تعارف

آپ جلیل القدر تابعین اور چالیس پیشواؤں میں سے ہیں۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ اویس احسان و مہربانی کے اعتبار سے بہترین تابعین میں سے ہیں اور جس کی تعریف رسول اکرم ﷺ فرما دیں اسکی دوسرا کوئی کیا کر سکتا ہے۔بعض اوقات جانب یمن رخ کرکے نبی کریمﷺ فرمایا کرتے تھے کہ میں یمن کی جانب سے رحمت کی ہوا آتی ہوئی پاتا ہوں۔

توصیف

حضور اکرم فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ستر ہزار ملائکہ کے آگے جو اویس قرنی کے مانند ہونگے اویس کو جنت میں داخل کیا جائگا تاکہ مخلوق انکی شناخت نہ کر سکےسواۓ اس شخص کے جس کو اللہ ان کے دیدار سے مشرف کرنا چاہے اسلیے کہ آپ نے خلوت نشین ہوکر مخلوق سے رو پوشی اختیار کی محض اس لیے عبادت و ریاضت اختیار کی دنیا آپکو بر گزیدہ تصور نہ کرے اور اسی مصلحت کے پیش نظر قیامت کے دن آپکی پردہ داری قائم رکھی جائیگی۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں ایک ایسا شخص ہے جسکی شفاعت سے قبیلہ ربیعہ اور مضر کی بھیڑوں کے بالوں کے برابر گنہگاروں کو بخشا جائیگا۔ جب صحابہ اکرام نے پوچھا کہ وہ کون شخص ہے اور کہاں مقیم ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کا پاک بندہ ہے۔ پھر صحابہ کے اصرار کے بعد فرمایا کہ وہ اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔

چشم باطن سے زیارت

جب صحابہ نے پوچھا کہ کیا وہ کبھی آپکی خدمت میں حاضر ہوۓ ہیں ؟آپ ﷺ نے فرمایا کبھی نہیں لیکن چشم ظاہری کے بجاے چشم باطنی سے اسکو میرے دیدار کی سعادت حاصل ہے اور مجھ تک نہ پہنچنے کی دو وجوہات ہیں۔ اول غلبۂ حال ،دوم تعظیم شریعت کیونکہ اسکی والدہ مؤمنہ بھی ہیں اور ضعیف اور نابینا بھی اور اویس شتربانی﴿اونٹ ہانکنے والا﴾ کے ذریعہ ان کے لیے معاش حاصل کرتا ہے۔ پھر جب صحابہ نے دریافت کیا کہ کیا ہم ان سےشرف نیاز﴿ ملاقات کا شرف﴾ حاصل کر سکتے ہیں، تو حضور ﷺ نے فرمایا نہیں، البتہ عمر و علی سے ان کی ملاقات ہوگی اور ان کی شناخت یہ ہے کہ پورے جسم پر بال ہیں اور ہتھیلی کے باۓ پہلو پر ایک درہم کے برابر سفید رنگ کا داغ ہے۔ لیکن وہ برص کا داغ نہیں ہے۔ لہذا جب ان سے ملاقات ہو تو میرا سلام پہنچانے کے بعد میری امت کے لیے دعا کرنے کا پیغام بھی دینا۔ پھر جب صحابہ نے عرض کیا کہ آپ کے پیراہن ﴿پوشاک﴾ کا حقدار کون ہیں؟ تو فرمایا اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ۔

مقام تابعی اور اشتیاق صحابہ

دور خلافت راشدہ میں جب حضرت عمر اور حضرت علی مقام کوفہ پہنچے اور اہلِ یمن سے ان کا پتہ معلوم کیا تو کسی نے ان سے کہا کہ میں ان سے پوری طرح واقف نہیں ہوں البتہ ایک دیوانہ آبادی سے دور عرفہ کی وادی میں چرایا کرتا ہے اور خشک روٹی اسکی غذا ہے۔ لوگوں کو ہنستا ہوا دیکھ کر خود روتا ہے اور روتے ہوئے لوگوں کو دیکھ کر خود ہنستا ہے۔ چناچہ حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ حضرت اویس نماز میں مشغول ہیں اور ملائکہ ان کے اونٹ چرا رہے ہیں۔ فراغتِ نماز کے بعد جب ان کا نام دریافت کیا تو جواب دیا کہ عبد اللہ یعنی اللہ کا بندہ۔ حضرت عمر رضی اللہ نے کہا اپنا اصلی نام بتاے؟ ان کا نام آپ نے جواب دیا کہ اویس ہے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ نے فرمایا کہ اپنا ہاتھ دکھایئے ؟انہوں نے جب ہاتھ دکھایا تو حضور اکرم کی بیان کردہ نشانی کو دیکھ کر حضرت عمر نے دست بوسی کی اور حضور اکرمﷺ کا لباس مبارک پیش کرتے ہوئے سلام پہنچا کر امت کے حق میں دعا کرنے کا پیغام بھی دیا۔

یہ سن کر اویس قرنی رحمۃ االلہ علیہ نے عرض کیا کہ آپ خوب اچھی طرح دیکھ بھال فرما لیں، شائد وہ کوئی دوسرا فرد ہو جسکے متعلق حضور ﷺ نے نشاندہی فرمائی ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا جسکی نشاندہی فرمائی ہے وہ آپ میں موجود ہیں۔ یہ سن کر اویس قرنی نے عرض کیا اے عمر تمہاری دعا مجھ سے زیادہ کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا میں تو دعا کرتا ہی رہتا ہوں آپ کو حضور کی وصیت پوری کرنی چاہیے۔ چناچہ حضرت اویس نے حضور کا لباس مبارک کچھ فاصلے پر لے جاکر اللہ سے دعا کی کہ "یا رب جب تک تو میری سفارش پر امت محمدی کی مغفرت نہ کر دے میں سرکار دوعالم کا لباس ہر گز نہیں پہنوں گا، کیونکہ تیرے نبی نے اپنی امت کو میرے حوالے کیا ہے۔ چناچہ غیب کی آواز آئی کہ تیری سفارش پر افراد کی مغفرت کر دی۔ آپ اسی طرح مشغول دعا تھے کہ حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہما آپ کے سامنے پہنچ گئے اور جب آپ نے سوال کیا کہ آپ دونوں حضرات کیوں آ گئے؟ میں تو جب تک پوری امت کی مغفرت نہ کرا لیتا اس وقت تک یہ لباس کبھی نہ پہنتا۔

اتباع نبوی میں دندان مبارک کا توڑنا

حضرت اویس نے حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہم سے کہا کہ اگر آپ رسول کریم ﷺ کے دوستوں میں سے ہیں تو یہ بتائیے کہ جنگ احد میں آپ ﷺ کا کونسا دانت مبارک شہید ہوا تھا؟ اور آپ نے اتباع نبوی میں اپنے تمام دانت کیوں نہ توڑ دئیے؟ یہ کہہ کر آپ نے تمام ٹوٹے ہوئے دانت دکھا کر کہا کہ جب دانت مبارک شہید ہوا ،تو میں نے اپنا ایک دانت توڑ ڈالا،پھر خیال آیا کہ شائد کوئی دوسرا دانت مبارک شہید ہو؟ اسی طرح ایک کرکے تمام دانت توڑ ڈالے،اس وقت مجھے سکون نصیب ہوا۔ یہ دیکھ کر دونوں صحابہ پر رقت طاری ہو گئی اور اندازا ہو گیا کہ پاس ادب کا یہی حق ہوتا ہے۔ اگر چہ حضرت اویس دیدار نبوی ﷺ سے مشرف نہ ہو سکے لیکن اتباع رسالت کا مکمل حق اداء کرکے دنیا کو درس ادب دیتے ہوۓ رخصت ہو گئے۔

حضرت اویس قرنیؒ کی دعا

جب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت اویس رحمتہ اللہ علیہ سے اپنے لیے دعا کی درخواست کی تو آپ نے فرمایا کہ میں نماز کے بعد التحیات میں یہ دعا کرتا ہوں "اللھم اغفر للمؤمنین والمؤمنات” اے اللہ تمام مؤمن مرد اور عورتوں کو بخش دے، اگر تم ایمان کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو تمہیں سرخرؤئی حاصل ہوگی ورنہ میری دعا بے فائدہ ہو کر رہ جائیگی۔

وصیت

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جب وصیت کرنے کے لیے فرمایا تو کہا کہ اے عمرتم خدا شناش ہو ،تو اس سے زیادہ افضل کوئی وصیت نہیں کہ تم خدا کے سواء کسی دوسرے کو نہ پہچانو، پھر ہوچھا کہ اے عمر کیا اللہ تعالی تم کو پہچانتا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ حضرت اویس نے فرمایا کہ بس خدا کے علاوہ تمہیں کوئی نہ پہچانے یہی تمہارے لیے افضل ہے۔

وصال

حبیب الیسیر کے حوالہ سے مجالس المؤمنین میں رقم ہے کہ ایک معتبر روایت بیان کی جاتی ہے کہ ایک روز حضرت اویس قرنی رحمتہ اللہ کو جب معلوم ہوا کہ اس سپاہ کے طبل کی آواز ہے جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سے لڑنے جا رہا ہے۔ تو آپ نے فرمایا کہ میرے نزدیک امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی اتباع اور پیروی سے بڑھ کر کوئی عبادت ہیں اور یہ کہتے ہوئے دوڑے اور حضرت امیر کی متابعت رہ کو صفین کے کسی معرکہ میں لڑتے ہوئے جام شہادت نوش فرما کر جنت کو ہمیشہ ہمیش کے لیے اپنا مسکن بنا لیا۔

Advertisements