تعارف

ہاجرہ مسرور کا آبائی تعلق ہندوستان کے مرکزِ علم و ادب لکھنؤ سے تھا۔ جہاں وہ ۱۷ جنوری ۱۹۲۹ کو پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے والد ڈاکٹر تہور احمد خان برطانوی فوج میں ڈاکٹر تھے۔ ہاجرہ مسرور کی پیدائش کے کچھ برس بعد دل کے دورے سے ان کے والد انتقال کرگئے اور خاندان کی ذمہ داری اُن کی والدہ کے کاندھوں پر آگئی۔

والد کے انتقال کے بعد ان کا گھرانہ نامساعد حالات کا شکار ہوا اور انہوں نے سخت حالات میں پرورش پائی۔ ہاجرہ کی والدہ کٹھن وقت میں نہایت باہمت خاتون ثابت ہوئیں۔ انہوں نے اپنے چھ بچوں کی تربیت اور پرورش نہایت اچھے انداز میں کی۔ یہ کُل پانچ بہنیں اور ایک بھائی تھے۔ ان کی بہن خدیجہ مستور بھی اُردو کی معروف ادیبہ تھیں۔ اُردو ادب کا تذکرہ ان دونوں بہنوں کے بغیر نامکمل رہے گا۔ ہاجرہ مسرور کے ایک بھائی توصیف احمد صحافت سے وابستہ رہے جبکہ ایک اور بھائی خالد احمد کا شمار اپنی نسل کے ممتاز شاعروں میں ہوتا ہے۔

ادبی زندگی

ہاجرہ مسرور (اور خدیجہ مستور) نے کم عمری ہی میں لکھنا شروع کر دیا تھا۔ بقول مسعود رضا خاکی
’’اُن کی سب سے پہلی تخلیق ’’لاوارث لاش‘‘ تھی، جو ۱۹۴۱ء میں بچوں کے ایک رسالہ میں شائع ہوئی تھی۔ اس وقت ان کی عمر صرف تیرہ یا چودہ برس کی تھی۔ اس کہانی پر جو حوصلہ افزائی ہوئی اس نے انھیں پورے انہماک سے افسانہ نگاری کی جانب مائل کر دیا‘‘

سولہ سال کی عمر میں ان کا پہلا افسانہ شائع ہوا۔ ایک ہی سال بعد اُن کے افسانوں کی مقبولیت سے متاثر ہو کر بمبئی کے ایک ناشر نے انھیں یہ پیش کش کی کہ اگر وہ مہینے میں چار افسانے اس کے ہفت روزہ اخبار کے لیے، ایک افسانہ ماہنامہ کے لیے لکھا کریں تو انھیں پندرہ روپے ماہوار پیش کیے جائیں گے۔

تقسیمِ ہند کے بعد ہاجرہ اپنی بہن خدیجہ کے ساتھ پاکستان آگئیں اور لاہور میں سکونت اختیار کرلی۔ اُس زمانے میں لاہور پاکستان کی ادبی سرگرمیوں کا مرکز تھا اور خود ہاجرہ بطور کہانی و افسانہ نگار اپنا عہد شروع کرچکی تھیں۔ ادبی حلقوں میں اُن کی پہچان ہوچکی تھی۔

نامور شاعر اور افسانہ نگار احمد ندیم قاسمی کی وہ منہ بولی بہن تھیں۔ چنانچہ انھوں نے احمد ندیم قاسمی کے ساتھ مل کر ’’نقوش‘‘ لاہور کی ادارت سنبھالی اور ’’نقوش‘‘ کے پہلے دس شمارے مرتب کیے۔ گویا ’’نقوش‘‘ کی بنیاد قاسمی صاحب اور ہاجرہ مسرور نے رکھی۔ نقوش کی ادارت سے الگ ہونے کے بعد احمد ندیم قاسمی نے الطاف پرواز کے پرچے ’’سحر‘‘ کی ادارت سنبھالی۔ اس کی مجلسِ ادارت میں فیض ، ممتاز حسین اور حمید اختر کے علاوہ ہاجرہ مسرور بھی شامل تھیں۔

دونوں بہنیں (خدیجہ مستور اور ہاجرہ مسرور) لاہور میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے ہفت روزہ اجلاسوں میں باقاعدگی سے شریک ہوتی تھیں۔ حلقۂ ارباب ذوق کے اجلاسوں میں بھی انھوں نے شرکت کی۔

ازدواجی زندگی

ہاجرہ مسرور کی شادی ’’پاکستان ٹائمز‘‘ کے ایڈیٹر احمد علی خان سے ہوئی۔ وہ ایک شریف النفس انسان تھے۔ دونوں نے بڑی خوشگوار زندگی گزاری۔ احمد علی خان کے انتقال اور بڑی بہن خدیجہ مستور کی وفات کے بعد ہاجرہ مسرور کی زندگی بے کیف سی ہو گئی تھی۔ یہ صدمات ان کے لیے جانکاہ تھے۔ بہت عرصہ سے انھوں نے قلم سے ناطہ توڑ رکھا تھا اور ادبی تقریبات سے الگ ہو گئی تھیں۔

اعزاز

ہاجرہ مسرور کو اُن کی ادبی خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ حکومتِ پاکستان نے ادب کے شعبے میں ان کی نمایاں خدمات پر سن انیسو پچانوے میں ‘تمغہ حُسنِ کارکردگی’ دیا۔
۲۰۰۵ء میں انہیں ‘عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ’ بھی دیا گیا تھا۔
ان کے ایک اسکرپٹ پر پاکستانی فلمی صنعت کا سب سے بڑا اعزاز ‘نگار ایوارڈ’ بھی دیا گیا۔

تصانیف

ہائے اللہ، چھپے چوری، اندھیرے اجالے، تیسری منزل، چاند کے دوسری طرف، وہ لوگ اور چرکے” ان کے افسانوی مجموعوں کے نام ہیں۔ ’’سب افسانے میرے‘‘ کے عنوان سے مرتب کتاب میں ان کے تمام افسانے یکجا کر دیے گئے ہیں۔ ہاجرہ نے ایک فلم کا اسکرپٹ بھی لکھا اور ریڈیو کے لیے بہت سے ڈرامے لکھے۔ ٹیلی ویژن کے لیے بھی ایک ڈراما تحریر کیا۔

موضوعات

ہاجرہ مسرور کے افسانوں اور مختصر کہانیوں کے موضوعات سماج و سیاست ، قانون و معیشت کی ناہمواریوں اور، خواتین کے استحصال کے گرد گھومتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر میں اُردو ادب کی اس ممتاز افسانہ نگار کو حقوقِ نسواں کی علمبردار کہا جاتا ہے۔

انہوں نے 1965ء میں بننے والی پاکستانی فلم ‘آخری اسٹیشن’ کی کہانی بھی لکھی تھی۔ یہ فلم معروف شاعر سرور بارہ بنکوی نے بنائی تھی۔
چند سال قبل آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے بچوں کے لیے لکھی اُن کی کئی کہانیاں کتابی شکل میں شائع کی تھیں۔

ہاجرہ مسرور کی تحریریں معاشرے کی منفاقتوں کی کھل کر عکاسی کرتی تھیں، جس پر انہیں بھی منٹو اور عصمت چغتائی کی طرح سماج کے قدامت پسند حلقوں کی طرف سے بدترین تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔
اُردو ادب میں ان کی شناخت روایت شکن تحریریں ہیں جو تیز دھار خنجر کی مانند معاشرے پر پڑے وہ پردے چاک کردیتی تھی، جس کی آڑ میں صنفِ نازک کا استحصال ہوتا ہے۔

آخری ایام

ہاجرہ مسرور ۱۵ ستمبر ۲۰۱۲ء کو کراچی میں تراسی سال کی عمر میں انتقال کرگئیں۔

Advertisements