سبق نمبر 3: آخری قدم، خلاصہ، سوالات و جوابات

0
  • سبق: آخری قدم
  • مصنف: ڈاکٹر ذاکر حسین

۳. ڈاکٹر ذاکر حسین کی زندگی کے حالات اور ادبی خدمات پر نوٹ لکھیے۔

زندگی کے حالات اور ادبی خدمات:

ڈاکٹر ذاکر حسین کی پیدائش حیدر آباد میں 8 فروری 1897 کو ہوئی۔ ابتدائی تعلیم انھوں نے حیدر آباد میں ہی حاصل کی جب کہ ہائی اسکول کی تعلیم انھوں نے ایٹاوا سے مکمل کی۔ اس کے بعد کی تعلیم انھوں نے محمڈن اینگلو اورینٹل کالج سے حاصل کی۔ بعد ازاں وہ ملک کی آزادی اور جدید تعلیم کو فروغ دینے سے متعلق سرگرمیوں میں جٹ گئے۔ جب کچھ اسٹوڈنٹس اور ٹیچرس کے ایک گروپ نے ساتھ مل کر نیشنل مسلم یونیورسٹی کا قیام کیا تو اس میں ذاکر حسین بھی شامل تھے اور اس وقت ان کی عمر محض 23 سال تھی۔ یہ یونیورسٹی 1925 میں دہلی کے قرول باغ اور پھر 1935 میں جامعہ نگر منتقل ہو گئی جو آج جامعہ ملیہ یونیورسٹی کے نام سے مقبول ہے۔

اس دوران انھوں نے انگریزی حکومت کے خلاف آواز بھی بلند کی اور تحریک عدم تعاون میں سرگرم کردار نبھایا۔ اس وجہ سے انھیں قید و بند کی صعوبتیں بھی جھیلنی پڑیں۔ بعد ازاں انھوں نے معاشیات میں پی ایچ ڈی کے لیے جرمنی کا سفر کیا اور پھر واپسی کے بعد دوبارہ ہندوستان کی آزادی کی جنگ میں جڑ گئے۔

انھوں نے مہاتما گاندھی اور حکیم اجمل خان کے نظریات پر عمل کرتے ہوئے ہندوستان کو ایک ایسا تعلیمی نظام دینے کی کوشش کی جہاں جدید ملّی تعلیم کو فروغ حاصل ہو۔ ان کی کاوشوں کو دیکھتے ہوئے ہی ملک کی آزادی کے بعد انھیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا وائس چانسلر بنایا گیا۔ بعد ازاں وہ ملک کے تیسرے اور پہلے مسلم صدر بھی بنائے گئے۔ ان کا انتقال 3 مئی 1969 کو دہلی میں ہوا۔

۴. مندرجہ ذیل جملوں کی وضاحت کیجیے:

۱ ایک وقت ہنڈیا چڑھی تو تین وقت کے کھانے کا انتظام ہو گیا

یہ جملہ ایک محاوراتی انداز میں بولا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ ایک بار کوئی کام شروع ہو جائے یا کوئی چیز مہیا ہو جائے تو اس کے نتیجے میں بہت سے دوسرے کام بھی آسانی سے ہو جاتے ہیں۔ جیسے کہ ایک بار ہنڈیا (کھانا پکانے کا برتن) چڑھ گئی یعنی کھانا پکانے کا عمل شروع ہو گیا، تو تین وقت کے کھانے کا بھی انتظام ہو گیا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جب بنیادی کام ہو جائے تو آگے کے کام خود بخود طے ہو جاتے ہیں یا آسان ہو جاتے ہیں۔

۲. نہ جانے کتنی بوائیں اس کے روپے سے پلی تھیں۔

یہ جملہ اس بات کا اظہار ہے کہ کسی شخص کی دولت نے بہت سے لوگوں کی زندگیوں کو سنوارا یا سہارا دیا ہے۔

۳. سیدھے ہاتھ سے دیتا تو الٹے ہاتھ کو خبر نہ ہوتی۔

یہ جملہ دراصل ایک مشہور کہاوت ہے جس کا مطلب ہے کہ انسان کو اس طرح خفیہ طور پر اور اخلاص کے ساتھ نیکی یا خیرات کرنی چاہیے کہ جب وہ سیدھے ہاتھ سے کسی کی مدد کرے، تو الٹے ہاتھ کو بھی اس کا علم نہ ہو۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ نیکی کا کام دکھاوے کے بغیر اور خالص نیت سے کیا جانا چاہیے، تاکہ اس میں ریاکاری یا خودنمائی شامل نہ ہو۔

۵.درج ذیل اقتباس کو پڑھ کر آخر میں دیے گئے سوالات کے جواب لکھیے :

دوست احباب طرح طرح سے اُسے کھیل تماشوں میں ، رنگ رلیوں میں گھسیٹنا چاہتے تھے، مگر یہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ بہانہ کر کے ٹال دیتا تھا ۔ آخر کو سب میں بڑا کنجوس مشہور ہو گیا۔ اس کے دوست اُسے مکھی چوس کہا کرتے تھے۔ بعض دوست اس کی دولت کی وجہ سے جلتے بھی تھے۔ مگر یہ دھن کا پکا تھا برابر چھپ چھپ کر چپ چپاتے اپنی دولت سے کسی نہ کی مستحق کی مدد کرتاہی رہتا تھا۔

۱معنی لکھیے اور جملوں میں استعمال کیجیے:

ٹال دینا: لٹکا دینا: بار بار درخواست کرنے کے باوجود افسر نے مسئلے کا حل ٹال دیا۔
رنگ رلیاں: عیش و عشرت اور موج مستی:دولت ملنے کے بعد اس نے رنگ رلیوں میں اپنا وقت ضائع کر دیا۔
دھن کا پکا:دھن کا پکا کا مطلب ہے جو اپنے ارادے یا مقصد پر مضبوطی سے قائم رہے اور اس کو ہر حال میں پورا کرنے کی کوشش کرے: دھن کے پکے لوگ کبھی بھی مشکل حالات سے گھبراتے نہیں، وہ اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے مسلسل محنت کرتے ہیں۔

۶. متضاد الفاظ لکھیے:

کنجوس:سخی
مشہور:گم نام
دوست:دشمن
چھپ چھپ کر: کھلم کھلا
مستحق: نا اہل

۳ لوگ اُس نیک آدمی کو کنجوس مکھی چوس کیوں کہتے تھے؟

جواب: کیونکہ وہ زیادہ پیسے خرچ نہیں کرتا تھا۔

۴. اوپر دیے گئے پیرا گراف کا ماحصل اپنے الفاظ میں لکھیے۔

اس پیراگراف کا ماحصل یہ ہے کہ ایک شخص کے دوست اسے کھیل تماشوں اور فضول سرگرمیوں میں شامل کرنا چاہتے تھے، مگر وہ ہمیشہ کسی نہ کسی بہانے سے ان کو ٹال دیتا تھا۔ اس کی کنجوسی کی وجہ سے دوستوں نے اسے “مکھی چوس” کہنا شروع کر دیا، حالانکہ کچھ دوست اس کی دولت سے حسد بھی کرتے تھے۔ لیکن وہ شخص اپنی دولت سے خاموشی سے ضرورت مندوں کی مدد کرتا رہتا تھا، بغیر کسی کو بتائے۔

۶ فرض کریں ہاکی سٹک لگنے سے آپ کا ساتھی بے ہوش ہو گیا ۔ آپ اور دیگر لڑکوں نے اُس کے ساتھ جو ہمدردی کی وہ حال اُس کے باپ کی خدمت میں ایک خط کی صورت میں تحریر کیجیے۔

محترم جناب،
امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں آپ کو اطلاع دینا چاہتا ہوں کہ آج کھیل کے دوران ایک حادثہ پیش آیا۔ کھیلتے ہوئے آپ کے صاحبزادے کو غلطی سے ہاکی اسٹک لگ گئی، جس کی وجہ سے وہ بے ہوش ہو گئے۔
ہم نے فوراً انہیں پانی پلایا اور ڈاکٹر کو بلایا۔ ڈاکٹر نے معائنہ کر کے بتایا کہ اللہ کے فضل سے کوئی بڑی چوٹ نہیں آئی اور انہیں کچھ دیر آرام کی ضرورت ہے۔ ہم سب ان کے ساتھ ہیں اور ہر ممکن مدد کر رہے ہیں۔
آپ بالکل فکر نہ کریں، ہم ان کی مکمل دیکھ بھال کر رہے ہیں اور امید ہے کہ وہ جلد ہی ٹھیک ہو جائیں گے۔
آپ کا بیٹا ہمارے لیے بہت عزیز ہے، اور ہم سب ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔
آپ کا خیر خواہ،
[ا۔ب۔ج]

مندرجہ ذیل جملوں میں حروف عطف ، حروف علت، حروف تعجب و انبساط حروف استدراک اور حروف تنبیہ تلاش کیجیے۔

۱ ۔آپ کا حکم ملا لہذا میں حاضر ہو گیا۔حروف علت: لہذا
۲ ۔ کہنا آسان ہے مگر کرنا مشکل ہےحروف استدراک: مگر
۳. اُس کو بہت سمجھایا پر اس نے ایک نہ مانیحروف استدراک: پر
۴. خبر دار پھر ایسانہ کہناحروف عطف: پھر
۵. زہے نصیب ، وہ کامیاب ہو گیا۔حروف عطف: وہ، حروف تعجب وانبساط: زہے نصیب
۶. وہ بد چلن نہیں البتہ فضول خرچ ضرور ہے۔حروف عطف: وہ ، حروف استدراک: البتہ
۷۔ چونکہ وہ منت نہیں کرتا، اس لیے فیل ہواحروف علت: چونکہ ، حروف عطف: وہ
۸. او ہو، بہت دیر ہوگئیحروف تعجب وانبساط: او ہو
۹۔ماشاء اللہ آپ ہر فن مولا ہیںحروف تعجب وانبساط: ماشاءاللہ
۱۰. دیکھو، وہ جانے نہیں دے گاحروف عطف: وہ