حالات زندگی

ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری ۱۲ جون ۱۹۱۲ء کو رائے پور موجودہ چھتیس گڑھ سی پی انڈیا میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والدِ گرامی سید اکبر حسین علی گڑھ مسلم کالج اور طامس انجینئرنگ کالج رُڑکی سے فارغ التحصیل تھے۔ اُن کا تعلق محکمہ آبپاشی سے رہا، وہ سرکاری ملازمت کے سلسلے میں شہر شہر، گاؤں گاؤں پھرے۔ کبھی یہاں، کبھی وہاں۔

جب ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کچھ ہوشمند ہوئے تو انہیں مقامی پرائمری اسکول میں داخل کرایا گیا۔ مڈل پاس کرنے کے بعد انہوں نے گورنمنٹ ہائی اسکول رائے پور میں داخلہ لیا۔میٹرک میں امتیازی نمبر ملے تو انہیں کلکتہ بھیج دیا گیا۔ اس وقت کلکتہ برصغیر کے اہم شہروں میں نمایاں مقام رکھتا تھا۔ یہاں انہیں ودیا ساگر اسکول میں داخلہ ملا جہاں سے انٹر پاس کر کے وہ علی گڑھ چلے گئے۔ علیگڑھ سے ایم اے کی ڈگری لے کر بنارس گئے۔

انہوں نے بنارس یورنیورسٹی سے ساہتہ النکار کی ڈگری لی جو ایم اے کے مساوی سمجھی جاتی ہے۔ پھر پیرس سے ”ہند کی سماجی تاریخ” پر ڈاکٹریٹ کیا۔ وطن واپس آنے کے بعد کئی جگہ نوکریاں کیں، ہندوستانی سیاست کے اہم رکن راج گوپال اچاریہ کے پرائیوٹ سیکریٹری کی نوکری کی تو گاندھی، نہرو، مولانا ابو الکلام آزاد، سروجنی نائیڈو، مرار جی ڈیسائی سمیت تمام بڑے سیاستدانوں کے قریب آگئے۔ مگر جیسے ہی پاکستان آزاد ہوا انھوں نے تمام دوستی، عہدے وغیرہ پر لات ماری اور پاکستان آگئے۔ اب وہ نوجوان طالب علم نہیں معروف فنکار، قلمکار اور دانشور بن چکے تھے۔ لوگ انھیں احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

ادبی زندگی

ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کی پہلی اور اہم شناخت بطور افسانہ نویس ہے کہ اُن کا پہلا اُردو افسانہ ’’زبان بے زبانی‘‘ کے عنوان سے نیاز فتح پوری کے ’’نگار‘‘ میں چھپا۔ اردو افسانہ نگاری میں وہ خاص اہمیت کے حامل تھے۔

ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری دُنیائے ادب کی ایک نابغہ روزگار شخصیت تھے، وہ ہمہ جہت ادیب تھے، ماہرِ تعلیم تھے، نقاد تھے، محقق تھے، مترجم تھے، استاد تھے، تاریخ دان تھے، اُن کی اولین شناخت ایک افسانہ نگار کی تھی، مجموعی طور پر ایک سطر میں تعارف کرانا مقصود ہو تو کہا جا سکتا ہے کہ ’’وہ ایک ہمہ گیر، ہمہ جہت ادیب تھے اور ایک شخص نہیں، شخصیت تھے۔‘‘

قیام پاکستان کے بعد جب انجمن ترقی پسند مصنّفین سے سعادت حسن منٹو، محمد حسن عسکری اور ممتاز شیریں جیسے ادیبوں کو راندہ درگاہ کیا گیا تو ان میں اختر حسین رائے پوری کا نام بھی شامل تھا۔ اخترحسین رائے پوری کو اردو، ہندی، فارسی، بنگالی، گجراتی اور سنسکرت کے علاوہ انگریزی اور فرانسیسی پر بھی عبور حاصل تھا۔ انہوں نے بھرپور علمی و ادبی اور عملی زندگی کا باقاعدہ آغاز ۱۹۳۵ء سے کیا۔ یہی وہ سال ہے جس میں ادب میں ترقی پسند تحریک کا غلغلا بلند ہُوا۔

تراجم

ترقی پسند ادبی تحریک کے آغاز ( ۱۹۳۶) سے ایک سال قبل اخترحسین رائے پوری نے ہندی میں ایک مضمون ’ساہتیہ اور کرانتی‘ کے عنوان سے ہندی کے ماہنامے وشوامتر، کلکتہ، میں لکھا۔ مجنوں گورکھپوری کا مضمون ’ادب اور زندگی‘ ۱۹۳۸ کی تحریر ہے۔ انھوں نے ۱۹۳۹ میں کالی داس کی ’شکنتلا‘ کا ترجمہ سنسکرت سے اور قاضی نذرالاسلام کی نظموں کا ترجمہ ۱۹۴۰ میں’ بنگلہ سے ’پیام شباب‘ کے نام سے کیا (جو رسالہ ’نگار‘ میں شائع ہوئے تھے)۔ پرل ایس بک کے ناول ’گڈارتھ‘ کا ترجمہ ’پیاری زمین‘ (۱۹۴۱)کے نام سے کیا۔

روسی مصنف میکسم گورکی کی آپ بیتی ’میرا بچپن‘ (۱۹۴۱) ’روٹی کی تلاش‘ (۱۹۴۳) ’جوانی کے دن‘ (۱۹۴۵) ان کے اہم تراجم ہیں۔ مجلہ ’’اُردو‘‘ میں ’’ناخُدا‘‘ کے قلمی نام سے کتب و جرائد رسائل پر تبصرے بھی رقم کرتے رہے۔

افسانوی مجموعے

اُن کے مطبوعہ افسانوی مجموعوں میں ’’محبت اور نفرت‘‘ ’’زندگی کا میلہ‘‘ اور ’’ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کے افسانے’’ نامی تین کتب قابلِ قدر اہمیت کی حامل ہیں۔ تاریخی و تنقیدی کتب میں ’’حَبش اور اطالیہ‘‘ ’’ادب اور انقلاب‘‘ ’’سنگِ میل‘‘ اور ’’روشن مینار‘‘ یادگار مطبوعہ کتب ہیں۔
ڈاکٹر اختر حسین راۓ پوری، حیات و خدمات کے عنوان سے ، خالد ندیم کی تحیقیق مجلس ترقی ادب لاہور نے ۲۰۰۹ میں شائع کی۔

اُن کی بیگم حمیدہ صاحبہ بھی ادب دوست، کتاب دوست خاتون تھیں، انہوں نے بھی اپنے سیدھے سادے انداز میں آپ بیتی ’’نایاب ہیں ہم‘‘ کے عنوان سے لکھی۔ حمیدہ اختر رائے پوری کی اس آپ بیتی نے وہ بہت سی باتیں مکمل کر دیں جو ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کی ’’گردِ راہ‘‘ میں تشنہ رہ گئی تھیں۔

اختر حسین رائے پوری کا شمار ایسے ادیبوں میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنے عہد نوجوانی میں ہی ہندوستان کی فرسودہ روایات کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ جب ان کا مضمون ’ادب اور زندگی‘ شائع ہوا تو ترقی پسند نقطہ نظر کا بنیادی مضمون تسلیم کیا گیا۔ اس میں شک نہیں کہ یہ ادب میں پہلی انقلاب آفریں کوشش تھی۔اس لحاظ سے ادب اور زندگی کے موضوع پر اور ترقی پسندی کے باب میں اختر حسین رائے پوری کی حیثیت پیش رو کی ہے۔ ان کا اولین مقالہ ’ادب اور زندگی‘ ترقی پسند تنقید کا نقطہ آغاز ہے۔

جب ان کی کتاب ’ادب اور انقلاب‘ شائع ہوئی تھی تو ناشر نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ خواجہ حالی کے ’مقدمہ شعر و شاعری‘ کے بعد کسی تحریر نے اردو کے شعبہ تنقید کو اس حد تک متاثر نہیں کیا۔

تنقیدی مضامین

اختر حسین رائے پوری نے اپنے تنقیدی مضامین کے ذریعے انقلابی ادب کے تصور کو اردو ادب میں واضح طور پر پیش کیا۔ اپنے مضامین سے ترقی پسند تحریک اور اس کی نشوونما کے لیے زمین تیار کی۔ انھوں نے اپنے وقت کے تاریخی تقاضوں کے پیشِ نظر ادب میں ایک نئی فکری جہت کی نشاندہی کی اور وہ جہت زندگی کے سماجی اور تاریخی حقائق کی روشنی میں ادب وفن کو پرکھنے کی کوشش تھی۔

یوں تو ادب کی افادیت اور اس کے سماجی وتاریخی کردار پر سب سے پہلے سر سید اور ان کے نامور رفقا نے توجہ دلائی تھی۔  لیکن اختر حسین رائے پوری نے جس وقت لکھنا شروع کیا اس دور میں عبدالرحمن بجنوری، نیاز فتح پوری اور مجنوں گورکھپوری کے تاثراتی اور رومانی اثرات ارود تنقید پر حاوی تھے۔ اخترحسین رائے پوری نے اس تاثراتی اور رومانی حصار کو توڑنے کی سعی کی ہے۔

اخترحسین رائے پوری نے دیگر مضمون میں بھی اس بات کا بغیر کسی پس وپیش کے اظہار کیا ہے کہ اردو شاعری میں درد اور نظیر جیسے معدودے چند لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب لوگ وظیفہ خور تھے۔ درد دنیا سے بیگانہ اور میر تقی میر اپنی ناکامیوں کی وجہ سے زندگی سے بیزار نظر آتے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ ان وجوہ کی بنا پر یہ دونوں شاعر زندگی کے لیے ضروری جذبات سے اجتناب برتتے ہیں۔ افسردگی، رہبانیت اور حزنیت کا ایک لامتناہی سلسلہ وہ اردو شاعری میں دیکھتے ہیں۔ انھوں نے قدیم دور میں صرف نظیر ہی کو صحیح معنوں میں شاعر قرار دیا ہے اور کہا کہ اگرچہ نظیر کے یہاں حسن بیان کی کمی اور عامیانہ جذبات کی زیادتی ضرور ہے جس کی وجہ اس کی آوارہ اور خانہ بدوش زندگی ہے لیکن پورے اردو ادب میں وہی ایسا شاعر ہے جو عوام کے ساتھ رہتا ہے۔ انھیں سمجھتا ہے اور ان کے تاثرات کو انہی کی زبان میں بیان کرتا ہے۔ نظیر اکبر آبادی کو پہلی بار اس انداز نظر سے اختر حسین رائے پوری نے ہی دریافت کیا تھا۔

تصانیف و اعزازات

  • حبش اور اطالیہ(تاریخ)
  • پیامِ شباب(ترجمہ)
  • مقالات گارساں دتاسی(ترجمہ)
  • پیاری زمین(ترجمہ)
  • شکنتلا(ترجمہ)
  • گورکی کی آپ بیتی حصہ اول(ترجمہ)
  • روشن مینار(تاریخ)
  • گرد راہ(خودنوشت)
  • ادب اور انقلاب(تنقید)
  • زندگی کا میلہ(افسانے )
  • محبت اور نفرت(افسانے)
  • آگ اور آنسو
  • ادب اور زندگی
  • اختر حسین رائے پوری کی ادبی خدامات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انھیں نشان سپاس سے بھی نوازا۔

وفات

ڈاکٹر اختر حسین راۓ پوری  ۲ جون ۱۹۹۲ء کو کراچی میں وفات پا گئے، جہاں وہ سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

Advertisements