Advertisement

عصمت چغتائی ہندوستان کی ایک مشہور اردو مصنفہ، جنہوں نے افسانہ نگاری، خاکہ نگاری اور ناول نگاری میں نام پیدا کیا۔ وہ اپنی بے باک شخصیت اور تحریکِ نسواں خیال پرستی کی وجہ سے مشہور تھیں۔ عصمت چغتائی نے خواتین اور ان سے جڑے مسائل پر لکھا ہے۔ انہوں نے اپنی تحریروں میں نسوانی جنسیت، طبقاتی استحصال، متوسط طبقے کی اخلاقیت اور نئے ہندوستان کے بہت سے مختلف مسائل کو واضح طور پر بیان کیا ہے۔

Advertisement

عصمت چغتائی کی پیدائش 21 اگست 1915 میں بدایوں، اترپردیش میں ہوئی تھی۔ ان کے بچپن کا ایک بڑا حصہ جودھپور میں گزرا۔ عصمت کو بچپن سے ہی تعلیم حاصل کرنے کا شوق تھا۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے اپنے والدین کو قائل کر لیا تھا۔ انہوں نے بی۔اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے معلمہ کی پڑھائی حاصل کی۔ بی-اے کی ڈگری کے بعد بی-ایڈ کی ڈگری حاصل کی، اس طرح وہ پہلی ہندوستانی مسلم خاتون تھی جنہوں نے یہ دونوں ڈگریاں حاصل کیں۔ ان کی جوانی کے دوران اُن کے بھائی مرزا عظیم بیگ چغتائی جو کہ اس زمانے کے نمایاں مصنفین میں سے تھے، انکے پہلے استاد اور رہنما بنے۔

Advertisement

عصمت چغتائی کو خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے میں پہل کرنے والی مصنفہ کہا جاتا ہے۔ کیونکہ انکی پدائش و بچپن کے دور میں گزری خواتین مصنفین کو قدامت پسند اور دینی بندشوں میں الجھی ہوئ مصنفین سمجھا جاتا تھا۔ انکی تحریروں میں مختصر کہانیاں مثلاً کلیان، ایک بات، چوٹیں وغیرہ ہے۔ انکا پہلا افسانہ "گیندا” ہے۔ ان کے مشہورِ ناولوں میں ضدی، معصومہ، ٹیڑھی لکیر وغیرہ شامل ہیں۔ ان کی بہت سی تحریروں پر ملک کے مختلف مقامات پر پابندیاں عائد کر دی گئی تھی۔ انکی تحریریں اکثر ناگوار سمجھی جاتی تھی کیونکہ وہ سیاسی اصطلاح اور تحریکِ نسواں کی حامی تھیں۔

Advertisement

عصمت چغتائی کی شادی اس وقت کے مشہور ڈائیرکٹر اور قلم کار شاہد لطیف سے ہوی تھی۔ عصمت نے فلمی قلم کاری میں بھی نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے لطیف صاحب کی فلم "ضدی” لکھنے میں انکی مدد کی تھی اور ان دونوں نے ساتھ میں "فریب” نامی فلم بھی ڈائریکٹ کی تھی۔

عصمت کا مشہور افسانہ "لحاف”، ۱۹٤٢ میں اردو علمی میگزین ‘آدابِ لطیف’ میں شائع ہوا تھا۔ جس میں انہوں نے دو خواتین کے درمیان جنسیاتی رشتے کو واضح طور پر بیان کیا ہے۔ تاہم یہ تحریر انکے لیے عدالتی کاروائیوں اور دقتوں کا سبب بن گئ۔ البتہ عصمت نے معافی مانگنے کے بجائے کیس لڑنے کو ترجیح دی اور وہ اس کیس کو جیت گئیں۔

Advertisement

عصمت چغتائی کا انتقال ۲٤ ِ اکتوبر ۱۹۹۱ کو بمبئی میں ہوا۔ انہیں ان کی آخری خواہش کے مدِنظر چندن واڈی قبرستان میں دفن کیا گیا۔ عصمت اپنے صاف گو اور بے خوف لکھنے کے طریقے کی بدولت بہت سے بے آواز لوگوں کی پُر جوش آواز بن گئیں۔ انہوں نے اپنی تحریروں سے نوجوان مصنفین، پڑھنے والی اور ذی فہم عوام کو بےحد متاثر کیا ہے۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement