Back to: 11th Class Urdu Notes JKBOSE | Chapterwise Notes
- غزلیات شاد عظیم آبادی
- شاعر: شاد عظیم آبادی
غزل نمبر 1 کی تشریح
| ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تعبیر ہے جس کی حسرت و غم، اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم |
تشریح:
شاد عظیم آبادی کی اس غزل میں شاعر اپنی انفرادیت اور نایابیت کو بیان کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر تم دنیا بھر میں تلاش کرو گے تو ہمیں نہیں پاؤ گے کیونکہ ہم بہت نایاب ہیں۔ ہماری ذات ان لوگوں کے خوابوں اور تمناؤں کی تعبیر ہے جنہیں حسرت اور غم نے جکڑ رکھا ہے۔ شاعر اپنے آپ کو ایک خواب سے تشبیہ دے رہا ہے جو لوگوں کے دلوں میں حسرتیں اور غم چھوڑتا ہے، یعنی ہم ایک ایسی حقیقت ہیں جسے ہر کوئی حاصل نہیں کر سکتا۔
| اے درد بتا کچھ تُو ہی بتا! اب تک یہ معمہ حل نہ ہوا ہم میں ہے دلِ بےتاب نہاں یا آپ دلِ دلِ بےتاب ہیں ہم |
تشریح:
شاد عظیم آبادی اس شعر میں اپنے اندر کے اضطراب اور بے چینی کو بیان کرتے ہوئے درد سے مخاطب ہیں۔ وہ درد سے پوچھتے ہیں کہ یہ الجھن ابھی تک حل نہیں ہوئی کہ آیا دل میں بےتابی چھپی ہوئی ہے یا ہم خود ہی دل کی بےتابی کا مظہر ہیں۔ شاعر اس الجھن میں مبتلا ہے کہ کیا بےچینی اُس کے دل کا حصہ ہے یا وہ خود بےچینی کی تصویر بن چکا ہے، یعنی اس کی پوری ذات اضطراب میں ڈھل گئی ہے۔
| میں حیرت و حسرت کا مارا، خاموش کھڑا ہوں ساحل پر دریائے محبت کہتا ہے، آ! کچھ بھی نہیں پایاب ہیں ہم |
تشریح:
اس شعر میں شاد عظیم آبادی اپنے داخلی احساسات کو بیان کرتے ہیں کہ وہ حیرت اور حسرت کے مارے ساحل پر خاموش کھڑے ہیں۔ ان کے سامنے محبت کا دریا موجزن ہے جو انہیں بلا رہا ہے کہ آؤ، یہاں ڈوبنے کا کوئی خوف نہیں کیونکہ ہم اتنے گہرے نہیں ہیں۔ دریا کی یہ آواز محبت کی وسعت اور شدت کو ظاہر کرتی ہے، لیکن شاعر کی حالت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ محبت کے اس دریا میں قدم رکھنے سے گریزاں ہے، شاید خوف یا مایوسی کی وجہ سے۔
| لاکھوں ہی مسافر چلتے ہیں منزل پہ پہنچتے ہیں دو ایک اے اہلِ زمانہ قدر کرو نایاب نہ ہوں، کم یاب ہیں ہم |
تشریح:
اس شعر میں شاد عظیم آبادی زندگی کی جدوجہد اور کامیابی کو ایک سفر سے تشبیہ دیتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ لاکھوں لوگ سفر پر نکلتے ہیں، مگر ان میں سے بہت کم ہی اپنی منزل تک پہنچتے ہیں۔ وہ اہلِ زمانہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہماری قدر کرو کیونکہ ہم نایاب تو نہیں، لیکن کم یاب ضرور ہیں۔ یعنی ہم ان لوگوں میں سے ہیں جو منفرد اور قیمتی ہیں، لیکن ہر کسی کو آسانی سے نہیں ملتے۔
| مرغانِ قفس کو پھولوں نے، اے شاد! یہ کہلا بھیجا ہے آ جاؤ جو تم کو آنا ہوایسے میں، ابھی شاداب ہیں ہم |
تشریح:
اس شعر میں شاد عظیم آبادی قفس (پنجرا) میں قید پرندوں کی حالت کو بیان کرتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ پھولوں نے قیدی پرندوں کے لیے پیغام بھیجا ہے کہ اگر تمہیں آنا ہے، تو ابھی آ جاؤ، کیونکہ ہم ابھی تک تازہ اور شاداب ہیں۔ یہ دعوت پھولوں کی تازگی اور حسن کی علامت ہے، جو قیدی پرندوں کو آزاد فضا میں واپس آنے کی ترغیب دے رہی ہے۔ اس میں وقت کی نزاکت اور خوبصورتی کے فانی ہونے کا احساس بھی موجود ہے، کہ اگر دیر کی تو یہ شادابی باقی نہیں رہے گی۔
غزل نمبر 2 کی تشریح:
| تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں |
تشریح:
شاد عظیم آبادی کی اس غزل میں شاعر اپنی محرومیوں اور زندگی کی تلخیوں کو بیان کر رہے ہیں۔ “تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں” میں وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ زندگی نے انہیں امیدوں میں الجھا دیا ہے، جبکہ “کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں” سے وہ بتاتے ہیں کہ انہیں معمولی خوشیوں سے بہلایا گیا ہے۔ ان اشعار میں شاعر کی مایوسی اور دل کی بےچینی نمایاں ہے۔
| ہوں اُس کوچہ کے ہر ذرہ سے آگاہ ادھر سے مدتوں آیا گیا ہوں |
تشریح:
ان اشعار میں شاعر اپنے محبوب کے کوچے سے گہری وابستگی کا اظہار کر رہا ہے۔ “ہوں اُس کوچہ کے ہر ذرہ سے آگاہ” میں وہ کہتا ہے کہ وہ محبوب کے گلی کوچوں کے ہر ذرے سے واقف ہے، گویا اُس نے وہاں کی ہر بات کو محسوس کیا ہے۔ “ادھر سے مدتوں آیا گیا ہوں” میں شاعر اس بات کو بیان کر رہا ہے کہ وہ مدتوں سے وہاں آتا جاتا رہا ہے، اور یہ جگہ اس کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ ان الفاظ میں شاعر کی محبت اور وابستگی کی شدت واضح ہوتی ہے۔
| دل مضطر سے پوچھ اے رونق بزم میں خود آیا نہیں لایا گیا ہوں |
تشریح:
شاد عظیم آبادی اس شعر میں دل کی بے چینی اور مجبوریاں بیان کر رہے ہیں۔ “دل مضطر سے پوچھ” میں وہ دل کی بےقراری کی طرف اشارہ کرتے ہیں، کہ وہ اپنی مرضی سے اس بزم میں نہیں آیا بلکہ حالات یا مجبوریوں کے تحت لایا گیا ہے۔ یہ شعر انسان کی بےبسی اور اس کی زندگی میں موجود مجبوریاں دکھاتا ہے۔
| نہ تھا میں معتقد اعجاز مے کا بڑی مشکل سے منوایا گیا ہوں |
تشریح:
شاد عظیم آبادی اس شعر میں کہہ رہے ہیں کہ وہ پہلے مے (شراب) کے اثرات یا جادو پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ “نہ تھا میں معتقد اعجاز مے کا” میں ان کی بے اعتقادی ظاہر ہوتی ہے، مگر “بڑی مشکل سے منوایا گیا ہوں” میں وہ بیان کرتے ہیں کہ بالآخر حالات یا کسی کے اصرار نے انہیں اس کا قائل بنا دیا۔ یہ شعر انسان کے بدلتے خیالات اور اثرات کو بیان کرتا ہے۔
| کجا میں اور کجا اے شاد یہ دنیا کہا ں سے کس جگہ لایا گیا ہوں |
تشریح:
اس شعر میں شاد عظیم آبادی اپنی بے معنویت اور بے بسی کو بیان کرتے ہیں۔ “کجا میں اور کجا یہ دنیا” میں وہ اپنے آپ کو دنیا کے مقابلے میں بہت چھوٹا اور بے حیثیت تصور کرتے ہیں، گویا کہ ان کا وجود اس دنیا میں کہیں فٹ نہیں بیٹھتا۔ “کہاں سے کس جگہ لایا گیا ہوں” میں وہ اپنی زندگی کے سفر اور حالات پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں، جیسے حالات نے انہیں یہاں لا کھڑا کیا ہو۔
مشق:
سوال نمبر 1 : ان دو اشعار کی مفصل تشریح کیجیے؟
| لاکھوں ہی مسافر چلتے ہیں منزل پہ پہنچتے ہیں دو ایک اے اہلِ زمانہ قدر کرو نایاب نہ ہوں، کم یاب ہیں ہم |
تشریح:
اس شعر میں شاد عظیم آبادی زندگی کی جدوجہد اور کامیابی کو ایک سفر سے تشبیہ دیتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ لاکھوں لوگ سفر پر نکلتے ہیں، مگر ان میں سے بہت کم ہی اپنی منزل تک پہنچتے ہیں۔ وہ اہلِ زمانہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہماری قدر کرو کیونکہ ہم نایاب تو نہیں، لیکن کم یاب ضرور ہیں۔ یعنی ہم ان لوگوں میں سے ہیں جو منفرد اور قیمتی ہیں، لیکن ہر کسی کو آسانی سے نہیں ملتے۔
| کجا میں اور کجا اے شاد یہ دنیا کہا ں سے کس جگہ لایا گیا ہوں |
تشریح:
اس شعر میں شاد عظیم آبادی اپنی بے معنویت اور بے بسی کو بیان کرتے ہیں۔ “کجا میں اور کجا یہ دنیا” میں وہ اپنے آپ کو دنیا کے مقابلے میں بہت چھوٹا اور بے حیثیت تصور کرتے ہیں، گویا کہ ان کا وجود اس دنیا میں کہیں فٹ نہیں بیٹھتا۔ “کہاں سے کس جگہ لایا گیا ہوں” میں وہ اپنی زندگی کے سفر اور حالات پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں، جیسے حالات نے انہیں یہاں لا کھڑا کیا ہو۔
سوال نمبر 2 : درج ذیل لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے؟
| نایاب: | جنگل میں ایک نایاب پرندہ دیکھا گیا جسے دیکھنے کے لیے لوگ دور دور سے آ رہے ہیں۔ |
| بیتاب: | بارش کے پہلے قطرے کو دیکھنے کے لیے بچے بیتاب کھڑے تھے۔ |
| پایاب: | اس جگہ دریا اتنا پا یاب ہے کہ ہم پیدل چل کر پار کر سکتے ہیں۔ |
| کم یاب: | اس علاقے میں اچھے پھلوں کی پیداوار کم یاب ہے، اس لیے ان کی قیمتیں زیادہ ہیں۔ |
| شاداب: | باغ میں شاداب درخت اور پھولوں کی مہک نے دل کو خوش کر دیا۔ |
سوال نمبر 3 : شاد عظیم آبادی کے حالات زندگی اور ادبی خدمات پر نوٹ لکھیے۔
سید علی محمد نام اورشاد تخلص تھا۔والدکا نام سید عباس مرزا تھا جو الہ آباد کے رہنے والے تھے اور چودہ پندرہ برس کی عمر میں عظیم آباد (پٹنہ) چلے گئے۔ شاد عظیم آبادی پٹنہ میں 1846ء میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم عربی اورفارسی میں حاصل کی اور بعد میں کچھ عرصے تک انگریزی بھی پڑھی مگر یہ سلسلہ بعد میں منقطع ہوگیا۔شاد کی تربیت سرسید احمد خان کی نگرانی میں ہوئی۔ ان کی تعلیم و تربیت بڑے ہی ادبی ماحول میں انجام ہوئی۔ اپنی ذاتی قابلیت اور اچھے اساتذہ کی تربیت سے اردو فارسی و عربی زبانوں کے ساتھ ساتھ مذہبی علوم اور فن شعر میں ایسی مہارت حاصل کی کہ ان کا شمار دور جدید کے اہل علم شعراء میں ہوتا ہے۔
اسلامی علوم کی تفصیل کے ساتھ ساتھ شاد نےعیسائیوں، پارسیوں اور ہندوؤں کی مذہبی کتابیں بھی پڑھی تھیں۔ ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں حکومت نے 1891ء میں انہیں خان بہادر کا خطاب دیا۔ شاد نے 32 سال تک اعلی اختیارات کے ساتھ آنریری مجسٹریٹ کے فرائض انجام دیے۔ اور 14 سال تک حکومت کی طرف سے نامزد کردہ میونسپل کمشنر رہے انہیں سرکار کی طرف سے ایک ہزار روپیہ سالانہ وظیفہ ملتا رہا۔ شاد عظیم آباد میں پیدا ہوئے اس لیے شاد عظیم آبادی کہلائے۔ادبیات اور فنون شاعری کے لیے انھوں نے کئی اساتذہ کی شاگردگی اختیار کی ۔ لیکن شعری تربیت کی تکمیل سیدالفت حسین فریاد کے ہاتھوں ہوئی۔ شعرگوئی میں شاد کے یہاں لکھنو اور دہلی کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ شاد نے طویل عمر پائی اور ساری عمر شعر و ادب کی خدمت میں صرف کردی بلآخر 3 جنوری 1927 ء کو عظیم آباد میں انتقال فرمایا۔
ادبی خدمات:
نثرونظم دونوں میں شاد نے کئی تصانیف یادگار چھوڑیں۔ جو قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ اُن کی چند کتابیں اُن کی زندگی میں ہی شائع ہوئی تھیں۔ شاد کی غزلوں کا دیوان اُن کی وفات کے بعد ۱۹۳۸ء میں ان کے شاگرد حمید عظیم آبادی نے مرتب کرکے نغمۂ الہام کے نام سے شائع کیا۔ بعد میں اُن کی خود نوشت شاد کی کہانی شاد کی زبانی ۔ شائع ہوئی ۔ اس کے علاوہ حیات فریاد، رباعیات شاد، سروش مستی، میخانه الهام، مادر وطن اور متعدد مجموعے بھی منظر عام پر آئے۔
شاد نے مثنوی ، غزل، قصیدہ، مرثیہ اور دوسری اصناف سخن میں طبع آزمائی کی۔ لیکن اُن کی شہرت کا باعث اُن کی غزلیں ہیں۔ جو سادگی اور گلاوٹ ، ترنم و شیرینی، کیف وسرور اور تازگی و تاثیر کی بدولت لایق توجہ ہیں۔ شاد کے زمانے میں غزل کا زور اور اثر کم ہونے لگا تھا۔ شاد نے اُسے نکھار نے، سنوارنے اور استحکام بخشنے میں اہم کردار ادا کیا۔ زبان کی صفائی و سادگی شاد کی شاعری کا خاص وصف ہے۔ واردات قلبی کے ساتھ ساتھ اخلاق، فلسفہ اور توحید ان کے محبوب موضوعات ہیں۔ ان سب کو اپنے لطیف انداز بیان سے دل پذیر اور پر تاثیر بنا دیتے ہیں۔
سوال نمبر 4
- ۱ شاد بتیس برس تک مجسٹریٹ اور چودہ برس تک گورنمنٹ کے نامزد کردہ میونسپل کمشنر رہے۔
- ۲ شاد کو ۱ ۱۸۹ء میں خان بہادر کے خطاب سے نوازا گیا ۔
- ۳ اُردو غزل میں تصوف شاد عظیم آبادی نے داخل کر دیا۔