سبق نمبر 8: محلے کی ہولی، خلاصہ، سوالات و جوابات

0
  • سبق: محلے کی ہولی
  • مصنف: اطہر پرویز

مشق.

سوال نمبر 1 : ڈراما “محلے کی ہولی” کے دوسرے اور تیسرے سین کا خلاصہ لکھیے؟

دوسرا سین:

لالہ جی گھر سے باہر جارہے ہوتے ہیں تو میر صاحب آجاتے ہیں، میر صاحب کو شہباز خان کے ساتھ دشمنی ہے، وہ شہباز خان کو رسوا کرنا چاہتا ہے، وہ لالہ جی کو بھی شہباز خان کا دشمن بنانا چاہتا ہے۔ وہ شہریارخان کے خلاف لالہ جی کے کان بھر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ شہباز خان نے مشہور کر دیا ہے کہ وہ لالہ جی کے گھر کا ادها خرچہ برداشت کر لیتا ہے، اور اس کے گھر میں اچار بھجواتا ہے اور ایک سویٹر بھی بھیج دی ہے۔ اسی دوران حافظ جی بھی آجاتے ہیں اور آگ پر تیل چھڑک دیتے ہیں۔ لالہ جی نے سے بھڑک اٹھتے ہیں۔

تیسرا سین:

لالہ جی گھر میں ہیں اور بہت ہی غصے میں ہیں۔ وہ شہباز خان کی بات گھر والوں کو بھی بتا دیتے ہیں۔ گھر والوں کو بھی غصہ آجاتا ہے۔ اتنے میں پنڈت جی آجاتے ہیں، لالہ جی ہولی کمیٹی کے سیکریٹری ہیں۔ پنڈت کجی ان کے پاس اس غرض سے آتے ہیں کہ وہ دونوں کچھ لوگوں کے پاس جا کر چندہ وصول ہولی کے لئے چندہ وصول کریں۔ شہریار خان جو کہ ہر سال ہولی کے لئے چندہ دیتا ہے تو لالہ جی اس سے چندہ وصول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ وہ شہباز خان کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں۔

سوال نمبر 2 : لالہ جی کے کردار کا خاکہ پیش کیجیے؟

جواب: لالہ تیج رام شہباز خان کے گہرے دوست ہیں، شہباز خان کے گھر والوں کے ساتھ وہ ہے تکلفی سے پیش آتے ہیں۔ وہ روئی کی بنڈی پہنا کرتے ہیں لیکن شہار کی بیٹی خالدہ ان کے لئے ایک سویٹر تیار کرتی ہے۔ لالہ جی ہنسی مذاق بھی کرتے ہیں۔ دونوں دوستوں کی ایک رنگ کی سویٹر کو وہ بیلوں کی جوڑی پر ایک ہی رنگ کی جھول قرار دیتے ہیں۔ لالہ جی میر صاحب کی باتوں کا بلا تحقیق یقین کر لیتے ہیں اور میر صاحب کی باتوں میں آکر شہباز خان کے دشمن ہو جاتے ہیں۔ جتنی ان کی دوستی گہری اتنی ہی ان کی دشمنی بھی سخت ہوتی ہے۔ وہ یہ گوارا نہیں کر سکتے ہیں کہ شہباز خان کسی سے کہے کہ وہ ان کے گھر کا آدھا خرچہ برداشت کر لیتا ہے۔ اس دشمنی میں وہ شہباز خان سے چندہ وصول کرنے سے بھی انکار کرتا ہے۔

سوال نمبر 3 : ” محلے کی ہولی“ کا بنیادی پیغام کیا ہے؟

جواب: محلے کی ہولی کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ معاشرے کے سبھی لوگ آپس میں بھائی بھائی بن کر ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کریں، ایک دوسرے کی خوشیوں اور غم میں شریک ہو جائیں۔ جو لوگ نفرت اور انتشار پھیلانا چاہتے ہیں ان کی باتوں میں نہ آئیں، آپسی دشمنی اور رنجش کو بھلا کر ایک دوسرے کے ساتھ محبت سے پیش آئیں۔

سوال نمبر 4: اس ڈرامہ کے نسوانی کرداروں کا دو دو جملوں میں تعارف پیش کیجیے؟

جواب: اس ڈرامے کے نسوانی کردارتیج رام کی بیوی اور اس کی بیٹی سوشیلا ہیں جو ہندومذہب سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے علاوہ شہباز خان کی بیوی اور اس کی بیٹی خالدہ ہے ، وہ دونوں مسلمان ہیں۔ خالدہ اپنی ماں کے ساتھ لالہ جی کے گھر جا کر سویٹر کا ناپ لیتی ہے اور لالہ جی کی عورتیں ان کا وہاں خوب استقبال کرتی ہیں۔ دونوں گھرانوں کی عور تیں آپس میں بے تکلفی سے پیش آتی ہیں لیکن جب ان کے درمیان دشمنی پیدا ہو جاتی ہے تو وہ ایک دوسرے کے سامنے بھی نہیں آتیں۔ لیکن جب غلط فہمیاں دور ہو جاتی تو وہ پھر سے ایک دوسرے کے گلے ملتی ہیں اور ایک دوسرے کے آنسو پو پونچھتی ہیں۔

سوال نمبر 5: اطہر پرویز کی حیات اور ادبی کارناموں پر نوٹ لکھیے۔

جواب: اطہر پرویز 1922ء کو الہ آباد سیلو ہارہ ضلع بجنور میں پیدا ہوئے۔ اُن کی ابتدائی تعلیم پہلے مدرسہ میں ہوئی جہاں اُردو کے ساتھ ساتھ قرآن شریف، گلستان اور بوستان پڑھی۔ الہ آباد میں کرسچین کالج سے ایف اے پاس کرنے کے بعد 1941ء میں علی گڑھ آئے۔ یہاں سے 1945ء میں فارسی میں ایم ۔ اے پاس کیا۔ یونیورسٹی چھوڑتے ہی سیاسی زندگی اختیار کی اور صوبہ متوسط میں کئی سال قیام رہا۔ 1950ء تک کل وقتی سیاسی کارکن کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ اسی دوران جیل کی زندگی بھی گزاری اور زندگی کو بہت قریب سے دیکھا۔ 1950ء میں دہلی آگئے اور جامعہ کے بچوں کے رسالے ” پیام تعلیم ” کی ادارت کے فرائض انجام دیتے رہے۔ 1956ء میں وہاں سے مستعفی ہو کر علی گڑھ آگئے ۔ 1958ء میں اُردو میں ایم۔ اے کیا اور ۱۹۵۹ء میں جنرل ایجو کیشن میں لیکچرر کی حیثیت سے تقرر ہوا۔

10/ مارچ 1984ء کو علی گڑھ میں انتقال کر گئے۔ اطہر پرویز نے بچوں اور کم پڑھے لکھے بالغوں کے لیے متعدد کتابیں لکھیں۔ جن میں سے آٹھ کتابوں پر حکومت ہند نے انعامات دیے دو ہیں۔ بڑوں کے لیے ادب سے متعلق ایک کتاب ” ادب کا مطالعہ ” پرحکومت اتر پردیش سے انعام ملا اور یہ کتاب مختلف درسگاہوں میں نصاب کے طور پر رائج ہے۔ انھوں نے تقریباً دو در جن کتا میں لکھی ہیں ۔ اطہر پر ویز کو ڈراموں سے خاص طور پر دلچسپی تھی۔ متعدد ڈرامے لکھے جو وقتا فوقتا اسٹیج ہوتے رہتے ہیں۔ فسانہ عجائب کو بھی ترتیب دیا ہے۔ بلا شک اطہر پر ویز اُردو کے ایک بلند پایہ ادیب ہیں اور ان کی خدمات کو اردو ادب میں ہمیشہ سراہا جائے گا۔

سوال نمبر 6: تضاد یا تصادم ڈرامہ کی جان ہے۔ محلے کی ہولی میں کہاں پر آپ کو تضاد نظر آیا۔ اس کی وضاحت کیجئے۔

جواب: ڈرا مے کی ہولی میں تضاد اور تصادم نمایاں طور پر نظر آتاہے۔ لالہ تیج رام اور شہباز خان کے درمیان دوستی دشمنی میں تبدیل ہو جاتی ہے، پھر یہی دشمنی پھر سے دوستی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ دوستی کے زمانے میں دونوں دوست اور ان کے گھر والے گلے ملتے نظر آتے ہیں لیکن دشمنی کے وقت وہ ایک دوسرے کا منہ بھی دیکھنا نہیں چاہتے۔ یہ تضاد اور تصادم اس وقت عروج پر نظر آتا ہے جب ہولی جلانے کا وقت آجاتا ہے۔ شہباز خان جو ہر سال ہولی کے لئے چندہ دیتا ہے اس سے چندہ نہیں لیا جاتا۔ اب تک وہ لالہ جی کا گہرا دوست اور معاشرے کا معزز آدمی سمجھا جاتا تھا لیکن آج وہ لالہ جی کا دشمن اور معاشرے سے الگ تھلگ نظر آتا ہے۔

پھر یہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ ہولی کی آگ جس میں جلانے کی لکڑی ڈالی جاتی تھی شہباز خان آج اس میں اپنے گھر کی نئی کرسیاں، میز، دروازے یہاں تک کہ اپنی بیٹی کا جھولا بھی ڈالتے نظر آتے ہیں۔ لالہ تیج رام جو شہباز خان کو رسوا کرنے پر تلا ہوا تھا اس کی آنکھوں میں آنسو نظر آتے ہیں۔ دونوں دوست جب دوبارہ دوستی کے بندھن میں بندھ کے گلے ملتے ہیں تو ان کے درمیان لگائی بجھائی کرنے والا میر صاحب بھی دوستی کے اس بندھن میں شامل ہو جاتا ہے اور ان سے گلے لگتا ہے۔ جس معاشرے میں وقتی طور پر نفرت کی آگ لگ گئی تھی اس میں پھر سے محبت کے پھول کھلتے نظر آتے ہیں۔

سوال نمبر 7: ڈرامہ میں استعمال ہوئے ہندی لفظوں کو الگ کر کے اُن کی ایک فہرست بنائیے۔

جواب: سندر دھارا، مہان ساگر، گیتا پاٹھ، بھاشن ،دیش، دشٹ، سمبندھ۔