مثنوی: سحر البیان، تشریح، سوالات و جوابات

0
  • مثنوی: سحر البیان
  • شاعر: میر حسن
  • اشعار کی تشریح
شتابی مجھے ساقیا دے شراب
کہ یہ حال سُن کر ہوا دل ہوا کباب
یہاں کا تو قصہ میں چھوڑا یہاں
ذرا اب سنو غم زدوں کا بیاں
کھلی آنکھ جو ایک کی واں کہیں
تو دیکھا کہ وہ شہزادہ نہیں
نہ ہے وہ پلنگ اور نہ وہ ماہ رو
نہ وہ گل ہے اس جانہ وہ اس کی بو

تشریح:

ان اشعار میں میر حسن نے والدین کے دل کا حال بیان کیا ہے جو اپنے کھوئے ہوئے شہزادے کی یاد میں بے حد غمگین ہیں۔ وہ ساقی سے شراب مانگ کر دل کا کرب کم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کا دل غم سے جل رہا ہے۔ جب انہوں نے جاگ کر دیکھا تو نہ شہزادہ تھا، نہ اس کا پلنگ، نہ اس کا چہرہ اور نہ اس کی خوشبو؛ اس غم میں والدین کا دل ٹوٹ گیا ہے۔

کوئی دیکھ یہ حال رونے لگی
کوئی غم سے جی اپنا کھونے لگی
کوئی بلبلاتی سی پھرنے لگی
کوئی ضعف کھا کھا کے گرنے لگی
کوئی سر پر رکھ ہاتھ دل گیر ہو
گئی بیٹھ ماتم کی تصویر ہو
کوئی رکھ کے زیر زنخداں چھڑی
رہی نرگس آسا کھڑی کی کھڑی

تشریح:

ان اشعار میں میر حسن نے شہزادے کے ارد گرد موجود کنیزوں کے غم و الم کو بیان کیا ہے جو اس کی جدائی میں بے حد پریشان ہیں۔ کوئی روتے ہوئے دکھائی دے رہی ہے، کوئی غم کی شدت سے نڈھال ہو کر گر رہی ہے، کوئی بلبلاتی پھر رہی ہے، اور کوئی ماتم کی تصویر بنی بیٹھی ہے۔ ایک کنیز زیر زنخداں (ٹھوڑی کے نیچے) چھڑی رکھے نرگس کی مانند غم میں کھڑی ہے۔ یہ سب شہزادے کی جدائی کے دکھ سے گزر رہی ہیں۔

رہی کوئی انگلی کو دانتوں میں داب
کسی نے کہا گھر ہوا یہ خراب
کسی نے دیے کھول سنبل سے بال
طمانچوں سے جوں گل کیے سُرخ گال
نہ بن آئی کچھ اُن کو اس کے سوا
کہ کہیے یہ احوال اب شہ سے جا
سنی شہ نے القصہ جب یہ خبر
گراخاک پہ کہہ کے ہائے پسر

تشریح:

ان اشعار میں میر حسن نے شہزادے کی جدائی پر کنیزوں کی شدتِ غم کو مزید وضاحت سے بیان کیا ہے۔ کوئی کنیز حیرت و پریشانی میں اپنی انگلی دانتوں میں دبا لیتی ہے، تو کوئی کہتی ہے کہ گھر برباد ہو گیا۔ کچھ کنیزیں اپنے بال کھول کر اور گالوں پر طمانچے مار کر اپنے غم کا اظہار کرتی ہیں۔ آخرکار، جب ان کے پاس اور کوئی چارہ نہ رہا تو انہوں نے طے کیا کہ بادشاہ کو یہ المناک خبر دی جائے۔ جب بادشاہ کو یہ خبر ملی، تو وہ “ہائے میرے بیٹے” کہتے ہوئے زمین پر گر پڑا۔

کلیجہ پکڑ ماں تو بس رہ گئی
کلی کی طرح سے بکس رہ گئی
کہا شہ نے واں کا مجھے دو پتا
عزیز و جہاں سے وہ یوسف گیا۔
گئیں لے وہ شہ کو لپ بام پر
دکھایا کہ سویا تھا وہ سیم بز
یہی تھی جگہ وہ جہاں سے گیا
کہا ہائے بیٹا تو یاں سے گیا

تشریح:

ان اشعار میں میر حسن نے شہزادے کے لاپتہ ہونے پر ماں کی بے بسی اور غم کو انتہائی دلگیر انداز میں پیش کیا ہے۔ ماں دل تھامے بس رہ گئی، اور اس کا حال ایسا تھا جیسے کوئی کلی مرجھا جائے۔ بادشاہ نے اپنے بیٹے کے لاپتہ ہونے کی جگہ کے بارے میں پوچھا۔ اسے بام (چھت) پر لے جایا گیا اور وہ جگہ دکھائی گئی جہاں شہزادہ سویا کرتا تھا۔ اس جگہ کو دیکھ کر بادشاہ غم میں ڈوب گیا اور کہنے لگا، “ہائے بیٹا! تُو یہیں سے گیا۔” ان اشعار میں والدین کی بے قراری اور بے بسی کی شدت کو نمایاں کیا گیا ہے۔

مرے نوجواں میں کہاں جاؤں پیر
نظر تو نے مجھے پر نہ کی بے نظیر
عجب بحر غم میں ڈبویا مجھے
غرض جان سے تو نے کھویا مجھے
عجب طرح کی شب تھی ہی ہیہات وہ
قیامت کا دن تھا نہ تھی رات وہ
سحر نے کیا جب گریبان چاک
اڑانے لگے مل کے سب سر پہ خاک

تشریح:

ان اشعار میں میر حسن نے ایک والدین کے دل کی گہرائی میں چھپے درد کو بیان کیا ہے جو اپنے نوجوان بیٹے کے بچھڑ جانے کے غم میں مبتلا ہیں۔ والدین حسرت سے کہتے ہیں کہ “اے بے نظیر (لاڈلے)، تُو نے ہماری طرف توجہ بھی نہ دی اور ہمیں غم کے سمندر میں ڈبو دیا۔ تیرے بغیر ہماری زندگی برباد ہو گئی۔” اس رات کی حالت کو قیامت کے دن سے تشبیہ دی گئی ہے، جہاں غم کی شدت ناقابلِ برداشت ہے۔ صبح ہوتے ہی سب نے اپنے گریبان چاک کیے اور مل کر اپنے سر پر خاک ڈالنے لگے، جس سے ان کے غم کی شدت اور بے بسی ظاہر ہوتی ہے۔

اٹھا شہر میں ہر طرف شور و غل
کہ غائب ہوا اس چمن سے وہ گل
غم و درد سے دل جو سب کا بھرا
ہوا باغ سارا وہ ماتم سرا
گیا جب کہ وہ سرو اس باغ سے
نظر پھول آنے لگے داغ سے
اکڑنا گئے سرو سب اپنا بھول
اڑانے لگیں قمریاں سر پہ دھول

تشریح:

ان اشعار میں میر حسن نے شہر میں شہزادے کے لاپتہ ہونے کے بعد کے حالات کو بیان کیا ہے۔ ہر طرف شور و غل مچ گیا کہ جیسے چمن سے ایک خوبصورت پھول غائب ہوگیا ہو۔ لوگوں کے دل غم سے بھر گئے اور پورا باغ ماتم سرا بن گیا۔ جیسے ہی باغ کا سرو قامت (شہزادہ) گیا، پھولوں کی خوبصورتی مانند پڑ گئی اور ان پر داغ دکھائی دینے لگے۔ سرو اپنی اکڑ بھول گئے، اور قمریاں (پرندے) غم میں اپنے سر پر خاک ڈالنے لگیں۔ ان اشعار میں باغ کی حالت کو شہزادے کے غم سے تشبیہ دے کر پورے ماحول میں اداسی اور سوگ کا منظر پیش کیا گیا ہے۔

صدا اب جو کوئی انھوں کی سنے
تو کو کو سے ان کے جگر تک بھنے
ہوئے خشک اور زرد سارے نہال
ثمر لگ کے پاؤں ہوئے پائمال
ترانے سے بلبل کا جی ہٹ گیا
گلوں کا جگر درد سے پھٹ گیا
تبسم گیا حزن سے غنچہ بھول
ہوا غم سے از بس لہو پی کے پھول

تشریح:

ان اشعار میں میر حسن نے شہزادے کے لاپتہ ہونے کے بعد باغ کی حالت اور پرندوں کی کیفیت کو غمگین انداز میں بیان کیا ہے۔ جب بھی کسی نے باغ کے پرندوں کی آواز سنی تو ان کی کو کو کی آواز دل کو جلا دینے والی تھی۔ باغ کے تمام درخت زرد اور خشک ہوگئے، اور پھل زمین پر گر کر پائمال ہو گئے۔ بلبل کے دل سے نغمہ سرائی کا شوق ختم ہوگیا، اور پھول غم کی شدت سے اندر ہی اندر پھٹ گئے۔ غنچے کی مسکراہٹ (کھلنا) بھی حزن و ملال کے باعث ختم ہو گئی، اور پھول غم سے جیسے خون پی کر لال ہو گئے۔ اس منظر میں شاعر نے فطرت کے ذریعے غم و الم کی شدت کو نمایاں کیا ہے۔

اڑا نور نرگس کی آنکھوں کا سب
ہوئے بال سنبل کے ماتم کی شب
لب جو جو اڑنے لگی گرد گرد
گل اشرفی کا ہوا رنگ زرد
لگی آگ لالے کے دل کو تمام
دیا خاک میں پھینک عشرت کا جام
پڑا ماتم اس باغ میں بس کہ سخت
ہوئے محل ماتم تمامی درخت

تشریح:

ان اشعار میں میر حسن نے باغ کی حالت کو مزید غمناک انداز میں پیش کیا ہے۔ شہزادے کے بچھڑ جانے سے نرگس کی آنکھوں کی چمک ختم ہوگئی، سنبل (بالوں کی مانند پتیاں) ماتم کی رات کی طرح بکھر گئیں۔ گلاب کی پتیوں پر گرد جم گئی، اور اشرفی گل (پیلا پھول) زرد پڑ گیا۔ لالے کے دل میں آگ سی لگ گئی، اور خوشیوں کا جام خاک میں مل گیا۔ باغ میں ایسا شدید ماتم چھا گیا کہ ہر درخت، ہر شجر غم کی تصویر بن گیا۔ اس منظر میں شاعر نے باغ کی کیفیت کو انسانوں کے غم سے جوڑ کر فطرت کی خاموش ماتم کو بیان کیا ہے۔

گرے غم سے انگور مدہوش ہو
پڑے سارے سائے سیہ پوش ہو
لگے تھے جو پتے درختوں کے ساتھ
وہ ہل ہل کے ملتے تھے آپس میں ہاتھ
وہ لب ریز جو نہر تھی جابجا
سو آنکھوں کو وہ رہ گئی ڈبڈبا
اُچھلتے تھے فوارے جو اس کے واں
گیا سب نکل اس کا تاب و تواں

تشریح:

ان اشعار میں میر حسن نے باغ میں غم کی شدت کو مزید تفصیل سے بیان کیا ہے۔ شہزادے کے بچھڑنے کے غم میں انگور مدہوش ہو کر گر پڑے، اور درختوں کے سائے سوگ کی علامت کے طور پر سیاہ پوش ہوگئے۔ درختوں کے پتے ہلتے ہوئے ایسے محسوس ہو رہے تھے جیسے غم میں ایک دوسرے سے ہاتھ ملا رہے ہوں۔ نہر، جو کبھی پانی سے لبریز تھی، اب غمگین آنکھوں کی مانند ڈبڈبا رہی تھی۔ اس کے فوارے، جو پہلے اٹھکیلیاں کرتے تھے، اب اپنی قوت اور تروتازگی کھو چکے تھے۔ ان اشعار میں شاعر نے باغ کی اشیاء کو غم کی علامت بنا کر ایک دلگیر منظر پیش کیا ہے۔

مژدہ پر جو کچھ اشک تھے جھڑ گئے
غرض روتے روتے گڑھے پڑ گئے
ہوا حال چشموں کا یاں تک تباہ
کیا رخت پانی نے اپنا سیاہ
نہ بنگلوں کا عالم نہ وہ قرقرے
نہ وہ آب جوئیں نہ سبزے ہرے
گلوں کی طرح کھل رہے تھے جو دل
سو وہ سب خزاں سے ہوئے متحمل

تشریح:

ان اشعار میں میر حسن نے شہزادے کے غم کے بعد باغ کی حالت کی مزید بربادی کا ذکر کیا ہے۔ جیسے ہی غم کی خبر ملی، آنکھوں سے اشک بہنے لگے اور لوگ روتے روتے گڑھوں میں گر گئے۔ چشموں کا حال بھی تباہ ہوگیا، اور پانی نے اپنی سیاہی میں اضافہ کر دیا۔ نہ بنگلوں کی رونق رہی، نہ ندیوں کی سرگوشیاں، اور نہ ہی سبزے کی تازگی باقی رہی۔ دل جو کبھی پھولوں کی مانند کھلتے تھے، اب خزاں کے اثرات سے متحمل ہو چکے ہیں۔ ان اشعار میں شاعر نے دل کی بربادی اور فطرت کی ویرانی کے ذریعے غم کی شدت کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔

نہ غنچہ نہ گل نے گلستاں رہا
فقط دل میں اک خار ہجراں رہا
وزیروں نے دیکھا جو احوال شاہ
کہ ہوتی ہے اب اس کی حالت تباہ
کہا گو جدائی گوارا نہیں
و لیکن جدائی سے چارا نہیں
نہیں خوب اتنا تمہیں اضطراب
نصیبوں سے شاید ملے وہ شتاب

تشریح:

ان اشعار میں میر حسن نے شہزادے کی جدائی کے اثرات کو مزید وضاحت سے بیان کیا ہے۔ باغ میں نہ کوئی غنچہ رہا، نہ کوئی پھول، صرف دل میں جدائی کا خار موجود ہے جو درد دیتا ہے۔ وزیروں نے جب بادشاہ کی حالت کو دیکھا کہ وہ بہت تباہ حال ہے، تو انہوں نے کہا کہ جدائی برداشت کرنا آسان نہیں، لیکن اس صورت حال کا کوئی حل نہیں۔ وزیروں نے بادشاہ کو تسلی دی کہ اتنا اضطراب نہ کرو، ممکن ہے کہ مقدر میں جلد ہی خوشخبری آئے۔ ان اشعار میں جدائی کی تلخی اور اس کے اثرات کے ساتھ ساتھ امید کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جو کہ ایک تضاد کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

خدا جانے اب اس میں کیا بھید ہے
یہ کہتے ہیں جیتوں کو اُمید ہے
لٹایا بہت باپ نے مال و زر
ولیکن نہ پائی کچھ اس کی خبر

تشریح:

ان اشعار میں میر حسن نے شہزادے کی جدائی کی تلخی اور بے بسی کو بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ خدا جانے اس حالت میں کیا راز چھپا ہوا ہے، حالانکہ لوگ امید رکھتے ہیں کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ بادشاہ نے اپنے بیٹے کی تلاش میں بہت سا مال و دولت لٹا دیا، لیکن پھر بھی اس کی کوئی خبر نہیں ملی۔ ان اشعار میں والد کی پریشانی اور بے بسی کے احساس کے ساتھ ساتھ اس تلاش کی ناکامی کا دکھ بھی جھلکتا ہے، جو انسانی محبت اور تعلق کی عکاسی کرتا ہے۔

مشق.

سوال نمبر 1 مثنوی کی تعریف کیجیے اور اس کے اجزائے ترکیبی کی بھی وضاحت کیجیے۔

جواب: مثنوی عربی لفظ ’’مثنیٰ‘‘ سے ماخوذ ہے جس کے لغوی معنی ہیں دو ۔دو۔ اصطلاح میں مثنوی اس شعری صنف کو کہتے ہیں جس کے تمام اشعار کسی ایک بحر میں ہوتے ہیں اور ہر شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں ۔اور ہر شعر کے قافیے دوسرے اشعار کے قافیے سے مختلف ہوتے ہیں۔

مثنوی میں عام طور پر کسی کہانی یا واقعے کا تسلسل کے ساتھ بیان ہوتا ہے۔ چونکہ یہ صنف اپنے اندر کافی وسعت رکھتی ہے اس لیے اس میں طویل واقعے یا قصے بیان کیے جاسکتے ہیں۔لیکن ترتیب کا خیال رکھنا ضروری ہے تاکہ دلچسپی پیدا کی جاسکے۔ موضوعاتی اعتبار سے بھی اس کا دائرہ کافی وسیع ہے۔ یعنی مثنوی میں سماجی، معاشرتی، اخلاقی، تہذیبی، مذہبی، تاریخی اور سیاسی وغیرہ ہر طرح کے موضوعات کو جتنا وسیع کرنا چاہیں کرسکتے ہیں۔ کیونکہ اس میں اشعار کی تعداد کی بھی کوئی پابندی نہیں ہے۔ اردو ادب میں اس کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ ایسی کئی مثنویاں ہیں جن کے اشعار کی تعداد ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ مولانا حالیؔ نے اس صنف کی تعریف بھی کی ہے اور اسے سب سے زیادہ کار آمد بتایا ہے۔

اجزائے ترکیبی

محققین نے مثنوی نگاری کے لیے متعدد اجزا متعین کیے ہیں جن پر مثنوی کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔ ان اجزائے ترکیبی میں پلاٹ، واقعہ نگاری، کردار نگاری،جذبات نگاری، منظر نگاری اور زبان و اسلوب کو کافی اہمیت حاصل ہے۔

پلاٹ:

چونکہ مثنوی میں واقعات کا بیان ہوتا ہے اس لیے اس میں ربط و تسلسل کا خاص خیال رکھا جاتا ہے تاکہ قاری کو الجھنوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اگر بے ترتیبی ہوگی تو مثنوی میں کمی واقع ہوگی اور اسے مقبولیت نہ مل سکے گی۔ اسی لیے مثنوی میں پلاٹ کو اہمیت حاصل ہے۔

واقعہ نگاری

مثنوی میں ہر طرح کے واقعات کو پیش کیا جاسکتا ہے چاہے وہ فطری ہوں یا غیر فطری۔ لیکن شرط یہ ہے کہ ان واقعات کے بیان میں چستی ہو، ان میں وضاحت ہو اور کسی طرح کا جھول یا پیچیدگی نہ ہو۔ ورنہ مثنوی میں کمی واقع ہوگی اور وہ اپنا اثر کھو دے گی۔ اسی کے مدنظر علامہ شبلی نعمانی نے مثنوی میں واقعہ نگاری کو کافی اہمیت دی ہے۔

کردار نگاری

مثنوی میں کردار نگاری کو بھی اہمیت حاصل ہے۔ مثنوی میں واقعات کو پیش کرنے کے لیے کرداروں کی ضرورت پڑتی ہے۔ان کرداروں کی مدد سے مثنوی کے واقعات آگے بڑھتے ہیں۔ اس لیے کردار نگاری میں چند باتوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ یعنی کرداروں کو ان کے اوصاف کے ساتھ بہتر انداز میں پیش کیا جائے۔وہ کردار جاندار ہوں اور ماحول، عہد اور حالات کے مطابق ہوں۔ ایسے میں مثنوی نگار کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ ان کرداروں کی نفسیات کو سمجھنے میں مہارت رکھتا ہو تاکہ بہتر کردار وجود میں آسکیں۔

جزبات نگاری:

مثنوی میں جذبات نگاری سے بھی کام لیا جاتا ہے تاکہ جو واقعات یا خیالات پیش کیے جا رہے ہوں وہ پر اثر ہوسکیں۔ اور مثنوی نگار قاری کو اپنی مثنوی کی طرف مائل کرسکے۔

منظر نگاری:

مثنوی میں جو واقعات پیش کیے جاتے ہیں ان سے متعلق مختلف مقامات یا مناظر کی بہتر تصویر کشی کرنا بھی کافی اہم مانا جاتا ہے۔ اس سے مثنوی کو مقبولیت ملتی ہے۔

زبان و اسلوب:

مثنوی میں زبان و اسلوب کو بھی کافی اہمیت حاصل ہے۔ مثنوی میں اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ زبان سادہ، صاف، آسان، عام فہم اور دلکش بھی ہو تاکہ قاری کو پوری مثنوی پڑھنے پر مجبور کیا جاسکے۔

سوال نمبر 2 اُردو مثنوی کی ابتداء وارتقاء پر روشنی ڈالیے۔

جواب: اردو مثنوی کے جو قدیم ترین نمونے دستیاب ہیں وہ حضرت بابا فرید گنج شکر اور دیگر صوفیا سے منسوب ہیں۔ کبیر داس کی ایک نظم بھی مثنوی کے پیرائے میں ملتی ہے۔ اسی سلسلے میں قطبن اور شیخ عبدالقدوس گنگوہی کے نام بھی قابل ذکر ہیں۔

جدید اردو مثنوی کی بنیاد دکن اور گجرات میں پڑی۔ وہاں اس صنف کو جن بزرگوں کی سر پرستی حاصل رہی وہ ہیں : شاہ علی محمد جیو گام دھنی، میاں خوب محمد چستی ، حضرت گیسو دراز ، شاہ میراں جی شمس العشاق اور شاہ برہان الدین جانم وغیرہ۔

بیجاپور میں لکھی گئی مثنویوں میں مقیمی کی ” چندر بدن و مہیار ” اہم ہے ۔ یہ ایک عشقیہ قصہ ہے جس میں فوق فطری باتیں بھی شامل ہیں۔ امین مقیمی کا ہم عصر تھا ، اس نے ایک مثنوی ” بہرام و حسن بانو لکھی۔ ملک خشنود نے “ہشت بہشت ” اور ” یوسف زلیخا” دو مثنویاں لکھیں۔ نصر تی اس عہد کا بلند یا یا شاعر تھا ، اس نے قصائد کے علاوہ مثنویاں بھی لکھیں۔ ان میں ” علی نامہ ” بہت مشہور ہوئی۔ یہ ایک رزمیہ مثنوی ہے ۔ ہاشمی نے ایک مثنوی ” یوسف زلیخا” لکھی۔

گولکنڈہ میں اردو ادب کو بہت فروغ ہو رہا تھا اور وہاں مثنویاں بھی لکھی جارہی تھیں۔ ان مثنویوں میں وجہی کی ” قطب مشتری” ، ابن نشاطی کی ” پھول بن”، غواصی کی ” سیف الملوک و بدیع الجمال و طوطی نامہ” ، طبعی کی ” بهرام و گل اندام ” نے بہت شہرت پائی۔سراج دکنی نے بھی کئی مختصر مثنویاں لکھیں۔ شعر ائے دہلی نے بھی مثنوی کی طرف توجہ کی۔ یوں تو تقریباً سبھی شاعروں نے مثنویاں لکھیں۔

میر و مصحفی کی مثنویوں کو خصوصیت سے مقبولیت حاصل ہوئی لیکن میر حسن کی مثنوی سحر البیان” کے رتبے کو کوئی مثنوی نہیں پہنچتی ۔ یہ مثنوی فن کاری کا عمدہ نمونہ ہے ۔بے نظیر و بدر منیر کا عشقیہ قصہ اس کا موضوع ہے۔ اس کے بعد ایک اور لافانی مثنوی وجود میں آئی، یہ پنڈت دیا شنکر نسیم کی ”گلزار نسیم” ہے۔ اس کا موضوع بھی ایک عشقیہ داستان ہے۔ اس کا اندازبیان پر کشش ہے۔

اس کے بعد قلق اور نواب واجد علی شاہ اختر نے بھی مثنویاں لکھیں۔ پھر شوق نے تین عشقیہ مثنویاں : بہار عشق، زہر عشق اور فریب عشق لکھیں، جنہیں کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔حالی نے مقدمہ شعر و شاعری میں مثنوی کی اہمیت واضح کی۔ انگریزی حکومت کے قیام اور طرزِ معاشرت میں تبدیلیوں کے بعد ادب میں جو انقلاب رونما ہوا اس کو خوش آمدید کہنے والوں میں آزاد اور حالی بہت نمایاں ہیں۔

ان دونوں بزرگوں نے مثنویاں بھی لکھیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں کسی قسم کی نظموں کی ضرورت تھی ۔ان کے زیر اثر بعض اور شعرا بھی اس طرف متوجہ ہوئے۔ اسمعیل مراٹھی نے بچوں کے نام سے مثنویاں لکھیں ، علامہ اقبال نے اپنے فلسفے کو پیش کرنے کے لیے مثنوی سے کام لیا، عصر حاضر میں حفیظ جالندہری نے ایک طویل مثنوی ” شاہ نامہ اسلام ” پیش کی۔ اس میں شک نہیں کہ اس صنف میں اب بھی بہت امکانات پوشیدہ ہیں لیکن اس کی طرف جتنی توجہ کی ضرورت ہے وہ ابھی نہیں کی گئی۔

سوال نمبر 3 سحر البیان، اردو ادب کی شاہ کار مثنوی ہے۔ اس مثنوی کے شامل نصاب حصے کو مد نظر رکھ کر سحر البیان کی خصوصیات بیان کیجیے۔

1. عمیق جذبات:

سحر البیان میں محبت، غم، جدائی اور حسرت جیسے جذبات کی گہرائی کو خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے، جو قاری کو متاثر کرتا ہے۔

2. شعری زبان:

اس میں استعمال ہونے والے الفاظ اور تشبیہات دلکش اور معنی خیز ہیں، جو شعری جمالیات کو بڑھاتے ہیں۔

3. فطرت کی عکاسی:

مثنوی میں فطرت کی خوبصورتی اور اس کے ساتھ انسانی جذبات کے تعلقات کو پیش کیا گیا ہے، جس سے فطرت کی زندگی اور روح کی عکاسی ہوتی ہے۔

4. حکایتوں کا استعمال:

اس میں مختلف حکایتیں اور قصے شامل ہیں، جو قاری کو کہانی کی صورت میں دلچسپی فراہم کرتے ہیں اور درس بھی دیتے ہیں۔

5. نظم و نثر کا امتزاج:

سحر البیان میں نظم اور نثر دونوں کا استعمال کیا گیا ہے، جو کہ اسے مختلف طریقوں سے پڑھنے اور سمجھنے میں آسانی فراہم کرتا ہے۔

6. سماجی تنقید:

اس مثنوی میں معاشرتی مسائل اور انسانی رشتوں کی پیچیدگیوں پر تنقید کی گئی ہے، جو کہ اسے صرف ایک ادبی کام نہیں بلکہ ایک معاشرتی پیغام بھی عطا کرتی ہے۔

سوال نمبر 4‌ مثنوی کے شامل نصاب حصے کو نثر میں لکھیے۔

مثنوی کے اس قصے میں شہزادے کے غائب ہونانے کے بعد اس کے تباہ حال والدین کی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے۔کہ کوئی اس خبر کو سن کر بے ہوش ہو کر گر رہا تھا جبکہ کوئی اپنا کلیجہ پکڑ کر بیٹھ گیا تھا۔اردگرد کے ماحول اور موسم پر بھی اداسی کی کیفیت چھا گئی تھی۔ہر شے ماتم کر رہی تھی مناظر میں پہلی سی خوبصورتی نہ تھی بادشاہ نے بھی اپنا سارا زر لٹا دیا تھا۔

سوال نمبر 5 ”سحر البیان کے نصاب میں شامل حصے میں جن پھولوں کا ذکر ہوا ہے۔ اُن کی فہرست تیار کیجیے۔ اُن میں سے جن پھولوں کو آپ نے دیکھا ہے۔ ان کے بارے میں دو دو جملے لکھیے۔

جواب: نرگس ، سنبل، لالے کا پھول اور گل اشرفی۔

نرگس:

نرگس کا پھول بہار کی آمد کا نشان ہے اور یہ اپنی پیلی اور سفید رنگت کے لیے جانا جاتا ہے۔اس کی خوشبو نرم اور دلکش ہوتی ہے، جو باغات کی خوبصورتی کو بڑھاتی ہے۔

لالہ:

لالہ کا پھول عموماً سرخ یا پیلے رنگ کا ہوتا ہے اور یہ بہار کے موسم میں کھلتا ہے۔ یہ پھول اپنی خوبصورتی کے باعث باغات میں نمایاں ہوتا ہے اور خوشبو بھی دیتا ہے۔

۳ قواعدی سوالات:

مثنوی سے ایسے مزید اشعار کی نشاندہی کیجیے۔ جن میں تشبیہ کا استعمال ہوا ہے اور پھر ان اشعار کی تشریح کیجئے۔

گلوں کی طرح کھل رہے تھے جو دل
سو وہ سب خزاں سے ہوئے مشتمل
کوئی رکھ کے زیر زنخداں چھڑی
رہی نرگس آسا کھڑی کی کھڑی

ان اشعار کی تشریح اوپر ملاحظہ کریں۔