نظم: خود ستائی کی تشریح، خلاصہ، سوالات و جوابات

0

نظم: خود ستائی کی تشریح

اے دل بشر وہ کون ہے جو خودستا نہیں
پر خود ستائیوں کے ہیں عنواں جدا جدا
جو زیور خرد سے معرا ہیں سادہ لوح
کرتے ہیں خوبیاں وہ بیاں اپنی برملا

تشریح:

یہ اشعار مولانا الطاف حسین حالی کی نظم سے ہیں، جس میں وہ انسانی فطرت کی ایک حقیقت کو بیان کرتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خود پسندی سے پاک ہوتے ہیں، یعنی وہ اپنی تعریف یا بڑائی کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف وہ لوگ جو عقل و شعور سے دور ہوتے ہیں، یعنی جو نادان ہیں، اپنی خوبیاں برملا بیان کرتے ہیں اور خود ستائی میں مبتلا رہتے ہیں۔ شاعر نے یہاں انسان کی سادہ لوحی اور خود نمائی کے درمیان فرق کو خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔

جو اُن سے تیز ہوش ہیں سو سو طرح سے وہ
پردوں میں کرتے ہیں اسی مضمون کو ادا
کہتا ہے ایک کیسی حماقت ہوئی ہے آج
کمبل تھا ایک گھر میں سو سائل کو دے دیا

تشریح:

ان اشعار میں مولانا الطاف حسین حالی نے اُن لوگوں پر طنز کیا ہے جو چالاک اور ہوشیار ہونے کے باوجود اپنی سخاوت اور نیکیوں کو پوشیدہ رکھنے کا دکھاوا کرتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ ایسے لوگ اپنی سخاوت یا احسان جتانے کے لیے مختلف طریقے اپناتے ہیں، گویا یہ سب چھپانے کی کوشش کر رہے ہوں، لیکن حقیقت میں ان کا مقصد اپنی نیکیوں کو ظاہر کرنا ہی ہوتا ہے۔ مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ اُس سے آج کتنی بڑی “حماقت” ہو گئی کہ گھر میں ایک ہی کمبل تھا اور اُس نے وہ بھی کسی مانگنے والے کو دے دیا، اور اس طرح اپنی سخاوت کو سب کے سامنے بیان کر دیتا ہے۔

کہتا ہے دوسرا کہ گیا ہو کے منفعل
سائل کی ڈب میں میں نے دیا مال جب دکھا
پردے میں زیر کی کے چھپاتا ہے بخل یہ
اور بن کے بے وقوف جتاتا ہے وہ سخا

تشریح:

ان اشعار میں مولانا الطاف حسین حالی ایسے لوگوں کی نشاندہی کرتے ہیں جو حقیقت میں بخیل ہوتے ہیں، مگر اپنی بخل کو سخاوت کے پردے میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ دوسرا شخص اس طرح بات کرتا ہے جیسے اسے شرمندگی ہو کہ اس نے مانگنے والے کو کچھ دے دیا، لیکن حقیقت میں وہ یہ سب دکھاوے کے طور پر کر رہا ہوتا ہے۔ وہ اپنی عقل مندی سے بخل کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے اور خود کو بے وقوف ظاہر کرکے اپنی سخاوت کو لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔

کچھ اس لیے کہ ہم بھی انہیں میں سے ہوں شمار
اہل وطن کی اپنے بہت کرتے ہیں ثنا
کچھ اس لیے کہ اپنا ہو انصاف آشکار
کرتے ہیں اپنی قوم کی تنقیص جابجا

تشریح:

ان اشعار میں مولانا الطاف حسین حالی نے اس رویے کو بیان کیا ہے جس میں لوگ دوسروں کے سامنے اپنے آپ کو مخلص اور حق پرست ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ بعض لوگ اپنے وطن اور قوم کی تعریف اس لیے کرتے ہیں تاکہ انہیں بھی اچھے لوگوں میں شمار کیا جائے۔ لیکن دوسری طرف، وہ اپنی انصاف پسندی کا دکھاوا کرنے کے لیے اپنی ہی قوم کی کمیاں اور خامیاں نمایاں طور پر بیان کرتے ہیں۔ یوں وہ اپنے آپ کو منصف ثابت کرنے کی خاطر اپنے لوگوں کی تنقیص کرتے ہیں، جو کہ ایک منافقانہ رویہ ہے۔

کہتا ہے ایک لاکھ نہ مانے بُرا کوئی
ہے عیب صاف گوئی کا ہم میں بہت بڑا
کہتا ہے ایک گر ہے خوشامد کا اور ہی
پر چاتے آدمی کو ہیں کہہ کہہ کے ہم بڑا

تشریح:

ان اشعار میں مولانا الطاف حسین حالی نے انسانی منافقت اور دوغلے پن کو بیان کیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ کچھ لوگ اپنے بارے میں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ صاف گو ہیں، اور یہ ان میں ایک بہت بڑا “عیب” ہے، یعنی وہ اس بات کو اس طرح ظاہر کرتے ہیں گویا ان کی صاف گوئی ایک خاص خوبی ہے۔ لیکن حقیقت میں وہ اس خوبصورتی سے اپنی بات کہہ کر دوسروں کو متاثر کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری طرف ایک اور شخص خوشامد کے ہنر کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ وہ لوگوں کو خوش کرنے کے لیے انہیں بڑے القاب سے نوازتا ہے اور تعریف و توصیف میں مبالغہ کرتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ سب ایک دکھاوا ہوتا ہے، جس سے وہ اپنے مفادات کا حصول چاہتا ہے۔

دھو کا ہنر کا دے کے چھپاتا ہے عیب کو
اور منہ سے درد کہہ کے دکھاتا ہے وہ صفا
چپ چاپ سن رہا ہے کوئی اپنی خوبیاں
یعنی کہ یہ بیان ہے سب راست اور بجا

تشریح:

ان اشعار میں مولانا الطاف حسین حالی ان لوگوں کی جانب اشارہ کرتے ہیں جو اپنے عیبوں کو چھپانے کے لیے دھوکے کا سہارا لیتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ یہ لوگ اپنی باتوں میں درد کا اظہار کرکے اپنے آپ کو پاک اور مخلص ظاہر کرتے ہیں۔ وہ اپنی تعریفوں کو خاموشی سے سنتے ہیں، جیسے کہ یہ سب باتیں بالکل صحیح اور حقیقی ہوں۔ ان کا رویہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کو یقین دلا سکیں کہ وہ واقعی سچے اور بے عیب ہیں، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔

کہتا ہے کوئی اس پر کہ سب حسن ظن ہے یہ
اک خاکسار کو جو دیا تم نے یہ بڑھا
قانع ہے وہ انہیں پہ ہوئے وصف جو بیاں
اور چاہتا ہے یہ کہ ہو تعریف کچھ سوا

تشریح:

ان اشعار میں مولانا الطاف حسین حالی ان لوگوں کے رویے کی عکاسی کرتے ہیں جو جھوٹی عاجزی اور انکساری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ ایک شخص اپنی تعریف سن کر کہتا ہے کہ “یہ سب تو آپ کا حسنِ ظن ہے”، یعنی یہ سب باتیں صرف آپ کے اچھے گمان کی وجہ سے ہیں، اور میں تو بس ایک خاکسار ہوں۔
ایسا شخص درحقیقت اپنی بیان کردہ خوبیوں پر قناعت کا دعویٰ کرتا ہے، مگر دل میں یہ خواہش رکھتا ہے کہ لوگ اس سے بھی بڑھ کر اس کی تعریف کریں۔ اس طرح، وہ اپنی انکساری اور عاجزی کے پردے میں اپنی تعریف میں اضافہ چاہتا ہے، جو کہ ایک مصنوعی عاجزی کا رویہ ہے۔

کہتا ہے زید عمرو ہے شدت سے سادہ لوح
گنتا ہے سب کو نیک وہ اچھا ہو یا برا
کہتا ہے عمر و زید بھی کتنا ہے عیب بیں
بد ہو کہ نیک اس کی زباں سے نہیں بچا

تشریح:

ان اشعار میں مولانا الطاف حسین حالی دو مختلف قسم کے لوگوں کی سوچ کو بیان کرتے ہیں۔ پہلے شعر میں شاعر کہتا ہے کہ زید، عمرو کو انتہائی سادہ لوح سمجھتا ہے کیونکہ عمرو ہر شخص کو اچھا اور نیک گمان کرتا ہے، چاہے وہ حقیقت میں برا ہو یا اچھا۔ زید کے نزدیک یہ رویہ عمرو کی ناسمجھی کی علامت ہے۔
دوسری طرف، عمرو زید پر تنقید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ زید تو ہر شخص میں عیب تلاش کرتا ہے، چاہے وہ نیک ہو یا برا۔ زید کی زبان سے کوئی بھی شخص بچ نہیں سکتا کیونکہ وہ ہر کسی کے نقائص پر بات کرنے کا عادی ہے۔

یہ اس کا اور وہ اس کا بیاں کر کے کوئی عیب
ہر اک ہے اپنی اپنی بڑائی نکالتا
غیبت، امید ہے کہ نہ ہوتی جہان میں
ہوتا اگر یہ خاک کا پتلا نہ خود ستا

تشریح:

ان اشعار میں مولانا الطاف حسین حالی انسانی فطرت کی خود ستائی اور غیبت کے رویے پر روشنی ڈالتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ ہر شخص دوسرے کے عیب بیان کرکے دراصل اپنی بڑائی اور برتری ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر انسان میں خود پسندی اور تکبر نہ ہوتا تو شاید دنیا سے غیبت جیسی برائی ختم ہو جاتی۔ شاعر نے یہاں انسان کی کمزوری کو بیان کیا ہے کہ اگر یہ “خاک کا پتلا” خود ستائی سے باز رہتا تو دنیا ایک بہتر جگہ ہوتی۔

حالی جو پترے کھول رہے ہیں جہاں کے
شاید کہ اس سے آپ کا ہوگا یہ مدعا
یعنی کہ لاکھ پردوں میں کوئی چھپائے عیب
اپنی نظر سے رہ نہیں سکتا کوئی چھپا

تشریح:

ان اشعار میں مولانا الطاف حسین حالی انسان کی فطری خامیوں اور سچائی کو بے نقاب کرنے کی حقیقت بیان کر رہے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ حالی جیسے لوگ دنیا کی حقیقتوں اور انسانی رویوں کے پردے کھول رہے ہیں۔ شاعر کا یہ مقصد ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے عیبوں کو کتنے ہی پردوں میں چھپانے کی کوشش کرے، وہ حقیقت میں اپنی ہی نظر سے خود کو نہیں چھپا سکتا۔ اس کا ضمیر اور اندرونی شعور اس کی خامیوں سے بخوبی واقف ہوتا ہے، اور یہ حقیقت آخرکار سامنے آ ہی جاتی ہے۔

القصہ جس کو دیکھیے جاہل ہو یا حکیم
آزار میں خودی کے ہے بے چارہ مبتلا

تشریح:

ان اشعار میں مولانا الطاف حسین حالی نے انسان کی خودی (خودپسندی) کی حقیقت کو بیان کیا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ چاہے انسان جاہل ہو یا حکیم، ہر شخص خودی کی بیماری کا شکار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی انا اور خود پسندی کی وجہ سے آزار میں مبتلا ہوتا ہے، اور یہ بیماری ہر سطح کے لوگوں کو متاثر کرتی ہے، چاہے وہ علم میں ماہر ہوں یا نہ ہوں۔

۲ مشقی سوالات:

سوال نمبر 1 :نیچے دئے گئے ہر ایک لفظ کے مقابلے میں اس کی ضد لکھیے

حماقت
بخل
حکمت
سخاوت
انصاف ظلم
تنقیص تعریف
خوبی برائی
سائل دافع (جو سوال کرنے والے کو جواب دے)
قانع لالچی

سوال نمبر 2 : نظم خودستائی کن سے متعلق ہیں؟ وضاحت کیجیے۔

جواب: نظم “خودستائی” مولانا الطاف حسین حالی کی ایک معروف نظم ہے جس میں انہوں نے خود پسندی اور خود نمائی کے منفی پہلوؤں کو موضوع بنایا ہے۔ اس نظم میں شاعر انسان کی فطری کمزوریوں، جیسے خود ستائی اور اپنی خوبیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے، کو اجاگر کرتے ہیں۔

حالی نے اس نظم میں مختلف لوگوں کے رویے اور عادات کو بیان کیا ہے جو اپنی خامیوں کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی خوبیوں کا زبردست پرچار کرتے ہیں۔ وہ ان لوگوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جو دوسروں کی عیب جوئی کرتے ہیں اور اپنی “خوبیوں” کو جھوٹے انداز میں ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سوال نمبر 3 : نظم ” خودستائی کا خلاصہ لکھیے۔

خلاصہ:

نظم “خودستائی” مولانا الطاف حسین حالی نے خود پسندی اور خود نمائی کی منفی پہلوؤں کو بیان کیا ہے۔ اس نظم میں شاعر انسانوں کی فطرت کا جائزہ لیتے ہیں، جو اپنی خوبیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور دوسروں کے عیب بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالی نے ایسے لوگوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو اپنی برتری جتانے کے لیے خود ستائی کرتے ہیں اور اپنی خامیوں کو چھپانے کے لیے مختلف طریقے اختیار کرتے ہیں۔ وہ یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ خود نمائی اور تکبر نہ صرف انسان کو بے وقعت بناتا ہے بلکہ معاشرتی سطح پر بھی نقصان دہ ہے۔

نظم کا پیغام یہ ہے کہ انسان کو اپنی حقیقت پسندی اور انکساری کو اپنانا چاہیے، اور خود کو بہتر بنانے کی کوشش میں اپنی سچائی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ خود ستائی کا مقصد صرف دوسروں کی نظر میں برتر ہونے کی خواہش ہوتی ہے، جو کہ ایک جھوٹا اور فریب دہ عمل ہے۔

سوال نمبر 4 : حالی کی نظم نگاری پر نوٹ لکھیے۔

جواب: حالی نے جدید انداز کی مثنویاں لکھنے کے علاوہ حقیقت پسند نظم نگاری اور نیچرل شاعری کی روایت کا آغاز کیا ۔ ان کی حقیقت پسند نظم نگاری کا سلسلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب کہ انھوں نے سر سید احمد خاں کے خیالات سے وابستگی اختیار کی اور ان سے استفادہ کے نتیجہ میں “مسدس حالی ” تحریر کی جو اردو کی سب سے پہلی طویل نظم کا درجہ رکھتی ہے ۔ مولانا حالی نے طویل نظم نگاری کے ساتھ ساتھ اردو نظم کو نیچرل شاعری سے بھی روشناس کیا ۔ انجمن پنجاب کے مشاعروں کے ذریعہ موضوعاتی نظمیں لکھ کر مولانا حالی نے نیچرل شاعری کو فروغ دیا۔

مولانا حالی نے حقیقت پسندی اور فطرت کی عکاسی کے ساتھ ساتھ نظم نگاری میں وطنی اور قومی تصورات کو بھی شامل کرنا شروع کیا ۔ مولانا حالی کی وجہ سے ہی اردو نظم کے موضوعات میں تنوع پیدا ہوا۔ انہوں نے ہندوستان کے سیاسی و معاشرتی حالات، قومی اور ملٹی مسائل کو بھی نظم نگاری کا موضوع بنایا ۔ ان کی نظمیں ”انگلستان کی آزادی اور ہندوستان کی غلامی سے خود پتہ چلتا ہے کہ مولانا حالی کی شاعری کا موضوعاتی دائرہ وسیع ہے۔

سیاسی سماجی اور اخلاقی مسائل ان کی شاعری کے اہم موضوعات ہیں، ان کی نظموں کے اصل مخاطب ہندوستانی مسلمان ہیں جن کی حالی کے خیال میں اصلاح کی شدید ہندوستانی مسلمان ہیں جن کی حالی کے خیال میں اصلاح کی شدید ضرورت ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہندوستانی قوم خصوصاً مسلمانوں میں ایسی خرابیاں جڑ پکڑ چکی ہیں جو ان کے سیاسی معاشرتی اور معاشی زوال کا سبب ہیں۔

حالی ان خامیوں اور خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہیں ۔ان اوصاف کے علاوہ مولانا حالی نے اپنی نظموں میں ہئیت کی تبدیلی پر بھی توجہ دی ۔ چنانچہ ان کی شاعری میں غزل اور مثنوی کی ہئیت کی نمائندگی اور مثلث ، مربع ، مخمس اور مسدس کے انداز میں نظمیں لکھنے کا انداز بھی دکھائی دیتا ہے۔

۴ قواعد

نظم خودستائی کے تمام قافیوں کی ایک فہرست بنائیے اور لفظ گلستان کے ہم صوت الفاظ تلاش کر کے قافیوں کی ایک الگ فہرست تیار کیجیے۔

  • نظم “خودستائی” کے قافیہ کی فہرست:
  • ادا ۔ دکھا
  • سخا ۔ ثنا
  • صفا ۔ بجا
  • خود ستا۔ مدعا
  • چھپا ۔ مبتلا

لفظ “گلستان” کے ہم صوت (ہم قافیہ) الفاظ کی فہرست:

عنوان ، بیان ، زبان ، جہان، گمان، زمان وغیرہ ۔

نظم ” خودستائی سے ایسے الفاظ تلاش کیجیے جو بحیثیت صفت استعمال ہوئے ہیں۔

بخل، سخا، عیب، خوشامد ، دھوکا ،سادہ لوح، غیبت