تعارف:☜

شیخ المشائخ طریقت و امام الائمہ اندر شریعت حضرت ابوالقاسم جنید بن محمد جنید بغدادی قدس سرہ کا کمال یہ ہے کہ اہل ظاہر اور اہل باطن دونوں کے مقبول تھے۔آپؒ تمام علوم و فنون اسلامیہ میں کمال کا درجہ رکھتے تھے اور اصول و فرع میں مفتی تھے۔آپؒ حضرت سفیان ثوریؒ کے احباب میں ہیں۔آپؒ کے اقوال اس قدر بلند اور احوال اس قدر  کامل تھے کہ آپؒ کی امامت پر تمام اہل طریقت متفق ہیں۔اور کسی مدعی و متصرف کو آپؒ سے اعراض نہیں ہے۔

آپؒ حضرت شیخ سری سقطیؒ کے بھانجے اور مرید تھے۔ایک مرتبہ کسی نے حضرت سری سقطؒی سے کسی نے پوچھا کہ کسی مرید کا مرتبہ بھی اسکے شیخ سے بلند ہو سکتا ہے۔آپؒ نے فرمایا کہ اسکا جواب جنیدؒ ہے۔اسکا مقام میرے مقام سے بلند ہے لیکن حضرت سری سقطیؒ کا یہ قول تواضع کی بناء پر ہے۔اور اسمیں بڑی حکمت پوشیدہ ہے۔وہ یہ کہ آپؒ اہل طریقت پر واضح کرنا چاہتے تھے کہ اپنے مقام سے اوپر کوئی نہیں دیکھ سکتا کیونکہ نظر ہمیشہ نیچے کے مقام پر  پڑتی ہے۔اور اوپر جا ہی نہیں سکتی۔کیونکہ انہوں نے حضرت جنیدؒ کا مرتبہ دیکھا تو انہوں نے لامحالا نیچے دیکھا۔اگر چہ انکساری کی وجہ سے اوپر کا لفظ استعمال نہیں کیا۔

جنیدؒ کو نبویﷺ نصیحت:☜

ایک مرتبہ آپؒ کو خواب میں نبی کریمﷺ کی زیارت ہوئی۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے جنیدؒ واعظ فرمایا کر کیونکہ تیرے کلام کو خدا تعالی نے خلق کی نجات کا ذریعہ بنایا ہے۔جب آپؒ بیدار ہوئے تو دل میں خیال آیا کہ شائد میرا مرتبہ میرے شیخ سے زیادہ بلند ہے۔کیونکہ نبی کریمﷺ  نے مجھے براہ راست حکم دیا ہے۔جب صبح ہوئی تو حضرت سری سقطی نے ایک شخص کو بھیج کر یہ کہلا بھیجا کہ تم نے مریدوں کی بات نہیں مانی، اور نہ میری اور نہ مشائخ بغداد کی، اور نہ میری بات مانی کہ پند و نصیحت کیا کرو۔ فرمایا اب جب  کہ تجھے رسول خداء ﷺ کا فرمان ملا ہے تو حکم کی تعمیل کر۔

حضرت جنید بغدادیؒ فرماتے ہیں کہ یہ سن کر میرے دل سے وہ وہم دور ہو گیا کہ (میرا مرتبہ میرے شیخ سے بلند ہے) اور مجھے یہ علم بھی ہو گیا کہ حضرت سر سقطیؒ کو میرے تمام ظاہری باطنی حالات کا علم ہے۔ ان کا درجہ میرے درجہ سے اونچا ہے اسلیے ان کو میرے اسرار و رموز کا علم ہے۔ اور مجھے ان کے اسرار و رموز کا علم نہیں۔اسکے بعد آپؒ نے سر سقطیؒ کے پاس جاکر معافی مانگی۔ اور ان سے دریافت کیا کہ آپؒ کو کیسے معلوم ہوا کہ مجھے  رسولﷺ کی جانب سے یہ حکم ملا ہے؟ آپؒ نے جواب دیا کہ مجھے خواب میں خداوند تعالٰی ﷻ کی زیارت ہوئی۔ اور فرمایا رب ﷻ نے کہ میں نے محمد ﷺ کو حکم دیا ہے کہ جنید کے پاس جا کر وعظ  و نصیحت کا حکم دیں۔تاکہ اہل بغداد کی مراد پوری ہو۔اس سے یہ بات ظاھر ہے کہ پیروں کو ہر حال میں مریدوں کے حالات کا علم ہوتا ہے۔

اولیاء اکرام  پر انبیاءعليھم الصلاة والسلام کی فضیلت:☜

حضرت جنیدؒ کے اقوال بہت بلند اور رموز بہت لطیف ہیں۔آپؒ فرماتے ہیں کہ۔۔۔۔”کلام انبیاء نباء من الحضور و کلام الصدیقین اشارات عن المشاہدہ” انبیاء عليھم الصلاة والسلام کا کلام حق تعالٰی کے حضور کی خبریں ہیں۔اور اولیاء کا کلام انکے مشاہدات سے متعلق اشارات ہوتے ہیں۔صحیح خبر وہ ہے جو نظر سے دیکھ کر دی جائے اور مشاہدات کا تعلق نظر سے نہیں بلکہ فکر ( یعنی سوچ وچار اور تاویلات سے ہوتا ہےٓ)۔ خبر کا تعلق عین(حاضری) سے ہے اور اشارہ کا تعلق غیر حاضری سے ہے۔ یعنی جو حکم حضوری یا حاضری کے وقت ملتا ہے وہ اس سے زیادہ صحیح اور قوی ہوتا ہے جو غیر حاضری میں ملتا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ صدیقین کے مراتب کی انتہاء ۔۔۔۔انبیاء علیھم الصلوة والسلام کے مراتب کی ابتداء ہے۔

آپؒ کی خواہش:☜

آپؒ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے دل میں  ابلیس کو دیکھنے کی خواہش پیداء ہوئی۔ ایک دن میں مسجد کے دروازے پر کھڑا تھا کہ دور سے ایک بوڑھے کو آتا دیکھا۔ جب وہ قریب آیا تو میرے دل میں وحشت سی ہونے لگی۔ آپؒ فرماتے ہیں کہ میں نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو کہ میری آنکھ وحشت کی وجہ سے تجھے نہیں دیکھ سکتی؟؟؟ اور میرا دل تیری ہیبت برداشت نہیں کر سکتا؟؟؟ اس نے کہا کہ میں وہی ہوں جسے دیکھنے کی آپؒ کو خواہش ہوئی۔ آپؒ نے فرمایا کہ اے ملعون کس چیز نے تجھے آدم کو سجدہ کرنے سے باز رکھا؟ اس نے کہا جنیدؒ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ میں غیر خدا کو سجدہ کرتا؟؟؟؟

آپؒ فرماتے ہیں کہ یہ سن کر مجھے حیرت ہوئی لیکن عرش سے آواز آئی کہ اے جنیدؒ اس سے کہو کہ تم  جھوٹ بولتے ہو کیونکہ اگر تو بندۂ خدا ہوتا تو حکم خدا وندی سے کبھی اعراض نہیں کرتا۔ اور حکم عدولی میں تقرب خداوندی نہ تلاش کرتا۔جب اس نے دل سے یہ بات سنی تو کہا کہ اے جنیدؒ تونے مجھے جلا دیا۔ یہ کہہ کر وہ غیب ہو گیا۔۔۔۔یہ دلیل ہے حضرت جنیدؒ کی حفاظت و عصمت کی کیونکہ رب ﷻ اپنے اولیاء کی ہر حال میں شیطان کے فریب سے حفاظت کرتا ہے۔

ایک مرتبہ آپؒ کے ایک مرید کے دل میں حضرت شیخ کے متعلق شکایت پیدا ہو گئی اور اس نے سمجھا کہ میں بلند مقام پر پہنچ گیا ہوں۔اور ایک دن آپؒ کی آزمائش کی خاطر آیا اور ایک سوال کیا۔ حضرت جنیدؒ کو اس کے دل کا حال معلوم ہو گیا۔ آپؒ نے اس سے پوچھا کہ تم اپنے سوال کا جواب زبانی چاہتے ہو یا معنوی؟؟؟ اس نے کہا کہ مجھے دونوں جواب درکار ہیں۔زبانی جواب یہ ہے کہ پہلے تم اپنا امتحان کر لیتے تو میرا امتحان لینے کی ضرورت نہ ہوتی اور تم یہاں نہ آتے۔ اور معنوی جواب یہ کہ میں نے تجھے ولایت سے معزول کیا۔

یہ سنتے ہی اسکا چہرا سیاہ ہو گیا اور اس نے کہا کہ حضور میرا سکونِ دل برباد ہو گیا میں معافی کا خواستگار ہوں۔ اسکے بعد حضرت شیخ رحمةاللہ علیہ نے فرمایا کہ تجھے پتہ نہیں کہ اولیاء اللہ کے قلوب خزینہ اسرار ہوتے ہیں اور تم انکے زخم کی طاقت نہیں رکھتے۔ آپؒ نے اسے معاف کیا اور اس پر ایک پھونک ماری جس سے کھوئی ہوئی عظمت واپس ملی اور وہ آئیندہ کے لئے مشائخ کی آزمائش سے تائب ہوا۔

Advertisements