Back to: 11th Class Urdu Notes JKBOSE | Chapterwise Notes
- غزل نمبر 1
- شاعر: ولی محمد ولی دکنی
غزل نمبر 1 کی تشریح
| بے وفائی نہ کر خدا سوں ڈر جگ ہنسائی نہ کر خدا سوں ڈر |
تشریح:
ولی محمد ولی دکنی کی اس غزل میں شاعر محبت میں وفا کی تلقین کر رہا ہے۔ وہ محبوب سے کہتا ہے کہ بے وفائی نہ کر کیونکہ یہ عمل نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ اس سے دل کو دکھ پہنچتا ہے اور خدا کے سامنے جواب دہی کا خوف بھی ہونا چاہیے۔ شاعر مزید کہتا ہے کہ دنیا کی نظروں میں خود کو رسوا نہ کر کیونکہ بے وفائی کرنے والے کو ہمیشہ لوگ طنز اور مذاق کا نشانہ بناتے ہیں۔ اس لئے خدا کا خوف دل میں رکھ اور وفادار رہ۔
| ہے جدائی میں زندگی مشکل آجدائی نہ کر خدا سوں ڈر |
تشریح:
شاعر محبوب سے کہتا ہے کہ جدائی میں زندگی مشکل اور دردناک ہو جاتی ہے، اس لئے جدائی سے بچنے کی تلقین کر رہا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ خدا سے ڈر اور جدائی کا فیصلہ نہ کر، کیونکہ یہ دلوں کو توڑ دیتا ہے اور زندگی میں غم بھر دیتا ہے۔
| اُس سوں جو آشنائی ڈر کر ہے آشنائی نہ کر خدا سوں ڈر |
تشریح:
ولی محمد ولی دکنی اس شعر میں محبت اور تعلقات میں محتاط رہنے کی تلقین کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی سے آشنائی (قریبی تعلق) میں ڈر یا خوف شامل ہو تو وہ تعلق قائم نہ کرنا بہتر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے تعلقات نقصان اور دل آزاری کا باعث بن سکتے ہیں۔ شاعر خدا کا خوف دل میں رکھنے کی نصیحت کرتا ہے، یعنی ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا چاہیے تاکہ بعد میں پچھتاوا نہ ہو۔
| آرسی دیکھ کر نہ ہو مغرور خود نمائی نہ کر خدا سوں ڈر |
تشریح:
اس شعر میں ولی محمد ولی دکنی غرور اور خود پسندی کے نقصانات پر روشنی ڈال رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب تم آئینہ (آرسی) دیکھو اور اپنی خوبصورتی یا ظاہری حسن پر مغرور نہ ہو جاؤ، کیونکہ یہ تکبر کا باعث بنتا ہے۔ شاعر نصیحت کرتا ہے کہ خود نمائی، یعنی اپنی تعریف یا بڑائی بیان کرنے سے بچو اور خدا کا خوف دل میں رکھو، کیونکہ غرور اور خود پسندی خدا کو ناپسند ہیں اور انسان کو دوسروں کی نظروں میں گرا دیتی ہیں۔
| اے ولی غیر آستانہ یار جبہ سائی نہ کر خدا سوں ڈر |
تشریح:
اس شعر میں ولی محمد ولی اپنے عقیدے اور محبت میں استقامت کی تلقین کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اے ولی، محبوب کے علاوہ کسی غیر کے آستانے پر سر نہ جھکا، یعنی کسی دوسرے کے سامنے عاجزی اور فرمانبرداری اختیار نہ کر۔ شاعر خدا کا خوف دل میں رکھنے کی تاکید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ صرف اپنے محبوب (یا اپنے مقصد) کے ساتھ وفا دار رہو اور کسی غیر کی جبہ سائی (سجدہ یا عاجزی) نہ کرو، کیونکہ یہ راستہ صحیح نہیں اور خدا کو پسند نہیں۔
غزل نمبر 2 کی تشریح
| مفلسی سب بہار کھوتی ہے مرد کا اعتبار کھوتی ہے |
تشریح:
اس شعر میں ولی محمد ولی دکنی مفلسی (غربت) کے منفی اثرات کو بیان کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مفلسی انسان کی زندگی کی تمام خوشیاں اور بہاریں چھین لیتی ہے، یعنی غربت میں زندگی کی رونقیں ختم ہو جاتی ہیں۔ مزید یہ کہ غربت مرد کے اعتماد اور وقار کو بھی مجروح کر دیتی ہے، کیونکہ دنیا میں لوگوں کا اعتبار اور عزت اکثر دولت اور حیثیت سے جڑی ہوتی ہے۔ غربت انسان کو سماجی اور نفسیاتی طور پر کمزور بنا دیتی ہے۔
| کیوں کہ حاصل ہو مجھ کو جمعیت زلف تیری قرار کھوتی ہے |
تشریح:
اس شعر میں ولی محمد ولی دکنی محبوب کی زلفوں کو استعارتاً استعمال کرتے ہوئے اپنے دل کی کیفیت بیان کر رہے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ محبوب کی زلفوں کی پیچیدگی میرے دل کی جمعیت، یعنی سکون اور اطمینان کو ختم کر دیتی ہے۔ جب میں تیری زلفوں میں گم ہوتا ہوں تو میرا دل بے قرار ہو جاتا ہے اور میں سکون کھو دیتا ہوں۔
| ہر سحر شوخ کی نگہہ کی شراب مجھ آنکھاں کا خمار کھوتی ہے |
تشریح:
اس شعر میں ولی محمد ولی دکنی محبوب کی شوخ نگاہوں کے اثرات کو بیان کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہر صبح محبوب کی شوخ نگاہوں کی شراب، یعنی ان کی دلکشی اور حسن میری آنکھوں سے خمار، یعنی نیند یا غفلت کو ختم کر دیتی ہے۔ شاعر کا مطلب ہے کہ محبوب کی نظر اتنی پُرکشش ہے کہ جب وہ نگاہ ڈالتا ہے تو میری آنکھوں کا سارا خمار، سستی یا آرام فوراً ختم ہو جاتا ہے اور میں ہوشیار اور مستعد ہو جاتا ہوں۔
| کیوں کہ ملنا صنم کا ترک کروں دلبری اختیار کھوتی ہے |
تشریح:
اس شعر میں ولی محمد ولی دکنی محبوب سے دوری اور اس کے اثرات پر بات کر رہے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر میں اپنے محبوب سے ملنا ترک کر دوں، تو اس کی دلبری، یعنی اس کی محبت اور کشش کا اثر کم ہو جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ محبوب سے مسلسل دور رہنے سے اس کی محبت کی شدت اور دل پر اس کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔
| اے! ولی اب اس پری رو کی مجھ سنے کا غبار کھوتی ہے |
تشریح:
اس شعر میں ولی محمد ولی دکنی اپنی محبت کے احساسات اور ان کی شدت کو بیان کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اے ولی! اس پری رو (خوبصورت محبوبہ) کے بارے میں جب بھی میں سوچتا ہوں یا اس کا ذکر کرتا ہوں، تو میری حالت ایسی ہو جاتی ہے کہ میری سنی ہوئی باتیں، یعنی میرا غبار (غم یا پریشانی) ختم ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ محبوب کی یاد یا تصویر میری تمام پریشانیوں اور غموں کو مٹا دیتی ہے، اور اس کے خیال میں میری زندگی کی تمام مشکلات حل ہو جاتی ہیں۔
۲. مشق
سوال نمبر 1 : اُردو غزل کی تکنیک و تاریخ پر ایک نوٹ لکھیے۔
غزل کے لغوی معنی ہیں عورتوں سے باتیں کرنا یا عورتوں کے متعلق باتیں کرنا۔ اصطلاح شعر میں غزل اس صنف سخن کو کہتے ہیں جس کے پہلے شعر کے دونوں مصرعے آپس میں ہم قافیہ، ہم ردیف اور ہم بر ہوتے ہیں۔ اور باقی تمام اشعار پہلے شعر کے قافیے ، ردیف اور وزن پر کہے جاتے ہیں۔ معنوی لحاظ سے غزل کا ہر شعر ایک مکمل اکائی ہوتا ہےاور ہر شر کا معنی جدا گانہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی غزل ایک ہی موضوع پر کہی جائے تو اُسے غزل مسلسل کہتے ہیں۔
غزل کے پہلے شعر کو مطلع کہتے ہیں۔ اگر مطلع کے بعد دوسرے شعر کے دونوں مصرعے بھی آپس میں ہم قافیہ وہم ردیف ہو تو اُس کو حسن مطلع کہتے ہیں۔ غزل کے آخری شعر کو مقطع کہا جاتا ہے۔اس میں شاعر عام طور پر اپنا خلص استعمال کرتا ہے۔ غزل کا سب سے اچھا شعر بیت الغزل یا شادبی“ کہلاتا ہے۔ ردیف کے بغیر بھی غزلیں لکھی جاتی ہیں ۔ ایسی غزلیں غیر مردف کہلاتی ہیں۔
اُردو غزل گوئی کا آغاز دکن میں ہوا۔ سلطان محمد قلی قطب شاہ اردو کے پہلے غزل گو شاعر ہیں لیکن پہلے باشعور غزل گو ولی دکنی ہیں۔ جنھوں نے اُردو غزل کو سر بلندی عطا کی۔ ولی کے معاصرین میں آبرو، مضمون وغیرہ نے غزلیں کہیں ۔ حاتم، مظہر جان جانان اور آرزو نے اُردو غزل کو نمایاں ترقی دی۔ دلی میں میرتقی میر میر درد اور سودا نے اُردو غزل کو نزاکت، نفاست، سوز و گداز ، درد و یاس اور سلاست وصفائی عطا کی۔
۱۸۵۷ء کے ہنگامے کے بعد دلی تباہ ہوگئی۔ شعر ادب کا گہوار لکھنؤ بن گیا۔ یہاں میرحسن، مصحفی اور جرات نے ماحول کے اثرات کی بدولت غزل میں معاملہ بندی، بذلہ سنجی اور عریانی پیدا کی۔ ناسخ اور آتش نے دبستان لکھنو کی بنیاد ڈالی اور غزل مضمون آفرینی، ایمائیت، لفاظی ، معاملہ بندی اور بوالہوسی کاشکار ہوگئی۔ دبستان لکھنو نے داخلیت کے بجائے خارجیت پر زور دیا۔غالب، مومن اور ذوق نے دبستان دہلی کو ترقی دی۔ غالب کے فلسفیانہ انداز نے غزل میں وقار، سنجیدگی اور وزن پیدا کر دیا۔ مومن کی نازک خیالی، حسن اور نفاست نے غزل کو ایک نکھار بخشا۔
ذوق نے زبان و بیان کے لحاظ سے اس کو بلندی عطا کی۔غدر کے بعد جہاں ایک طرف لکھنو شعر وادب کا مرکز بناوہی دوسری طرف رامپور، حیدر آباد اوربھو پال کے درباروں میں بھی شعراء کی پذیرائی ہوئی۔ ان مراکز پر دہلوی اور لکھنوی انداز گھل مل گیا۔ شادعظیم آبادی، جگر مراد آبادی اور امیرمینائی وغیرہ نے غزل کی روایت کو آگے بڑھایا۔بیسویں صدی جہاں پوری دنیا کے لیے تغیر و تبدل کی صدی رہی وہی اس صدی میں غزل بھی ہر طرح سے تبدیلیوں کا شکار ہوتی رہی۔ اس کی ہیئت بدلنے کے ناکام تجربے ہوئے لیکن اس کے موضوعات میں زیادہ ہمہ گیری پیدا ہوگئی۔ اس صدی کی آمد کے ساتھ ہی علامہ اقبال نے غزل کی دنیا میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کیں۔ حسرت روایت کی بازیافت میں گن رہے۔ ترقی پسندتحریک نے شعراء کی سوچ اور شاعری کا انداز بدل دیا۔ غم جاناں کی جگہ غم دوراں نے لے لی۔ مزدور اور غریب کی حمایت کے لیے غزل کو بھی لال وردی پہنا دی گئی۔ فیض احمد فیض، جاں نثار اختر مخدوم کی الدین، مجاز لکھنوی وغیرہ نےغزل کے ذریعے عوامی امنگوں کی ترجمانی کی۔
جدیدیت کی آمد اور ۱۹۴۷ء کے بٹوارے کے ساتھ غزل کا رنگ و آہنگ بدل گیا۔ اجتماعیت کی جگہ انفرادیت نے لے لی۔ امید پر نامیدی چھاگئی۔ غم دوراں کی جگہ غم ذات نے لے لی۔ ناظر کاظمی، شہر یار، بائی، ندا فاضلی ، بشیر بدر وغیرہ نے غزل میں نئی روح پھونک دی۔ برقی ذرائع ابلاغ و ترسیل کی بے ہنگم ترقی نے پوری دنیا کو اک عالمی گاؤں بنا دیا۔ ٹیکنالوجی کی ترقی نے انسانی سرحدوں کو روندھ کر مشرق و مغرب کو ایک کیا۔ ایسے حالات میں عالمی انسان کے مسائل اور معاملات غزل کے موضوعات بن گئے۔
اس طرح ما بعد جدید دور شروع ہوا۔ اس دور میں بھی شعرائے اُردو نے غزل کو عالمی مسائل کا ترجمان بنا دیا۔ اس دور میںاحمد فراز، راحت اندوری منور رانا وغیرہ نے ز کو اپنا ذریعہ اظہار بنایا۔ ریاتی کسی پر مقامی شعرا اپنے فکر انگیز کام کے ذریعے صنف غزل کے گیسوئے خم دا سوار نے میں مصروف نظر آ رہے ہیں۔ غرض غزل عصر حاضر میں بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ اُردو شاعری کی مملکت پر براجمان ہے۔
سوال نمبر 2 : ولی دکنی کے حالات زندگی اور ادبی خدمات کو قلمبند کیجیے۔
جواب: شاہ محمد اللہ ولی جو ولی دکنی اور ولی گجراتی کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں، اور نگ آباد (دکن) کے رہنے والے تھے۔ ولی 1079ھ بمطابق 1668ء میں پیدا ہوئے اور 1720ء میں وفات پاگئے۔ ولی کے خاندان کا سلسلہ شیوخ قادریہ سے ملتا ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ دکنی نہیں بلکہ گجراتی تھے ، انھیں ولی دکنی اور ولی گجراتی ثابت کرنے کے لئے لوگ مختلف دلائل دیتے ہیں، دراصل دونوں ہی اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔
اردو شاعری کا با ضابطہ آغاز ولی دکنی سے ہوتا ہے ، شاید یہی وجہ ہے کے محمد حسین آزاد نے انہیں اردو شاعری کا ” بابا آدم ” قرار دیا ہے اور انہیں اردو شاعری میں وہی مقام دیا ہے جو انگریزی شاعری میں چاسر اور فارسی شاعری میں رود گی کو حاصل ہے۔
ولی نے نہ صرف دکنی روایت کی پاسداری کی بلکہ امیر خسرو کی قائم کردہ ریختہ کی بنیاد پر شعر و سخن کی وہ عالیشان عمارت تیار کی کہ جس نے کلاسیکی اردو شاعری کی بنیاد کو مستحکم کیا اور اس میں آنے والے عہد کے سارے امکانات سمٹ گئے۔ دوسرے الفاظ میں ولی کا کمال یہ ہے انہوں نے اردو غزل کے ساز پر جو نغمے چھیڑے، دنیائے غزل میں ان کی صدائے بازگشت آج تک سنائی دی جا رہی ہے۔ولی کا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے شمالی ہند کی زبان کو دکنی ادب کی طویل روایت سے ملا کر ایک کر دیا ۔۔۔ ولی کی غزل میں اردو غزل کی کم و پیش وہ ساری آوازیں سنائی دیتی ہیں جو سراج سے لے کر دائی تک مختلف شاعروں کی نشانیاں بنی اور جن سے آج تک بزم معنی کی شمع روشن ہے۔
۳. مندرجہ ذیل الفاظ جن مصرعوں میں استعمال ہوئے ہیں ان مصرعوں کو نثر میں لکھیے۔
| جدائی: | “جدائی کی حالت میں زندگی بہت مشکل ہو جاتی ہے۔” |
| آرسی: | آئینہ دیکھنے کے بعد اپنے حسن پر مغرور نہ ہو۔” |
| جبہ سائی: | “کسی کے سامنے سجدہ نہ کر، خدا سے ڈر!” |
| جمعیت: | کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ مجھے سکون حاصل ہو۔” |
| اختیار: | ” محبوب کی دلکشی کم ہو جاتی ہے۔” |
۴. درج ذیل لفظوں کے ضد لکھیے۔
| بے وفائی | وفا |
| مغرور | عاجز |
| قرار | بے چینی |
| سحر | شام |
| مفلسی | خوشحالی |
(۵) خالی جگہوں کو مناسب الفاظ سے پورا کیجیے۔
- ۱۔ غزل کے لغوی معنی ہیں عورتوں سے متعلق باتیں کرنا۔
- ۲. غزل کے پہلے شعر کومطلع اور آخری شعر کومقطع کہتے ہیں۔
- ۳. حسن مطلع میں مطلع کی سی تکنیک برتی جاتی ہے۔
- ۴. ولی ولی دکنی کے نام سے مشہور ہوئے۔
- ۵. ولی کا سن ولادت 1668 ہے۔
۷. ولی دکنی کی شاعری میں ایسے الفاظ اکثر ملتے ہیں جو اب متروک ہیں۔ یعنی اب اُن کا استعمال نہیں ہوتا ہے۔ نصاب میں شامل ولی دکنی کی دونوں غزلوں کو غور سے پڑھیے اور متروک الفاظ کی ایک فہرست بنائیں۔
سوں ، جبہ سائی ، آنکھاں ، سنے