Back to: 11th Class Urdu Notes JKBOSE | Chapterwise Notes
- سبق: گدڑی کا لال نور خان
- مصنف: مولوی عبد الحق
مشق
۲. مختصر نوٹ لکھیے۔
(الف) انشائیہ:
انشائیہ ایک ادبی صنف ہے جس میں مصنف اپنے خیالات اور جذبات کو آزادانہ اور تخلیقی انداز میں پیش کرتا ہے۔ اس میں موضوع کی گہرائی سے زیادہ اسلوب اور طرز بیان کی خوبصورتی کو اہمیت دی جاتی ہے۔ انشائیہ میں کوئی مخصوص خاکہ یا ترتیب نہیں ہوتی بلکہ یہ مصنف کی سوچ اور تخیل کے بہاؤ کا عکاس ہوتا ہے۔
ب) خاکہ:
خاکہ ایک ادبی صنف ہے جس میں کسی شخصیت، منظر یا واقعے کا تفصیلی اور مؤثر بیان پیش کیا جاتا ہے۔ خاکے میں کردار یا صورتحال کی ایسی تصویر کشی کی جاتی ہے کہ قاری کے سامنے ایک واضح اور جاندار تصور اُبھرتا ہے۔ اس میں شخصیت کی عادات، اطوار اور مزاج کو نمایاں کیا جاتا ہے، اور بعض اوقات ہلکا طنز یا مزاح بھی شامل کیا جاتا ہے۔
سبق “گدڑی کا لال” پڑھ کر نور خان کی شخصیت کے بارے میں مضمون تحریر کریں۔
نور خان ایک غریب سپاہی ہے جس کے بارے میں مصنف نے یہ مضمون تحریر کیا ہے جس کے مطالعے کے بعد نور خان کی شخصیت کے چند پہلو یوں ابھر کر سامنے آتے ہیں کہ نور خاں میں بعض ایسی خوبیاں تھیں جو بڑے بڑے لوگوں میں بھی نہیں ہوتیں۔ سچائی، بات کی اور معاملے کی، ان کی سرشت میں تھی اور خواہ جان ہی پر کیوں نہ بن جائے، وہ سچ کہنے سے کبھی نہیں چوکتا تھا۔ اس سے اسے نقصان بھی اٹھانے پڑے مگر وہ سچائی کی خاطر سب کچھ گوارا کرلیتا تھا۔مستعد ایسا تھا کہ اچھے اچھے جوان اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے۔ دن ہو، رات ہو، ہر وقت کام کرنے کو تیار۔ اکثر دولت آباد سے پیدل آتا جاتا تھا۔ کسی کام کو کہیے تو ایسی خوشی سے کرتے تھے کہ کوئی اپنا کام بھی اس قدر خوشی سے نہ کرتا ہوگا۔دوستی کے بڑے پکے اور بڑے وضع دار تھے، چونکہ ادنی اعلیٰ سب ان کی عزت کرتے تھے اس لیے ان کے غریب دوستوں سے بہت سے کام نکلتے تھے۔
خود دار ایسے کہ کسی سے ایک پیسے کے روادار نہ ہوتا ۔ مصنف سے انہیں خاص انس تھا، مصنف کوئی چیز دیتا تھا تو کبھی انکار نہ کرتے تھے، بلکہ کبھی کبھی خود فرمائش کرتے تھے، مٹھاس کے بے حد شائق تھے۔ ان کا قول تھا کہ اگر کسی کو کھانے کو میٹھا ملے تو نمکین کیوں کھائے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ نمکین کھانا مجبوری سے کھاتا ہوں، مجھ میں اگر استطاعت ہو تو ہمیشہ مٹھاس ہی کھایا کروں اور نمکین کو ہاتھ نہ لگاؤں۔
وہ حساب کا کھرا، بات کا کھرا، اور دل کا کھرا تھا۔ مہرو وفا کے پتلے اور زندہ دلی کی تصویر تھا۔ ایسے نیک نفس، ہم درد، مرنج و مرنجان اور وضع دار لوگ کہاں ہوتے ہیں۔ ان کے بڑھاپے پر لوگوں کو رشک آتا تھا اور ان کی مستعدی دیکھ کر دل میں امنگ پیدا ہوتی تھی۔ ان کی زندگی بے لوث تھی اور ان کی زندگی کا ہر لمحہ کسی نہ کسی کام میں صرف ہوتا تھا۔
۳. بابائے اردو مولوی عبدالحق کی زندگی کے حالات اور ادبی خدمات تحریر کیجیے۔
حالات زندگی اور ادبی خدمات:
اردو ادب میں بابائے اردو کا لقب پانے والے عبدالحق ۲۰ اپریل ۱۸۷۰ کو برطانوی ہندوستان میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ اس عہد کی روایت کے مطابق مولوی صاحب کی ابتدائی تعلیم ان کے گھر پر ہی ہوئی۔ بعد ازیں وہ میرٹھ میں پڑھتے رہے۔ مولوی صاحب نے تعلیم کو خود کے لئے لازم جانا اور علی گڑھ کالج سے بی اے کیا۔
مولوی عبدالحق صاحب کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد باقی تمام زندگی کو اردو ادب کی ترقی اور فروغ اور زبان کی بقا کے لئے وقف کر دیا۔ مولوی صاحب نے پہلی بار ادب کے شہ پارے تلاش کر کے اردو والوں کو ان سے روشناس کرایا اور ان کی ادبی ولسانی اہمیت کو اجاگر کیا۔
عبدالحق نے اردو کی ترویج و اشاعت کے سلسلے میں بڑا کام کیا جس میں ایک جامعہ عثمانیہ کا قیام بھی ہے۔ جامعہ عثمانیہ کے ساتھ ایک وسیع دار الترجمہ بھی قائم کر لیا۔ اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے میں بڑی جانفشانی سے کام لیا۔ انجمن ترقی اردو کا دفتر دہلی منتقل کرا کے مولوی صاحب خود بھی دہلی آگئے لیکن حالات سازگار نہ تھے لہذا کچھ عرصہ بعد کراچی آگئے اور یہاں اردو کی ترویج و اشاعت کا کام شروع کر دیا اور کالج کی بنیاد رکھی۔
مولوی صاحب نے ۹۲ برس کی عمر پائی۔ ۱۶ اگست ۱۹۶۱ کو وہ کراچی میں ہی راہی ملک عدم ہو گئے۔ انھیں کراچی میں مدفن کیا گیا۔
۴ درج ذیل اقتباس کو غور سے پڑھ کر آخر پر دیئے گئے سوالات کے جوابات لکھیے۔
لارڈ کرزن جب قلعہ کے اوپر بالا حصار پر گئے تو وہاں ستانے کے لیے کرسی پر بیٹھ گئے اور جیب سے سگرٹ وان نکال کر سلگایاہی تھا کہ یہ فوجی سلامی کر کے آگے بڑھے اور کہا کہ یہاں سگرٹ پینے کی اجازت نہیں ہے۔ لارڈ کرزن نے جلتا ہوا سگرٹ نیچے پھینک دیا اور جوتے سے رگڑ ڈالا۔ یہ حرکت دیکھ کر نواب بشیر نواز جنگ بہادر اور دوسرے عہدہ داراں کا رنگ فق ہو گیا۔ لہو کے گھونٹ پی کر چپ رہ گئے ۔ بعد میں بہت لے دے ہوئی ۔ مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔خان صاحب نے قاعدے کی پوری پابندی کی تھی۔
سوال نمبر 1 اوپر دیے گئے اقتباس کا ما حصل لکھیے۔
جواب: اس اقتباس کا ماحصل یہ ہے کہ جب لارڈ کرزن قلعہ بالا حصار پر گئے اور وہاں سگرٹ پینے لگے، تو ایک فوجی نے ان کو روکا کیونکہ وہاں سگرٹ پینے کی اجازت نہیں تھی۔ لارڈ کرزن نے اس ہدایت کو نظرانداز کرتے ہوئے سگرٹ زمین پر پھینک کر بجھا دیا۔ اس حرکت پر نواب بشیر نواز جنگ اور دیگر افسران پریشان ہو گئے، لیکن خاموش رہے کیونکہ فوجی نے قواعد کی پابندی کرتے ہوئے صحیح طریقے سے اپنی ڈیوٹی انجام دی تھی۔
سوال نمبر 2 : لارڈ کرزن نے جلتا ہوا سگرٹ کیوں پھینک دیا؟
جواب: کیونکہ فوجی نے انہیں منع کیا کہ یہاں سگریٹ پینے کی اجازت نہیں۔
سوال نمبر 3: عہدہ داروں کا رنگ کیوں فق ہوگیا؟
جواب: کیونکہ لارڈ کرزن کو فوجی نے سگریٹ پینے سے منع کیا تھا۔
سوال نمبر 4: ان محاوروں کے معنی لکھیے۔
| رنگ فق ہونا: | خوف، پریشانی یا حیرت کی حالت میں چہرے کا رنگ اُڑ جانا یا زرد پڑ جانا۔ |
| لہو کے گھونٹ پی کر رہ جانا: | انتہائی غصہ یا تکلیف کو برداشت کرنا لیکن خاموش رہنا اور اپنی ناراضگی یا جذبات کا اظہار نہ کرنا۔ |
| لے دے ہونا: | کسی معاملے پر بحث، جھگڑا یا اعتراضات اٹھنا۔ |
| چیں بہ جبیں ہونا: | پیشانی پر بل آنا، یعنی غصہ یا ناگواری کا اظہار کرنا۔ |
۵ ان لفظوں کو جملوں میں اس طرح استعمال کیجیے کہ ان کی تذکیر و تانیث واضح ہو جائے:
| جیب: | میری جیب میں پیسے ختم ہو گئے ہیں۔ |
| اجازت: | والدین کی اجازت کے بغیر کہیں نہیں جانا چاہیے۔ |
| لہو: | زخمی سپاہی کا لہو زمین پر گر رہا تھا۔ |
| قاعدہ: | کھیل کے قاعدے کو سمجھنا ضروری ہے۔ |
| پابندی: | وقت کی پابندی بہت ضروری ہے۔ |
| فرق: | ان کی تعلیم میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ |
| مرض: | یہ مرض بہت مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ |
۵. مصنف نے کیوں کہا ہے؟
۱) کاش ہم میں بہت سے نور خان ہوتے !
مولوی عبد الحق نے یہ جملہ اس لیے کہا تھا کیونکہ نور خان کی شخصیت اور ان کے کارنامے ان کی اعلیٰ خوبیوں، قابلیت، اور عزم کی مثال تھے۔ نور خان نے اپنی زندگی میں کئی ایسے کام کیے جو معاشرتی بہتری اور قوم کی خدمت کے لیے مشہور ہیں۔
۲) اچھا انسان ہونے میں غریب اور امیر کا کوئی فرق نہیں ہے۔
مولوی عبد الحق نے یہ بات اس لیے کہی کہ اچھا انسان ہونے کا انحصار مالی حیثیت، دولت یا سماجی مقام پر نہیں ہے۔ ان کا یہ نقطہ نظر اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ انسانیت، اخلاقیات، اور نیکی کا معیار ہر شخص میں یکساں ہوتا ہے، چاہے وہ غریب ہو یا امیر۔
۶. صحیح جواب چن لیجیے:
- 1) گڈری کالال نور خان ایک۔۔۔
- جواب: خاکہ ہے
- (۲) خائف سے مراد ہے۔۔۔
- جواب: ڈرا ہوا
- ۳) مولوی عبدالحق فوت ہوئے تھے۔۔۔
- جواب: کراچی میں