سبق: کلامِ شیخ العالم رحمۃ علیہ، تشریح، سوالات و جوابات

0
  • کتاب “بہارستانِ اردو” برائے گیارہویں جماعت
  • سبق کا نام: کلامِ شیخ العالم رحمۃ علیہ
  • شاعر کا نام: حضرت شیخ نورالدین ریشی
  • اشعار کی تشریح:

اللّٰہ کی قدرت:

کھانڈ گنے کو دیا ہے اور مگس کو انگبین
ٹیڑھے میڑھے تاک کو انگور کے گچھے دیے
تیری اس قدرت پر صدقے جاؤں اے پروردگار
آہو کو بخشی ہے کستوری کی تھیلی عنبرین

یہ اشعار شاعر کی خدا کی قدرت اور اس کی تخلیق کی خوبصورتی کو بیان کرتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ خدا نے گنے کو میٹھا رس (کھانڈ) عطا کیا اور مکھی کو شہد، جسے “انگبین” کہا گیا ہے۔ اسی طرح، پیچ و خم میں لپٹے ہوئے تاک کے پودے پر انگور کے خوشے دیے ہیں جو کہ مزیدار اور نازک ہوتے ہیں۔شاعر خدا کی حکمت اور اس کی خوبصورتی پر قربان ہونے کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اے پروردگار! تیری قدرت پر صدقے جاؤں۔ تو نے ہر مخلوق کو اس کے مزاج اور اس کے ماحول کے مطابق خوبیاں عطا کی ہیں۔ مثال کے طور پر، تو نے ہرن کو مشک کی خوشبو سے بھری تھیلی دی ہے جو کہ ایک قیمتی خوشبو کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔

دنیا کی بے ثباتی:

اک گھڑی آنے کی ہے اور اک گھڑی جانے کی ہے
اوڑھنا یاں خاک ہی ہے اور بچھونا بھی خاک ہے
کر لیا تعمیر تو نے یاں بہت اونچا مکان
کل جو مر جائے گا پھر یہ چھوڑتا ہے کس لیے

اس بند کے پہلے شعر میں شاعر کہتا ہے کہ یہ دنیا ایسی جگہ ہے جہاں ایک گھڑی ہم آتے ہیں اور دوسری گھڑی یہاں سے چلے جاتے ہیں۔ یعنی، زندگی عارضی ہے اور موت ایک لازمی حقیقت ہے جس سے کوئی فرار نہیں۔ اس دنیا میں جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے، وہ سب عارضی ہے۔شاعر مزید کہتا ہے کہ یہاں جو بھی ہمیں پہننے اور اوڑھنے کے لیے ملتا ہے، اور جس پر ہم بیٹھتے اور سوتے ہیں، سب آخرکار مٹی ہی بن جاتا ہے۔ انسان کی زندگی میں جو کچھ بھی ہے، اس کی حقیقت میں سب مٹی ہے۔ شاعر انسان کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تُو نے اس دنیا میں اپنے لیے بہت بلند مکان تعمیر کر لیا ہے، یعنی تو نے دنیاوی آسائشوں میں اپنا دل لگا لیا ہے اور بڑے بڑے منصوبے بنائے ہیں۔ لیکن کل جب موت آ جائے گی، تو یہ سب کچھ چھوڑ کر چلا جائے گا۔ پھر آخر یہ سب کچھ جمع کرنے اور تعمیر کرنے کا مقصد کیا ہے؟یعنی شاعر ہمیں نصیحت کرتا ہے کہ دنیا کی چیزوں میں گم نہ ہوں بلکہ اپنی زندگی کو حقیقی اور لازوال مقصد کے لیے استعمال کریں۔

کل تجھے دفنائیں گے زیرِ زمین
کوئی بھی واں ساتھ آئے گا نہیں
واں اکیلے ہی بھگتنا ہے تجھے
اے مری جاں اے مری جاں باز آ

یہ اشعار ہمیں موت اور اس کے بعد کی حقیقت سے آگاہ کرتے ہیں۔ شاعر نصیحت کرتا ہے کہ اس دنیا کی محبت اور عیش و عشرت میں گم نہ ہو، کیونکہ آخرت کی زندگی میں یہ سب کچھ بے معنی ہوگا۔ شاعر اپنے نفس (جان) کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ اس عارضی زندگی میں دنیاوی لذتوں سے باز آجاؤ اور اصل حقیقت کی طرف توجہ دو۔کیوں کہ اس دنیا میں جو تعلقات اور مال و دولت تیرے ساتھ تھے، ان میں سے کوئی بھی وہاں تیرے ساتھ نہیں جائے گا۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ موت کے بعد انسان کو اکیلے ہی اس کی زندگی کے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔شاعر مزید کہتا ہے کہ قبر میں تجھے تنہا ہی اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ وہاں کسی بھی قسم کی دنیاوی سہارے، تعلقات، یا دولت کوئی کام نہیں آئے گی۔آخر میں شاعر اپنے نفس کو مخاطب کر کے نصیحت کرتا ہے کہ اے میری جان! دنیا کی محبتوں اور عیش و عشرت سے باز آجاؤ۔ یہ سب کچھ عارضی ہے اور آخرت کی زندگی میں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

مٹی:

ذات حق نے خاک سے آدم کو پیدا کر دیا
خاک ہی سے گھر بنے اور ساز و سامان بھی بنا
نعتیں بھی خاک ہی سے پاتی ہیں اپنا وجود
خاک کے ہی برتنوں میں پکتی ہیں سب نعمتیں
جاں نکل کر جسم پھر مل جائے گا مٹی کے ساتھ
ایسے میں ” مٹی ” ملے گی پھر اسی مٹی کے ساتھ

اشعار کی تشریح:

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ خدا نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا۔ یہ ہمیں انسان کی تخلیق کی اصل حقیقت بتاتا ہے کہ ہمارے وجود کی بنیاد مٹی ہے اور یہ ایک عارضی جسم ہے جس کی حقیقت مٹی میں ہی پوشیدہ ہے۔اس دنیا کی تمام چیزیں، جیسے کہ گھر اور اس میں موجود ساز و سامان بھی مٹی سے ہی بنے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہر چیز جو ہمیں دنیا میں نظر آتی ہے، اصل میں مٹی سے بنی ہے۔اسی طرح دنیا کی دیگرنعمتیں بھی مٹی سے ہی وجود میں آتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ زندگی کی نعمتیں اور ہر وہ چیز جس سے ہمیں فائدہ پہنچتا ہے، سب کچھ زمین یا مٹی سے ہی حاصل ہوتا ہے۔مٹی کے برتنوں میں ہی ہمیں کھانے پینے کی تمام نعمتیں میسر ہوتی ہیں۔ یعنی ہمارے لیے رزق اور زندگی کی بنیادی ضروریات کا دارومدار مٹی پر ہی ہے۔اور جب انسان کی جان نکلتی ہے تو اس کا جسم مٹی میں مل جاتا ہے، یعنی انسان اپنی زندگی کے اختتام پر واپس مٹی میں جا ملتا ہے۔یوں شاعر بڑی گہرائی سے کہتا ہے کہ جب جسم مٹی میں مل جائے گا، تو مٹی مٹی کے ساتھ مل جائے گی، یعنی ہمارا وجود جس سے بنا ہے، وہ اپنی اصل میں لوٹ جائے گا۔

مشق:

حضرت شیخ العالم کی زندگی اور شاعری کے بارے میں مضمون لکھیے۔

حضرت شیخ نور الدین ریشی (۷۷۹ ھ مطابق ۱۳۷۵ء) کو لگام تحصیل کے کیموہ گاؤں میں تولد ہوئے ۔ والدکا نام شیخ سالارالدین اور والدہ کا نام سدر ہے۔ سدر کشمیری زبان میں سمندر کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔والدین نے حضرت شیخ نور الدین کا نام بند رکھا۔ ہند سے مراد ہے خوبصورت اور صفات حسنہ کا مالک۔ آپ کے خاندان کا تعلق کشتواڑ کے ہندورا جاؤں کے ساتھ بتایا جاتا ہے۔ حضرت نور الدین کا بچپن سے ہی دنیا اور مال و دولت کے ساتھ دل نہیں لگتا تھا۔ آپ اکثر عبادت الہی میں ہی محور ہا کرتے تھے۔ کئی سال تک گوشہ نشینی کے بعد آپ نے کشمیر کے کئی علاقوں کی سیاحت کی ۔

آپ نے کشمیر میں ریشی سلسلہ کی احیاء نوکر کے اسلامی ریشیت کی بنیاد ڈالی۔ ریشی ایسے شخص کو کہتے ہے جو تمام خواہشوں اور حرص وطمع سے دستبردار ہو چکا ہو۔ جس پر اللہ تعالی کی محبت کا جذ بہ غالب ہو۔ حرام رزق سے پر ہیز کرتا ہو ، سادہ لباس پہنتا ہو، ہرحالت میں نف کو قابو میں رکھتا ہو۔شیخ العالم اور آپ کے خلفاء مختلف علاقوں میں اسلام، اخوت، بھائی چارے، انسان دوستی ، سادگی ، عبادت الہی اور رواداری کا پرچار کرتے رہے۔

حضرت شیخ نور الدین کشمیر کے رشیوں کے پیشوا ہیں ۔ آپ ظلم و جبر اور استحصال کرنے والوں کے سخت خلاف تھے۔ کشمیر کےلوگ بلا لحاظ مذہب وملت حضرت شیخ نور الدین ریشی سے عقیدت رکھتے ہیں۔ آپ کوش العالم، علمدار کشمیر اور سز انند جیسے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ ۷۳۲ ہجری مطابق ۱۳۳۸، آپ کا سال وصال ہے۔ چرار شریف میں آپ کا مدفن لاکھوں لوگوں کی عقیدت کا مرکز ہے۔ وہاں ہر سال موسم خزان میں عرس منایا جاتا ہے۔ روحانی بزرگ اور تمدن ساز شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ حضرت شیخ نور الدین ریشی ایک اعلیٰ پایہ کےشاعر بھی تھے۔ آپ کے بیر اشعار اور اقول روز مرہ زبان میں شامل ہو گئے ہیں۔

آپ کا مشہور قول ہے ان پوشہ تیلہ پہیلہ ون پوشه ( خوراک ملتی رہے گی اگر جنگلات موجود ہیں ) ۔ آپ کی شاعری کی کئی جہتیں ہیں۔عرف عام میں آپ کے اشعار کو نشر کر کہا جاتا ہے۔ ایک لوک میں عموما چار مصرعے ہوتے ہیں۔

وضاحت کیجیے:

کل تجھے دفنائیں گے زیرِ زمین
کوئی بھی واں ساتھ آئے گا نہیں
واں اکیلے ہی بھگتنا ہے تجھے
اے مری جاں اے مری جاں باز آ

شاعر ان اشعار میں انسان کو یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی محبتوں اور لذتوں کو چھوڑ کر آخرت کی تیاری کرے۔ موت کے بعد قبر کی زندگی میں ہر انسان کو اکیلے اپنے اعمال کا حساب دینا ہے، جہاں دنیاوی مال و دولت یا تعلقات کام نہیں آئیں گے۔

تفصیل سے لکھیے کہ حضرت شیخ العالم نے چوتھے شلوک میں مٹی کے بارے میں کیا فرمایا ہے۔

شاعر ان اشعار میں خدا کی قدرت اور مٹی کی حقیقت پر روشنی ڈالتا ہے۔ مٹی ہی سے انسان اور دنیا کی تمام چیزیں بنی ہیں، اور آخرکار سب کچھ مٹی میں ہی مل جانا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیاوی زندگی کی حقیقت عارضی ہے، اور ہمیں اپنی اصلیت اور مقصد کو سمجھنا چاہیے۔

حضرت شیخ العالم کے چاروں شلوکوں کا مرکزی خیال ایک مختصر مضمون کی صورت میں لکھیے۔

حضرت شیخ العالم کے چاروں شلوکوں میں جو خیال بیان کرتے ہیں وہ کچھ یوں ہے کہ خدا نے ہر چیز کو خاص نعمتوں سے نوازا ہے، جیسے گنے کو میٹھا رس، مکھی کو شہد، تاک کو انگور کے خوشے، اور ہرن کو مشک کی تھیلی۔ شاعر اس قدرت پر خدا کی تعریف بیان کرتا ہے۔اسی طرح اگلے اشعار انسان کی عارضی زندگی اور موت کی حقیقت کو بیان کرتے ہیں۔ شاعر یاد دلاتا ہے کہ زندگی صرف ایک مختصر وقفہ ہے، جس میں انسان کبھی آتا ہے اور کبھی چلا جاتا ہے۔ زندگی کی تمام تر آرائش اور بلند و بانگ مقاصد آخر کار مٹی میں ہی مل جاتے شاعرانسان کو یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی محبتوں اور لذتوں کو چھوڑ کر آخرت کی تیاری کرے۔ موت کے بعد قبر کی زندگی میں ہر انسان کو اکیلے اپنے اعمال کا حساب دینا ہے، جہاں دنیاوی مال و دولت یا تعلقات کام نہیں آئیں گے۔آخری بند خدا کی قدرت اور مٹی کی حقیقت پر روشنی ڈالتا ہے۔ مٹی ہی سے انسان اور دنیا کی تمام چیزیں بنی ہیں، اور آخرکار سب کچھ مٹی میں ہی مل جانا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیاوی زندگی کی حقیقت عارضی ہے، اور ہمیں اپنی اصلیت اور مقصد کو سمجھنا چاہیے۔