Advertisement
  • کتاب” اپنی زبان "برائے چھٹی جماعت
  • سبق نمبر10:نظم
  • شاعر کا نام: تلوک چند محروم
  • نظم کا نام: پہلے کام،بعد آرام

نظم پہلے کام،بعد آرام کی تشریح

کام کے وقت جو آرام کیا کرتے ہیں
آخر کار وہ ناکام رہا کرتے ہیں
سخت نادان ہیں وہ لوگ برا کرتے ہیں
ہم تو داناؤں سے یہ قول سنا کرتے ہیں
پہلے تم کام کرو بعد میں آرام کرو

یہ اشعار تلوک چند محروم کی نظم” پہلے کام،بعد آرام” سے لیے گئے ہیں۔ ان اشعار میں شاعر کہتا ہے کہ وہ لوگ جو کام کے وقت کام کرنے کی بجائے آرام کیا کرتے ہیں تو ایسے لوگ ہمیشہ ںاکام ہی ٹھہرتے ہیں۔ ایسے لوگ سخت بے وقوف ہیں کہ وہ ایسا کرکے ہمیشہ اپنا نقصان کرتے ہیں۔ ہم ہمیشہ سے عقل مند لوگوں سے یہ بات سنتے آ رہے ہیں کہ پہلے ہمیشہ اپنا کام کرو اور بعد میں آرام کرو۔ کام کے وقت پہ کام کرنا چاہیے۔

لطف آرام میں ملتا ہے بہت کام کے بعد
کام کرنے میں مزہ آتا ہے آرام کے بعد
دن کو جو سویا تو کیا سوئے گا وہ شام کے بعد
دور راحت کا مزہ تلخئی ایام کے بعد
پہلے تم کام کرو بعد میں آرام کرو

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ کام کو اپنے مقررہ وقت پہ کرنے کے بعد جب آرام کیا جاتا ہے تو اس کام کے بعد ہمیشہ انسان کو لطف ملتا ہے۔ آرام کرنے کے بعد جو کام کیا جاتا ہے اس کام کا بھی مزہ آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دن کام کرنے کےلیے اور رات آرام کےلیے بنائی ہے۔ مگر جو لوگ دن کو سو لیتے ہیں وہ شام کو کیا سوئے گا۔ تکلیف کے دنوں کے بعد ہی آرام و سکون کے دن میسر ہوتے ہیں۔ پہلے تم کام کرو اور اس کے بعد ہی آرام کرو۔

Advertisement
نظم پہلے کام،بعد آرام کی تشریح 1
جس کو آرام سے ہر وقت سروکار رہے
فکر آرام میں جو کام سے بیزار رہے
کیا تعجب ہے کہ وہ مفلس و ناداررہے
کاہل و خسته و در مانده و لاچار رہے
پہلے تم کام کرو بعد میں آرام کرو

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ وہ لوگ جس کو ہر وقت آرام کرنے کی فکر ستاتی رہے۔آرام کرنے کی فکر میں اکثر لوگ کام سے بیزار ہو جاتے ہیں۔اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے کہ جلد ہی وہ لوگ غریب ہو جائیں گے۔ایسے لوگ سست، بدحال اور لاچار رہیں گے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے تم کام کرو اور بعد میں تمھیں آرام کرنا چاہیے۔

چھوڑتے کام ادھورا نہیں ہمت والے
کام پورا نہیں کرتےکبھی راحت والے
بازی لے جاتے ہیں جو لوگ ہیں محنت والے
ہار جاتے ہیں سدا سستی و غفلت والے
پہلے تم کام کرو بعد میں آرام کرو

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ جو لوگ ہمت والے ہوتے ہیں وہ کبھی بھی اپنا کام ادھورا نہیں چھوڑتے ہیں۔ لیکن ان کے برعکس جن لوگوں کو آرام کرنے کی عادت ہوتی ہے وہ کبھی اپنا کام پورا نہیں کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو اپنے کام کے لیے سخت محنت کرتے ہیں وہ ہمیشہ بازی لے جاتے ہیں اور سستی و غفلت کرنے والے ہمیشہ ہار جاتے ہیں۔اس لیے پہلے تم کام کرو اور بعد میں آرام کرو۔

سوچیے اور بتایئے:

وقت پر کام نہ کرنے کا کیا نتیجہ ہوتا ہے؟

وقت پر کام نہ کرنے سے زندگی میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کامیابی حاصل کرنے کے لیے کس قول پر عمل کرنا چاہیے؟

کامیابی حاصل کرنے کے لیے ہمیں پہلے کام بعد میں آرام کے قول پر عمل کرنا چاہیے۔

آرام میں لطف کب حاصل ہوتا ہے؟

آرام میں لطف اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب آدمی اپنا کام مکمل کرنے کے بعد آرام کرتا ہے۔

شاعر نے آرام کرنے والوں کے لیے کون کون سے الفاظ استعمال کیے ہیں؟

شاعر نے آرام کرنے والوں کے لیے کاہل، خستہ، درماندہ اور لاچار کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔

اس نظم میں محنت سے کام کرنے والوں کی کیا کیا خوبیاں بیان کی گئی ہے؟

ہمت کرنے والے کبھی اپنا کام ادھورا نہیں چھوڑتے محنت والے ہمیشہ بازی لے جاتے ہیں۔

سستی اور غفلت سے کام کرنے والوں اکیا انجام ہوتا ہے؟

سستی اور غفلت کرنے والے ہمیشہ ناکام ہوتے ہیں۔

پہلے کام بعد میں آرام کی تکرار سے شاعر کا کیا مطلب ہے؟

پہلے کام بعد میں تکرار سے شاعر کا یہ کہنا ہے کہ ہمیشہ پہلے کام کرنے اور بعد میں آرام کو ترجیح دینی چاہیے۔

مصرعے مکمل کیجیے:

  • ہم تو داناؤں سے یہ قول سنا کرتے ہیں
  • دن کو جو سویا تو کیا سوئے گا وہ شام کے بعد
  • کیا تعجب ہے کہ وہ مفلس و ناداررہے
  • بازی لے جاتے ہیں جو لوگ ہیں محنت والے

نیچے دیے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے:

بیزار ہونانوکری کی ایک لگی بندھی روٹین سے انسان جلد بیزار ہو جاتا ہے۔
بازی لے جانااحمد جماعت میں ہر وقت دوسروں پہ بازی لے جانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔
ہار جاناکھیل کے میدان میں ہمیشہ ایک ٹیم نے جیت جانا جبکہ دوسری نے ہار جانا ہوتا ہے۔
نادانبچے نادان ہوتے ہیں۔
غفلتہمیں چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال میں غفلت نہیں برتنی چاہیے۔

ان مصرعوں کو صحیح کر کے لکھیے.

  • چھوڑتے کام ادھورا نہیں راحت والے
  • کام پورا نہیں کرتےکبھی ہمت والے
  • بازی لے جاتے ہیں جو لوگ ہیں غفلت والے
  • ہار جاتے ہیں سدا سستی و محنت والے

صحیح:

  • چھوڑتے کام ادھورا نہیں ہمت والے
  • کام پورا نہیں کرتےکبھی راحت والے
  • بازی لے جاتے ہیں جو لوگ ہیں محنت والے
  • ہار جاتے ہیں سدا سستی و غفلت والے