تعارف

بانو قدیسہ ۲۸ نومبر ۱۹۲۸ء فیروزپور، پنجاب میں پیدا ہوئیں۔ آپ کا قلمی نام بانو قدسیہ تھا۔ آپ مصنفہ، ڈراما نویس اور دانشور تھیں۔ اُن کا تعلق ایک زمیندار گھرانے سے ہے۔ اُن کے والد زراعت میں بیچلر کی ڈگری رکھتے تھے۔ بانو قدسیہ کا تعلق ایک ممتاز علمی وا دبی خاندان سے تھا جس نے تحریک پاکستان میں بھر پور حصہ لیا۔ ان کے والد بدر الزماں نے زرعی سائنس میں گریجویشن کی اور پبلک سیکٹر کے ایک بڑے زرعی فارم کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔

جب بانو قدسیہ ساڑھے تین برس کی تھیں تو ان کے والد عالم شباب میں اکتیس سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ تقدیر کی تو پہچان ہی یہی ہے کہ وہ ہر لمحہ ہر گام انسانی تدبیر کی دھجیاں اڑا دیتی ہے۔ بانو قدسیہ کی والدہ ذاکرہ بیگم نے ستائیس سال کی عمر میں بیوگی کی چادر اوڑھ لی اور مشیتِ ایزدی کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا۔ اس خاتون نے تقدیر کے ستم سہہ کر صبر و تحمل سے اپنے دو کم سِن بچوں کی پرورش پر اپنی توجہ مرکوز کر دی۔ ان کی دلی خواہش تھی کہ اپنے ننھے بچوں کو آلام ِ روزگار کی تمازت سے محفوظ رکھیں تاکہ یہ گُلِ نو شگفتہ گلشنِ ہستی کو اپنی عنبر فشانی سے معطر کر دیں۔

ایک صابر و شاکر ماں کی حیثیت سے ذاکرہ بیگم نے اپنے بیٹے پرویز اور بیٹی بانو قدسیہ سے اپنا مستقبل اور بقیہ زندگی وابستہ کر دی اور اپنے ارمانوں کو اپنے دِل میں ہمیشہ کے لیے سموئے صبر و استقامت کی تصویر بن گئیں۔ تقسیم ہند کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ لاہور آ گئیں۔ لاہور آنے سے پہلے بانو قدیسہ مشرقی بھارت کے صوبہ ہماچل پردیش دھرم شالا میں زیر تعلیم رہیں۔ اُن کی والدہ مسز چٹھہ بھی تعلیم یافتہ خاتون تھیں۔ بانو قدوسیہ نے مشہور ناول و افسانہ نگار اور ڈراما نویس اشفاق احمد سے شادی کی۔

تعلیم

بانو قدسیہ نے ابتدائی تعلیم دھرم شالہ سکول فیروز پور(بھارت) سے حاصل کی۔ بانو قدسیہ نے کم عمری ہی میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ۔جب وہ پانچویں جماعت میں زیر تعلیم تھیں ،اس وقت سے ان کی کہانیاں بہت مقبول ہو گئی تھیں۔ وہ اپنے کالج کی میگزین اور دوسرے رسائل کے لیے بھی لکھتی رہی ہیں۔ انہوں نے کنیئرڈ کالج برائے خواتین لاہور سے ریاضیات اور اقتصادیات میں گریجویشن کیا۔ بعد ازاں انہوں نے ۱۹۵۱ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔

ادبی خدمات

بانو قدسیہ نے اردو اور پنجابی زبانوں میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لیے بہت سے ڈرامے بھی لکھے۔ اُن کا سب سے مشہور ناول “راجہ گدھ” ہے۔ اُن کے ایک ڈرامے “آدھی بات” کو کلاسک کا درجہ حاصل ہے۔

اپنے لافانی اسلوب کے اعتبار سے بانو قدسیہ جتنی بڑی ادیبہ تھی، شخصیت اور وقار کے لحاظ سے اتنی ہی عظیم خاتون بھی تھیں۔ وہ خاتون جس نے سات عشروں کے دوران انسانیت کے وقار اور سر بلندی کو اپنا نصب العین بنا کر پرورش لوح و قلم کو اپنا شعار بنایا۔ تخلیقِ ادب سے انھیں گہری دلچسپی تھی ، بانو قدسیہ کا پہلا افسانہ ’’واماندگیئ شوق‘‘ زمانہ طالب علمی ہی میں سال ۱۹۵۰ء میں لاہور سے شائع ہونے والے ممتاز ادبی مجلہ ’’ادب لطیف ‘‘میں شائع ہوا۔

سال ۱۹۵۱ء میں بانو قدسیہ نے گورنمنٹ کالج ،لاہور میں ایم۔اے اردو میں داخلہ لیا اور یہیں سے ایم۔اے اردو کیا۔ ممتاز ادیب اشفاق احمد اسی ادارے میں ان کے ہم جماعت تھے۔ سال ۱۹۵۶ء میں بانو قدسیہ نے اشفاق احمد سے شادی کر لی۔ اُردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت میں گہری دلچسپی لینے والے اس نو بیاہتا جوڑے نے گیسوئے اُردو کے نکھارنے میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی۔

نمود و نمائش اور شہرت و ناموری کی تمنا سے بے نیاز رہتے ہوئے اس با صلاحیت ادبی جوڑے نے سدا عجز و انکسار کو زادِ راہ بنایا۔ دونوں کی سوچ یکساں تھی اور زندگی کا لاحئہ عمل بھی ایک جیسا تھا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اشفاق احمد نے اپنے نام کے ساتھ ’’ خان‘‘ لکھنا ترک کر دیا جب کہ بانو قدسیہ نے ذات پات کے منفی تصور سے نجات حاصل کر لی اور اپنے نام کے ساتھ چٹھہ لکھنا چھوڑ دیا۔ بلاشبہ مسلسل سات عشروں تک اقلیم ادب میں اسی ملکہ کے نام کا سکہ چلتا رہا۔

بانو قدسیہ نے ’’آدھی بات‘‘ جیسا مؤثر ،مقصدیت ، اور اصلاح و افادیت سے لبریز ڈرامہ لکھا جسے کلاسیک کا درجہ حاصل ہے۔ بانو قدسیہ کے یاد گار ڈراموں میں “تماثیل ، حوا کے نام، سہارے اور خلیج” شامل ہیں۔ اردو اور پنجابی زبان پر انھیں جو خلاقانہ دسترس حاصل تھی وہ ان کی تحریروں سے نمایاں ہے۔ان کے شوہر اشفاق احمد نے جب فلم ’’دھوپ سائے‘‘ بنائی تو اس فلم کی کہانی بانو قدسیہ نے لکھی۔

تصانیف

بانو قدسیہ کی پہلی ڈرامہ سیریل ’’سدھراں‘‘ تھی جسے بے حد پسند کیا گیا۔ بانو قدسیہ نے اپنی وقیع تصانیف سے اُردو ادب کی ثروت میں اضافہ کیا۔ ان کا معرکہ آرا ناول “راجہ گدھ”سال ۱۹۸۱ میں شائع ہوا جس کی اشاعت کے ساتھ ہی وہ شہرت اور مقبولیت کی بلندیوں پر جا پہنچیں۔ اس مقبول ناول کی دنیا بھر میں زبردست پزیرائی ہوئی۔ اس ناول کا شمار دنیا کی اہم ترین تصانیف میں ہوتا ہے جس کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ اردو میں اب تک اس ناول کے تیس ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ آپ کی چند مزید تصانیف کے نام درج ذیل ہیں :

  • آتش زیر پا
  • آدھی بات
  • ایک دن
  • امر بیل
  • آسے پاسے
  • بازگشت
  • چہار چمن
  • چھوٹا شہر، بڑے لوگ
  • دست بستہ
  • دوسرا دروازہ
  • دوسرا قدم
  • فٹ پاتھ کی گھاس
  • حاصل گھاٹ
  • ہوا کے نام
  • ہجرتوں کے درمیاں
  • کچھ اور نہیں
  • لگن اپنی اپنی
  • مرد ابریشم
  • موم کی گلیاں
  • نا قابل ذکر
  • پیا نام کا دیا
  • پروا
  • پروا اور ایک دن
  • راجہ گدھ
  • سامان وجود
  • شہر بے مثال
  • شہر لازوال آباد ویرانے
  • سدھران
  • سورج مکھی
  • تماثیل
  • توجہ کی طالب

مقصدیت

بانو قدسیہ کی تحریروں میں پائی جانے والی روحانیت، پر خلوص جذبات کی تمازت ،عزم و ہمت ،ولولہ اور جوش قاری کو جہانِ تازہ میں پہنچا دیتا ہے۔ وہ یہ چاہتی تھیں کہ خواتین کو اپنے دِل میں توقعات اور ارمان کم سے کم رکھنے چاہئیں تاکہ اگر یہ توقعات اور ارمان پورے نہ ہوں تو کسی غیر معمولی سانحہ کا اندیشہ نہ رہے۔ جب توقع اُٹھ جاتی ہے تو حکایتوں اور شکایتوں کے سب سلسلے دم توڑ دیتے ہیں۔ اس موضوع پر بانو قدسیہ نے لکھا ہے :
’’اِن توقعات کا کچھ پتا نہیں چلتا، کس وقت ، کیسے یہ دِل میں پروان چڑھتی ہیں ، بالکل ٹھہرے ہوئے پانیوں پر جیسے کائی آہستہ آہستہ نا معلوم طریقے سے چڑھ جاتی ہے۔ تمھارے دِل کا شفاف پانی بھی کسی توقع کی وجہ سے متعفن ہو گیا ہے۔‘‘

اعزازات

بانو قدسیہ کی علمی ،ادبی اور قومی خدمات تاریخ ادب کا ایک درخشاں باب ہیں۔ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کو درج ذیل اعزازات سے نوازا گیا :
ستارۂ امتیاز(۲۰۰۳)،
ہلالِ امتیاز (۲۰۱۰)،
کمالِ فن ایوارڈ (۲۰۱۰)

بانو قدسیہ کو تاج ایوارڈ برائے بہترین ڈرامہ نگار سے بھی نوازا گیا۔
نگار ایوارڈ برائے بہترین ڈرامہ نگار ۱۹۸۶۔
اس کے بعد مسلسل تین برس تک بانو قدسیہ کو بہترین ڈرامہ نگار کے نگار ایوارڈ سے نوازا گیا۔
یہ وہ منفرد اعزاز و امتیاز ہے جس میں کوئی ان کا شریک و سہیم نہیں۔

آخری ایام

پاکستان میں اردو ادب میں تانیثیت کی چاندنی اس وقت ماند پڑ گئی جب جب بانو قدسیہ 4 فروری 2017ء کو اس دار فانی سے کوچ کرگئیں اور اردو ادب کا ہنستا بولتا چمن جان لیوا سکوت اور مہیب سناٹوں کی زد میں آ گیا۔اردو فکشن کی وہ شمع فروزاں ہمیشہ کے لیے گُل ہو گئی جو سفاک ظلمتوں میں حوصلے اور اُمید کی تابانی کی نقیب تھی۔ زندگی بھر سماج اور معاشرے میں رونما ہونے والی کہانیاں زیبِ قرطاس کرنے والی ابد آشنا اسلوب کی حامل ادیبہ بانو قدسیہ کی زندگی کی کہانی اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔ وہ جری ادیبہ جس نے زندگی بھر عورت کے عزم و ہمت کی داستان رقم کی ، پیمانۂ عمر بھر کر راہِ رفتگاں کی جانب سدھار گئی۔ اردو کی مقبول و معروف ناول نگار اور افسانہ نگار بانو قدسیہ لاہور میں انتقال کر گئی ہیں۔ ان کی عمر ۸۸ برس تھی۔
بانو قدسیہ کی الم ناک وفات سے اردو فکشن کا وہ عہدِ زریں اپنے اختتام کو پہنچا جس کی تابانیاں اشفاق احمد، انتظار حسین ،عبداﷲ حسین اور قرۃ العین حیدر کی مرہونِ منت تھیں۔

Advertisements