Back to: 11th Class Urdu Notes JKBOSE | Chapterwise Notes
- نظم رات اور ریل
- شاعر :اسرالحق
نظم رات اور ریل کی تشریح
| پھر چلی ہے ریل اسٹیشن سے لہراتی ہوئی نیم شب کی خامشی میں زیر لب گاتی ہوئی ڈگمگاتی جھومتی سیٹی بجاتی کھیلتی وادی و کہسار کی ٹھنڈی ہوا کھاتی ہوئی |
تشریح:
اسرار الحق مجاز کی اس نظم میں شاعر رات کے وقت چلتی ہوئی ریل گاڑی کی منظر کشی کر رہے ہیں۔ تیسری سطر میں شاعر ریل کے حرکت کرتے وقت کی کیفیت کو بیان کرتے ہیں کہ یہ جھومتی، سیٹی بجاتی اور کھیلتی ہوئی چل رہی ہے، جیسے یہ ایک خوشی کا اظہار کر رہی ہو۔ شاعر نے یہاں ریل گاڑی کو زندگی اور خوشیوں کا استعارہ بنایا ہے جو کہساروں اور وادیوں کی ٹھنڈی ہوا میں آزادی سے رواں دواں ہے۔
| تیز جھونکوں میں وہ چھم چھم کا سرود دل نشیں آندھیوں میں مینہ برسنے کی صدا آتی ہوئی جیسے موجوں کا ترنم جیسے جل پریوں کے گیت ایک اک لے میں ہزاروں زمزمے گاتی ہوئی |
تشریح:
اسرار الحق مجاز ان اشعار میں ریل کے گزرنے سے پیدا ہونے والی موسیقیت اور دلکشی کو بیان کر رہے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ تیز ہوا کے جھونکوں کے بیچ میں ریل کی آواز ایک دلفریب موسیقی کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ یہ آواز بارش اور سمندری لہروں کے ساز کی مانند ہے، جیسے ہر لے میں ہزاروں سرور انگیز آوازیں سمٹ آئی ہوں، جو ماحول کو اور زیادہ پرکشش بنا دیتی ہیں۔
| ٹھوکریں کھا کر لچکتی گنگناتی جھومتی سر خوشی میں گھنگروؤں کی تال پر گاتی ہوئی ناز سے ہر موڑ پر کھاتی ہوئی سو پیچ و خم اک دلہن اپنی ادا سے آپ شرماتی ہوئی |
تشریح:
ان اشعار میں شاعر ریل گاڑی کو ایک دلہن کے روپ میں پیش کرتے ہیں جو راستے کی ٹھوکریں کھا کر بھی خوشی اور سرمستی میں جھومتی اور گنگناتی ہوئی آگے بڑھتی ہے۔ ہر موڑ پر یہ دلہن ناز و ادا سے مڑتی ہے اور راستے کے پیچ و خم سے جیسے اپنے آپ میں شرما رہی ہو۔ شاعر نے ریل کو ایک دلہن کی طرح خوبصورتی اور نازک انداز میں چلتا ہوا دکھایا ہے۔
| رات کی تاریکیوں میں جھلملاتی کانپتی پٹریوں پر دور تک سیماب جھلکاتی ہوئی جیسے آدھی رات کو نکلی ہو اک شاہی برات شادیانوں کی صدا سے وجد میں آتی ہوئی |
تشریح:
شاعر ان اشعار میں رات کی تاریکی میں چلتی ریل گاڑی کو ایک شاہی برات سے تشبیہ دیتے ہیں۔ ریل کی چمکتی روشنی پٹریوں پر دور تک کانپتی اور جھلملاتی ہے، جیسے کہ رات کے سناٹے میں ایک عظیم شاہی برات نکل آئی ہو۔ شادیانوں کی آواز کی طرح اس کی گونج ماحول میں ایک سرور بھر دیتی ہے، جس سے رات کا منظر مزید دلکش اور پرشکوہ بن جاتا ہے۔
| منتشر کر کے فضا میں جا بجا چنگاریاں دامن موج ہوا میں پھول برساتی ہوئی تیز تر ہوتی ہوئی منزل بمنزل دم بہ دم رفتہ رفتہ اپنا اصلی روپ دکھلاتی ہوئی |
تشریح:
شاعر ان اشعار میں ریل کی رفتار اور اس کے سفر کی طاقت کو بیان کرتے ہیں۔ ریل جب آگے بڑھتی ہے تو اس کے انجن سے چنگاریاں فضا میں بکھرتی ہیں، جیسے ہوا میں پھول بکھر رہے ہوں۔ وقت کے ساتھ ریل کی رفتار بڑھتی جاتی ہے، ہر منزل پر یہ اور بھی تیز ہوتی ہے اور اپنے حقیقی روپ کو ظاہر کرتی ہے۔ شاعر نے اس منظر کو زندگی کی بڑھتی ہوئی طاقت اور سفر سے تشبیہ دی ہے، جو اپنی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو عبور کرتی ہے۔
| سینۂ کہسار پر چڑھتی ہوئی بے اختیار ایک ناگن جس طرح مستی میں لہراتی ہوئی اک ستارہ ٹوٹ کر جیسے رواں ہو عرش سے رفعت کہسار سے میدان میں آتی ہوئی |
تشریح:
شاعر ان اشعار میں ریل گاڑی کو پہاڑوں پر چڑھتے ہوئے ایک ناگن کی مانند مستی سے لہراتی ہوئی بیان کرتے ہیں۔ یہ منظر ایسا ہے جیسے کوئی ستارہ آسمان سے ٹوٹ کر زمین کی طرف آرہا ہو۔ پہاڑ کی بلندیوں کو عبور کر کے ریل جب میدان میں اترتی ہے، تو یہ منظر بہت دلکش اور پرجلال محسوس ہوتا ہے، جیسے کوئی عظیم طاقت آسمان سے زمین کی طرف رواں دواں ہو۔
| اک بگولے کی طرح بڑھتی ہوئی میدان میں جنگلوں میں آندھیوں کا زور دکھلاتی ہوئی یاد آ جائے پرانے دیوتاؤں کا جلال ان قیامت خیزیوں کے ساتھ بل کھاتی ہوئی |
تشریح:
شاعر ان اشعار میں ریل کے طاقتور اور پرجوش سفر کی تصویر کشی کرتے ہیں۔ جب ریل کھلے میدان میں بگولے کی طرح تیزی سے بڑھتی ہے اور جنگلوں میں آندھی کی طرح اپنی قوت کا مظاہرہ کرتی ہے تو یہ منظر پرانے دیوتاؤں کی جلالی شان کی یاد دلاتا ہے۔ اپنی طوفانی رفتار اور قوت کے ساتھ ریل ایسے بل کھاتی ہے جیسے قدرت کی عظیم قوت کا مظہر ہو، جو دیکھنے والے کو حیرت میں ڈال دیتی ہے۔
| مرغ زاروں میں دکھاتی جوئے شیریں کا خرام وادیوں میں ابر کے مانند منڈلاتی ہوئی اک پہاڑی پر دکھاتی آبشاروں کی جھلک اک بیاباں میں چراغ طور دکھلاتی ہوئی |
تشریح:
ان اشعار میں شاعر ریل گاڑی کے سفر کو قدرت کے حسین مناظر سے تشبیہ دیتے ہیں۔ جب ریل مرغزاروں سے گزرتی ہے تو یہ ایک میٹھے چشمے کی روانی کی طرح محسوس ہوتی ہے، اور وادیوں میں ابر کی طرح تیرتی ہے۔ کسی پہاڑی پر یہ آبشار کی جھلک دکھاتی ہے، اور بیابان میں گزرتے وقت حضرت موسیٰ کے “چراغ طور” جیسا منظر پیش کرتی ہے، گویا روشنی اور قدرت کا جلوہ لیے ہوئے ہے۔
| جستجو میں منزل مقصود کی دیوانہ وار اپنا سر دھنتی فضا میں بال بکھراتی ہوئی چھیڑتی اک وجد کے عالم میں ساز سرمدی غیظ کے عالم میں منہ سے آگ برساتی ہوئی |
تشریح:
ان اشعار میں شاعر ریل کی دیوانہ وار جستجو اور اس کے جوش کو بیان کرتے ہیں۔ منزل کی تلاش میں یہ ریل پاگل پن کی حد تک سر پٹختی ہے اور فضا میں اپنے بال بکھیرتی ہے، یعنی اپنی پوری قوت سے آگے بڑھتی ہے۔ ایک وجدانی کیفیت میں سرمدی ساز چھیڑتی ہے، اور جب غصے میں آتی ہے تو اس کے انجن سے آگ کے شعلے نکلتے ہیں، گویا اپنی طاقت اور شدت کا بھرپور اظہار کر رہی ہو۔
| رینگتی مڑتی مچلتی تلملاتی ہانپتی اپنے دل کی آتش پنہاں کو بھڑکاتی ہوئی خودبخود روٹھی ہوئی بپھری ہوئی بکھری ہوئی شور پیہم سے دل گیتی کو دھڑکاتی ہوئی |
تشریح:
ان اشعار میں شاعر ریل کے سفر کی شدت اور اس کے جذبات کو مجسم کرتے ہیں۔ ریل رینگتی، مڑتی، مچلتی اور ہانپتی ہوئی آگے بڑھتی ہے، جیسے اپنے دل کی چھپی ہوئی آگ کو بھڑکا رہی ہو۔ کبھی یہ روٹھی ہوئی، بپھری ہوئی اور بکھری ہوئی محسوس ہوتی ہے، اور اس کا مسلسل شور پوری کائنات کے دل کو دھڑکا رہا ہے، جیسے اس کی موجودگی سے زمین بھی لرز رہی ہو۔
| پل پہ دریا کے دما دم کوندتی للکارتی اپنی اس طوفان انگیزی پہ اتراتی ہوئی پیش کرتی بیچ ندی میں چراغاں کا سماں ساحلوں پر ریت کے ذروں کو چمکاتی ہوئی |
تشریح:
شاعر ان اشعار میں ریل کی طوفانی طاقت کو بیان کرتے ہیں جو پل کے اوپر دریا کے پانیوں میں کوندتی اور للکارتی ہے، جیسے وہ اپنی طاقت پر فخر کر رہی ہو۔ بیچ ندی میں ریل کا سفر ایک چراغاں کی مانند محسوس ہوتا ہے، جس سے روشنی کا سماں بنتا ہے۔ ریل کی یہ طوفانی قوت ساحلوں پر ریت کے ذروں کو چمکاتی ہے، گویا وہ اپنی موجودگی سے زمین اور سمندر دونوں میں زندگی کی چمک پیدا کر رہی ہو۔
| آگے آگے جستجو آمیز نظریں ڈالتی شب کے ہیبت ناک نظاروں سے گھبراتی ہوئی ایک مجرم کی طرح سہمی ہوئی سمٹی ہوئی ایک مفلس کی طرح سردی میں تھراتی ہوئی |
تشریح:
شاعر ان اشعار میں ریل کی متذبذب حرکت اور اس کی بے چینی کو بیان کرتے ہیں۔ ریل کی نظریں جستجو کے ساتھ آگے کی طرف ہوتی ہیں، مگر شب کی دہشتناک خاموشی سے گھبراتی ہیں۔ وہ ایک مجرم کی طرح سہمی ہوئی اور ایک مفلس کی طرح سردی میں کانپتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، جیسے اس کی بے بسی اور خوف کا سامنا ہو۔
| صفحۂ دل سے مٹاتی عہد ماضی کے نقوش حال و مستقبل کے دل کش خواب دکھلاتی ہوئی ڈالتی بے حس چٹانوں پر حقارت کی نظر کوہ پر ہنستی فلک کو آنکھ دکھلاتی ہوئی |
تشریح:
شاعر ان اشعار میں ریل کے سفر کو ماضی کے بوجھ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے حال اور مستقبل کے روشن خوابوں کی طرف بڑھتے ہوئے بیان کرتے ہیں۔ ریل، جو چٹانوں پر حقارت کی نظر ڈالتی ہے، ان پر اپنی طاقت کا اظہار کرتی ہے اور کوہ پر ہنستی ہوئی فلک کو آنکھ دکھاتی ہے، یعنی اپنی بلند قامت اور عظمت کا مظاہرہ کرتی ہے۔
| دامن تاریکئ شب کی اڑاتی دھجیاں قصر ظلمت پر مسلسل تیر برساتی ہوئی زد میں کوئی چیز آ جائے تو اس کو پیس کر ارتقائے زندگی کے راز بتلاتی ہوئی |
تشریح:
شاعر ان اشعار میں ریل کی طاقت کو بیان کرتے ہیں جو تاریکی کی رات کے دامن کو اڑاتی ہوئی آگے بڑھتی ہے اور ظلمت کے قلعے پر مسلسل تیر برساتی ہے، گویا وہ اندھیروں کو شکست دے رہی ہو۔ اگر کوئی رکاوٹ یا چیز اس کی زد میں آتی ہے تو وہ اسے پیس کر خود کو مزید طاقتور بناتی ہے۔
| ایک سرکش فوج کی صورت علم کھولے ہوئے ایک طوفانی گرج کے ساتھ ڈراتی ہوئی ایک اک حرکت سے انداز بغاوت آشکار عظمت انسانیت کے زمزمے گاتی ہوئی |
تشریح:
شاعر ان اشعار میں ریل کو ایک سرکش فوج کی مانند پیش کرتے ہیں جو علم کے جھنڈے لہراتی ہوئی آگے بڑھتی ہے، جیسے وہ انقلاب کی علامت ہو۔ اس کی طوفانی گرج سے خوف کی لہر دوڑتی ہے اور ہر حرکت میں بغاوت کا تاثر دکھاتی ہے۔ پھر بھی، ریل انسانیت کی عظمت اور ترقی کی آواز گاتی ہوئی اپنے سفر میں ایک نیا پیغام دیتی ہے، جو طاقت اور آزادی کی عکاسی کرتا ہے۔
| ہر قدم پر توپ کی سی گھن گرج کے ساتھ ساتھ گولیوں کی سنسناہٹ کی صدا آتی ہوئی وہ ہوا میں سیکڑوں جنگی دہل بجتے ہوئے وہ بگل کی جاں فزا آواز لہراتی ہوئی الغرض اڑتی چلی جاتی ہے بے خوف و خطر شاعر آتش نفس کا خون کھولاتی ہوئی |
تشریح:
شاعر ان اشعار میں ریل کے سفر کو ایک جنگی منظر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ہر قدم پر ریل کی آواز توپ کی گھن گرج کی طرح سنائی دیتی ہے اور گولیوں کی سنسناہٹ کی طرح شدت محسوس ہوتی ہے۔ یہ منظر ایسا ہے جیسے جنگی سازوں کی آوازیں اور بگل کی جاں فزا آوازیں فضا میں گونج رہی ہوں۔ ریل بے خوف و خطر آگے بڑھتی جاتی ہے اور اپنے آتش نفس کو بیدار کرتی ہے، جیسے وہ اپنے اندر کی طاقت اور جذبے کا بھرپور اظہار کر رہی ہو۔
۲ مشقی سوالات
سوال نمبر 1 : اسرار الحق مجاز کی حیات اور شاعری پر روشنی ڈالیے۔
حیات:
لکھنو کی مخصوص تہذیب اور شعر وادب کی سر زمین ہونے پر ان کو لکھنو سے اس قدر لگاؤ ہوا کہ اپنے تخلص میں لکھنوی جوڑ لیا اور مجاز لکھنوی کے نام سے مشہور و معروف ہوئے۔ آپ کا تعلق جماعت کے ذہین طالب علموں میں ہوتا تھا۔ ابتدائی تعلیم رود ولی کی ایک درسگاہ میں ہوئی۔ پھر وہ لکھنو آگئے جہاں ان کے والد محکمہ رجسٹریشن میں ہیڈ کلرک تھے۔
مجاز نے لکھنو کے امین آباد کے ہائی اسکول میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ چونکہ والد کا تبادلہ آگرہ میں ہو گیا، مجاز بھی آگرہ آئے اور ۱۹۲۹ میں اٹھارہ سال کی عمر میں آگرہ کے ایک کالج میں انٹر میڈیٹ میں داخل ہو گئے۔ آگرہ میں سائنس کے موضوعات لیے کیونکہ انہیں انجینئر بننے کا شوق تھا۔ جس محلے میں مکان ملا تھا وہاں مشہور غزل گو شاعر فانی بدایونی پڑوس میں رہتے تھے۔
1935ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے کر کے 1936ء میں دہلی ریڈیو اسٹیشن سے شائع ہونے والے آواز کے پہلے مدیر ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ کچھ عرصہ تک بمبئی انفار میشن ڈیپارٹ منٹ میں بھی کام کیا اور پھر لکھنو آ کر نیا ادب اور پرچم کی ادارت کی۔ اس کے بعد دہلی میں ہارڈنگ لائبریری سے وابستہ ہو گئے ، مگر ان کی افتاد طبیعت نے ملازمت کی پابندیاں برداشت نہ کیں اور اپنے کو پورے طور پر شاعری کے لیے وقف کر دیا۔
شاعری:
مجاز کا نرم لہجہ ، ان کے چنندہ مضامین کی رومانیت، احساس کا گداز اور تخیل کی سحر انگیزی ان کے اشعار میں اگر ایک سمت اردو غزل کی کلاسیکیت کے قریب تر کرتی ہے تو دوسری جانب اس عہد کے احوال و کوائف جو سیاسی، سماجی اقدار کے حامل ہیں ان کا پتہ دیتے ہیں اور ایسے ہی ترقی پسندی کے انقلابی موضوعات و اسالیب سے بھی متعارف کراتے ہیں۔
مجاز کے یہاں رومان اور انقلاب کا ایک ایسا حسین و دلکش پیرایا ہے جو ان کی انفرادیت کی وجہ ہے عمیق نظر سے دیکھا جائے تو ایسا امتزاج ان کے عہد کے کسی شاعر کے یہاں نہیں ملتا۔ مجاز کی شاعری میں ایک ایسی کسک ہے جسے پانا مشکل ہے۔ رومانس کو ان کے کلام میں مرکزیت حاصل ہے۔ رومانس کے ساتھ جتنی تڑپ مجاز نے پیدا کی اتنی شاید ہی کسی کے نصیب میں آئی ہو۔ اپنے فن کے ذریعے انہوں نے اپنے افکار کو پیش کیا۔ ان کی شاعری ان کی ذاتی زندگی اور خیالات کی عکاسی کرتی ہے۔ رومانی نظم میں پر کاری ہے جو سامعین کا بڑا حلقہ پیدا کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
سوال نمبر 2 : رات اور ریل کا مرکزی خیال بیان کیجیے۔
جواب: “رات اور ریل” میں شاعر نے ریل کے سفر کو ایک طاقتور اور متحرک قوت کے طور پر پیش کیا ہے جو رات کی خاموشی اور تاریکی میں اپنے راستے پر تیزی سے گامزن ہوتی ہے۔ ریل کی رفتار اور اس کا تسلسل، رات کی سیاہی اور سکوت کے ساتھ ایک عجیب تضاد پیدا کرتا ہے۔ اس میں ریل کو ایک پرجوش، بے خوف، اور آزاد قوت کے طور پر دکھایا گیا ہے جو اپنی منزل کی طرف بڑھتی جا رہی ہے، چاہے وہ کتنی بھی رکاوٹوں یا مشکلات کا سامنا کرے۔
شاعر نے ریل کی حرکت کو زندگی کی جستجو، قوت، اور ارتقاء سے تشبیہ دی ہے، جہاں وہ ہر قدم پر اپنے ماضی کی بندشوں کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھتی ہے۔ رات اور ریل کے درمیان یہ تعلق ایک سفر کی گہرائی، طوفانی جوش، اور کامیابی کے اشارے کے طور پر ظاہر ہوتا ہے، جہاں رات کی خاموشی میں ریل کی آواز ایک نئی روشنی اور امید کا پیغام دیتی ہے۔
سوال نمبر 3 : رات اور ریل میں مختلف مناظر کی عکاسی کی گئی ہیں۔ نظم کو دو تین بار پڑھیے ، پھر اپنے تاثرات قلمبند کیجیے۔
جواب: نظم میں شاعر نے ریل کو طوفان، بگولے، جنگی آوازوں، اور قدرتی مناظرات جیسے کہ آبشاروں، جنگلوں، اور پہاڑیوں کی طرح پیش کیا ہے، جو اس کے اندر چھپے ہوئے جذبے اور طاقت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ریل کی یہ طاقتور اور متذبذب حرکت ایک نئے عزم اور ارادے کا پیغام دیتی ہے، جو اسے ہر مشکل میں اپنی منزل کی طرف بڑھنے کی جستجو کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔
ریل کی آڑ میں شاعر نے انسان کی جدوجہد اور ارتقاء کو بھی اجاگر کیا ہے۔ رات کے سناٹے میں ریل کی آواز میں ایک نئی زندگی کی لہر پیدا ہوتی ہے، اور اس کا سفر ایک تجدید کی مانند دکھائی دیتا ہے، جہاں ماضی کے سائے کو چھوڑ کر، نیا راستہ اپنایا جا رہا ہے۔
سوال نمبر 4: مندرجہ ذیل اشعار کونثر میں لکھیے :
| یاد آجائے پرانے دیوتاؤں کا جلال ان قیامت خیزیوں کے ساتھ بل کھاتی ہوئی |
یہ اشعار ریل کی طاقتور اور متحرک حرکت کو بیان کرتے ہیں۔ شاعر کا کہنا ہے کہ جب ریل اپنے راستے پر تیز رفتاری سے گامزن ہوتی ہے، تو اس کی شدت اور طوفانی قوت میں قدیم دیوتاؤں کا جلال محسوس ہوتا ہے۔ اس کا سفر قیامت کی مانند ہوتا ہے، جس میں ہر قدم پر بربادی اور قوت کی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں۔
| مرغ زاروں میں دکھاتی جوئے شیریں کا خرام وادیوں میں ابر کے مانند منڈلاتی ہوئی |
شاعر نے ریل کی حرکت کو قدرت کے حسین مناظرات سے تشبیہ دی ہے۔ وہ مرغزاروں میں ایک شیریں چشمے کی طرح بہتی ہوئی دکھائی دیتی ہے اور وادیوں میں بادل کی مانند منڈلاتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
| اک پہاڑی پر دکھاتی آبشاروں کی جھلک اک بیاباں میں چراغ طور دکھلاتی ہوئی |
شاعر نے ریل کی حرکت کو ایک پہاڑی پر آبشاروں کی جھلک اور بیابان میں طور کی طرح روشنی دکھانے سے تشبیہ دی ہے۔ یہ اس کی قوت اور تسلسل کا مظہر ہے جو راستے کی ہر مشکل کو عبور کرتی ہے اور ہر منظر میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔