حالات زندگی

آمنہ نازلی کا جنم آگرہ میں شیخ غلام علی کے ہاں ہوا، جو خود تو لدھیانہ کے پنجابی تھے پر آمنہ نازلی کے ناز جس کوکھ نے اٹھائے وہ یوپی کی تھی۔ والد لدھیانہ کے، والدہ یوپی کی اور آگرے کی فضا میں پلی بڑھی آمنہ نازلی کی شخصیت میں ادیبانہ صلاحیتوں کے پودے کی آبیاری دلی میں اس وقت ہوئی جب وہ مصور غم علامہ راشد الخیری کے فرزند مولانا رازق الخیری کے نکاح میں آئیں۔

آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے ادیب فاضل کا امتحان پاس کیا۔آپ کی شادی مولانا راشد الخیری کے فرزند رازق الخیری سے ہوئی جو معروف ادیب تھے اور ماہنامہ ‘عصمت’ دہلی کے مدیر تھے۔ قیام پاکستان کے بعد یہ رسالہ کراچی سے شائع ہوتا رہا۔ رازق الخیری کی وفات کے بعد آمنہ نازلی نے اس رسالے کی ادارت کی۔ آپ 1977ء سے 1982ء تک ماہنامہ ‘جوہر نسواں’ کراچی کی مدیرہ بھی رہیں۔ آپ کی اولاد میں جسٹس ریٹائرڈ حاذق الخیری ، معروف ادیبہ و صحافی صفورا خیری اور معروف شاعرہ صائمہ خیری شامل ہیں۔

نوعمری

مولانا رازق الخیری اپنے والد ماجد کے جاری کردہ ماہنامہ ’’عصمت‘‘ جسے انھوں نے 1908ء میں خواتین کے لیے جاری کیا تھا، جس کے اجرا کا مقصد حقوق نسواں اور اصلاح معاشرت کے علاوہ خواتین کو لکھنے پڑھنے کی طرف راغب کرنا تھا۔ اپنے مقاصد کے حصول کو تحریکی صورت دینے کے لیے علامہ نے ابتدا میں خواتین کے فرضی ناموں سے اس رسالے میں مضامین بھی لکھے، تاکہ خواتین میں لکھنے پڑھنے کا جذبہ بیدار کیا جاسکے۔ جس کے ذریعے وہ اپنے مسائل اور حقوق کے لیے آواز بلند کرسکیں۔ اس رسالے کی ادارتی ذمے داری ۱۹۲۳ سے مولانا رازق الخیری کے سپرد تھی۔ اس کے علاوہ انھوں نے ۱۹۲۷ سے بچیوں کے لیے ماہنامہ ’’بنات‘‘ بھی جاری کیا اور ساتھ میں ’’عصمت بک ڈپو‘‘ کے نام سے ایک اشاعتی ادارہ بھی قائم کر رکھا تھا، جب کہ آمنہ نازلی شادی سے پہلے قابل ذکر علمی و ادبی استعداد سے محروم تھیں۔ گرچہ آمنہ نازلی کو لکھنے پڑھنے کا شوق تو بچپن سے رہا اور اسی شوق کے تحت انھوں نے ۱۲ سال کی عمر میں ایک مضمون لاہور سے شایع ہونے والے رسالے ’’سہیلی‘‘ کو ارسال کیا، جسے ادارے نے اس جملے کے ساتھ واپس کردیا کہ ’’ابھی محنت سے لکھنے کی ضرورت ہے۔‘‘

ادبی زندگی

آمنہ نازلی نے افسانہ نگاری کے ساتھ ڈراما نگاری بھی کی۔ آمنہ نازلی کے افسانوں اور ڈراموں میں زبان و بیان کا وہ اعلیٰ معیار دیکھنے کو ملتا ہے جسے اکثر مرد افسانہ نگار بھی چُھو کر نہیں گزرے۔ اُن کے افسانوں کی اہم خصوصیات میں موضوعات کا تنوع اور حد درجہ اختصار ہے۔ اُن کے ایک افسانے سے اقتباس ملاحظہ ہو:

خالہ امی نے پلیٹ پوش ہٹا کر ایک لمبی سی پسلی اٹھائی
”اوئی بُوا یہ حصّہ“
”کیا کہیں سے حصہ آیا ہے، بیگم صاحبہ؟“ سعیداً باورچی خانہ سے لپک کر آئی۔
”ہاں ہاں، بھاوج کے گھر سے، ذرا دیکھو تو اُس گھر میں کیا بلیاں رہتی ہیں جو چھیچھڑوں کے ڈھیر لگا دیئے۔“
خالہ امی نے دوبارہ کپڑا ہٹا کر دو بوٹیاں چٹکی سے پکڑ کر لٹکائیں۔ لمبے لمبے چھیچھڑوں میں پتلی پتلی پسلیاں، کہیں غدودوں کے گُچھے جھلّی میں لپٹی ہوئی مُنحنی سی بوٹی۔ خالہ امی تو خالہ امی، اُس وقت بُوا سعیداً کو بھی غصہ آگیا۔“
(افسانہ: ”بقر عید کے حصّے بخرے“)

افسانوی مجموعے

آمنہ نازلی کے دو افسانوی مجموعے شائع ہوئے جن میں سے ”ننگے پاؤں“ نے بہت شہرت پائی۔

تخلیقات

آمنہ نازلی کی کتب کی تعداد ۱۳ ہے:

1۔ دولت پر قربانیاں (افسانے)
2۔ہم اور تم (افسانے)
3۔ننگے پاؤں (افسانے)
4۔دوشالہ (ڈرامے)
5۔عقل کی باتیں
6۔تاریخی لطیفے
7۔خواتین کی دستکاریاں
8۔عصمتی دسترخوان
9۔مشرقی و مغربی کھانے
10۔بیماروں کے کھانے
11۔مذاقیہ کھانے
12۔عصمتی کشیدہ کاری
13۔ہنڈکلیاں

ناقدین کی رائے

آمنہ نازلی ان مخصوص لکھنے والیوں میں سے ہیں جو کوئی نہ کوئی جدت اپنی تحریر میں لیے ہوئے ہیں اور وہ زمانہ عنقریب آنے والا ہے، جب صرف وہ زندہ رہنے والی چیزیں زندہ رہیں گی اور سب اپنی موت مرجائیں گی۔ ہر زمانے کا ادب اپنے ماحول کے پروں پر اڑتا ہے اور یہی حقیقت زیادہ سے زیادہ محترمہ آمنہ نازلی کی تحریر میں نمایاں ہے۔ ’’شان ہند‘‘ ملتان نے ان کی ایک تصنیف پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ہندوستان بھر میں جو چند انشا پرداز خواتین ہیں ان میں آمنہ نازلی صاحبہ بہت نمایاں درجہ رکھتی ہیں‘‘۔

آمنہ نازلی کو اپنے سسر سے بلند پایہ مصنفین کی نظم اور نثر کی کتابیں پڑھنے اور سمجھنے کا موقع بھی ملا۔ پھر آگے چل کر جب انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ادیب فاضل کیا تو اس دوران انھیں بقول رازق الخیری کے ’’جب انھوں نے ادیب فاضل کی تیاری کی تو مولوی احمد میر لکھنوی جیسے استاد میسر آئے جو ایک ایک سطر کا مطلب سمجھانے میں بال کی کھال نکالتے اور غضب کے سخن فہم تھے اور سمجھاتے بھی اس طرح کہ مطلب ذہن نشین کردیتے تھے۔‘‘

اصلاح نسواں

کئی سال کی مشق کے بعد جب آمنہ نازلی مضمون نگاری میں مشاق ہوگئیں تو ان کا نام ماہنامہ ’’عصمت‘‘، ’’ساقی‘‘ اور ’’بنات‘‘ کی اہل قلم خواتین میں چمکنا شروع ہوگیا، اس سے پہلے ہی وہ اپنے شوہر کے قائم کردہ اشاعتی ادارے کے لیے نئی نئی کتابیں تیار کرنے میں ان کی معاونت کر رہی تھیں۔ کھانے پکانے کے موضوع پر سات کتابیں ان ہی کی محنت سے شایع ہوئیں، ان میں سے ’’عصمتی دسترخوان‘‘ کے ۱۷ ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ دو کتابیں زنانہ دستکاری پر اور چار تالیفی کتب "تاریخی لطیفے، عقل کی باتیں، دولت پر قربانیاں اور ہنسی کی باتیں” کے نام سے شائع ہوئیں۔ آمنہ نازلی کی تالیف کردہ کتابوں سے ان کی طبیعت میں پائے جانے والے اصلاح نسواں، تربیت نسواں، اصلاح معاشرت اور حقوق نسواں کے عناصر کا واضح اظہار نظر آتا ہے۔

آخری ایام

ان کے علاوہ ان کی ذاتی تخلیقات تین کتابوں کی صورت میں موجود ہیں۔ ایک ’’دوشالہ‘‘ جو مختصر ڈراموں اور خاکوں پر مشتمل ہے۔ دوسری کتاب میں ۲۴ مختصر افسانے ہیں۔ پہلی اور تیسری کتاب ان کے ۳۴ مختصر افسانوں کا مجموعہ ہے جو پہلی بار کراچی سے شائع ہوا۔ ان تصنیفی وتالیفی مجموعوں کے علاوہ آمنہ نازلی نے متعدد مضامین بچوں کے لیے کہانیاں، مختصر افسانے اور انشائیے بھی لکھے اور ساتھ میں ماہنامہ ’’عصمت‘‘ کی ادارت میں مولانا رازق الخیری کی ادارتی زندگی کے قریب نصف دور سے ان کی معاونت بھی کرتی رہیں۔ مولانا کے وصال کے بعد جب پرچے کی ادارتی ذمے داری ان کے فرزند طارق الخیری کے سپرد ہوئی تو ماں نے اپنے مرحوم سسر اور شوہر کے مشن جو ماہنامہ ’’عصمت‘‘ کی صورت میں جاری تھا، وہ کسی صورت نہ رکے کے خیال سے اس کو جاری رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آخرکار ماہنامہ ’’عصمت‘‘ کا یہ تیسرا کردار بھی ۲ فروری ۱۹۹۶ کو اپنے خالق حقیقی سے جاملا۔