Advertisement

نظم ایک پہاڑ اور گلہری کی تشریح

کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گلہری سے
تجھے ہو شرم تو پانی میں جا کے ڈوب مرے

یہ شعرعلامہ محمد اقبال کی نظم “ایک پہاڑ اور گلہری” سے لیا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ایک پہاڑ گلہری کو کچھ یوں مخاطب کرتا ہے کہ اگر تم میں ذرا سی بھی شرم موجود ہو تو کہیں جا کر پانی میں ڈوب کر مر جاؤ۔

ذرا سی چیز ہے اس پر غرور! کیا کہنا!
یہ عقل اور یہ سمجھ یہ شعور! کیا کہنا!

شاعر کہتا ہے کہ پہاڑ گلہری کو شرم دلا کر کہتا ہے کہ تم ایک ذرا سی چیز ہو اس پہ بھی تم اتنا غرور کرتی ہو۔ تمھاری عقل، سمجھ اور شعور کے تو کیا ہے کہنے ہیں۔

Advertisement
خدا کی شان ہے نا چیز چیز بن بیٹھیں!
جو بے شعور ہوں یوں با تمیز بن بیٹھیں!

شاعر اس شعر میں کہتا ہے کہ خدا کی شان تو دیکھیے کہ وہ لوگ جن کی اتنی اوقات نہیں ہے وہ ناچیز لوگ بسا اوقات بڑی چیز بن جاتے ہیں۔ جبکہ بعض اوقات وہ لوگ جن میں شعور،سمجھ بوجھ نہیں ہوتی ہے وہ باشعور اور باتمیز بن جاتے ہیں۔

Advertisement
تری بساط ہے کیا میری شان کے آگے
زمیں ہے پست مری آن بان کے آگے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ پہاڑ گلہری کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میری شان کے سامنے تمھاری بھلا کیا اوقات ہے۔ میں تو اس قدر بلند و بالا ہوں کہ میری شان اور آن بان کے سامنے تو زمین بھی چھوٹی دکھائی دیتی ہے۔

Advertisement
جو بات مجھ میں ہے تجھ کو وہ ہے نصیب کہاں
بھلا پہاڑ کہاں جانور غریب کہاں!

شاعر اس شعر میں کہتا ہے کہ پہاڑ گلہری کو یہ کہتا ہے کہ جو بات مجھ میں ہے وہ تمھیں کسی صورت بھی نصیب نہیں ہو سکتی ہے۔ کیوں کہ میں ایک بلند و بالا پہاڑ جبکہ تم ایک جانور گلہری ہو اور جو بات یا خوبی ایک پہاڑ میں ہوسکتی ہے وہ کسی جانور کو کہاں نصیب ہو سکتی ہے۔

کہا یہ سن کے گلہری نے منہ سنبھال ذرا
یہ کچی باتیں ہیں دل سے انہیں نکال ذرا!

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ پہاڑ کی بات سن کر گلہری اسے جواب دینے کے لیے یوں گویا ہوئی کہ ذرا منھ سنبھال کر بات کرو۔ یہ باتیں بہت چھوٹی ہیں انھیں تم اپنے دل سے نکال باہر کرو۔

Advertisement
جو میں بڑی نہیں تیری طرح تو کیا پروا!
نہیں ہے تو بھی تو آخر مری طرح چھوٹا

گلہری اس پہاڑ کو کہتی ہے کہ اگر میں تمھاری طرح بڑی نہیں ہوں تو مجھے اس بات کی ہر گز پروا نہیں ہے۔ کیوں کہ تم بھی تو میری طرح چھوٹے نہیں ہو۔ ہم دونوں ہی میں بہت فرق ہے اور دونوں ہی ایک دوسرے جیسے نہیں ہوسکتے ہیں۔

ہر ایک چیز سے پیدا خدا کی قدرت ہے
کوئی بڑا کوئی چھوٹا یہ اس کی حکمت ہے

اس شعر میں گلہری کہتی ہے کہ اس دنیا کی ہر ایک چیز اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ ہر شے اللہ کی ذات کی پیدا کردہ ہے۔ اگر کوئی چیز بڑی اور کوئی چھوٹی تخلیق کردہ ہے تو اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی ذات کی مرضی پوشیدہ ہے۔

Advertisement
بڑا جہان میں تجھ کو بنا دیا اس نے
مجھے درخت پہ چڑھنا سکھا دیا اس نے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ گلہری پہاڑ کو کہتی ہے اللہ کی ذات نے اگر تجھے اس خوبی سے نوازا ہے کہ اس نے تمھیں بڑا بنا دیا ہے تو مجھے بھی اس نے یہ خوبی دی کہ مجھے درخت پہ چڑھنا سکھا دیا۔

قدم اٹھانے کی طاقت نہیں ذرا تجھ میں
نری بڑائی ہے! خوبی ہے اور کیا تجھ میں

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ گلہری پہاڑ کو کہتی ہے کہ تم میں تو ذرا بھر قدم بھی اٹھانے کی طاقت موجود نہیں ہے۔ تم محض بڑے ہو اس بڑائی کے علاوہ تمھاری ذات میں کون سی خوبی موجود ہے۔

Advertisement
جو تو بڑا ہے تو مجھ سا ہنر دکھا مجھ کو
یہ چھالیا ہی ذرا توڑ کر دکھا مجھ کو

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ گلہری پہاڑ کو لاجواب کرتے ہوئے کہتی ہے کہ اگر تم خود کو بڑا کہتے ہو تو اپنی بڑائی کا جوہر دکھاتے ہوئے مجھ جیسا کوئی ہنر بھی تو دکھاؤ یہ سامنے چھالیا موجود ہے ذرا وہ ہی مجھے توڑ کر دکھا دو۔

نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں
کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے می

اس شعر میں شاعر نظم کا نچوڑ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں کوئی بھی چیز بے کار تخلیق نہیں کی ہے۔ اور نہ قدرت کے کارخانوں میں کوئی غلط ،برا یا بے فائدہ ہے۔ ہر چیز کی تخلیق کا مقصد ہے۔

Advertisement

سوچیے اور بتایئے:

پہاڑ نے گلہری سے کیا کہا؟

پہاڑ نے گلہری سے کہا کہ تم شرم سے پانی میں ڈوب مرو کہ تم ایک ذرا سی چیز ہوجبکہ میں ایک بلند و بالا پہاڑ اور مجھ سے تمھارا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔

پہاڑ نے اپنی بڑائی کن باتوں سے ظاہر کی؟

پہاڑ نے اپنی بڑائی اس سے ظاہر کی کہ زمین بھی میرے سامنےپست ہے اور میری آن بان شان کسی جانور کے مقابل نہیں ہوسکتی ہے۔

Advertisement

گلہری نے پہاڑ کی باتیں سن کر کیا کہا؟

گلہری نے پہاڑ کی بات سن کر کہا کہ ذرا منھ سنبھال کر بات کرو کہ اگر میں تمھاری طرح بڑی نہیں تو تم بھی میری طرح چھوٹے نہیں ہو۔ اللہ کی قدرت ہے یہ اور اس کے ہر کام میں کوئی نا کوئی حکمت پوشیدہ ہے۔

گلہری میں کیا خوبی ہے جو پہاڑ میں نہیں ہے؟

گلہری درخت پہ چڑھ سکتی ہے جبکہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہل تک نہیں سکتا۔

Advertisement

خدا کی حکمت کن باتوں سے ظاہر ہوتی ہے؟

خدا کی حکمت اس دنیا کے ہر ایک عمل اور ہر چھوٹی بڑی چیز سے ظاہر ہوتی ہے۔ اس نے دنیا میں موجود ہر چیز کو کسی نہ کسی ہنر سے نوازا ہے اور کچھ بھی بے کار تخلیق نہیں کیا ہے۔

خالی جگہ کو صحیح لفظ سے بھریے:

  • تجھے ہو شرم تو پانی میں جا کے ڈوب مرے
  • خدا کی شان ہے نا چیز چیز بن بیٹھیں!
  • تری بساط ہے کیا میری شان کے آگے
  • بھلا پہاڑ کہاں جانور غریب کہاں!
  • نہیں ہے تو بھی تو آخر مری طرح چھوٹا
  • ہر ایک چیز سے پیدا خدا کی قدرت ہے
  • کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں

نیچے دیے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے۔

شرممجھے ادھارمانگتے ہوئے شرم آتی ہے۔
غرورغرور کا سر نیچا ہے۔
شعورتعلیم انسان کو باشعور بناتی ہے۔
نصیباللہ پاک ہر ایک کی اولاد کا نصیب اچھا کرے۔
قدرتقدرت کے کارخانے میں کوئی چیز نکمی نہیں ہے۔
حکمتاللہ کے ہر کام میں اس کی حکمت پوشیدہ ہے۔
طاقتہمیں اپنی طاقت کا غلط استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

واحد الفاظ سے جمع بنائیے۔

چیزچیزیں
نصیبںصیبوں
گلہریگلہریاں
خوبیخوبیاں
غریبامیر
درختدرختوں
جانورجانوروں
حکمتحکمتوں

ان لفظوں کے متضاد لکھیے۔

بے شعورباشعور
با تمیزبد تمیز
خوبیخامی
پستبلند
زمینآسمان
غریبامیر
چھوٹابڑا

مصرعوں کو مکمل کیجیے۔

ذرا سی چیز ہے اس پر غرور! کیا کہنا!
یہ عقل اور یہ سمجھ یہ شعور! کیا کہنا!
خدا کی شان ہے نا چیز چیز بن بیٹھیں!
جو بے شعور ہوں یوں با تمیز بن بیٹھیں!
ہر ایک چیز سے پیدا خدا کی قدرت ہے
کوئی بڑا کوئی چھوٹا یہ اس کی حکمت ہے
بڑا جہان میں تجھ کو بنا دیا اس نے
مجھے درخت پہ چڑھنا سکھا دیا اس نے
نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں
کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے می

لکھیے: پہاڑ اور گلہری کی گفتگو اپنی زبان میں لکھیے۔

اس نظم میں شاعر نے پہاڑ اور گلہری کے درمیان گفتگو کو دکھایا ہے کہ پہاڑخود کو بڑا مانتا ہے اسے اپنی آن بان شان اور بڑائی پہ بہت ناز تھا یہی وجہ ہے کہ وہ گلہری کو اپنے سامنے حقیر مانتا ہے۔ جبکہ گلہری بھی اسے یوں جواب دیتی ہے کہ ہم سب اللہ کی تخلیق ہیں اور اس نے ہرایک میں کوئی نہ کوئی خوبی رکھی ہے اگر چہ تم بڑے ہو لیکن تم اپنی جگہ سے ایک قدم بھی نہیں ہل سکتے۔ اگر تمھیں اپنی بڑائی کا تانا ہی مان ہے تو سامنے درخت سے مجھے چھالیا توڑ کے ہی دکھا دو۔

Advertisement
Advertisement