Back to: 11th Class Urdu Notes JKBOSE | Chapterwise Notes
- نظم: خاک ہند
- شاعر: پنڈت برج نرائن چکبست
نظم: خاک ہند کی تشریح
| ائے خاک ہند تری عظمت میں کیا گماں ہے دریائے فیض قدرت تیرے لئے رواں ہے تیری جبیں سے نور حسن ازل عیاں ہے اللہ رے زیب و زینت کیا اوج عز و شاں ہے |
تشریح:
پنڈت برج نرائن چکبست کی نظم “اے خاک ہند” میں شاعر نے ہندوستان کی عظمت اور اس کی قدرتی و ثقافتی شان کا بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہندوستان کی سرزمین میں قدرت کا بے پناہ فیض جاری ہے، اور یہاں کا نور و حسن ازلی ہے۔ شاعر نے اس کی بے مثال خوبصورتی اور عظمت کو سراہا ہے، اور اس کی زینت اور عزت کو اللہ کی قدرت سے جوڑا ہے، جو اسے بلند مقام عطا کرتا ہے۔ یہ نظم ہندوستان کی شان و شوکت اور اس کی روحانی عظمت کو اجاگر کرتی ہے۔
| ہر صبح ہے یہ خدمت خورشید پر ضیا کی کرنوں سے گوندھتا ہے چوٹی ہمالیہ کی |
تشریح:
اس شعر میں پنڈت برج نرائن چکبست نے ہندوستان کی قدرتی خوبصورتی کو بیان کیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ہر صبح سورج کی کرنیں ہمالیہ کی چوٹیوں کو گلابی اور سنہری رنگ میں رنگ دیتی ہیں، جیسے وہ خورشید کی خدمت میں مصروف ہوں۔ اس طرح، شاعر نے ہمالیہ کی عظمت اور قدرت کے فیض کو خوبصورتی سے پیش کیا ہے، جو ہر دن نیا جلوہ دکھاتا ہے۔
| اس خاک دل نشیں کے چشمے ہوئے وہ جاری چین و عرب میں جن سے ہوتی تھی آبیاری سارے جہاں پہ جب تھا وحشت کا ابر طاری چشم و چراغ عالم تھی سر زمیں ہماری |
تشریح:
اس اشعار میں پنڈت برج نرائن چکبست نے ہندوستان کی تاریخی عظمت کو بیان کیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ہندوستان کی سرزمین سے ایسے چشمے جاری ہوئے جو دنیا بھر میں آبیاری کا سبب بنے، حتیٰ کہ چین اور عرب میں بھی ان سے فائدہ اٹھایا گیا۔ جب دنیا میں وحشت اور اندھیرا چھایا تھا، تو ہندوستان کی سرزمین علم و روشنی کا مرکز تھی، جو ساری دنیا کے لیے چشم و چراغ کی مانند تھی۔
| شمع ادب نہ تھی جب یوناں کی انجمن میں تاباں تھا مہر دانش اس وادی کہن میں |
تشریح:
اس اشعار میں پنڈت برج نرائن چکبست نے ہندوستان کی قدیم علمی اور ثقافتی حیثیت کو اجاگر کیا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ جب یونان کی انجمن میں ادب کی روشنی نہیں تھی، تب ہندوستان کی قدیم سرزمین میں علم و دانش کا سورج چمک رہا تھا۔ ہندوستان کی یہ وادی قدیم زمانے میں علم و حکمت کا مرکز تھی، جہاں سے ساری دنیا کو روشنی ملتی تھی۔
| گوتم نے آبرو دی اس معبد کہن کو سرمد نے اس زمیں پر صدقے کیا وطن کو اکبر نے جام الفت بخشا اس انجمن کو سینچا لہو سے اپنے رانا نے اس چمن کو |
تشریح:
اس اشعار میں پنڈت برج نرائن چکبست نے ہندوستان کی عظمت و تاریخ کو بیان کیا ہے اور مختلف عظیم شخصیتوں کی قربانیوں کو سراہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ گوتم بدھ نے ہندوستان کے قدیم معبد کو عزت اور تقدس دیا۔ سرمد نے اپنے وطن کے لیے جان کی قربانی دی، جبکہ اکبر نے محبت اور اتحاد کی ایک نئی فضا پیدا کی۔ اسی طرح، رانا کا خون بھی اس سرزمین کے چمن کو سینچنے کے لیے قربان ہوا، جس سے ہندوستان کی آزادی اور عظمت کو تقویت ملی۔ یہ اشعار ہندوستان کی تاریخ میں شخصیات کی قربانیوں اور ان کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔
| سب سور بیر اپنے اس خاک میں نہاں ہیں ٹوٹے ہوئے کھنڈر ہیں یا ان کی ہڈیاں ہیں |
تشریح:
اس اشعار میں پنڈت برج نرائن چکبست نے انسان کی فانی نوعیت اور وقت کے ساتھ آنے والی تباہی کی حقیقت کو بیان کیا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ جو عظیم لوگ اور قوتیں کبھی اس زمین پر موجود تھیں، وہ اب صرف مٹی میں دفون ہو چکے ہیں۔ وہ ماضی کی شان و شوکت، جو کبھی تکبر یا جاہ و جلال کی علامت تھی، اب ٹوٹے ہوئے کھنڈروں اور ہڈیوں میں تبدیل ہو گئی ہے۔
| دیوار و در سے اب تک ان کا اثر عیاں ہے اپنی رگوں میں اب تک ان کا لہو رواں ہے اب تک اثر میں ڈوبی ناقوس کی فغاں ہے فردوس گوش اب تک کیفیت اذاں ہے |
تشریح:
اس اشعار میں پنڈت برج نرائن چکبست نے ماضی کی عظمت اور اس کے اثرات کو بیان کیا ہے جو آج بھی زندہ ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ ماضی کی عظیم شخصیات کا اثر ابھی تک دیواروں اور دروازوں سے محسوس ہوتا ہے، اور ان کی روحانی اور جسمانی تاثیر آج بھی موجود ہے۔ ان کی رگوں میں جو لہو بہا تھا، وہ اب بھی زندہ ہے۔ اس کے ساتھ، شاعر نے اس بات کا ذکر کیا کہ ان کے اثرات ابھی تک ناقوس کی آواز اور اذان کی کیفیت میں محسوس کیے جا سکتے ہیں، جو ان کی عظمت اور روحانیت کو زندہ رکھنے والے ہیں۔
| کشمیر سے عیاں ہے جنت کا رنگ اب تک شوکت سے بہہ رہا ہے دریائے گنگ اب تک |
تشریح:
وہ کہتے ہیں کہ کشمیر کی سرزمین اب بھی جنت کی طرح اپنی خوبصورتی اور دلکشی کی مثال ہے۔ یہاں کا منظر ایسا ہے کہ اس میں جنت کا رنگ ابھی تک عیاں ہے۔ اسی طرح، دریائے گنگا کی شوکت اور عظمت بھی اب تک برقرار ہے، اور اس کا پانی اپنی بہاؤ میں وہی شان و شوکت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
| اگلی سی تازگی ہے پھولوں میں اور پھلوں میں کرتے ہیں رقص اب تک طاؤس جنگلوں میں اب تک وہی کڑک ہے بجلی کی بادلوں میں پستی سی آگئی ہے پر دل کے حوصلوں میں |
تشریح:
اس اشعار میں پنڈت برج نرائن چکبست نے قدرت کی تازگی اور اس کے اثرات کو بیان کیا ہے جو اب تک برقرار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پھولوں اور پھلوں میں وہی تازگی موجود ہے، جو ہمیشہ سے قدرت کا حصہ رہی ہے، اور جنگلوں میں طاؤس ابھی تک رقص کرتے ہیں، جو قدرت کی خوبصورتی کا مظہر ہیں۔ اس کے ساتھ، بادلوں میں بجلی کی وہی کڑک اور طاقت بھی اب تک محسوس کی جا سکتی ہے، جو قدرت کے غضب اور جوش کو ظاہر کرتی ہے۔ تاہم، شاعر کا آخری مصرعہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ دلوں میں اب وہ حوصلے اور جذبہ نہیں رہے جو پہلے تھے، یعنی انسان کی اندرونی قوت کمزور پڑ گئی ہے۔
| گل شمع انجمن ہے گو انجمن وہی ہے حب وطن نہیں ہے خاک وطن وہی ہے |
تشریح:
شاعر کہتے ہیں کہ اگرچہ وطن کی سرزمین وہی ہے اور اس کی مٹی ہمیشہ قائم ہے، لیکن اصل فرق انسان کے دل میں ہے۔ گل (پھول) اور شمع (چراغ) انجمن کی علامت ہیں، لیکن اگر انجمن کی محبت نہ ہو، تو اس کی حقیقت ختم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح، وطن کی خاک ہمیشہ وہی رہے گی، لیکن جب تک دل میں حب وطن کا جذبہ نہ ہو، وطن کی حقیقت مکمل نہیں ہوتی۔
| اے صور حب قومی اس خواب سے جگادے بھولا ہوا فسانہ کانوں کو پھر سُنا دے مرده مجسموں کی افسردگی مٹا دے اُٹھتے ہوئے شرارے اس راکھ سے دکھا دے |
تشریح:
اس اشعار میں پنڈت برج نرائن چکبست نے قوم کی بیداری اور اس کے خوابوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی بات کی ہے۔ وہ “صور حب قومی” (یعنی قومی محبت کا پیغام دینے والا صور) سے قوم کو جگانے کی اپیل کرتے ہیں تاکہ اس کی غفلت اور ماضی کی بھول کو دور کیا جا سکے۔ شاعر کہتے ہیں کہ مردہ اور مایوس مجسموں کی افسردگی کو دور کر دیا جائے اور قوم میں نئی زندگی اور جوش پیدا کیا جائے۔ وہ اُٹھتے ہوئے شراروں (آگ کی چمک) کے ذریعے قوم کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ راکھ سے بھی نئی چمک اور توانائی نکل سکتی ہے۔
| حب وطن سمائے آنکھوں میں نور ہو کر سر میں خمار ہو کر دل میں سرور ہو کر |
تشریح:
اس اشعار میں پنڈت برج نرائن چکبست نے حب وطن کی گہرائی اور اس کے اثرات کو بیان کیا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ وطن سے محبت آنکھوں میں نور کی طرح سما جائے، یعنی یہ محبت انسان کی نظر کو روشن کرے اور اسے ایک نیا وژن دے۔ اسی طرح، حب وطن سر میں خمار (جذبہ اور سرور) کی مانند ہو، جو دل میں سرور اور خوشی کی کیفیت پیدا کرے۔ شاعر کا پیغام یہ ہے کہ حب وطن کا جذبہ صرف دل کی سطح پر نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ انسان کی سوچ، جذبات اور روح میں گہرائی سے بس جائے، تاکہ وہ اپنے وطن کے لیے بھرپور محبت اور لگن کے ساتھ عمل کرے۔
۲ مشقی سوالات:
سوال نمبر 1 :خاک ہند کے مرکزی خیال کی وضاحت کیجیے۔
جواب: پنڈت برج نرائن چکبست کی نظم خاکِ ہند کا مرکزی خیال وطن سے محبت اور قوم پرستی ہے۔ اس نظم میں شاعر نے ہندوستان کی عظمت، تاریخ اور ثقافت کا ذکر کرتے ہوئے اپنے وطن سے والہانہ محبت کا اظہار کیا ہے۔
چکبست نے “خاکِ ہند” میں ہندوستان کو ایک ایسی مادرِ وطن کے طور پر پیش کیا ہے جس کی گود میں مختلف مذاہب، زبانیں، اور ثقافتیں پروان چڑھتی ہیں۔ شاعر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہندوستانی سرزمین نہ صرف ان کے وجود کا حصہ ہے بلکہ ان کی شناخت کا مرکز بھی ہے۔
نظم کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ ہندوستان کی مٹی میں ایک خاص جاذبیت ہے جو ہر فرد کو اس سے جڑے رہنے اور اس کی خدمت کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ شاعر اپنے وطن کے لیے خلوص، وفاداری، اور قربانی کے جذبات کا اظہار کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ ہر فرد اپنے ملک کی عزت و عظمت کو بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
سوال نمبر 2 :خاک ہند کا خلاصہ لکھیے۔
پنڈت برج نرائن چکبست کی نظم خاکِ ہند وطن سے گہری محبت اور قوم پرستی کے جذبات کا خوبصورت اظہار ہے۔ اس نظم میں شاعر ہندوستان کی سرزمین کی عظمت، اس کے قدرتی حسن، تاریخی اہمیت اور روحانی قدروں کو بیان کرتا ہے۔ شاعر ہندوستان کی مٹی کو اپنی شناخت اور محبت کا محور سمجھتا ہے اور اس کی خوبصورتی کو سراہتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ مٹی صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک ماں کی مانند ہے جو اپنے دامن میں مختلف قومیتوں اور مذاہب کو جگہ دیتی ہے۔
چکبست نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہر ہندوستانی کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے وطن کے احترام اور اس کی ترقی کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ شاعر نے اپنی محبت کو جذباتی انداز میں بیان کیا ہے اور قارئین کو یہ احساس دلایا ہے کہ وطن سے محبت اور اس کی خدمت کرنا ایک فطری اور ضروری عمل ہے۔
سوال نمبر 3 :چکبست کی حیات اور شاعری پر نوٹ لکھیے۔
جواب: پنڈت برج نارائن چکبست ایک ایسے معروف شاعر گزرے ہیں جن کا نام اردو کے شیدائی آج بھی انتہائی گرم جوشی سے لیتے ہیں۔ ان کے والد پنڈت ادت نارائن شیوپری چکبست بھی مشہور شاعر تھے۔ برج نارائن چکبست کی پیدائش 1882 میں فیض آباد کے ایک کشمیری پنڈت خاندان میں ہوئی۔ ان کی ابتدائی تعلیم فیض آباد میں ہی ہوئی۔ بعد ازاں چکبست خاندان وہاں سے ہجرت کرکے لکھنؤ کے ایک کشمیری محلے میں رہائش پزیر ہوا۔
چکبست نے لکھنؤ کو ہی اپنی اصل کرم بھومی بنالیا۔چکبست نے اپنی بی۔ اے کی ڈگری 1905میں اور ایل ایل بی کی ڈگری 1908 میں حاصل کی اور وکالت شروع کردی۔ انھوں نے ۹ سال کی عمر سے ہی شاعری کی شروعات کی۔ عام طور پر ان کی شاعری لکھنے کا انداز بے حد سادہ مختصر دلچسپ اور پر معنی ہوتا تھا۔ وہ اپنی شاعری میں آسان زبان کے استعمال سے زندگی کی پیچیدگیوں کو مختصر جملوں اور سادہ الفاظ میں بیان کرتے تھے۔ ان کی نظموں میں حب الوطنی کاعکس جھلکتا ہے۔
چکبست نہایت حساس اور جذباتی مزاج کے شاعر تھے۔ انھوں نے اپنے کلام کی ابتدا غزل گوئی سے کی۔ بعد ازاں قومی سیاسی اور سماجی نظمیں لکھنے لگے۔ ان کی نظموں کے ” مجموعہ کو صبح وطن” کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے کلیات چکبست مضامین چکبست جنت کی ڈاک (خطوط)، کملا (ڈرامہ)، چکبست اور باقیات چکبست اور مقالات چکبست بھی تصنیف کی۔ چکبست نے رامائن کی کہانی کا اردو ترجمہ اس دور میں تصنیف کیا جب اردو کو صرف مسلمانوں کی زبان مانا جاتا تھا۔
انھوں نے متعدد اردو جرنل میں سماجی برابری پر مختلف مضامین لکھے جسے لوگوں نے بہت سراہا۔ تیزی سے بدلتے ہوئے سماجی مناظر نے ان کی شخصیت پر گہرے چھاپ چھوڑے۔چکبست ہی غالبا ایک ایسے شاعر گزرے ہے جن کا کوئی مخلص نہیں ہے۔ فروری 1926 میں ایک مقدمہ سے لوٹتے وقت رائے بریلی بر ریلوے اسٹیشن پر انھیں فالج کا دورہ پڑنے پر ان کا انتقال ہو گیا۔ چکبست کی ناگہانی موت اردو ادب کے لیے ایک عظیم نقصان تھا لیکن ان کے کلام آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
سوال نمبر 4: نظم کے تیسرے بند میں معبد گہن ، انجمن اور چین کس کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔
پنڈت برج نرائن چکبست کی نظم خاکِ ہند کے تیسرے بند میں “معبد گہن”، “انجمن”، اور “چین” علامتی طور پر ہندوستان میں موجود مختلف مذاہب، ثقافتوں اور امن و سکون کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔
سوال نمبر5: خاک ہند کے چوتھے بند میں گوتم ، سرمد ، اکبر او رانا کے نام آئے ہیں۔ اپنے دوستوں کے ساتھ ان شخصیات کے بارے میں بات کیجیے اور اپنے اُستاد سے بھی جانکاری حاصل کرکے، ان کے بارے میں تین تین جملے لکھیے۔
گوتم بدھ:
- گوتم بدھ ایک عظیم روحانی استاد اور بدھ مت کے بانی تھے۔
- انہوں نے انسانیت کو عدم تشدد، رحم دلی اور سچائی کی تعلیم دی۔
- ان کی تعلیمات نے نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں امن اور ہم آہنگی کے پیغام کو پھیلایا۔
سرمد:
- سرمد ایک صوفی بزرگ اور شاعر تھے جن کا تعلق ایران سے تھا لیکن وہ ہندوستان میں آکر آباد ہوئے۔
- انہوں نے مذہبی تعصبات سے بالا تر ہو کر انسانیت کی خدمت کی اور باطنی محبت کا درس دیا۔
- ان کی درویشانہ زندگی اور سچائی پر مبنی باتیں آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
اکبر اعظم:
- اکبر مغل بادشاہ تھے جنہوں نے اپنے دورِ حکومت میں ہندوستان میں مذہبی رواداری کو فروغ دیا۔
- انہوں نے مختلف مذاہب کے لوگوں کو یکجا کرنے کے لیے “دینِ الٰہی” کے تصور کو پیش کیا۔
- ان کی حکومت میں مختلف قومیں امن و امان کے ساتھ رہتی تھیں، جس نے انہیں ایک عظیم حکمران بنا دیا۔
سوال نمبر 6:
| شمع ادب نہ تھی جب یوناں کی انجمن میں تاباں تھا مہر دانش اس وادی کہن میں |
اس شعر کے پس منظر کے بارے میں جانکاری حاصل کر کے اس کی وضاحت کیجیے۔
جواب: تاریخ کے ادوار میں یونان شہر کی تاریخی ،ثقافتی اور علمی حیثیت مسلم ہے۔ وہی یونان جس نے ہمیں افلاطون اور ارسطو جیسے فلاسفر دیے اور دیگر کئی حیثیتوں سے اہمیت پائی۔اس شعر کے پس منظر میں یونان کے اس دور کی بات کی جا رہی ہے جب وہاں کسی بھی طرح کے علم و ادب کی شمع ابھی روشن نہیں ہوئی تھی لوگ علم و فلسفہ سے نا بلد تھے مگر اس دورِ قدیم میں بھی وہاں علم و حکمت کا ایک باب روشن تھا۔
سوال نمبر 7: چکبست نظم خاک ہند میں کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ مدل لکھیے۔
جواب: چکبست کی اس نظم کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ ہندوستان میں رہنے والے لوگ اپنے اختلافات کو بھلا کر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر زندگی گزاریں اور اپنے ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے ایک ساتھ کام کریں۔ یہ نظم ایک ایسی وطن دوستی اور قومی یکجہتی کا پیغام ہے جو تمام ہندوستانیوں کے لیے باعثِ فخر ہے۔