تعارف

قمر سبزواری ۲۲ ستمبر ۱۹۷۲ عیسوی کو پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد ملازت شروع کی جس کے ساتھ ثانوی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ صحافت میں گریجوئیشن کرنے کے بعد کالم نگاری اور افسانوی ادب میں طبع آزمائی شروع کی۔ کچھ برس مختلف اخبارات میں کالم نویسی کے بعد صحافت کو خیر باد کہہ کر افسانہ نگاری کا باقائدہ آغاز کیا۔ وہ گزشتہ دس برس سے متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں۔ اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “پھانے” کے نام سے شائع ہوا۔

ادبی زندگی

آج قمر سبزواری اپنے افسانوی مجموعے ‘پھانے’ کے افسانوی طلسم کدہ میں کئی ایک افسانہ نگاروں کو پتھر کر چکے ہیں۔ ان کے افسانوں میں معاشرت کا نفسیاتی جائزہ قاری کے سامنے اس کا منہ چڑا رہا ہوتا ہے۔ انسانی جنسی مسائل سماجی زندگی میں جس طرح اکھاڑ پچھاڑ کرتے ہیں، خاندانی صداقتوں کے اندر گھٹن ، عورت کے نفسیاتی دباؤ اور مردوں کی پدر سری سماج میں بالادستی کو جس جراۤت سے وہ بے نقاب کرتے ہیں ، انھی کا خاصہ ہے۔ محمد حمید شاہد ان کے افسانوی مجموعے کے فلیپ پر رقم طراز ہیں۔ ”قمر سبزواری نے لگ بھگ اپنی ساری کہانیوں کے پلاٹ ہمارے اردگرد کی معاشرت سے لیے ہیں۔ یہ وہ زندگی ہے جو ہم جیتے ہیں لہذا کوئی بھی کہانی ہمیں اجنبی یا انوکھی نہیں لگتی۔”

قمر سبزواری کا خیال

خود قمر سبزواری کا اپنے افسانوں کے بارے کیا خیال ہے۔ وہ مختصر پیش لفظ میں کہتے ہیں۔
”ڈائجسٹوں کی عشقیہ کہانیاں اور نصابی کتب میں تاریخ و ادب کے نام پر لکھے مذہبی قصے پڑھیے اور اپنے بچوں کو پڑھائیں تاکہ انھیں شاہ دولے کے چوہے بننے کے لیے سر پر آہنی ٹوپیاں نہ پہننی پڑیں۔ بلکہ ایسی کتابیں اُن کے اذہان کو اندر ہی سے جکڑ لیں اور سروں کو چھوٹا کر کے چھوڑیں۔ ہاں  اگر آپ اپنے اردگرد میں بسنے والے انسان کو پڑھنا چاہتے ہیں، اس کے دکھ سکھ کو محسوس کرنا چاہتے ہیں۔ اس کی جبلت میں چھپی خواہش اور رینگتے خوف کو دیکھنا چاہتے ہیں، خود کو پڑھنا چاہتے ہیں تو ادب پڑھیں۔ میرے افسانے پڑھیں۔ “

میٹرو (افسانہ)

آپ کے افسانے پر ایک تجزیہ نگار تبصرہ کرتے ہوئے کہتی ہیں :
“میٹرو” بظاہر ریل اور اس کا سفر کرتا ہوا مرکزی کردار جو راوی بھی ہے افسانے کا۔ افسانہ یوں تو تین حصوں میں تقسیم ہے پہلا حصہ جو ابتدائیہ ہے وطن سے دور رہ کر زندگی گزارنے والوں کی حقیقی تصویر ہے۔ اس تصویر کشی میں جذبات کی کشمکش، تنہائی کا کرب ، جنسی محرومی اور لمبی جدائی سے درکتے رشتوں کی خلش کو عمدہ جزئیات نگاری کے ساتھ افسانے میں پیش کیا گیا ہے۔

دوسرا یعنی درمیانی حصہ ایک بوڑھی عورت کی کہانی ہے جس کے پاس عمر کے اس حصے میں بھی زندگی گزارنے کے لیے ” جسم ” ہی واحد سہارا دکھائی دیتا ہے۔ کیسا المیہ ہے یہ عورت کی زندگی کا لیکن سفاک سچ بھی ہے۔
یہاں افسانے کا ٹریٹمینٹ بہت خوبصورت ہے۔
ایک بوڑھی عورت کو دیکھ کر راوی کو اپنی بوڑھی دادی کا یاد آنا اور اسی عقیدت سے اس کی طرف دیکھنا لیکن اس عورت کے منھ سے نکلی اس کی زندگی کی حقیقت سن کر چکرا جانا یا فطری تقاضوں کے سامنے لڑکھڑائے جانےکے خوف سے ڈر جانا یقین اور بے یقینی کے بیچ جھولنے کی کیفیت کو بہت فطری انداز میں افسانے کا حصہ بنایا ہے۔

کہانی کا تیسرا حصہ جو ابھی اختتامیہ نہیں ہے بہت اہم ہے۔ افسانہ نگار یہاں صارفی کلچر کی حقیقت کو بڑے فکر انگیز انداز میں بیان کرتا ہے۔ افسانے کا اختتامیہ ایک مسافر کی ملاقات اور زندگی کا فلسفہ افسانہ یہاں اپنے خاتمے کا اعلان کر دیتا ہے۔

لیکن میں سمجھتی ہوں کہ اس افسانے کے انہی تین چار حصوں کا ذکر کر دینے سے افسانے کی تفہیم کا حق ادا نہیں ہو سکتا….!
افسانہ تو اس سے کہیں زیادہ کا متقاضی ہے!

تکنیکی اعتبار سے افسانے کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ کہانی میں الگ الگ واقعات ہوتے ہوئے بھی قرائت کے دوران کہیں بھی قاری کا ارتکاز نہیں ٹوٹتا اور نہ ہی واقعات بکھرے بکھرے سے لگتے ہیں۔

تصنیفات

قمر پچاس سے زائد افسانے لکھ چکے ہیں مگر ان کے نمایاں افسانے حسب ذیل ہیں:

نجمہ
پھانے
ہارمون
حرافہ
بلو رانی

Advertisements