تعارف

سید محمد اشرف ۱۹۵۷ء كو سیتاپور میں پیدا ہوئے۔ اتر پردیش کے ضلع ایٹہ کا قصبہ مارہرہ شریف ان کا آبائی وطن ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور ان دنوں انکم ٹیکس کے شعبے میں کمشنر کے عہدے پر فائز ہیں۔

ادبی خدمات

سید محمد اشرف بھارت کے ممتاز افسانہ اور ناول نگار ہیں۔ ان کی تصانیف میں "نمبردار کا نیلا” کو عالمی سطح پر پزیرائی حاصل ہوئی اور اس کتاب کے متعدد زبانوں میں تراجم ہوئے۔ حال ہی میں ان کا ناول "آخری سواریاں” شائع ہوا ہے۔

سید محمد اشرف کی افسانہ نگاری کا جائزہ لیں تو ان کے بیس /تیس برس پہلے لکھے ہوئے افسانے بھی آج کے معلوم ہوتے ہیں۔ ان افسانوں میں اکیسویں صدی اپنی مکمل صفات کے ساتھ موجود ہے۔ چوں کہ صدی کی تبدیلی سے مسائل یکلخت اور یکسر تبدیل نہیں ہوجاتے یہی وجہ ہے کہ سید محمد اشرف کی کہانیوں میں بیان شدہ مسائل ومعاملات اس صدی سے مربوط اور ہم آہنگ معلوم ہوتے ہیں۔ بلکہ مروجہ زمانہ کے ساتھ ساتھ ان میں کلاسیکی رنگ اور بھی گہرا ہوتا نظر آرہا ہے۔

ادبی زندگی

سید محمد اشرف کی فکری نشو ونما میں گاؤں اور قصبے کا بہت عمل دخل ہے ؛جہاں ان کا بچپن انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں اورکھیت کھلیانوں میں گزرا۔ مذہبی اور خانقاہی ماحول میں ان کی پرورش ہوئی اور ان سب کو اپنے اندر جذب بھی کیا۔ پھر تخیلات کی بھٹی میں تپا کر افسانوی کینوس پر بکھیر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانے اپنے ماحول کے پروردہ معلوم ہوتے ہیں۔ موضوعات کی تلاش اور کرداروں کی دریافت میں انھیں دور جانے کی قطعاً ضرورت نہیں پڑتی۔ آس پاس سے کسی کردار کا انتخاب کرکے اس کے پس منظر میں کہانی بیان کردیتے ہیں۔

افسانے

سید محمد اشرف نے فسانہ محبت کو ’تلاش رنگ رائیگاں‘ بنا دیا۔ ۸۹ صفحات پر مشتمل نہایت طویل ترین افسانہ ہے جو افسانوی حدود کو پھلانگ کر ناولٹ کی سرحدوں میں داخل ہوتا معلوم ہوتا ہے۔ اس کہانی میں محبت کے قوس قزح سے سات مختلف رنگوں کی شعائیں پھوٹتی ہیں۔ ارشد اس کہانی کا مرکزی کردار مختلف رنگوں کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔ اس کی شخصیت نہایت پیچیدہ اور انا پرست ہے۔ پہلی بار ندی کے اس پار کسی دوپٹے کا رنگ ہوا میں لہراتا ہوا دیکھتا ہے جس کی شناخت تو وہ نہیں کرپاتا تاہم اخیر تک اس رنگ کی تلاش جاری رہتی ہے۔ واقعات کی ترتیب اور انداز پیش کش نے اس کہانی میں محبت کا رنگ اور بھی گہرا کردیا ہے۔ ارمل، غزالہ آپا، عائشہ اور اخیر میں گیتا ان سب میں وہ اپنا رنگ تلاش کرتا ہے مگر ناکامی ہی اس کے ہاتھ آتی ہے۔ اس کہانی میں ناکام محبت کے جذبات کی عکاسی خوب صورت پیرائے میں کی گئی ہے۔ تلاش رنگ رائیگاں ناکامی اور محرومی سے عبارت اور رنگوں کی آڑ میں دنیا کی بے ثباتی کی علامت ہے۔

افسانوی کائنات

سید محمد اشرف کی افسانوی کائنات میں انسان کا مکروہ چہرہ بہت واضح نظر آتا ہے۔ انھوں نے انسان کے درون میں موجود حیوانی صفات بیان کرنے کے لیے جانوروں کا سہارا لیا۔ یوروپین فکشن نگاروں میں روڈیارڈ کپلنگ اور جوزف کونرڈ نے جنگلات حیوانات کو فکشنلائزڈ کیا۔ اردو میں سید رفیق حسین کا نام اس حوالے سے بہت اہم ہے جنھوں نے اردو افسانے میں حیوانی کردار کو خوب پیش کیا۔ اسی طرح سید محمد اشرف کے افسانوں میں لکڑ بگھا، نیلا، کالو اور پاگل ہاتھی وغیرہ بنیادی کردار بن کر ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ تاہم یہ درحقیقت جنگلی جانور نہیں بلکہ ان کو علامت بنا کر انھوں نے انسان کی ذہنی و معاشرتی حیوانیت کو بے نقاب کیا ہے۔ لکڑ بگھا سریز کی کہانیاں اور ’چکر‘ اس کی بہترین مثالیں ہیں۔

افسانوی مجموعے

ان کے دو افسانوی مجموعے
’ڈار سے بچھڑے‘‘ (۱۹۹۴) اور
’’باد صبا کا انتظار‘‘
(۲۰۰۰) منظر عام پر آکر اردو کے افسانوی سرمائے میں بیش بہا اضافہ کر چکے ہیں۔ اکیسویں صدی میں ان کا کوئی افسانوی مجموعہ شائع نہیں ہوا۔ ’رنگ‘ اور ’منشی خاں‘ کے نام سے محض دو افسانے اب تک انھوں نے لکھے ہیں البتہ اس صدی کے بیشتر مسائل و معاملات ان کے یہاں پہلے ہی سے موجود ہیں۔

کتابیں

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سید محمد اشرف کی کتاب ’آخری سواریاں‘ منظر عام پر آکر برصغیر ہندو پاک میں ادیبوں کے درمیان مقبولیت کا درجہ پاچکی ہے۔ اس کے علاوہ آپ کی مزید تین کتب منظر عام پر آچکی ہیں

  • باد صبا کا انتظار
  • ڈار سے بچھڑے
  • نمبردار کا نیلا

آپ بلاشبہ اردو ادب کا ایک بہترین سرمایہ ہیں۔