سبق نمبر 5: سلک روٹ، خلاصہ، سوالات و جوابات

0
  • سبق: سلک روٹ
  • مصنف: عبدا لغنی شیخ

مشق

الف۔ طویل جواب طلب سوالات:

۱۔ مصنف کا حوالہ دے کر درج ذیل اقتباس کا ماحصل لکھیے:

اس شاہراہ سے صدیوں تک تاجر مبلغ، یاتری فوجی اور مسافر گذرے ہیں، جہاں جہاں سے لوگ گذرتے تھے وہاں اپنی تہذیب کی چھاپ اور نشان چھوڑتے تھے۔

حوالہ متن:

اس سبق کے مصنف عبد الغنی شیخ ہیں اور یہ ان کا ماخوذ ” تہذیب وثقافت” سے لیا گیا ہے۔

سیاق وسباق:

اس سے قبل سبق میں بتایا گیا ہے کہ سلک روٹ ” شاہراہ ریشم ” کے نام سے بھی مشہور ہے اور قدیم دنیا کی سب سے مشہور لمبی شاہراہ ہے۔ یہ چین سے ہوتی ہوئی یورپ میں قدیم سلطنت روما تک جاتی تھی۔ چین کے شہر ، گوانگ زور سے بحر روم کی بندرگاہ تک اس کی لمبائی تقریباً پندرہ ہزار کلومیٹر تھی۔ ایک سرے سے دوسرے سرے تک مال و اسباب کی نقل و حمل میں ایک سال کا عرصہ لگتا تھا۔ شاہراہ پر بہت سارے ، قصبے اور بستیاں آباد تھیں۔ مسافروں اور تاجروں کی رہائش کے لیے جابجا سرائیں بنی تھیں اور مال کی نمائش اور خرید و فروخت کے لیے ایمپوریم بنے تھے۔

ماحصل:

اس اقتباس کا ماحصل یہ ہے کہ شاہراہ پر مختلف ادوار میں تاجر، مبلغ، یاتری، فوجی اور مسافر گذرتے رہے، اور جہاں جہاں وہ پہنچتے، وہاں اپنی تہذیب کے اثرات اور نشانات چھوڑتے گئے۔

۲.سبق پڑھنے کے بعد شاہراو ابریشم کے بارے میں آپ نے کیا محسوس کیا تفصیل سے لکھیے.

سبق “سلک روٹ” پڑھنے کے بعد شاہراہِ ابریشم کے بارے میں میرا تاثر یہ ہے کہ یہ محض ایک تجارتی راستہ نہیں تھا، بلکہ مختلف تہذیبوں، ثقافتوں، خیالات اور علم کا سنگم تھا۔ یہ راستہ چین سے لے کر یورپ تک پھیلا ہوا تھا، اور اس پر سے گذرنے والے تاجر، مسافر، مبلغ اور یاتری نہ صرف اشیاء کا تبادلہ کرتے تھے، بلکہ اپنے ساتھ علم، خیالات، مذاہب اور ثقافتیں بھی لے کر آتے تھے۔ اس راستے سے ریشم، مسالے، قیمتی پتھر، چینی، کاغذ اور دیگر قیمتی اشیاء کا تبادلہ ہوتا تھا، جس نے دنیا کے مختلف حصوں کو معاشی اور ثقافتی طور پر جوڑا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ، یہ شاہراہ مختلف نظریات اور ثقافتوں کے پھیلاؤ کا بھی ذریعہ بنی۔ مشرق اور مغرب کی تہذیبوں کے درمیان باہمی تعلقات اور تبادلے نے علوم، فلسفے اور مذہب کو فروغ دیا۔

مثال کے طور پر، بدھ مت اسی راستے سے چین اور وسطی ایشیا تک پھیلا۔ اسی طرح اسلامی تہذیب نے بھی اس راستے کے ذریعے دنیا کے دیگر خطوں میں اپنے اثرات مرتب کیے۔ مختلف علاقوں کے لوگوں نے ایک دوسرے سے سیکھا، اور یہ تبادلہ صرف مادی اشیاء تک محدود نہیں رہا، بلکہ فکری اور تہذیبی بھی تھا۔

۳ شاہراہ ریشم سے کس کس ملک سے کون کون سی چیزیں بر آمد در آمد ہوتی تھیں؟

جواب: اس راستے پر چین سے ریشم، کاغذ، چھپائی کا سامان ، بلوریں بر تن اور بارود برآمد ہوتے تھے۔ وسط ایشیا سے گھوڑے عطریات ، نیل کے بنے رنگ، ناشپانی اور اخروٹ وغیرہ برآمد کیے جاتے تھے۔ ہندوستان کی برآمدات میں کپاس، کالی مرچ اور صندل کی خوشبودار لکڑی شامل تھی۔ مغرب سے شیشے اور شیشے کے آرائشی سامان مشرقی ممالک میں برآمد کیے جاتے تھے۔

۴.تجارت اور برآمدات کے علاوہ شاہراہ ریشم کی کیا ا ہمیت تھی؟

جواب: تجارت اور برآمدات کے علاوہ شاہراہ ریشم کی تہذیبی، تمدنی اور ثقافتی اہمیت رہی ہے۔ سلک روٹ اور اس کی شاخوں کے راستوں سے دنیا کے بڑے بڑے مذاہب اس خطے میں پہنچے، سلک روٹ نے ایک دوسرے ے کو اپنی تہذیب، کلچر ، علم و و عرفان اور فنون لطیفہ سے روشناس کیا جن کی وجہ سے مشرق اور مغرب پر بڑے گہرے اور قومی اثرات پڑے۔

۵. مارکو پولو نے شاہراہ ریشم کے بارے میں کیا کہا ہے؟

جواب: مارکو پولو ایک عظیم مغربی سیاح تھا۔ اُنھوں نے اپنی ساری زندگی میں بہت ہی مشکل مشکل سفر طے کیے ہیں۔ اُنھوں نے اپنے مشہور سفر نامے میں شاہراہ ریشم کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ سلک روٹ کے ریگستانی حصے پر مجھے مختلف مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ سفر کے تمیں دن مشکل ترین تھے ، اس دوران ایک دن اور ایک رات سفر کرنے کے بعد پانی ملتا تھا۔

( ب) مختصر جواب طلب سوالات۔

۱ قدیم دنیا کی سب سے لمبی اور پرسرارا شا ہراہ کا نام بتائیے۔

سلک روٹ شاہراہِ ابریشم

۲ شاہراہ ابریشم کی لمبائی کتنی تھی ؟

15000 کلومیٹر تھی۔

۳. شاہراہِ ابریشم سے کون کون لوگ گزرتے تھے ؟

تاجر، مبلغ، یاتری، فوجی اور مسافر

۴. شاہراہ ابریشم پر موجودہ مختلف بستیوں کے نام لکھیے۔

جواب: لانژو،کاشغر،شیان،الماتی،قونیہ،پشاور وغیرہ

۳) آپ نے کسی تاریخی جگہ یا سیاحتی مقام کا سفر کیا ہوگا، اپنے اسکول سے اس سیاحتی یا تاریخی مقام تک کے راستے کا حال اپنے الفاظ میں لکھیے۔

ایک مرتبہ ہمارا اسکول، “ا۔ب۔ج”، نے کشمیر کا تعلیمی دورہ ترتیب دیا تھا، جس کا مقصد ہمیں کشمیر کے قدرتی حسن اور سیاحت کی اہمیت سے روشناس کرانا تھا۔ صبح کے وقت اسکول سے روانگی ہوئی، اور سب طلباء بے حد پرجوش تھے۔

سب سے پہلے ہم بس میں بیٹھے اور سکول سے کشمیر کی طرف سفر شروع کیا۔ راستہ کافی خوشگوار تھا اور سڑک کے دونوں طرف سرسبز مناظر نظر آ رہے تھے۔ جیسے ہی ہم اسلام آباد کے قریب پہنچے، پہاڑی علاقے کا آغاز ہوا اور موسم میں ٹھنڈک کا احساس بڑھتا گیا۔

سکول سے کشمیر کا سفر پہاڑی موڑوں اور گھنے جنگلات کے بیچ سے ہوتا ہوا گزرا۔ یہ راستہ کافی دلچسپ تھا کیونکہ جابجا قدرتی آبشاریں، اونچی پہاڑیاں اور دلفریب مناظر دیکھنے کو ملے۔ ہم نے راستے میں ایک جگہ رک کر ناشتے کا لطف اٹھایا۔ جیسے جیسے ہم مری کے قریب پہنچتے گئے، موسم اور بھی ٹھنڈا اور خوشگوار ہوتا گیا۔

کشمیر پہنچنے پر ہلکی سی بارش ہو رہی تھی، اور دھند نے ماحول کو اور بھی خوابناک بنا دیا تھا۔ ہمیں وہاں کی مال روڈ، پتریاٹہ کیبل کار، اور کشمیر پوائنٹ دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ سفر نہ صرف معلوماتی تھا بلکہ قدرتی خوبصورتی کا شاہکار بھی تھا، جس نے ہمیں پاکستان کے سیاحتی مقامات کی اہمیت کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دی۔

۴ کسی ایک عنوان پر ۲۰۰ الفاظ پرمشتمل مضمون لکھیے :

جموں سرینگر شاہراہ:

جموں سرینگر شاہراہ، جو ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں واقع ہے، خطے کی اہم ترین سڑکوں میں سے ایک ہے۔ یہ شاہراہ جموں کو سرینگر سے ملاتی ہے اور 270 کلومیٹر پر محیط ہے۔ یہ سڑک نہ صرف دونوں شہروں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے بلکہ ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ کشمیر کی معاشی اور سماجی زندگی کا بھی اہم ذریعہ ہے۔

یہ شاہراہ پہاڑی علاقوں اور دریاؤں کے ساتھ ساتھ گزرتی ہے، جس سے مسافروں کو قدرتی مناظر کا لطف بھی ملتا ہے۔ تاہم، موسم کی تبدیلی، برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے اس شاہراہ پر سفر اکثر مشکل ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر سردیوں میں یہ سڑک بند ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے سرینگر کا باقی دنیا سے زمینی رابطہ منقطع ہو جاتا ہے۔

جموں سرینگر شاہراہ پر تعمیرات اور حفاظت کے مسائل اکثر زیر بحث رہتے ہیں، کیونکہ یہ خطے کی اقتصادی اور سیاسی صورتحال پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ اس شاہراہ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے اسے بہتر بنانے کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے ہیں تاکہ یہاں سفر کو محفوظ اور آسان بنایا جا سکے۔ یہ شاہراہ نہ صرف ایک سڑک ہے بلکہ کشمیر کے عوام کے لیے زندگی کی رگ ہے جو انہیں باقی دنیا سے جوڑتی ہے۔