تعارف:☜

آپؒ شریعت و طریقت میں کامل اور علوم رسالت کے وارث تھے۔جسکی وجہ سے عوام نے آپؒ  کوامیر المؤمنین کا خطاب دیا تھا۔ اور علوم ظاہری و باطنی پر مکمل دسترس حاصل تھی۔ بہت سے مشائخین آپؒ کی صحبت سے فیض یاب  ہوئے۔

ایک مرتبہ حضرت ابرھیم نے آپؒ کو سماعت حدیث کی دعوت دی۔ اور جب آپؒ وہاں پہنچ گئے تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے تو آپؒ کے اخلاق کا امتحان مقصود تھا۔در حقیقت کسی کام کی غرض سے نہیں بلایا تھا۔

آپؒ پیدائشی متقی تھے۔ حتی کہ آپؒ کی والدہ نے ایام حمل میں ہمسائے کی کوئی چیز بنا اجازت منھ میں رکھ لی تو     آپؒ نے پیٹ میں ہی تڑپنا شروع کر دیا۔اور جب تک انہوں نے ہمسائے سے معذرت طلب نہ کر لی تب تک آپؒ کا اضطراب ختم نہ ہوا۔

حالات و مناقب

آپؒ کے تائب ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ آپؒ نے مسجد داخل ہوتے وقت اپنا الٹا پیر مسجد میں رکھ دیا جسکے بعد یہ نداء آئی کہ اے ثوری!!!! مسجد کے آداب میں یہ گستاخی اچھی نہیں۔بس اسی دن سے آپؒ کا نام ثوری پڑ گیا۔بہر حال یہ نداء سن کرآپؒ پر  ایسے خوف طاری ہوا کہ غش کھا کر گر گئے۔اور ہوش آنے کے بعد اپنے منھ پر طمانچہ مارتے ہوۓ کہنے لگے کہ بے ادبی کی  ایسی سزاء ملی کہ میرا نام ہی دفتر  انسانیت سے خارج ہو گیا۔ لہذا اے نفس!!!! اب ایسی گستاخی کی جرٵت نہ کرنا۔

ایک مرتبہ کسی کے کھیت میں آپؒ کا قدم پڑ گیا تو غیب سے نداء آئی کہ اے ثوری دیکھ بھال کر قدم رکھ۔ قابل غور بات ہے کہ جس پر خدا کا اتنا بڑا کرم ہو کہ صرف ایک قدم غلط پڑنے پر فوراً توبیخ  فرمائی گئی تو اس کی باطنی کیفیت کیا ہوگی؟

آپؒ فرماتے تھے کہ میں نے حضور اکرمﷺ سے جس قدر بھی اقوال سنے ان سب پر عمل پیرا رہا۔ اور آپؒ کا یہ قول ہے کہ محدثین کو زکوة اداء کرنی چاہیئے یعنی دوسو احادیث میں سے کم از کم پانچ پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔

ایک مرتبہ کسی نے دوران نماز اپنی ڈاڑھی پر ہاتھ پھیر لیا تو آپؒ نے فرمایا کہ ایسی نماز قطعی بے حقیقت ہے اور قیامت کے دن گیند کی طرح تیرے منھ پر مار دی جائیگی۔ خلیفہ نے جھڑک کر کہا کہ حق گوئی میں خاموشی کیسی۔؟ یہ سنتے ہی خلیفہ نے حکم دے دیا کہ اسے فانسی دے دو اور دوسرے دن ٹھیک پھانسی کے وقت ایک بزرگ نے آپؒ سفیان بن عیینہ کے زانوں پر سر رکھے ہوے پیر پھیلا کر آنکھیں بند کیئے ہوۓ لیٹے تھے۔ لوگوں نے کہا کہ فانسی کا وقت قریب ہے آپؒ نے فرمایا کہ مجھے اسکا خوف نہیں ہے۔لیکن حق گوئی سے کبھی باز نہ آؤنگا۔ پھر اللہﷻ سے عرض کیا کہ اے اللہﷻ خلیفہ مجھے بنا قصور  سزاء دینا چاہتا ہے۔ اس لیے اسکو بدلا ملنا چاہیئے۔آپؒ نے دعاء کی ہی تھی کہ زمین  میں دھماکہ کے ساتھ شق ہوئی، اور خلیفہ وزراء سمیت زمین میں دھنستا چلا گیا۔ پھر لوگوں نے عرض کیا کہ اتنی پر زود و اثر دعاء ہم نے نہیں دیکھی۔ تو آپؒ نے فرمایا کہ میرے اظہار حق کی وجہ سے دعاء زود و اثر بن گئی۔ پھر جب دوسرا خلیفہ پہلے خلیفہ کے ہم مقام ہوا تو آپؒ کا مرید بن کر رہا۔

ایک مرتبہ آپؒ بیمار ہوئے تو خلیفہ وقت نے آپؒ کے علاج و معلجہ کے لیے ایک حکیم کو بھیجا وہ حکیم مجوسی تھا۔ اس نے آپؒ کے قارورے کی جانچ کرنے کے بعد بتایا کہ آپؒ کا جگر خوف الہی سے پاش پاش ہو چکا ہے۔ اور اسکے ریزے پیشاب میں آ رہیں ہیں۔ پھر اس حکیم نے کہا کہ جس مذہب میں ایسے ایسے افراد ہوں وہ  مذہب باطل نہیں ہو سکتا۔یہ کہہ کر وہ خلوص نیت کے ساتھ مسلمان ہو گیا۔لیکن جب یہ خبر خلیفہ وقت کے پاس پہنچی تو اس نے کہا کہ میں نے تو طبیب کو مریض کے پاس بھیجا تھا ۔لیکن اب محسوس ہوا کہ مرض طبیب تک پہنچ گیا۔

کسی نے اشرفیوں کی تھیلیاں ارسال کرتے ہوۓ آپؒ کی خدمت میں یہ پیغام بھیجا کہ چونکہ آپؒ میرے والد کے دوست ہیں اور اب وہ فوت ہو چکے ہیں لیکن انکی پاکیزہ کمائی میں سے یہ تھیلیاں ارسال خدمت ہیں۔آپؒ ان کو اپنے اخراجات کے لیے قبول فرما لیں۔ لیکن آپؒ نے وہ تھیلیاں واپس کرتے ہوئے یہ پیغام بھیجا کہ تمہارے والد سے میرے تعلقات صرف دین ہی سے متعلق تھے نہ کی دنیا کے لئے۔ اسکی اطلاع جب آپؒ کے صاحبزادے کو ہوئی تو اس نے کہا کہ میں نادار اور عیال دار ہوں۔ اگر آپؒ یہ رقم مجھے دے دیتے تو میرے بہت سے کام نکل جاتے۔ آپؒ نے فرمایا کہ میں دینی تعلقات کو دنیاوی معاوضہ میں فروخت نہیں کر سکتا۔البتہ اگر وہ شخص خود تم کو دے دے تو تم خرچ کر سکتے ہو۔

آپؒ کسی سے کچھ نہیں لیتے تھے لیکن ایک شخص نے ایک مرتبہ آپؒ کی خدمت میں تحفہ پیش کیا تو آپؒ نے قبول نہیں کیا اور جب اس شخص نے کہا کہ آپؒ نے تو مجھے کبھی کوئی نصحت تک نہ کی جو یہ سمجھ لیا جاۓ کہ میں اسکا معاوضہ دے رہا ہوں۔فرمایا کہ میں نے تمہارے دوسرے مسلمان بھائیوں کو تو راستہ دکھایا ہے۔اگر میں تمہارا تحفہ قبول کرتا ہوں تو میرے دل میں تمہاری رغبت پیداء ہو جائیگی اور اسی کا نام ہے دنیا لہذا میں خدا کے سواء کسی اور کی جانب نہیں ہونا چاہتا۔

آپؒ اپنے ایک ہمساۓ کے جنازے میں شریک ہوئے تو اس وقت سب مرحوم کی تعریفیں کر رہے تھے۔تو آپؒ نے فرمایا کہ وہ تو منافق تھا اگر مجھے پہلے اسکا علم ہوتا تو میں جنازے میں کبھی شریک نہ ہوتا اور اسکی منافقت کی دلیل یہ ہےکہ اہل دنیا اسکی تعریفیں کر رہے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ اسکا اہل دنیا سے بہت گہرا تعلق تھا اور یہی چیز اسکی منافقت پر دلالت کرتی ہے۔

ایک مرتبہ آپؒ نے کرتہ  الٹا پہن لیا جب لوگوں نے سیدھا کرنے کے لئے کہا تو آپؒ نے فرمایا کہ میں نے تو خدا کے لئے پہنا ہے پھر مخلوق کے لیے سیدھا کیوں کروں۔

ایک نو جوان نے حج سے محروم رہ جانے پر ایک سرد آہ کھینچی۔آپؒ نے فرمایا کہ میں نے چار حج کیے ہیں اور میں ان چار حج کا ثواب تجھے اس شرط پر دینے کے لیے تیار ہوں کہ تو مجھے اپنی آہ کا اجر دے دے۔چناچہ جب  اس نے شرط منظور کر لی تو  آپؒ نے خندہ پیشانی سے اپنے تمام حج کا ثواب اس کے نام منتقل کر دیا۔پھر آپؒ نے خود دیکھا کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ تونے اک آہ خرید کر جو نفع حاصل کیا ہے۔ اگر اس نفع کو اہل عرفات پر تقسیم کیا جائے تو سب مالا مال ہو جائیں۔

کھانے کے وقت ایک کتا آکر کھڑا ہو گیا تو آپؒ نے اسے روٹی ڈال دی۔ پھر کسی نے سوال کیا کہ آپؒ اپنی بیوی بچوں کے ہمراہ کیوں نہیں کھاتے؟فرمایا کہ وہ سب خدا کی عبادت میں حارج ہو جاتے ہیں۔لیکن یہ کتا میری حفاظت کرتا ہے جسکی وجہ سے میں پر سکون  ہو کر یاد الہی میں مشغول رہتا ہوں۔

ارشادات :☜

آپؒ فرمایا کرتے تھے کہ عارفین کو معرفت اور عابدین کو قربت  حکماء کو حکمت  اللہﷻ ہی عطاء کرتاہے۔  پھر آپؒ نے فرمایا کہ گریہ وزاری کی بھی دس قسمیں ہیں۔جن میں نو حصے ریاء سے بھر پور ہیں اور ایک حصہ خشیت الہی سے لبریز ہوتا ہے۔ پھر فرمایا کہ نیک  اعمال کرنے والے کے اعمال کو ملائکہ نیک اعمال کے دفتر میں درج کر دیتے ہیں۔اور جب کوئی ان اعمال پر فخر کرنے لگتا ہے۔تو پھر انہی اعمال کو ریاء کے دفتر میں درج کر دیا جاتا ہے۔ پھر فرمایا کہ سلاطین و امراء سے منسلک رہنے والا عابد بھی ریاء کار ہوتا ہے۔

زاہد کی شان یہ ہےکہ نیک کام انجام دیکر ان پر فخر نہ کرے اور اپنے زہد کا ڈھنڈورا نہ پیٹے۔ اور زہد کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ موٹا اناج اور بوسیدہ لباس استعمال کرتا رہے۔اور دنیا سے دل نہ لگاۓ اور  امیدوں میں اضافہ نہ کرے۔

پھر فرمایا کہ گوشہ نشین کو آخرت میں نجات مل جاتی ہے۔ پھر کسی نے سوال کیا کہ گوشہ نشینی کرکے گزر اوقات کیسے کرے؟ فرمایا کہ خدا سے خوف زدہ رہنے والوں کو گزر بسر کا غم نہیں رہتا۔ فرمایا کہ لوگوں سے پوشیدہ رہنے والا سب سے بہتر ہے کہ اسلاف کا طریقہ یہی تھا کہ عظمت کے بجاۓ لذت کو پسند کرتے تھے۔

فرمایا کہ اہل دنیا کا سونا بیداری سے اس لیے افضل ہے کہ وہ نیند کی حالت میں دنیا سے دور رہتے ہیں۔ فرمایا کہ زاہدوں کی صحبت اختیار کرنے والا بادشاہ اس زاہد سے بہتر ہے جسکو بادشاہ کا قرب حاصل ہو۔فرمایا دنیا میں پانچ قسم کے لوگ دنیا میں ہر دل عزیز ہوتے ہیں۔
اول زاہد عالم۔
دوم فقیہ صوفی
سوم متوضع تونگر
چہارم شاکر درویش
پنجم شریف سخی۔

پھر فرمایا کہ اھل یقین تکلیف کو منجانب اللہ تسلیم کرتے ہوۓ کبھی ناشکری نہیں کرتے۔ فرمایا کہ ہم انہیں محبوب تصور کرتے ہیں جو زخم پہنچاتے ہیں۔ فرمایا کہ اگر تمہیں کوئی اچھا کہے تو اسے ناگواری کے ساتھ ٹھکرا دو۔

کسی نے یقین کامفہوم پوچھا تو آپؒ نے فرمایا کہ قلبی آزاد کا نام یقین ہے۔ اور اہل یقین معرفت تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ اور یقین کا مفہوم یہ بھی ہے کہ ہر دکھ تکلیف کو منجانب اللہﷻ ہی سمجھنا چاہیئے۔

لوگوں نے آپؒ سے سوال کیا کہ حضورﷺ نے جو یہ فرمایا کہ زیادہ گوشت خوروں کو اللہﷻ دشمن تصورکرتا ہے، آخر اس میں کیا بھید ہے؟ آپؒ نے فرمایا کہ یہاں گوشت سے مراد غیبت ہے۔کیونکہ مسلمان کی غیبت کرنا ایسا ہی ہے جیسا کسی نے مردار کا گوشت کھایا ہو۔اور اہل غیبت کو اللہﷻ دشمن تصور کرتا ہے۔

جب آپؒ کا کوئی ارادت مند سفر کا ارادہ کرتا تو آپؒ فرماتے کہ کہیں اگر  راہ میں موت نظر  پڑے تو میرے لیے لے آنا۔ اور مرتے دم رو کر فرمایا کہ میں موت کا بڑا خواہش مند تھا۔ لیکن آج معلوم ہوا کہ موت دنیا میں لاٹھی ٹیک کر سفر کرنے سے زیادہ دشوار ہے۔ یعنی خدا کے روبرو پیش ہونا آسان کام نہیں ہے۔ اور موت کا ذکر سن کر خوف کی وجہ سے بے ہوش ہو جاتے تھے اور لوگوں کو نصیحت فرماتے تھے کہ موت سے پہلے اسکا سامان مہیاء کر لو۔ لیکن جب موت کے وقت  آپؒ سے لوگوں نے فرمایا کہ آپؒ کو جنت مبارک ہو۔ تو فرمایا کہ اہل جنت تو اور لوگ ہیں ہماری وہاں تک رسائی کہاں!

موت سے قبل علالت:☜

جس وقت بصرہ میں آپؒ بیمار پڑے تو حاکم بصرہ نے آپؒ کو تلاش کرنے کا حکم دیا اور جب لوگ تلاشتے ہوۓ پہنچے تو آپؒ کو مویشیوں کے باندھنے کی جگہ پایا۔اور اس وقت آپؒ درد شکم اور پینچش کی وجہ سے اضطراب میں مبتلاء تھے۔لیکن ایسی حالت میں بھی ذکر الہی سے ایک پل کے لیے بھی غافل نہ ہوۓ تھے۔ اسی شب لوگوں نے دیکھا کہ آپؒ ساٹھ مرتبہ پاخانہ میں گئے اور ہر مرتبہ وضوء کرکے نماز میں مشغول ہو جاتے۔ تو لوگوں نے عرض کیا کہ ایسی حالت میں آپؒ بار  بار وضوء نہ کریں۔آپؒ نے فرمایا کہ میں وضوء اس لیے کر رہا ہوں کہ میں باوضوء مرنا چاہتا ہوں اور  خدا کے سامنے نجس  حالت میں نہ پہنچوں۔

وصال:☜

حضرے عبد اللہ مہدی فرماتے ہیں کہ میں موت کے وقت آپؒ کے پاس ہی تھا اور آپؒ نے فرمایا کہ میرا چہرا زمین پر رکھ دو کیونکہ اب وقت بالکل قریب ہے۔ چناچہ میں حکم کی تعمیل کرکے لوگوں کو اطلاع دینے کے لیے باہر نکلا اور دیکھا کہ ایک جم عفیر  (بڑا مجمع )ہے۔اور جب  میں نے لوگوں سے پوچھا کہ آپ لوگوں کو آپؒ کی نازک حالی کا علم کیسے ہوا۔؟ تو لوگوں نے فرمایا کہ ہمیں خواب میں یہ حکم ہوا ہے کہ سفیان ثوریؒ کی میت میں پہنچ جاؤ۔ چناچہ جس وقت لوگ اندر داخل ہوۓ تو آپؒ کی حالت بہت نازک ہوچکی تھی۔اور آپؒ نے تکیہ کے نیچے سے ایک ہزار  دینار کی تھیلی نکال کر فرمایا کہ اسکو فقراء میں تقسیم کر دو۔ اس وقت لوگوں کے قلب میں یہ وسوسہ پیدا ہوا۔کہ آپؒ دوسروں کو تو دولت جمع کوکرنے سے منع کرتے ہیں اور خود ایک ہزار دینار جمع کر لیے؟؟؟

لیکن آپؒ نے لوگوں کی نیت کا اندازہ کرتے ہوۓ فرمایا کہ ان دیناروں سے میں نے ایمان کا تحفظ کیا ہے۔ کیونکہ جب  ابلیس مجھ سے یہ پوچھتا تھا کہ اب تم کہاں سے کھاؤگے ؟ تو میں یہ جواب دیتا تھا کہ میرے پاس یہ دینار موجود ہیں۔ اور جب یہ سوال کرتا کہ تمہیں کفن کہاں سے نصیب ہوگا؟ تب بھی میں یہی جواب دیتا۔ حالانکہ مجھے ان دیناروں کی قطعی ضرورت نہ تھی۔ مگر وسوسہ شیطانی کے لیے جمع کر لیے تھے۔یہ فرما کر کلمہ پڑھا اور اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

Advertisements