غزلیات خواجہ میر درد، تشریح، سوالات و جوابات

0

غزل نمبر 1 کی تشریح

مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کی رقم کا
حقا! کہ خداوند ہے تو لوح و قلم کا

تشریح:

خواجہ میر درد اس شعر میں خدا کی عظمت اور انسان کی محدودیت کو بیان کرتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ ہمیں یہ طاقت یا اہلیت نہیں کہ ہم خدا کی صفات کو پوری طرح بیان کر سکیں، کیونکہ وہ ہماری فہم سے بالاتر ہیں۔ خدا کی قدرت اور بزرگی اتنی وسیع ہے کہ اسے الفاظ میں سمیٹا نہیں جا سکتا۔ دوسری مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ خدا ہی لوح و قلم کا مالک ہے، یعنی دنیا میں جو کچھ بھی لکھا جاتا ہے یا ہوگا، وہ سب اسی کی مرضی اور قدرت کے تحت ہوتا ہے۔

اُس مسندِ عزت پہ کہ تو جلوہ نما ہے
کیا تاب؟ گزر ہووے تعقل کے قدم کا

تشریح:

اس شعر میں خواجہ میر درد خدا کی عظمت اور انسان کی فکری محدودیت کو بیان کر رہے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ خدا ایسی مسندِ عزت پر جلوہ نما ہے جہاں اس کی عظمت اور بزرگی کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا۔ اس مقام پر عقل اور تعقل کی پہنچ ممکن نہیں، یعنی انسانی سوچ اور فہم خدا کی حقیقت کو پوری طرح سمجھنے سے قاصر ہے۔ شاعر کے مطابق، خدا کا مرتبہ اور شان اتنی بلند ہے کہ انسانی عقل اس تک رسائی حاصل کرنے کی تاب نہیں رکھتی۔

بستے ہیں ترے سایہ میں سب شیخ و برہمن
آباد ہے تجھ سے ہی تو گھر دیر و حرم کا

تشریح:

خواجہ میر درد اس شعر میں خدا کی وحدانیت اور تمام انسانوں کے لیے اس کی یکساں رحمت کا ذکر کرتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ تیرے (خدا کے) سایے میں شیخ (مسلمان عالم) اور برہمن (ہندو عالم) دونوں رہتے ہیں، یعنی خدا کی رحمت ہر انسان پر برابر ہے، چاہے اس کا مذہب کوئی بھی ہو۔ دوسری مصرعے میں شاعر بیان کرتا ہے کہ دیر (مندر) اور حرم (مسجد) دونوں کی آبادی بھی خدا ہی کی بدولت ہے، یعنی تمام عبادت گاہیں اور مذاہب خدا کے وجود اور رحمت کی وجہ سے قائم ہیں۔

ہے خوف اگر جی میں تو ہے تیرے غضب سے
اور دل میں بھروسا ہے تو ہے تیرے کرم کا

تشریح:

اس شعر میں خواجہ میر درد خدا کے غضب اور کرم کے درمیان توازن کو بیان کر رہے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر دل میں کوئی خوف ہے، تو وہ صرف خدا کے غضب کا ہے، یعنی انسان کو اس کی نافرمانی کا ڈر ہوتا ہے۔ دوسری جانب، اگر دل میں بھروسا ہے، تو وہ خدا کے کرم اور رحمت پر ہے۔ یہ شعر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مومن کا دل خدا کی عظمت اور اس کی مہربانی دونوں سے متاثر ہوتا ہے، جہاں ایک طرف خوف ہوتا ہے کہ کہیں خدا ناراض نہ ہو جائے، اور دوسری طرف یقین ہوتا ہے کہ خدا کا کرم ہمیشہ شاملِ حال رہے گا۔

مانندِ حباب آنکھ تو اے درد! کھلی تھی
کھینچا نہ پر اس بحر میں عرصہ کوئی دم کا

تشریح:

خواجہ میر درد اس شعر میں انسانی زندگی کی ناپائیداری اور عارضی ہونے کا بیان کرتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ جیسے حباب (بلبلہ) پانی کی سطح پر بہت مختصر وقت کے لیے نظر آتا ہے، اسی طرح ہماری آنکھ بھی کھلی تھی یعنی زندگی کا آغاز ہوا، لیکن یہ اتنا عارضی تھا کہ اسے کھینچنے یا طول دینے کا کوئی موقع نہیں ملا۔ دوسری مصرعے میں “بحر” یعنی زندگی کے وسیع سمندر میں شاعر یہ کہتا ہے کہ ہماری زندگی کا عرصہ اتنا مختصر ہے کہ اس میں زیادہ وقت گزارنے کی مہلت نہیں ملتی۔

غزل نمبر 2 کی تشریح

تہمتیں چند اپنے ذمے دھر چلے
جس لیے آئے تھے سو ہم کر چلے

تشریح:

اس شعر میں خواجہ میر درد انسان کی زندگی کے مقصد اور انجام کو بیان کر رہے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ ہم اپنے ذمے چند تہمتیں (گناہ یا خطائیں) لے کر دنیا سے رخصت ہو گئے، یعنی دنیاوی زندگی میں کچھ کوتاہیاں اور غلطیاں سرزد ہوئیں جن کا بوجھ ہم پر رہ گیا۔ دوسری مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ جس مقصد کے لیے ہم دنیا میں آئے تھے، وہ ہم نے پورا کر لیا، یعنی زندگی میں جو فرض تھا، اسے مکمل کر کے ہم اپنی زندگی کا سفر ختم کر چکے ہیں۔

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

تشریح:

اس شعر میں خواجہ میر درد زندگی کی مشکلات اور مصائب کو ایک طوفان سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ زندگی ایسی ہے جیسے کوئی طوفان ہو، جو مسلسل انسان کو ہلا کر رکھ دیتا ہے اور سکون چھین لیتا ہے۔ دوسری مصرعے میں شاعر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ہم تو اس جینے کے عمل سے ہی مر چکے ہیں، یعنی زندگی کی پریشانیوں اور مشکلات نے ہمیں اتنا تھکا دیا ہے کہ جینے کا عمل خود موت جیسا محسوس ہوتا ہے۔

کیا ہمیں کام ان گلوں سے اے صبا
ایک دم آئے ادھر اُدھر چلے

تشریح:

اس شعر میں خواجہ میر درد دنیا کی ناپائیداری اور عارضی خوشیوں کی حقیقت کو بیان کر رہے ہیں۔ شاعر ہوا (صبا) سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ ہمیں ان پھولوں (دنیاوی خوشیوں اور لذتوں) سے کیا کام؟ یعنی دنیا کی عارضی خوشیوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ پھولوں کی زندگی بھی مختصر ہوتی ہے اور ہوا انہیں کہیں سے اٹھا کر لے آتی ہے اور پھر وہ جلد ہی مرجھا جاتے ہیں۔ دوسری مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ یہ خوشیاں بھی ایک پل کے لیے آتی ہیں اور فوراً ختم ہو جاتی ہیں، جیسے کوئی لمحہ ادھر آتا ہے اور پلک جھپکتے ہی چلا جاتا ہے۔

ایک میں دل ریش ہوں ویسا ہی دوست
زخم کتنوں کے سُنا ہے بھر چلے

تشریح:

خواجہ میر درد اس شعر میں اپنے دل کی کیفیت اور دوست کی خصوصیات کا بیان کر رہے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ میرا دل ریش یعنی زخمی ہے، اور ویسا ہی میرا دوست بھی ہے، جو درد کو سمجھتا ہے اور دل کی حالت سے واقف ہے۔ دوسرے مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ سنا ہے وہ دوست بہت سے لوگوں کے زخم بھر چکا ہے، یعنی وہ لوگوں کے دکھ درد کو دور کرتا ہے، ان کی تکالیف کا مداوا کرتا ہے۔ شاعر کے لیے یہ امید کی کرن ہے کہ شاید اس کا دوست اس کے دل کے زخم بھی بھر دے۔

شمع کی مانند ہم اس بزم میں
چشم تر آئے تھے دامن تر چلے

تشریح:

خواجہ میر درد اس شعر میں شمع کی مثال کے ذریعے اپنی حالت اور جذبات کا بیان کر رہے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ ہم اس بزم (محفل) میں شمع کی طرح ہیں، یعنی اپنی روشنی سے دوسروں کو منور کر رہے ہیں، لیکن ہماری آنکھیں (چشم) اشکوں سے تر ہیں، جو ہمارے اندر کی درد و غم کی عکاسی کرتی ہیں۔ دوسری مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ ہم اپنی تر دامنی (پھیلا ہوا دامن یا لباس) کے ساتھ چلے گئے، یعنی اپنے جذبات اور غموں کے بوجھ کے ساتھ اس محفل سے رخصت ہوئے۔

ساقیا یاں لگ رہا ہے چل چلاؤ
جب تلک بس چل سکے ساغر چلے

تشریح:

خواجہ میر درد اس شعر میں ساقی (شراب پیش کرنے والا) سے مخاطب ہو کر زندگی کے عارضی اور خوشگوار لمحات کا ذکر کر رہے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ ساقی، یہاں بیٹھ کر ہمیں لگتا ہے کہ زندگی کی خوشیاں چل رہی ہیں، لہذا جب تک ہم چل سکیں، ساغر (شراب کا پیالہ) بہاتے رہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک زندگی کی خوشیوں کا موقع موجود ہے، ہم ان کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔

درد کچھ معلوم ہے یہ لوگ سب
کس طرف سے آئے تھے کیدھر چلے

تشریح:

خواجہ میر درد اس شعر میں لوگوں کے درد و غم کی نوعیت اور ان کی زندگی کی حالت کی عکاسی کر رہے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ یہ لوگ، جن کی حالت سے ہم واقف ہیں، اپنے درد کو سمجھتے ہیں، لیکن ان کی آمد و رفت کا کچھ علم نہیں ہے۔ یعنی ہمیں یہ نہیں معلوم کہ وہ کس طرف سے آئے ہیں اور کہاں جا رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی میں بہت سے لوگ آتے ہیں، ان کے دکھ درد کی کہانیاں ہیں، مگر ان کی جڑیں یا منزلیں نامعلوم ہیں۔

سوالات۔

سوال نمبر 1 : پہلی غزل کے مطلع میں شاعر کیا کہنا چاہتا ہے؟

جواب: شاعر کہتا ہے کہ ہمیں یہ طاقت یا اہلیت نہیں کہ ہم خدا کی صفات کو پوری طرح بیان کر سکیں، کیونکہ وہ ہماری فہم سے بالاتر ہیں۔ خدا کی قدرت اور بزرگی اتنی وسیع ہے کہ اسے الفاظ میں سمیٹا نہیں جا سکتا۔ دوسری مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ خدا ہی لوح و قلم کا مالک ہے، یعنی دنیا میں جو کچھ بھی لکھا جاتا ہے یا ہوگا، وہ سب اسی کی مرضی اور قدرت کے تحت ہوتا ہے۔

سوال نمبر 2 : شاعر کے دل میں کس کے غضب کا خوف ہے؟

جواب: شاعر کہتا ہے کہ اگر دل میں کوئی خوف ہے، تو وہ صرف خدا کے غضب کا ہے، یعنی انسان کو اس کی نافرمانی کا ڈر ہوتا ہے۔

۳ دوسری غزل کے مقطع میں شاعر دنیا کی کسی حقیقت سے روشناس کرانا چاہتے ہیں؟

جواب: شاعر درد و غم کی نوعیت کی حقیقت سے روشناس کرانا چاہتے ہیں ۔

۴. نیچے دیئے ہوئے الفاظ کی مدد سے خالی جگہوں کو پُر کیجیے:

  • ۱. میر درد کی غزلیں چھوٹی بحر میں لکھی گئی ہیں۔
  • ۲. میر درد نے پندرہ برس کی عمر میں ایک رسالہ اسرار الصلاۃ تحریر کیا ۔
  • ۳. میر درد اپنے والد کے شاگرد ہوئے ۔
  • ۴. اُن کے کلام میں تصوف کا رنگ غالب ہے۔

۵.میر درد کے حالات زندگی اور ادبی خدمات پر نوٹ لکھیے.

خواجہ میر درد کا نام سید خواجہ میر اور تخلص در د تھا۔ دہلی اسکول کے تین معزز شاعروں میں سے ایک درد ہیں۔ انکے علاوہ میر تقی میر اور محمد رفیع سود آئیں، جنھیں کلاسیکل اردو غزل کے ستون تسلیم کیا جاتا ہے ۔میر درد کی پیدائش ۷۲۰ امیں دہلی میں ہوئی تھی۔ انکے والد کا نام خواجہ محمد ناصر اور مخلص عندلیب تھا جو فارسی کے بہترین شاعر گزرے ہیں۔ انکے ابا واجداد بخارا سے ہجرت کر کے دہلی میں قیام پذیر ہوئے تھے۔ درد کی مکمل دینی تعلیم اپنے والد کی نگرانی میں گھر میں ہی ہوئی۔ انھوں نے عربی، فارسی، اور اردو زبانیں سیکھی تھی۔ البتہ انھیں کم عمری سے ہی موسیقی سے الفت تھی، شاید اس لیے کہ انکے گھر میں گیت کار اور قوالوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔

آغاز جوانی میں سپاہی پیشہ تھے۔ پھر والد صاحب کے انتقال کے بعد دنیا ترک کی اور سجادہ نشین ہوئے۔ درد نے شاعری اور تصوف میراث میں پائی تھی۔ ذاتی تقدس، خودداری، ریاضت و عبادت کی وجہ سے امیر و غریب، بادشاہ و فقیر سب ان کی عزت کرتے تھے۔ انکے زمانے میں دہلی ہنگاموں کا مرکز تھی۔ نادر شاہ، احمد شاہ اور مر اٹھا دہلی میں لشکر کشی کر رہے تھے۔ چنانچہ وہاں کے باشندے معاشی بد حالی، بے قدری اور زبوں حالی سے مجبور ہو کر دہلی سے نکل رہے تھے۔ لیکن درد کے پائے استقامت میں لغزش نہ آئی اور دہلی میں ہی تاحیات مقیم رہے۔میر درد عام طور پر مختصر غزلیں لکھنے میں فوقیت رکھتے تھے۔ ان کا انداز آسان، سادہ اور مترنم تھا۔ انکی تحریریں سنجیدہ اور غور و فکر پر مائل کرنے والی تھی۔ انھیں بچپن ہی سے تصنیف و تالیف سے رغبت تھی۔ انھوں نے متعدد تصانیف لکھیں جو فارسی میں ہیں۔ ان کی فارسی تحریروں کا مجموعہ کافی وسیع ہے ، علم الکتاب، تریقہ محمد یہ ، اوردیوان درد، فارسی اور اردو میں تصنیف کی تھی۔

درد کی مقبولیت کا راز ان کے تصوف میں نہیں بلکہ ان کے تصوف کو نظموں میں بدلنے کی قابلیت میں تھا۔ وہ آٹھارویں صدی کے معروف صوفی شاعر بن کر ابھرے کیونکہ ان کا اظہار بیان براہ راست اور واضح تھا۔ انکی نظر میں شاعری ایک ذریعہ اظہار ہے جس سے خالق و مخلوق دونوں کو مخاطب کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے نفسی اور لفظی کلام کو مشترکہ طور پر بیان کیا تھا۔درد نے متعدد غزلیں لکھیں، جو اکثر و بیشتر مزاجی عشق اور حب الوطنی پر مبنی ہوتی تھی۔درد نے ۷۸۵ میں وفات پائی اور وہی جہاں تمام عمر بسر کی تھی مدفن قرار پایا ۔

۶. اشعار کی تشریح کیجیے۔

اوپر موجود تشریح دیکھیں۔