Back to: 11th Class Urdu Notes JKBOSE | Chapterwise Notes
سبق: ایک یادگار وصیت
مصنف: پنڈت جواہر لال نہرو
۲. مشق
۱۔ پنڈت جواہر لال نہرو کی “یاد گا روصیت “کا خلاصہ تحریر کیجیے؟
خلاصہ:
مضمون ” ایک یادگار وصیت ” پنڈت جواہر لعل نہرو کی تقاریر سے لیا گیا ایک اقتباس ہے۔ اس اقتباس میں پنڈت نہرو نے اپنے ملک کی سر زمین سے محبت کا اظہار کیا ہے۔ وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہندوستان کے لوگ ان سے بہت محبت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس محبت اور عزت کا بدلہ چکانا میرے لیے نا ممکن ہے کیوں کہ محبت ایک انمول شے ہوتی ہے۔
نہرو جی کہتے ہیں کہ میں اپنی باقی بچی زندگی اپنے ہم وطنوں کی خدمت میں گزارنا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے مرنے کے بعد کوئی مذہبی رسم ادا نہ کی جائے کیوں کہ یہ رسم و رواج سب بیکار اور فضول کی باتیں ہیں۔ میں جہاں مروں مجھے وہیں جلا دیا جائے اور میری راکھ کو الہ آباد بھیج دیا جائے۔ اس راکھ میں سے مٹھی بھر حصہ گنگا میں بہا دیا جائے۔
گنگا میں راکھ بہانے کی خواہش کسی مذہبی خیال سے نہیں بلکہ اس لئے کہ گنگا اپنے اندر ہندوستانی تہذیب کو سمیٹے ہوئی ہے۔ گنگا ہندوستان کی قدیم تہذیب کی نشانی ہے۔ اس ندی نے ہندوستان میں مختلف نسلوں کا آباد ہونا اور ان کا یہاں صدیوں سے زندگی گزار ناقریب سے دیکھا ہے۔ یہی ندی اُن کے سکھ دکھ کی گواہ ہے۔ صدیوں سے ہندوستانی تاریخ ، قصے کہانیاں ، گیت اور سنگیت اس کے ساتھ جڑ گئے ہیں اور اس کے پانی کے ساتھ گھل مل گئے ہیں۔ اس راکھ کے، ایک بڑے حصے کو ہوائی جہاز میں لے کر بھارت کے کھیتوں میں بکھیر دیا جائے جہاں بھارت کے کسان محنت و مشقت کرتے ہیں تا تا کہ یہ راکھ ہندوستان کی مٹی میں مل کر اس ملک کا ابدی حصہ بن جائے۔
۲.نہرو جی نے کیوں کہا ہے کہ
گنگا بھارت کی قدیم تہذیب کی نشانی ہے۔
کیونکہ اس ندی یعنی گنگا نے ہندوستان میں مختلف نسلوں کا آباد ہونا اور ان کا یہاں صدیوں سے زندگی گزار ناقریب سے دیکھا ہے۔ یہی ندی اُن کے سکھ دکھ کی گواہ ہے۔ صدیوں سے ہندوستانی تاریخ ، قصے کہانیاں ، گیت اور سنگیت اس کے ساتھ جڑ گئے ہیں اور اس کے پانی کے ساتھ گھل مل گئے ہیں۔
میری راکھ کا ایک حصہ سارے بھارت میں بکھیر دیا جائے۔
تا کہ یہ راکھ ہندوستان کی مٹی میں مل کر اس ملک کا ابدی حصہ بن جائے۔
۳. مندرجہ ذیل اقتباس کا ما حصل سیاق و سباق کے ساتھ لکھیے :
اگر چہ میں نے پُرانی روایتوں ، ریتوں اور رسموں کو چھوڑ دیا ہے، میں چاہتا بھی ہوں کہ ہندوستان ان تمام زنجیروں کو توڑ دے، جن میں جکڑا ہوا ہے، جو اس کو آگے بڑھنے سے روکتی ہیں اور دیس میں رہنے والوں میں پھوٹ ڈالتی ہیں جو بہت سے لوگوں کے لیے بوجھ بنی ہوئی ہیں اور ان کے پھولنے پھلنے میں رکاوٹ ڈالتی ہیں ۔ اگر چہ میں یہ سب چاہتا ہوں، پھر بھی میں نہیں چاہتا کہ خود کو پرانی باتوں سے بلکل الگ کرلوں۔ مجھے اپنے اس عظیم ورثے پر فخر ہے جو ہمارا رہا ہے اور ہمارا ہی ہے اور مجھے یہ بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ میں بھی ہندوستان کے دوسرے لوگوں کی طرح اس زنجیر کی ایک کڑی ہوں ، جو کبھی نہں اور کہیں نہیں ٹوٹتی اور جس کا ایک سراہندوستان کی قدیم تاریخ تک پہنچتا ہے۔
حوالہ متن:
اس سبق کے مصنف ” پنڈت جواہر لال نہرو” ہیں اور یہ ان کی ایک تقریر سے لیا گیا اقتباس ہے۔
سیاق وسباق:
اس سے قبل اقتباس میں پنڈت نہرو نے اپنے ملک کی سر زمین سے محبت کا اظہار کیا ہے۔ وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہندوستان کے لوگ ان سے بہت محبت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس محبت اور عزت کا بدلہ چکانا میرے لیے نا ممکن ہے کیوں کہ محبت ایک انمول شے ہوتی ہے۔ نہرو جی کہتے ہیں کہ میں اپنی باقی بچی زندگی اپنے ہم وطنوں کی خدمت میں گزارنا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے مرنے کے بعد کوئی مذہبی رسم ادا نہ کی جائے کیوں کہ یہ رسم و رواج سب بیکار اور فضول کی باتیں ہیں۔
ماحصل:
اس اقتباس کا ماحصل یہ ہے کہ پنڈت جواہر لال نہرو نے اگرچہ پُرانی روایات، رسموں اور ریتوں کو چھوڑ دیا ہے اور چاہتے ہیں کہ ہندوستان ان زنجیروں کو توڑے جو ملک کی ترقی میں رکاوٹ بن رہی ہیں اور لوگوں کے درمیان تقسیم پیدا کر رہی ہیں، لیکن وہ اس بات کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ اپنے ماضی سے بالکل الگ نہیں ہو سکتے۔ انہیں اپنے عظیم تاریخی ورثے پر فخر ہے اور وہ خود کو اس تسلسل کا حصہ سمجھتے ہیں جو ہندوستان کی قدیم تاریخ سے جڑا ہوا ہے۔
۴ حب الوطنی کے موضوع پر مضمون لکھیے۔
حب الوطنی مضمون
حب الوطنی سے مراد اپنے وطن سے بے پناہ محبت اور وفاداری کا جذبہ ہے۔ یہ ایک ایسا احساس ہے جو انسان کو اپنے ملک کی خدمت، اس کی بہتری، اور اس کے دفاع کے لیے ہر ممکن قربانی دینے پر آمادہ کرتا ہے۔ حب الوطنی نہ صرف ملک کے جغرافیائی حدود کے ساتھ محبت کا نام ہے بلکہ یہ وطن کی تہذیب، ثقافت، روایات، اور عوام کے لیے بھی گہری وابستگی کا اظہار ہے۔
حب الوطنی کا جذبہ فطری ہوتا ہے۔ ہر انسان کو اپنے وطن کی مٹی، فضاؤں، دریاؤں اور پہاڑوں سے محبت ہوتی ہے کیونکہ وہیں اس کی پرورش ہوئی ہوتی ہے، اور وہیں اس کی جڑیں پھیلی ہوتی ہیں۔ وطن انسان کے لیے وہ جگہ ہوتی ہے جہاں اس کی شناخت، وقار، اور آزادی محفوظ ہوتی ہے۔
حب الوطنی کا مطلب صرف زبانی دعووں یا جذباتی نعروں سے نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک عملی طرزِ عمل کا تقاضا کرتا ہے۔ ایک سچا محب وطن اپنے ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لیتا ہے، قانون کی پابندی کرتا ہے، اور معاشرتی ذمہ داریوں کو بخوبی ادا کرتا ہے۔ وہ اپنے ملک کے وسائل اور املاک کی حفاظت کرتا ہے اور دوسروں کو بھی اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ وہ اپنے ملک کو بہتر بنانے کے لیے کردار ادا کریں۔
تاریخ میں حب الوطنی کے کئی عظیم مثالیں موجود ہیں، جیسے قائد اعظم محمد علی جناح، علامہ اقبال، اور دیگر قومی رہنما جنہوں نے اپنی زندگی کا مقصد اپنے وطن کی آزادی اور خوشحالی کے لیے وقف کیا۔ ان شخصیات نے اپنی محنت، ذہانت، اور بے پناہ قربانیوں سے ہمیں ایک آزاد ملک دیا جہاں ہم آزادی سے جی سکتے ہیں۔
حب الوطنی کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم اپنے ملک کو درپیش چیلنجوں کا سامنا مل کر کریں اور ان مسائل کا حل تلاش کریں جو ہماری ترقی میں رکاوٹ ہیں۔ اس کے لیے تعلیم، انصاف، معاشرتی ہم آہنگی اور اقتصادی ترقی پر توجہ دینا ضروری ہے تاکہ ہم اپنے وطن کو دنیا میں ایک ممتاز مقام پر پہنچا سکیں۔
۵ اپنے غیر مکی دوست کے نام ایک خط لکھیے اور بھارت میں بھائی چارے کی روایت کے بارے میں مختصر جانکاری دیجیے۔
| پیارے دوست، السلام علیکم! مجھے امید ہے کہ تم خیریت سے ہوگے اور تمہاری تعلیم بھی عمدہ چل رہی ہوگی۔ کافی دنوں سے تمہاری خیریت معلوم نہیں ہوئی، تو سوچا کہ تمہیں خط لکھ کر بات چیت کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جائے۔ آج میں تمہیں بھارت کے ایک اہم پہلو کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں، جو کہ یہاں کے بھائی چارے اور اتحاد کی روایت ہے۔ بھارت دنیا کا ایک وسیع اور مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کا ملک ہے۔ یہاں پر مختلف مذاہب، زبانیں، اور ثقافتی گروہ صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آئے ہیں۔ اس تنوع کے باوجود، بھارت میں بھائی چارے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی روایت بہت پرانی اور مضبوط ہے۔ مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے تہواروں میں شرکت کرتے ہیں، خوشی کے مواقع پر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، اور مصیبت کے وقت ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی، بدھ مت اور دیگر مذاہب کے ماننے والے اپنی مخصوص روایات کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ میل جول رکھتے ہیں۔ آج بھی، بھارت کی سڑکوں پر ہر جگہ تمہیں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگ ایک ساتھ مل جل کر کام کرتے اور رہتے نظر آئیں گے۔ یہاں کی فضا میں ایک دوسرے کے احترام اور محبت کی خوشبو ہے، جو اس ملک کی خوبصورتی کو مزید بڑھاتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ تمہیں بھارت کی اس روایت کے بارے میں جان کر اچھا لگا ہوگا۔ میں مزید باتیں بھی کرنا چاہتا ہوں، لیکن وہ اگلے خط کے لیے چھوڑ رہا ہوں۔ تم اپنی خیریت سے آگاہ کرنا۔ تمہارا مخلص دوست، [ا۔ب ۔ج] |
۷ درج ذیل جملوں میں سے کس جملے میں کس قسم کے حروف استعمال کیے گئے ہیں:
| یہ کتاب کس کی ہے؟ | حروف استفہام: کس، حروف اضافت: کی |
| آپ کب آئے ہیں؟ | حروف استفہام: کب |
| حیف ! ظالم نے کچھ ترس نہ کھایا۔ | حروف نفرین: حیف |
| اف ! شدت کا بخار ہے۔ | حروف نفرین: آف حروف اضافت: کا |
| تھو تھو ، یہ کیسی خراب سبزی لائے ہو ؟ | حروف نفرین: تھو تھو |
| ارے بھئی، آہستہ چلو | حروف ندا: ارے |
| آہا، کیا سہانا سماں ہے! | حروف ندا: آہا |
| ارے نادان ! ایسی حرکت سے باز آجا | حروف ندا: ارے |
| خیر! کھبی تم بھی ہمارے پاس آؤ گے | حروف تردید: خیر |
| کام ہو تو ٹھہرو نہیں تو چلے جاؤ | حروف تردید: نہیں تو |
۸ مندرجہ ذیل عبارت میں حسب ضرورت علامات اوقاف لگائیے:
پرنسپل صاحب نے کہا، سکول تین دن کے لیے بند رہے گا- ٹھیک ہے میں نا نہال جاؤں گا ؛وہاں خوب کھاؤں گا پیوں گا ؛عیش کروں گا دوستوں کے ساتھ کھیلوں گا ؛مگر میرا کوئی دوست وہاں نہیں ہے، امجد حیران و پریشان ہو کر سوچنے لگا واہ رے واہ! میں وہاں نئے دوست بنالوں گا ،واپس آکر اسکول جاؤں گا میرے ماموں نہ جانے مجھے کیا کیا تھےدے دیں گے نئے کپڑے، نئی گھڑی، نیابسته، نیا جوتا، امی نئی چیزیں دیکھ کر خوش ہو جائیں گی۔
جی ہاں بہت بہت خوش! دوست پوچھیں گے کہ ننہیال میں اتنا وقت کیوں لگایا؟