Back to: 11th Class Urdu Notes JKBOSE | Chapterwise Notes
- غزلیات علامہ محمد اقبال
- شاعر: علامہ محمد اقبال
| دل سوزسے خالی ہے نگہ پاک نہیں ہے پھر اس میں عجب کیا کہ تو بے باک نہیں ہے |
تشریح:
اس شعر میں علامہ اقبال انسان کے دل اور نگاہ کے ربط پر بات کر رہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر انسان کا دل سوز یعنی درد و احساس سے خالی ہو تو اس کی نظر میں پاکیزگی اور گہرائی نہیں ہوتی۔ جب دل میں سوز نہ ہو تو اس کی سوچ میں بلند خیالات نہیں آسکتے، اس لئے انسان بے باک اور جرأت مند نہیں ہوتا۔
| ہے ذوق تجلی بھی اسی خاک میں پنہاں غافل! تو برا صاحب ادراک نہیں ہے |
تشریح:
اس شعر میں علامہ اقبال بتاتے ہیں کہ انسان کے اندر ایک فطری صلاحیت یعنی ذوقِ تجلی (اللہ کی قدرت اور حقائق کو سمجھنے کی رغبت) بھی اسی مٹی یعنی انسان کی فطرت میں پوشیدہ ہے۔ اقبال مخاطب کو غافل کہہ کر تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی اندرونی صلاحیتوں سے بے خبر ہے۔ اگر وہ ان صلاحیتوں کو سمجھ لے تو برا صاحبِ ادراک (فہم و شعور والا) نہیں کہلائے گا بلکہ وہ حقیقت کو جاننے والا ہوگا۔
| وہ آنکھ کہ ہے سرمہ افرنگ سے روشن پر کار و سخن ساز ہے! نمناک نہیں ہے |
تشریح:
اس شعر میں علامہ اقبال مغرب کی تقلید پر تنقید کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ آنکھ جو مغرب (افرنگ) کے سرمہ سے روشن ہے، یعنی مغربی نظریات اور تہذیب سے متاثر ہے، بظاہر کارآمد اور باتوں میں چالاک نظر آتی ہے، لیکن اس میں کوئی روحانی گہرائی یا احساس نہیں ہے۔ نمناک آنکھ سے مراد وہ آنکھ ہے جس میں درد اور احساس ہو، جو اپنے معاشرتی اور روحانی مسائل پر غور کرے۔ ایسی مغربی اثرات سے متاثر آنکھ بے حس اور بے اثر ہوتی ہے۔
| کیا صوفی و ملا کو خبر میرے جنون کی اُن کا سر دامن بھی ابھی چاک نہیں ہے |
تشریح:
اس شعر میں علامہ اقبال صوفی اور ملا کی دنیاوی حالت پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان لوگوں کو میرے جنون یعنی میری روحانی تڑپ اور جستجو کی خبر نہیں ہے۔ صوفی اور ملا ابھی تک رسمی عبادات اور ظاہری تقویٰ میں مصروف ہیں، لیکن ان کا دل حقیقت کی گہرائی اور عشقِ حقیقی سے خالی ہے، کیونکہ ان کا دامن بھی ابھی تک چاک نہیں ہوا، یعنی انہوں نے ابھی تک عشق کی شدت اور سچائی کا سامنا نہیں کیا۔
| کب تک رہے محکومی انجم میں میری خاک یا میں نہیں یا گردشِ افلاک نہیں ہے |
تشریح:
اس شعر میں علامہ اقبال اپنی قوم کی غلامی اور پستی پر اظہارِ افسوس کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کب تک میری مٹی، یعنی میری قوم، ستاروں (انجم) کی محکومی میں رہے گی، یعنی دوسروں کے تابع اور محتاج رہے گی۔ اقبال اس حد تک پرعزم ہیں کہ وہ یا تو اپنے وجود کا انکار کرتے ہیں یا پھر یہ مانتے ہیں کہ کائنات کی گردش اور فطری اصول ہی ٹھیک نہیں، کیونکہ وہ اس غلامی کو فطرت کے اصولوں کے خلاف سمجھتے ہیں۔ یہ اقبال کی انقلاب کی تڑپ اور خودداری کا اظہار ہے۔
| بجلی ہوں نظر کوہ و بیاباں پہ ہے میری میرے لیے شایاں خس و خاشاک نہیں ہے |
تشریح:
اس شعر میں علامہ اقبال اپنے بلند مقام اور قوت کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ بجلی کی مانند ہیں، جن کی نظر پہاڑوں اور بیابانوں (وسیع میدانوں) پر ہے، یعنی ان کی فکر بلند اور وسیع ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی طاقت اور عظمت اتنی عظیم ہے کہ ان کے لیے معمولی چیزیں، جیسے خس و خاشاک (تنکے اور گھاس پھوس)، مناسب نہیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اقبال کی فکر اور مقام اتنے بلند ہیں کہ وہ چھوٹے یا معمولی کاموں کے لیے نہیں ہیں، بلکہ ان کی زندگی کا مقصد عظیم ہے۔
| عالم ہے فقط مومن جانباز کی میراث مومن نہیں جو صاحب لولاک نہیں ہے |
تشریح:
اس شعر میں علامہ اقبال بیان کرتے ہیں کہ کائنات کی حقیقی ملکیت اور حکمرانی صرف اس مومن کی میراث ہے جو جانباز، یعنی دلیر اور قربانی دینے والا ہو۔ اقبال کے نزدیک وہ شخص مومن نہیں کہلا سکتا جو “صاحبِ لولاک” یعنی حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات اور پیغام کا سچا پیروکار نہ ہو۔ صاحبِ لولاک سے مراد وہ عظیم شخصیت ہے جن کے وجود کی وجہ سے کائنات تخلیق ہوئی، اور اقبال بتاتے ہیں کہ مومن کی سچائی اور عظمت کا تعلق نبی کریم ﷺ سے وابستگی اور اُن کی سیرت پر چلنے سے ہے۔
غزل نمبر 2 کی تشریح
| ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں |
تشریح:
اس شعر میں علامہ اقبال انسان کو جدوجہد اور بلند مقاصد کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ستاروں سے آگے بھی کئی جہان اور ہیں، یعنی کامیابیوں اور امکانات کی کوئی حد نہیں ہے۔ ابھی عشق کے امتحان باقی ہیں، یعنی انسان کو مسلسل عشقِ حقیقی اور مقصدِ عالی کے لیے مزید محنت اور قربانی دینی ہوگی۔ یہ شعر انسان کو تسخیر کائنات اور روحانی ترقی کی طرف مائل کرتا ہے۔
| تہی، زندگی سے نہیں یہ فضائیں یہاں سینکڑوں کارواں اور بھی ہیں |
تشریح:
اس شعر میں علامہ اقبال کہتے ہیں کہ یہ فضائیں زندگی سے خالی نہیں ہیں، یعنی دنیا میں امکانات اور مواقع کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اقبال مزید فرماتے ہیں کہ یہاں، یعنی اس دنیا میں، سینکڑوں کارواں اور بھی ہیں، یعنی بہت سے لوگ اور قافلے اپنے اپنے مقاصد کی تلاش میں نکلے ہوئے ہیں۔ یہ شعر زندگی میں وسیع تر امکانات اور جدوجہد کے تسلسل کی طرف اشارہ کرتا ہے، اور انسان کو اپنی جستجو جاری رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔
| قناعت نہ کر عالمِ رنگ و بُو پر چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں |
تشریح:
اس شعر میں علامہ اقبال انسان کو صرف عالمِ رنگ و بُو یعنی مادی دنیا کی خوبصورتی اور لذتوں پر قناعت کرنے سے منع کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس دنیا سے آگے بھی بہت سے چمن اور آشیانے ہیں، یعنی روحانی اور فکری دنیا میں بھی بے شمار امکانات اور کامیابیاں ہیں جنہیں تلاش کیا جا سکتا ہے۔ اقبال اس شعر کے ذریعے انسان کو مادی دنیا سے آگے بڑھ کر اعلیٰ مقاصد کی تلاش کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
| اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم مقاماتِ آہ و فغاں اور بھی ہیں |
تشریح:
اس شعر میں علامہ اقبال یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اگر ایک نشیمن، یعنی ایک جگہ یا مقام، کھو جائے تو اس کا کوئی غم نہیں ہے۔ کیوں کہ آہ و فغاں (درد و غم) کے مقامات اور بھی موجود ہیں، یعنی زندگی میں درد اور آزمائشوں کے اور بھی مواقع ہیں جو انسان کو نئی راہوں پر لے جا سکتے ہیں۔ اقبال اس خیال کے ذریعے انسانی تجربات اور مشکلات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں، اور یہ بتاتے ہیں کہ ہر نقصان یا غم کے بعد بھی نئے امکانات اور مواقع کی تلاش جاری رہنی چاہیے۔
| تو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں |
تشریح:
اس شعر میں علامہ اقبال انسان کو ایک بلند و بالا شاہین کی حیثیت دیتے ہیں، جس کا کام پرواز کرنا ہے۔ اقبال اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انسان کو اپنے بلند مقاصد کی تلاش میں جدوجہد کرنی چاہیے، کیونکہ اس کے سامنے صرف ایک آسمان نہیں، بلکہ اور بھی آسمان ہیں۔ یہ شعر انسان کی عظمت، خود اعتمادی، اور زندگی میں مزید کامیابیوں کی جانب بڑھنے کی ترغیب دیتا ہے، اور یہ بتاتا ہے کہ انسان کی صلاحیتوں کی کوئی حد نہیں۔
| اسی روز و شب میں اُلجھ کر نہ رہ جا کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں |
تشریح:
اس شعر میں علامہ اقبال انسان کو متنبہ کرتے ہیں کہ اسے روز و شب کی روٹین میں اُلجھ کر نہیں رہ جانا چاہیے۔ یعنی زندگی کی معمولات میں گم ہو کر اپنی حقیقی منزل سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ اقبال یہ بتاتے ہیں کہ تیرے زمان و مکاں، یعنی تیرے وقت اور جگہ، میں مزید امکانات اور مواقع موجود ہیں۔ یہ شعر انسان کو اپنی فکر اور کوششوں کو وسعت دینے کی ترغیب دیتا ہے، تاکہ وہ اپنی زندگی کی گہرائیوں کو سمجھے اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کوشاں رہے۔
| گئے دن کہ تنہا تھا مَیں انجمن میں یہاں اب مِرے رازداں اور بھی ہیں |
تشریح:
اس شعر میں علامہ اقبال ماضی کی تنہائی کا ذکر کرتے ہیں، جب وہ انجمن (اجتماع یا معاشرے) میں اکیلے تھے۔ اب وہ یہ بتا رہے ہیں کہ ان کی زندگی میں رازداں، یعنی سمجھنے والے یا ہم خیال لوگ، اور بھی ہیں۔ یہ شعر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اقبال نے اپنے راستے پر چلتے ہوئے نئے دوست، ساتھی، اور ہم خیال لوگوں کی تلاش کی ہے، جو ان کی سوچ و احساسات کو سمجھتے ہیں۔ اقبال اس کے ذریعے یہ پیغام دیتے ہیں کہ انسان کی جستجو اور ترقی میں ساتھ دینے والے لوگ اہم ہوتے ہیں۔
۲ مشق۔
سوال نمبر 1 :
| وہ آنکھ کہ ہے سرمہ افرنگ سے روشن پر کار و سخن ساز ہے نمناک نہیں ہے |
اس شعر میں وہ آنکھ سے مراد کس کی آنکھ ہے۔
جواب: اس شعر میں “وہ آنکھ” سے مراد ایک ایسی نظر ہے جو مغرب (افرنگ) کی ثقافت، تعلیمات یا نظریات سے متاثر ہے۔
سوال نمبر 2 بحوالہ شاعر تشریح کیجیے۔
| کب تک رہے محکومی انجم میں میری خاک یا میں نہیں یا گردشِ افلاک نہیں ہے |
تشریح:
اس شعر میں علامہ اقبال اپنی قوم کی غلامی اور پستی پر اظہارِ افسوس کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کب تک میری مٹی، یعنی میری قوم، ستاروں (انجم) کی محکومی میں رہے گی، یعنی دوسروں کے تابع اور محتاج رہے گی۔ اقبال اس حد تک پرعزم ہیں کہ وہ یا تو اپنے وجود کا انکار کرتے ہیں یا پھر یہ مانتے ہیں کہ کائنات کی گردش اور فطری اصول ہی ٹھیک نہیں، کیونکہ وہ اس غلامی کو فطرت کے اصولوں کے خلاف سمجھتے ہیں۔
| قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں |
تشریح:
اس شعر میں علامہ اقبال انسان کو صرف عالمِ رنگ و بُو یعنی مادی دنیا کی خوبصورتی اور لذتوں پر قناعت کرنے سے منع کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس دنیا سے آگے بھی بہت سے چمن اور آشیانے ہیں، یعنی روحانی اور فکری دنیا میں بھی بے شمار امکانات اور کامیابیاں ہیں جنہیں تلاش کیا جا سکتا ہے۔ اقبال اس شعر کے ذریعے انسان کو مادی دنیا سے آگے بڑھ کر اعلیٰ مقاصد کی تلاش کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
سوال نمبر 3 : شاعر دوسری غزل میں کس سے مخاطب ہے؟
جواب: شاعر دوسری غزل میں “وہ آنکھ کہ ہے سرمہ افرنگ سے روشن” کے حوالے سے بنیادی طور پر مغربی تہذیب کے پیروکاروں یا ان لوگوں سے مخاطب ہے جو مغربی ثقافت اور نظریات کی جانب مائل ہیں۔ اقبال ان لوگوں کی تنقید کر رہے ہیں جو اپنی شناخت اور روحانی ورثے سے دور ہو کر صرف ظاہری علم و بصیرت تک محدود رہ گئے ہیں۔ اس میں وہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر فکری و روحانی بیداری کی ضرورت پر زور دیتے ہیں، تاکہ لوگ اپنی اصل روحانی اور ثقافتی حیثیت کو پہچان سکیں۔
سوال نمبر 4: اقبال کی حیات اور ادبی کارناموں پر نوٹ لکھیے۔
شیخ محمد اقبال نام اور اقبال تخلص ہے۔ ۹ نومبر ۱۸۷۷ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام شیخ نور محمد اور والدہ کا نام امام بی بی تھا۔ اقبال کا آبائی وطن کشمیر تھا کیونکہ ان کے آبا و اجداد کشمیر سے ہجرت کر کے سیالکوٹ میں جابسے تھے۔ ان کے اجداد کشمیری پنڈتوں میں سپر و خاندان کے برہمن تھے جو آج سے تقریباڈھائی سو سال پہلے مشرف بہ اسلام ہو کر سیالکوٹ چلے گئے تھے۔ اقبال کو بھی کشمیری نژاد ہونے پر بہت ہی ناز تھا۔ اقبال کی ابتدائی تعلیم مکتب میں شروع ہوئی بعد میں والد نے اسکاچ مشن اسکول میں داخل کرادیا جہاں سے انھوں نے سید میر حسن سے عربی اور فارسی پڑھی، میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے امتحانات بھی یہیں سے پاس کیے۔
پھر مزید تعلیم کے لیے لاہور کے گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا اور وہاں سے بی۔ اے کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فلسفہ میں ایم اے کا امتحان پاس کیا اور یونیورسٹی میں اول آئے۔ پھر اور ینٹل کالج لاہور میں تاریخ اور فلسفہ کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ اس کے بعد کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفہ کی ڈگری حاصل کی۔ جرمنی سے پی۔ ایچ۔ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور لندن میں بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ واپس آکر لاہور میں وکالت کی۔ علم و ادب سے ان کا زندگی بھر لگاؤ رہا اس وجہ سے ان کا شمار دنیا کے بڑے عالموں اور مفکروں میں ہوتا ہے۔ اور علامہ بھی کہلاتے ہیں۔
حکومت کی طرف سے آپ کوسر کا خطاب ۱۹۲۳ء میں ملا۔ اقبال نے تین شادیاں کیں مگر ان کی ازدواجی زندگی زیادہ خوشگوار نہیں رہی اور سبب یہ کہ ان کی مالی حالت کبھی بہت اچھی نہیں رہی۔ ۱۰ جنوری ۱۹۳۴ء کو اقبال کو نزلہ ہوا جو انفلوئنزا میں تبدیل ہو گیا۔ پھر آواز بیٹھ گئی ، دل کا عارضہ بھی ہو گیا، مرض بڑھتے گئے صحت خراب ہوتی گئی اور آخر کار ۲۱ اپریل ۱۹۳۸ء کو انتقال ہو گیا۔ حب وطن اقبال کی زندگی کا پہلا پیار تھا اور فطرت کے دلکش مناظر انھیں بہت عزیز تھے۔ چنانچہ شعر کہنے شروع کیے تو پہلے انہی دونوں کو موضوع سخن بنایا۔ ترانہ ہندی” (سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا) کے اشعار آج بھی ہمارے خون کی گردش میں اضافہ کرتے ہیں۔ اس دور میں وطن کے لیے اقبال کے دل میں کتنا درد تھا، یہ دیکھنا ہو تو ” تصویر درد کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اسی طرح ان کی بہت سی نظموں اور غزلوں میں حب الوطنی کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔