ سے آگ برسا رہی ہو۔

رینگتی مڑتی مچلتی تلملاتی ہانپتی
اپنے دل کی آتش پنہاں کو بھڑکاتی ہوئی

اس نظم میں شاعر ریل کے سفر کی تصویر کشی کررہے ہیں۔ یہ سفر رات کے اندھیرے میں ہورہا ہے۔ شاعر اس نظم میں ریل گاڑی کے عزم کو بیان کررہے ہیں کہ جب ایک ریل گاڑی اپنے سفر کی جانب گامزن ہوتی ہے تو راستے میں آئی ہر مصیبت اور رکاوٹ کو پیچھے دھکیل دیتی ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں ریل گاڑی کا یہ عزم و حوصلہ صرف ریل گاڑی کو نہیں بلکہ اس کے مسافروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے اور تمام مسافر اپنی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان بھی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جس کا عزم و حوصلہ اس کے علاوہ اس کے آس پاس بسنے والے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں لوگ آتے ہیں اور ایک مدت کے بعد چلے جاتے ہیں بالکل ایسے ہی ریل گاڑی میں مسافر آتے ہیں اور سفر مکمل ہوتے ہی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں اور ریل گاڑی کو اکیلا کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ریل گاڑی اپنے فرائض کو ایمانداری سے پورا کرتی ہے، بالکل اسی طرح انسان کو بھی اہنے فرائض پورے کرنے چاہیے اور لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ جب ریل گاڑی سفر کرتی ہے تو وہ رینگتی ہے، مڑتی ہے، مچلتی ہے، تلملاتی ہے اور ‏ہانپتی ہے، لیکن وہ اپنا سفر رواں دواں رکھتی ہے اور اپنے دل میں آگ بھڑکا کر رکھتی ہے تاکہ وہ اپنی منزل تک پہنچ سکے۔

Advertisement
خودبخود روٹھی ہوئی بپھری ہوئی بکھری ہوئی
شور پیہم سے دل گیتی کو دھڑکاتی ہوئی

اس نظم میں شاعر ریل کے سفر کی تصویر کشی کررہے ہیں۔ یہ سفر رات کے اندھیرے میں ہورہا ہے۔ شاعر اس نظم میں ریل گاڑی کے عزم کو بیان کررہے ہیں کہ جب ایک ریل گاڑی اپنے سفر کی جانب گامزن ہوتی ہے تو راستے میں آئی ہر مصیبت اور رکاوٹ کو پیچھے دھکیل دیتی ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں ریل گاڑی کا یہ عزم و حوصلہ صرف ریل گاڑی کو نہیں بلکہ اس کے مسافروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے اور تمام مسافر اپنی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان بھی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جس کا عزم و حوصلہ اس کے علاوہ اس کے آس پاس بسنے والے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں لوگ آتے ہیں اور ایک مدت کے بعد چلے جاتے ہیں بالکل ایسے ہی ریل گاڑی میں مسافر آتے ہیں اور سفر مکمل ہوتے ہی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں اور ریل گاڑی کو اکیلا کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ریل گاڑی اپنے فرائض کو ایمانداری سے پورا کرتی ہے، بالکل اسی طرح انسان کو بھی اہنے فرائض پورے کرنے چاہیے اور لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ ارشاد میں شعر کہتے ہیں کہ ریل خود سے روٹھتی ہے، بھڑتی ہے، بکھرتی ہے لیکن وہ اپنی منزل کی جانب بڑھتی رہتی ہے اور اپنے سفر کے دوران پیدا ہونے والے شور سے اپنے دل کو دھڑکاتی رہتی ہے۔

پل کے دریا کے دما دم کوندتی للکارتی
ساحلوں پر ریت کے ذروں کو چمکاتی ہوئی

اس نظم میں شاعر ریل کے سفر کی تصویر کشی کررہے ہیں۔ یہ سفر رات کے اندھیرے میں ہورہا ہے۔ شاعر اس نظم میں ریل گاڑی کے عزم کو بیان کررہے ہیں کہ جب ایک ریل گاڑی اپنے سفر کی جانب گامزن ہوتی ہے تو راستے میں آئی ہر مصیبت اور رکاوٹ کو پیچھے دھکیل دیتی ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں ریل گاڑی کا یہ عزم و حوصلہ صرف ریل گاڑی کو نہیں بلکہ اس کے مسافروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے اور تمام مسافر اپنی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان بھی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جس کا عزم و حوصلہ اس کے علاوہ اس کے آس پاس بسنے والے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں لوگ آتے ہیں اور ایک مدت کے بعد چلے جاتے ہیں بالکل ایسے ہی ریل گاڑی میں مسافر آتے ہیں اور سفر مکمل ہوتے ہی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں اور ریل گاڑی کو اکیلا کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ریل گاڑی اپنے فرائض کو ایمانداری سے پورا کرتی ہے، بالکل اسی طرح انسان کو بھی اہنے فرائض پورے کرنے چاہیے اور لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ریل گاڑی دریا کے اوپر موجود پل پر سے گزرتی ہے اور نیچے موجود دریا کو للکارتی اور کوندتی ہے۔ اور جب کبھی وہ ریل گاڑی ساحل سے گزرتی ہے تو وہاں موجود ریت کے ذروں کو بھی چمکا دیتی ہے۔

Advertisement
تیزی رفتار کے سکے جماتی جا بجا
دشت و در میں زندگی کی لہر دوڑاتی ہوئی

اس نظم میں شاعر ریل کے سفر کی تصویر کشی کررہے ہیں۔ یہ سفر رات کے اندھیرے میں ہورہا ہے۔ شاعر اس نظم میں ریل گاڑی کے عزم کو بیان کررہے ہیں کہ جب ایک ریل گاڑی اپنے سفر کی جانب گامزن ہوتی ہے تو راستے میں آئی ہر مصیبت اور رکاوٹ کو پیچھے دھکیل دیتی ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں ریل گاڑی کا یہ عزم و حوصلہ صرف ریل گاڑی کو نہیں بلکہ اس کے مسافروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے اور تمام مسافر اپنی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان بھی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جس کا عزم و حوصلہ اس کے علاوہ اس کے آس پاس بسنے والے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں لوگ آتے ہیں اور ایک مدت کے بعد چلے جاتے ہیں بالکل ایسے ہی ریل گاڑی میں مسافر آتے ہیں اور سفر مکمل ہوتے ہی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں اور ریل گاڑی کو اکیلا کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ریل گاڑی اپنے فرائض کو ایمانداری سے پورا کرتی ہے، بالکل اسی طرح انسان کو بھی اہنے فرائض پورے کرنے چاہیے اور لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ریل گاڑی ہر جگہ سے تیزی سے گزرتی ہے اور وہاں اپنا سکہ جما دیتی ہے۔ شاعر مزید کہتے ہیں کہ ریل گاڑی دشت و در جہاں کوئی بھی موجود نہیں ہوتا وہاں سے گزرتے ہوئے ان جگہوں پر بھی زندگی کی لہر دوڑا دیتی ہے۔

Advertisement
صفحۂ دل سے مٹاتی عہد ماضی کے نقوش
حال و مستقبل کے دل کش خواب دکھلاتی ہوئی

اس نظم میں شاعر ریل کے سفر کی تصویر کشی کررہے ہیں۔ یہ سفر رات کے اندھیرے میں ہورہا ہے۔ شاعر اس نظم میں ریل گاڑی کے عزم کو بیان کررہے ہیں کہ جب ایک ریل گاڑی اپنے سفر کی جانب گامزن ہوتی ہے تو راستے میں آئی ہر مصیبت اور رکاوٹ کو پیچھے دھکیل دیتی ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں ریل گاڑی کا یہ عزم و حوصلہ صرف ریل گاڑی کو نہیں بلکہ اس کے مسافروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے اور تمام مسافر اپنی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان بھی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جس کا عزم و حوصلہ اس کے علاوہ اس کے آس پاس بسنے والے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں لوگ آتے ہیں اور ایک مدت کے بعد چلے جاتے ہیں بالکل ایسے ہی ریل گاڑی میں مسافر آتے ہیں اور سفر مکمل ہوتے ہی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں اور ریل گاڑی کو اکیلا کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ریل گاڑی اپنے فرائض کو ایمانداری سے پورا کرتی ہے، بالکل اسی طرح انسان کو بھی اہنے فرائض پورے کرنے چاہیے اور لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ریل گاڑی کا سفر کرنے سے انسان کے دل پر نئے نقوش چھپ جاتے ہیں اور اس کے ماضی کے نقوش جو اسے تکلیف دیتے ہیں وہاں سے مٹ جاتے ہیں۔ ریل گاڑی ہر انسان کو اس کے حال اور اس کے مستقبل کے دلکش خواب دکھاتی ہے۔

دامن تاریکئ شب کی اڑاتی دھجیاں
قصر ظلمت پر مسلسل تیر برساتی ہوئی

اس نظم میں شاعر ریل کے سفر کی تصویر کشی کررہے ہیں۔ یہ سفر رات کے اندھیرے میں ہورہا ہے۔ شاعر اس نظم میں ریل گاڑی کے عزم کو بیان کررہے ہیں کہ جب ایک ریل گاڑی اپنے سفر کی جانب گامزن ہوتی ہے تو راستے میں آئی ہر مصیبت اور رکاوٹ کو پیچھے دھکیل دیتی ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں ریل گاڑی کا یہ عزم و حوصلہ صرف ریل گاڑی کو نہیں بلکہ اس کے مسافروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے اور تمام مسافر اپنی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان بھی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جس کا عزم و حوصلہ اس کے علاوہ اس کے آس پاس بسنے والے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں لوگ آتے ہیں اور ایک مدت کے بعد چلے جاتے ہیں بالکل ایسے ہی ریل گاڑی میں مسافر آتے ہیں اور سفر مکمل ہوتے ہی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں اور ریل گاڑی کو اکیلا کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ریل گاڑی اپنے فرائض کو ایمانداری سے پورا کرتی ہے، بالکل اسی طرح انسان کو بھی اہنے فرائض پورے کرنے چاہیے اور لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ اس شعر میں شاعر کرتے ہیں کہ چاہے دن ہو یا رات ریل گاڑی اپنی منزل کی جانب رواں دواں رہتی ہے۔ شعر کہتے ہیں کہ یہ ریل گاڑی کا قصر ظلمت پر مسلسل تیر بھی برساتی رہتی ہے اور رات کی تاریکی میں ہونے والے ظلموں کی بھی دھجیاں اڑاتی ہے۔

Advertisement
زد میں کوئی چیز آ جائے تو اس کو پیس کر
ارتقائے زندگی کے راز بتلاتی ہوئی

اس نظم میں شاعر ریل کے سفر کی تصویر کشی کررہے ہیں۔ یہ سفر رات کے اندھیرے میں ہورہا ہے۔ شاعر اس نظم میں ریل گاڑی کے عزم کو بیان کررہے ہیں کہ جب ایک ریل گاڑی اپنے سفر کی جانب گامزن ہوتی ہے تو راستے میں آئی ہر مصیبت اور رکاوٹ کو پیچھے دھکیل دیتی ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں ریل گاڑی کا یہ عزم و حوصلہ صرف ریل گاڑی کو نہیں بلکہ اس کے مسافروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے اور تمام مسافر اپنی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان بھی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جس کا عزم و حوصلہ اس کے علاوہ اس کے آس پاس بسنے والے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں لوگ آتے ہیں اور ایک مدت کے بعد چلے جاتے ہیں بالکل ایسے ہی ریل گاڑی میں مسافر آتے ہیں اور سفر مکمل ہوتے ہی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں اور ریل گاڑی کو اکیلا کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ریل گاڑی اپنے فرائض کو ایمانداری سے پورا کرتی ہے، بالکل اسی طرح انسان کو بھی اہنے فرائض پورے کرنے چاہیے اور لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اگر ریل گاڑی کے سفر کے دوران کوئی چیز اس کے راستے میں آ جائے تو وہ اس کو کچل دیتی ہے اور انسان کو زندگی کی بقا کا راز بتاتی ہے کہ اگر انسان کو اس دنیا میں آگے بڑھنا ہے دوستوں سے چاہیے کہ اپنے راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو کچلتا جائے۔

Advertisement
ایک اک حرکت سے انداز بغاوت آشکار
عظمت انسانیت کے زمزمے گاتی ہوئی

اس نظم میں شاعر ریل کے سفر کی تصویر کشی کررہے ہیں۔ یہ سفر رات کے اندھیرے میں ہورہا ہے۔ شاعر اس نظم میں ریل گاڑی کے عزم کو بیان کررہے ہیں کہ جب ایک ریل گاڑی اپنے سفر کی جانب گامزن ہوتی ہے تو راستے میں آئی ہر مصیبت اور رکاوٹ کو پیچھے دھکیل دیتی ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں ریل گاڑی کا یہ عزم و حوصلہ صرف ریل گاڑی کو نہیں بلکہ اس کے مسافروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے اور تمام مسافر اپنی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان بھی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جس کا عزم و حوصلہ اس کے علاوہ اس کے آس پاس بسنے والے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں لوگ آتے ہیں اور ایک مدت کے بعد چلے جاتے ہیں بالکل ایسے ہی ریل گاڑی میں مسافر آتے ہیں اور سفر مکمل ہوتے ہی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں اور ریل گاڑی کو اکیلا کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ریل گاڑی اپنے فرائض کو ایمانداری سے پورا کرتی ہے، بالکل اسی طرح انسان کو بھی اہنے فرائض پورے کرنے چاہیے اور لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ریل گاڑی کی ایک ایک حرکت سے اس کے بغاوت کے انداز آشکار ہوتے ہیں، لیکن وہ انسانیت کی عظمت کے گیت گاتی ہے۔

Advertisement
ہر قدم پر توپ کی سی گھن گرج کے ساتھ ساتھ
گولیوں کی سنسناہٹ کی صدا آتی ہوئی

اس نظم میں شاعر ریل کے سفر کی تصویر کشی کررہے ہیں۔ یہ سفر رات کے اندھیرے میں ہورہا ہے۔ شاعر اس نظم میں ریل گاڑی کے عزم کو بیان کررہے ہیں کہ جب ایک ریل گاڑی اپنے سفر کی جانب گامزن ہوتی ہے تو راستے میں آئی ہر مصیبت اور رکاوٹ کو پیچھے دھکیل دیتی ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں ریل گاڑی کا یہ عزم و حوصلہ صرف ریل گاڑی کو نہیں بلکہ اس کے مسافروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے اور تمام مسافر اپنی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان بھی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جس کا عزم و حوصلہ اس کے علاوہ اس کے آس پاس بسنے والے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں لوگ آتے ہیں اور ایک مدت کے بعد چلے جاتے ہیں بالکل ایسے ہی ریل گاڑی میں مسافر آتے ہیں اور سفر مکمل ہوتے ہی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں اور ریل گاڑی کو اکیلا کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ریل گاڑی اپنے فرائض کو ایمانداری سے پورا کرتی ہے، بالکل اسی طرح انسان کو بھی اہنے فرائض پورے کرنے چاہیے اور لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ریل گاڑی ہر قدم پر توپ کی آوازوں کے ساتھ آگے بڑھتی رہتی ہے اور کبھی کبھی تو سفر کے دوران اسے گولیوں کی سنسناہٹ کی صدا بھی آتی ہے لیکن وہ اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔

وہ ہوا میں سیکڑوں جنگی دہل بجتے ہوئے
وہ بگل کی جاں فزا آواز لہراتی ہوئی

اس نظم میں شاعر ریل کے سفر کی تصویر کشی کررہے ہیں۔ یہ سفر رات کے اندھیرے میں ہورہا ہے۔ شاعر اس نظم میں ریل گاڑی کے عزم کو بیان کررہے ہیں کہ جب ایک ریل گاڑی اپنے سفر کی جانب گامزن ہوتی ہے تو راستے میں آئی ہر مصیبت اور رکاوٹ کو پیچھے دھکیل دیتی ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں ریل گاڑی کا یہ عزم و حوصلہ صرف ریل گاڑی کو نہیں بلکہ اس کے مسافروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے اور تمام مسافر اپنی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان بھی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جس کا عزم و حوصلہ اس کے علاوہ اس کے آس پاس بسنے والے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں لوگ آتے ہیں اور ایک مدت کے بعد چلے جاتے ہیں بالکل ایسے ہی ریل گاڑی میں مسافر آتے ہیں اور سفر مکمل ہوتے ہی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں اور ریل گاڑی کو اکیلا کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ریل گاڑی اپنے فرائض کو ایمانداری سے پورا کرتی ہے، بالکل اسی طرح انسان کو بھی اہنے فرائض پورے کرنے چاہیے اور لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ اس شعر میں شاعر آزادی کے وقت کی منظر کشی کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایسے وقت میں جب ریل گاڑی سفر کر رہی تھیں تو ہر جانب سے جنگوں کے دہل بجائے جا رہے تھے لیکن ریل گاڑی پھر بھی بغیر ڈرے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے تھے اور لوگوں کو ان کی منزل کی جانب پہنچا رہی تھی۔

Advertisement
الغرض اڑتی چلی جاتی ہے بے خوف و خطر
شاعر آتش نفس کا خون کھولاتی ہوئی

اس نظم میں شاعر ریل کے سفر کی تصویر کشی کررہے ہیں۔ یہ سفر رات کے اندھیرے میں ہورہا ہے۔ شاعر اس نظم میں ریل گاڑی کے عزم کو بیان کررہے ہیں کہ جب ایک ریل گاڑی اپنے سفر کی جانب گامزن ہوتی ہے تو راستے میں آئی ہر مصیبت اور رکاوٹ کو پیچھے دھکیل دیتی ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں ریل گاڑی کا یہ عزم و حوصلہ صرف ریل گاڑی کو نہیں بلکہ اس کے مسافروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے اور تمام مسافر اپنی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان بھی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جس کا عزم و حوصلہ اس کے علاوہ اس کے آس پاس بسنے والے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں لوگ آتے ہیں اور ایک مدت کے بعد چلے جاتے ہیں بالکل ایسے ہی ریل گاڑی میں مسافر آتے ہیں اور سفر مکمل ہوتے ہی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں اور ریل گاڑی کو اکیلا کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ریل گاڑی اپنے فرائض کو ایمانداری سے پورا کرتی ہے، بالکل اسی طرح انسان کو بھی اہنے فرائض پورے کرنے چاہیے اور لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ریل بنا کسی سے خوف کھائے اپنی منزل کی جانب بڑھتی رہتی ہے اور اپنے دشمنوں کا خون جلاتی رہتی ہے۔

سوال ۱ : ذیل اشعار کی تشریح کیجیے :

رات کی تاریکیوں میں جھلملاتی کانپتی
پٹریوں پر دور تک سیماب جھلکاتی ہوئی

اس نظم میں شاعر ریل کے سفر کی تصویر کشی کررہے ہیں۔ یہ سفر رات کے اندھیرے میں ہورہا ہے۔ شاعر اس نظم میں ریل گاڑی کے عزم کو بیان کررہے ہیں کہ جب ایک ریل گاڑی اپنے سفر کی جانب گامزن ہوتی ہے تو راستے میں آئی ہر مصیبت اور رکاوٹ کو پیچھے دھکیل دیتی ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں ریل گاڑی کا یہ عزم و حوصلہ صرف ریل گاڑی کو نہیں بلکہ اس کے مسافروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے اور تمام مسافر اپنی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان بھی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جس کا عزم و حوصلہ اس کے علاوہ اس کے آس پاس بسنے والے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں لوگ آتے ہیں اور ایک مدت کے بعد چلے جاتے ہیں بالکل ایسے ہی ریل گاڑی میں مسافر آتے ہیں اور سفر مکمل ہوتے ہی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں اور ریل گاڑی کو اکیلا کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ریل گاڑی اپنے فرائض کو ایمانداری سے پورا کرتی ہے، بالکل اسی طرح انسان کو بھی اہنے فرائض پورے کرنے چاہیے اور لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ریل گاڑی رات کے اندھیرے میں کانپتی ہوئی اور جھلملاتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ اور ریل گاڑی پٹریوں پر دور تک روشنی بکھیر رہی ہے۔

Advertisement
صفحۂ دل سے مٹاتی عہد ماضی کے نقوش
حال و مستقبل کے دل کش خواب دکھلاتی ہوئی

اس نظم میں شاعر ریل کے سفر کی تصویر کشی کررہے ہیں۔ یہ سفر رات کے اندھیرے میں ہورہا ہے۔ شاعر اس نظم میں ریل گاڑی کے عزم کو بیان کررہے ہیں کہ جب ایک ریل گاڑی اپنے سفر کی جانب گامزن ہوتی ہے تو راستے میں آئی ہر مصیبت اور رکاوٹ کو پیچھے دھکیل دیتی ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں ریل گاڑی کا یہ عزم و حوصلہ صرف ریل گاڑی کو نہیں بلکہ اس کے مسافروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے اور تمام مسافر اپنی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان بھی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جس کا عزم و حوصلہ اس کے علاوہ اس کے آس پاس بسنے والے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں لوگ آتے ہیں اور ایک مدت کے بعد چلے جاتے ہیں بالکل ایسے ہی ریل گاڑی میں مسافر آتے ہیں اور سفر مکمل ہوتے ہی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں اور ریل گاڑی کو اکیلا کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ریل گاڑی اپنے فرائض کو ایمانداری سے پورا کرتی ہے، بالکل اسی طرح انسان کو بھی اہنے فرائض پورے کرنے چاہیے اور لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ریل گاڑی کا سفر کرنے سے انسان کے دل پر نئے نقوش چھپ جاتے ہیں اور اس کے ماضی کے نقوش جو اسے تکلیف دیتے ہیں وہاں سے مٹ جاتے ہیں۔ ریل گاڑی ہر انسان کو اس کے حال اور اس کے مستقبل کے دلکش خواب دکھاتی ہے۔

دامن تاریکئ شب کی اڑاتی دھجیاں
قصر ظلمت پر مسلسل تیر برساتی ہوئی

اس نظم میں شاعر ریل کے سفر کی تصویر کشی کررہے ہیں۔ یہ سفر رات کے اندھیرے میں ہورہا ہے۔ شاعر اس نظم میں ریل گاڑی کے عزم کو بیان کررہے ہیں کہ جب ایک ریل گاڑی اپنے سفر کی جانب گامزن ہوتی ہے تو راستے میں آئی ہر مصیبت اور رکاوٹ کو پیچھے دھکیل دیتی ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں ریل گاڑی کا یہ عزم و حوصلہ صرف ریل گاڑی کو نہیں بلکہ اس کے مسافروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے اور تمام مسافر اپنی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان بھی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جس کا عزم و حوصلہ اس کے علاوہ اس کے آس پاس بسنے والے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں لوگ آتے ہیں اور ایک مدت کے بعد چلے جاتے ہیں بالکل ایسے ہی ریل گاڑی میں مسافر آتے ہیں اور سفر مکمل ہوتے ہی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں اور ریل گاڑی کو اکیلا کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ریل گاڑی اپنے فرائض کو ایمانداری سے پورا کرتی ہے، بالکل اسی طرح انسان کو بھی اہنے فرائض پورے کرنے چاہیے اور لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ اس شعر میں شاعر کرتے ہیں کہ چاہے دن ہو یا رات ریل گاڑی اپنی منزل کی جانب رواں دواں رہتی ہے۔ شعر کہتے ہیں کہ یہ ریل گاڑی کا قصر ظلمت پر مسلسل تیر بھی برساتی رہتی ہے اور رات کی تاریکی میں ہونے والے ظلموں کی بھی دھجیاں اڑاتی ہے۔

Advertisement
ایک اک حرکت سے انداز بغاوت آشکار
عظمت انسانیت کے زمزمے گاتی ہوئی

اس نظم میں شاعر ریل کے سفر کی تصویر کشی کررہے ہیں۔ یہ سفر رات کے اندھیرے میں ہورہا ہے۔ شاعر اس نظم میں ریل گاڑی کے عزم کو بیان کررہے ہیں کہ جب ایک ریل گاڑی اپنے سفر کی جانب گامزن ہوتی ہے تو راستے میں آئی ہر مصیبت اور رکاوٹ کو پیچھے دھکیل دیتی ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں ریل گاڑی کا یہ عزم و حوصلہ صرف ریل گاڑی کو نہیں بلکہ اس کے مسافروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے اور تمام مسافر اپنی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان بھی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جس کا عزم و حوصلہ اس کے علاوہ اس کے آس پاس بسنے والے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں لوگ آتے ہیں اور ایک مدت کے بعد چلے جاتے ہیں بالکل ایسے ہی ریل گاڑی میں مسافر آتے ہیں اور سفر مکمل ہوتے ہی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں اور ریل گاڑی کو اکیلا کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ریل گاڑی اپنے فرائض کو ایمانداری سے پورا کرتی ہے، بالکل اسی طرح انسان کو بھی اہنے فرائض پورے کرنے چاہیے اور لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ریل گاڑی کی ایک ایک حرکت سے اس کے بغاوت کے انداز آشکار ہوتے ہیں، لیکن وہ انسانیت کی عظمت کے گیت گاتی ہے۔

سوال۲ : شاعر نے رات میں چلتی ریل کا کیا نقشہ کھینچا ہے؟

جواب : شاعر نے رات میں چلتی ریل کا یہ نقشہ کھینچا ہے کہ وہ گنگناتی ہوئی رات کے اندھیرے کو چیرتی ہوئی، بغیر کسی خوف کے اپنے سفر کو جاری رکھے ہوئے ہے اور اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے۔

سوال نمبر ۳ : اس نظم میں جن اسمائے اصوات کا ذکر کیا گیا ہے وہ لکھیے۔

لہراتی
کتراتی
منڈلاتی
دکھلاتی
پکاتی
آتی
کھاتی
گاتی
کھیلتی
برساتی
بتلاتی
چمکاتی
دوڑاتی

سوال۴ : اس نظم میں سے تین خوب صورت تشبیہیں تلاش کیجیے اور وجہ شبہ (وجہ تشبیہ) بیان کیجیے۔

تشبیہ : وجہ تشبیہ
ریل گاڑی اور انسان : دونوں اپنا سفر جاری
رکھتے ہیں۔
مسافر اور انسان کے : دونوں منزل آتے ہی الگ
آس پاس رہنے والے لوگ ہوجاتے ہیں۔
ریل گاڑی اور : ہمیشہ قائم رہتا ہے۔
انسان کا حوصلہ

سوال ۵ : اس نظم کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیے۔

اس نظم میں شاعر ریل کے سفر کی تصویر کشی کررہے ہیں۔ یہ سفر رات کے اندھیرے میں ہورہا ہے۔ شاعر اس نظم میں ریل گاڑی کے عزم کو بیان کررہے ہیں کہ جب ایک ریل گاڑی اپنے سفر کی جانب گامزن ہوتی ہے تو راستے میں آئی ہر مصیبت اور رکاوٹ کو پیچھے دھکیل دیتی ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں ریل گاڑی کا یہ عزم و حوصلہ صرف ریل گاڑی کو نہیں بلکہ اس کے مسافروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے اور تمام مسافر اپنی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان بھی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جس کا عزم و حوصلہ اس کے علاوہ اس کے آس پاس بسنے والے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں لوگ آتے ہیں اور ایک مدت کے بعد چلے جاتے ہیں بالکل ایسے ہی ریل گاڑی میں مسافر آتے ہیں اور سفر مکمل ہوتے ہی اپنی منزل پر اتر جاتے ہیں اور ریل گاڑی کو اکیلا کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ریل گاڑی اپنے فرائض کو ایمانداری سے پورا کرتی ہے، بالکل اسی طرح انسان کو بھی اہنے فرائض پورے کرنے چاہیے اور لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔

Advertisement

Advertisement