غزلیات جگر مراد آبادی، تشریح، سوالات و جوابات

0

غزل نمبر 1 کی تشریح

کیا خاک سیر کیجیے دنیائے رنگ و بو کی
مہلت نہ آرزو کی، فرصت نه جستجو کی

تشریح:

جگر مراد آبادی اس شعر میں زندگی کی تیزی اور مصروفیت کا ذکر کرتے ہیں، جس میں انسان کے پاس نہ خواہشات پوری کرنے کا وقت ہے اور نہ کسی چیز کو حاصل کرنے کی فرصت۔ دنیا کی رنگینیوں میں کھو کر ہم اپنی اصل آرزوؤں اور تلاش کو بھول جاتے ہیں۔

یہ حد آخری ہے عاشق کی جستجو کی
بن بن کے مٹ رہی ہے ہر شکل آرزو کی

تشریح:

اس شعر میں شاعر عاشق کی جستجو کی انتہا بیان کر رہے ہیں کہ عاشق کی جستجو کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ ہر آرزو مختلف شکلوں میں جنم لیتی اور مٹتی رہتی ہے۔ یہ عاشق کے بے پایاں جذبات اور بے انتہا طلب کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ ترک جستجو بھی کیا ترک جستجو ہے
اس میں بھی پا رہا ہوں اک شان جستجو کی

تشریح:

شاعر کہتا ہے کہ جستجو کو ترک کرنے کی کوشش بھی دراصل جستجو ہی کی ایک شکل ہے۔ ترکِ جستجو کے عمل میں بھی اُسے تلاش کا ایک نیا انداز مل رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حقیقی عاشق کے لیے طلب کبھی ختم نہیں ہوتی۔

مایوس ہو کے پلیٹیں جب ہر طرف سے نظریں
دل ہی کو بت بنایا، دل ہی سے گفتگو کی

تشریح:

شاعر کہتا ہے کہ جب ہر طرف سے امید ختم ہو گئی اور کوئی راستہ نہ بچا، تو اس نے اپنے دل کو ہی مرکز بنا لیا۔ دل کو ہی معبود کی طرح تصور کر کے اپنی تمام باتیں اور درد اسی سے کہہ ڈالے، گویا کہ دل ہی اس کا ہمراز اور ہمسفر بن گیا۔

تو خوب جانتا ہے او جان دل کے مالک
ہر حال میں جگر نے تیری ہی آرزو کی

تشریح:

شاعر اپنے محبوب سے مخاطب ہے اور کہتا ہے کہ “اے دل کے مالک، تُو خوب جانتا ہے کہ جگر نے ہر حال میں صرف تیری ہی خواہش کی ہے۔” اس میں عاشق کی وفا اور سچی محبت کا اظہار ہے کہ اس نے ہمیشہ محبوب کی طلب کو ہی اپنی زندگی کا مقصد بنایا ہے۔

غزل نمبر 2 کی تشریح

عشق کی نمود پیہم کیا
ہوتمھیں تم اگر تو پھر ہم کیا

تشریح:

جگر مرادآبادی کی اس غزل میں “عشق کی نمود پیہم کیا، ہو تمہیں تم اگر تو پھر ہم کیا” کا مفہوم یہ ہے کہ اگر عاشق اور محبوب کے درمیان عشق کی مسلسل نمود (یعنی اظہار یا تجلی) موجود ہو، تو پھر اپنی ذات یا “ہم” کا تصور بے معنی ہو جاتا ہے۔ شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ عشق میں اتنی شدت اور گہرائی ہو کہ محبوب کے سامنے اپنی کوئی حیثیت باقی نہ رہے۔ گویا عاشق اپنی ذات کو محبوب میں فنا کر دیتا ہے اور خود کو مکمل طور پر محبوب کی محبت میں ڈھال دیتا ہے۔

جز ترے کچھ نظر نہیں آتا
آرزو بن گئی مجسم کیا

تشریح:

جگر مرادآبادی کی اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ محبوب کے سوا اسے کچھ اور نظر نہیں آتا۔ یہ کیفیت عشق کی انتہا کو بیان کرتی ہے، جہاں عاشق کی تمام تر خواہشیں، آرزوئیں اور خیالات محبوب کی صورت میں مجسم ہو گئے ہیں۔ یعنی محبوب کی محبت نے عاشق کی ہر آرزو کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے لیا ہے اور اس کی شخصیت کا ہر پہلو محبوب کی محبت میں ڈھل چکا ہے۔

ان نگاہوں کے سب کرشمے ہیں
ورنہ یہ اضطراب پیہم کیا

تشریح:

اس شعر میں جگر مرادآبادی محبوب کی نگاہوں کے جادو اور اثر کا ذکر کرتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ عاشق کے دل میں جو مسلسل بے چینی اور اضطراب ہے، وہ دراصل محبوب کی نگاہوں کا کرشمہ ہے۔ یعنی محبوب کی آنکھوں کی تاثیر نے عاشق کو بے قرار اور مضطرب کر دیا ہے، ورنہ اس کیفیت کا اور کوئی سبب نہیں۔ شاعر یہاں محبوب کی نگاہوں کی طاقت کو سراہتے ہیں کہ وہ کس طرح عاشق کو اپنی طرف کھینچتی اور بے چین رکھتی ہیں۔

موت کی نیند چھائی جاتی ہے
کہہ چکے ہیں فسانہ غم کیا

تشریح:

اس شعر میں جگر مرادآبادی موت کی حالت کو بڑی خوبصورتی سے بیان کر رہے ہیں۔ “موت کی نیند چھائی جاتی ہے” کا مطلب ہے کہ جب موت آتی ہے تو انسان پر ایک گہری خاموشی طاری ہو جاتی ہے، جیسے وہ نیند کی آغوش میں چلا گیا ہو۔ یہ نیند زندگی کے تمام شور و غل اور دکھوں سے نجات کا احساس دلاتی ہے۔اسی طرح دوسرے مصرعے میں “کہہ چکے ہیں فسانہ غم کیا” یہ ظاہر کرتی ہے کہ غم اور دکھ کی کہانیاں پہلے ہی سنائی جا چکی ہیں، یعنی زندگی میں جتنی مشکلات اور درد ہیں، وہ سب کو معلوم ہیں۔ اس طرح، شاعر یہ بتانا چاہتا ہے کہ موت ایک ایسی حالت ہے جہاں انسان ان تمام کہانیوں اور غموں سے آزاد ہو جاتا ہے، اور سکوت اور آرام کی کیفیت میں چلا جاتا ہے۔ یہ شعر انسانی وجود کی ناپائیداری اور زندگی کے دکھوں کی شدت کو اجاگر کرتا ہے۔

عشق خاموش کے مزے ہیں جگر
جوش فریاد شور ماتم کیا

تشریح:

اس شعر میں جگر مرادآبادی عشق کی خاموشی کی خوبصورتی اور گہرائی کو بیان کر رہے ہیں۔ “عشق خاموش کے مزے ہیں” کا مطلب ہے کہ حقیقی عشق کی لذت خاموشی میں ہے، جہاں الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ دوسری سطر “جوش فریاد شور ماتم کیا” بتاتی ہے کہ جب عشق میں جذبات کا جوش و خروش آتا ہے، تو اس کی فریاد اور شور بے معنی ہو جاتے ہیں، یعنی عشق کی حقیقی کیفیت خاموشی میں ہی محسوس ہوتی ہے۔

مشق:

۱ جگر مراد آبادی کی سوانح حیات پر روشنی ڈالیے۔

جواب: جگر مراد آبادی کا نام علی سکندر اور تخلص جگر تھا۔ جگر کی پیدائش 6 اپریل 1890ء کو مراد آباد میں ہوئی۔ بچپن میں بہت چھوٹی عمر میں ہی جگر مراد آبادی کے والد کا انتقال ہو گیا۔ اس وجہ سے اپنے بچپن میں انہیں کافی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا۔جگر نے اپنی ابتدائی تعلیم مدرسہ سے حاصل کی۔ انہوں نے عربی، اردو اور فارسی سیکھی۔ ان کے شاعری کے استاد رسہ رامپوری تھے ۔ جگر مراد آبادی ایسے شخص ہیں جنہوں نے شاعری میں بہت زیادہ مقبولیت حاصل کی ہے ۔ جب بھی مشاعرے کا نام لیا جاتا ہے جگر کا نام ضرور آتا ہے۔

جگر مراد آبادی نے بہت چھوٹی عمر میں شعر کہنا شروع کر دیا تھا۔ تقریباً 12-13 سال کی عمر میں شاعری کے بہت زیادہ شوقین ہو گئے تھے ۔ اور 15 سال کی عمر میں شراب کی عادت بھی اختیار کرلی۔ لیکن جب عمر بڑھنے لگی تو اصغر گونڈوی کے کہنے پر یہ عادت چھوڑ دی۔ ان کی شاعری کے جذبہ کو اضغر گونڈوی نے بہت زیادہ بڑھاوا دیا۔ اور یہ جگر مراد آبادی کو اپنے قریب مانتے تھے ۔ 9 دسمبر کو 1960ء میں گونڈہ میں آپ کا انتقال ہو گیا۔

۲ جگر کی غزل گوئی پر نوٹ لکھیے۔

جگرمراد آبادی ایسے شاعر ہیں جن کی غزل قدیم تغزّل اور بیسویں صدی کے وسط و اواخر کی رنگین نگاری کا خوبصورت امتزاج ہے۔ جگر شاعری میں اخلاقیات کا درس نہیں دیتے لیکن ان کی شاعری کا اخلاقی معیار بہت بلند ہے۔ وہ تغزّل کے پردہ میں انسانی خامیوں پر ضربیں لگاتے گزر جاتے ہیں۔ جگر نے قدیم اور جدید تمام شعراء کی فکر سے استفادہ کیا۔ وہ بہت زیادہ آزاد نہ سہی لیکن مکتبی معائب سخن کی زیادہ پروا نہیں کرتےتھے۔ وہ فکر اور غنائیت کو ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر قربان نہیں کرتے۔

ان کا کلام بے ساختگی اور آمد سے معمور ہے سرمستی اور دلفگاری، تاثر اور سرشاری ان کے کلام کی نمایاں خصوصیت ہے۔ ان کی زندگی اور ان کی شاعری میں مکمل مطابقت ہے محاکات کے اعتبار سے اکثر مقامات ایسے ملیں گے کہ مصور کے تمام کمالات ان کی تصویر کشی کے سامنے ہیچ نظر آئیں گے۔ جگر حسن و عشق کو مساویانہ درجہ دیتے ہیں ان کے نزدیک حسن اور عشق دونوں ایک دوسرے کا عکس ہیں۔ جگر نے تغزل کو معراج کمال تک پہنچا دیا اور یہی ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔جگر کی آواز میں بلا کارس اور شیرینی تھی۔ جب وہ ہمہ تن شعر بن کر غزل سناتے تو وہ مشاعرہ لوٹ لیتے تھے۔ خاص و عام میں اُن کی یہ مقبولیت محض خوش آوازی کی مرہون نہ تھی بلکہ شعر کی معنوی خوبیاں، اُس کے الفاظ کا درست ہونا، خیال کی بلندی اور جذبے کی فراوانی داد بشن دینے پر مجبور کرتی تھی۔ حالی کے مقدمے کے بعد اُردو غزل ناپسندیدہ ہی شئے تصور کی جانے لگی تھی۔ جگر نے اسے پھر سے اُردو کی محبوب ترین صنف سخن بنا دیا۔

سوال نمبر 3 درج ذیل لفظوں کی جمع صورتوں کو جملوں میں استعمال کیجیے۔

عاشق: کئی عاشق اپنی محبت کے لیے جان دینے کو تیار ہیں۔
شکل ان سب کی شکل ایک جیسی تھی، مگر ہر ایک کا انداز مختلف تھا۔
نظر ان کی نظر میں محبت کی ایک خاص چمک تھی جو سب کو متوجہ کر لیتی تھی۔
مالک مختلف مالک اپنی جائیداد کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں۔ / اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کا مالک و خالق ہے۔
فسانہ بہت سے فسانے دل کو چھو لینے والی کہانیوں کا حصہ ہیں۔

سوال نمبر 4 درج ذیل اشعار کی تشریح کیجیے

جواب: تشریح اوپر دی گئی ہے۔

۵ جگر کے حالات زندگی قلمبند کیجیے۔

جگر مراد آبادی کا نام علی سکندر اور تخلص جگر تھا۔ جگر کی پیدائش 6 اپریل 1890ء کو مراد آباد میں ہوئی۔ بچپن میں بہت چھوٹی عمر میں ہی جگر مراد آبادی کے والد کا انتقال ہو گیا۔ اس وجہ سے اپنے بچپن میں انہیں کافی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا۔جگر نے اپنی ابتدائی تعلیم مدرسہ سے حاصل کی۔ انہوں نے عربی، اردو اور فارسی سیکھی۔ ان کے شاعری کے استاد رسہ رامپوری تھے۔

جگر مراد آبادی ایسے شخص ہیں جنہوں نے شاعری میں بہت زیادہ مقبولیت حاصل کی ہے ۔ جب بھی مشاعرے کا نام لیا جاتا ہے جگر کا نام ضرور آتا ہے۔جگر مراد آبادی نے بہت چھوٹی عمر میں شعر کہنا شروع کر دیا تھا۔ تقریباً 12-13 سال کی عمر میں شاعری کے بہت زیادہ شوقین ہو گئے تھے ۔ اور 15 سال کی عمر میں شراب کی عادت بھی اختیار کرلی۔ لیکن جب عمر بڑھنے لگی تو اصغر گونڈوی کے کہنے پر یہ عادت چھوڑ دی۔ ان کی شاعری کے جذبہ کو اضغر گونڈوی نے بہت زیادہ بڑھاوا دیا۔ اور یہ جگر مراد آبادی کو اپنے قریب مانتے تھے ۔ 9 دسمبر کو 1960ء میں گونڈہ میں آپ کا انتقال ہو گیا۔

۶ خالی جگہوں کو بھرئیے۔

  • اُردو غزل کی ابتداء دکن میں ہوئی۔
  • جگر کی استعداد عملی غیرمعمولی تھی۔
  • جگر نے ابتداء میں داغ سے اصلاح لی۔
  • جگر کا مجموعہ کلام نالہ طور ہے۔
  • جگر کے مجموعہ کلام پر ثقافتی اکیڈیمی نے انعام دیا۔
  • جگر کا انتقال 1960ء میں ہوا۔