تعارف

شکیلہ بنت شاہ محمد توحید قصبہ ارول ضلع (موجودہ ضلع جہان آباد) میں پیدا ہوئیں۔ ان کی تاریخ پیدائش سے متعلق متضاد بیانات ملتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد حامد علی خاں سال ولادت ۱۹۱۴ء سلطان آزاد اور سید شاہ اقبال ۱۹۱۶ء ، ڈاکٹر ش اختر اور پروفیسر وہاب اشرف ۱۹۱۹ء بتاتے ہیں۔ چونکہ انہوں نے باضابطہ طور پر کسی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل نہیں کی تھی، اس لئے تعلیمی سند کے اعتبار سے بھی کچھ طے کرنا ممکن نہیں ہے۔ البتہ ڈاکٹر ش اختر نے اپنی کتاب’’شناخت ‘‘ کی ابتداء میں ’’ مطالعہ کا طریقہ‘‘ کے عنوان سے جو کچھ لکھا ہے اس کی روشنی میں تاریخ پیدائش ۲۵؍ اگست ۱۹۱۹ء تسلیم کی جا سکتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں۔

” جن افسانہ نگار خواتین کا میں نے اس میں ذکر کیا ہے ان میں رضیہؔ آپا کو چھوڑ کر تقریباً سبھوں نے جوابات ارسال کئے۔ جن کی روشنی میں ان کی پیدائش ، تعلیم اور نجی زندگی کی بعض مصروفیتوں کی طرف اشارے کئے گئے ہیں۔ کیوں کہ لکھنے والوں نے خود معلومات بھیجی ہیں اس لئے یہ سب سے زیادہ معتبر ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ اگر اختر اورینوی کی ’پام ویلا‘ میں پہلی بار آمد (۱۹۳۲ء) اور شکیل کے ساتھ ان کی شادی کی تاریخ یعنی ۲۴؍ مئی ۱۹۳۳ء ( جس پر اتفاق رائے ہے) کو ذہن میں رکھا جائے تو صرف چودہ برس کی عمر میں شادی کی روایت قدرے مشکوک معلوم دیتی ہے مگر یہ بھی ہے کہ وہ اختر اورینوی کی چچازاد بہن صالحہ بیگم ( منکوحہ شاہ محمد توحید رئیس ارول) کی بیٹی تھیں اس لئے ممکن ہے کہ فریقین کی رضا مندی کے سبب کم عمری میں یہ شادی ہو گئی ہو۔ بہر حال کسی حتمی تردید کی غیر موجودگی میں مصنفہ کے بیان پر بھروسہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔
خود ان ہی کے بیان کے مطابق ان کی ابتدائی تعلیم خالص اسلامی طریقے کے مطابق مولوی عبد الغفور صاحب کی نگرانی میں ہوئی جو ان کے قرابت داروں میں تھے اور گاوں میں ایک مدرسہ چلاتے تھے۔ ویسے وہ خود بھی ایک ذی علم گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ جہاں ہمہ وقت علم و ادب کا چرچا رہتا تھا اور اپنے زمانے کے مشہور ادبی رسائل مثلاً نیرنگ خیال ، ساقی ،عصمت، ادبی دنیا اور کلیم وغیرہ زیرِمطالعہ رہتے تھے۔ مگر ان کے ادبی ذوق کی تعمیر و تشکیل میں میر، مومن، غالب اور اقبال کی شاعری کے ساتھ انگریزی ، جغرافیہ اور تاریخ کی بھی تعلیم دی۔ یہ بھی طے شدہ ہے کہ اختر اورینوی سے عقد کے بعد ہی انہوں نے شکیلہ اختر کے قلمی نام سے لکھنا اور چھپنا شروع کیا۔”

ازدواجی زندگی

شادی کے بعد شکیلہ کی زندگی کا ایک بڑا حصہ پٹنہ میں اختر اورینوی صاحب کی سرکاری رہائش گاہ واقع چھجو باغ میں گذرا۔ یہاں ملک کے مشاہیر اہل قلم کی برابری اور آمد و رفت رہتی تھی۔ جن کی میز بانی ان کے فرائض میں داخل تھی۔ ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی تادم تحریر مرگ اختر صاحب اسی کوٹھی میں مقیم رہے اور شکیلہ ان کی تیمار داری میں مشغول رہیں۔ بظاہر زندگی خاصی آسودہ حال تھی مگر بے اولادی کا غم ہمیشہ انہیں افسردہ کرتا رہا۔ اختر صاحب کی وفات ( مارچ ۱۹۷۷ء ) کے بعد وہ سری کرشنا پوری پٹنہ کے ایک فلیٹ میں رہنے لگیں اور جب تک صحت نے ساتھ دیا پٹنہ کی ادبی محفلوں اور سمیناروں کو اپنی موجودگی سے وقار بخشتی رہیں۔

ادبی آغاز

شکیلہ اختر کی ادبی زندگی کا آغاز کب ہوا یہ کہنا بھی دشوار ہے۔ اس سلسلے میں خود ان کے بیانات بھی خاصا کنفیوژن پیدا کرتے رہے ہیں۔ مختلف بیانات کا تجزیہ کرنے کے بعد یہی کہا جا سکتا ہے کہ ممکن ہے ابتداء میں انہوں نے کچھ غزلیں یا تفریحی مضامین لکھے ہوں مگر ان کا پہلا افسانہ ۱۹۴۰ء کے آس پاس ہی شائع ہوا ہوگا۔ ان کے افسانوں کے پہلے مجموعہ ’’درپن‘‘ کی اشاعت مکتبہ اردو لاہور سے کم و بیش اسی زمانے میں ہوئی ہوگی۔ اس مجموعے میں کل چودہ افسانے ہیں۔

تصابیف

  • ۱۔آنکھ مچولی
  • ۲۔ ڈائن
  • ۳۔ آگ اور پتھر
  • ۴۔تنکے کا سہارا
  • ۵۔ لہو کے مول
  • ۶۔آخری سلام

اعزازات

اردو کی خدمت کیلئے بہار اردو اکادمی نے پہلا انعام دیا۔
اترپردیش اردو اکادمی نے کئی کتابوں پر انعامات سے نوازا۔
بہار اردو اکادمی نے کئی کتابوں پر انعامات دئے
۱۹۸۲ء سے سابق گورنر بہار جناب اخلاق الرحمٰن قدوائی نے تازندگی ۴۰۰ روپیہ ماہواررائٹر وظیفہ جاری کروایا۔

افسانوں کے موضوعات


شکیلہ اختر کے افسانوں میں مسلم گھرانوں کے بے رنگ افراد اپنی تمام افسردگی کے ساتھ ساتھ ابھرتے ہیں۔ مقامی رنگوں مکالموں اور ماحول کی پیش کش میں شکیلہ اختر سے چوک نہیں ہوئی ہے۔ شکیل اختر کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بعض افسانوں میں موقع محل کے مطابق شعر پیش کر کے افسانے کی دلکشی اور دل نشینی میں اضافہ کر دیتی ہیں اور بعض افسانوں میں اہم کیفیات کو جگہ دے کر قاری کو چونکادیتی ہیں اور کبھی کبھی سماجی کمزوریوں پر گہرے طنزکے تیر بر سا کر پڑھنے والوں کے دل میں ایک ٹیس سی پیدا کردیتی ہیں۔

شکیلہ اختر صاف ستھرے مگر اہم کیفیات کو اپنے افسانوں میں جگہ دیتی ہیں، شکیلہ اختر صاف ستھرے واقعات کے ساتھ ساتھ مخصوص بہاری ماحول اور فضا کی عکاسی میں نہایت کامیاب ہیں ان کے افسانوں میں سماجی کمزوریوں پر گہرا طنز بھی ملتا ہے۔ کچھ کہانیوں میں شکیلہ اختر نے اپنے ہی دکھ درد کو سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔ ہر اچھا فنکار اپنے اوپر گزرنے والے واقعات اور حالات کو اسی طرح قارئین کے سامنے پیش کر دیتا ہے کہ پڑھنے والے اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ شکیلہ صاحبہ نے بھی اپنے بعض افسانوں میں اپنے ہی جذبات واحساسات کو بڑی فنکاری کے ساتھ قارئین کے سامنے پیش کردیا ہے۔

آخری ایام

بالآخر ۱۰ فروری ۱۹۹۴ء کو وفات پائی۔ لاش قادیان لے جائی گئی جہاں مقبرہ بہشتی میں اختر اورینوی کے قریب ہی مدفون ہوئیں۔

Advertisements