• کتاب” اپنی زبان "برائے چھٹی جماعت
  • سبق نمبر11:کہانی
  • مصنف کانام: منشی پریم چند
  • سبق کا نام: عید گاہ

سبق: عید گاہ کا خلاصہ

سبق”عید گاہ” میں منشی پریم چند نے ایک غریب گھرانے کی عید کے روز کی کہانی کوبیان کیا ہے۔ رمضان کے پورے تیس روزوں کے بعد عید آئی۔ہر طرف خوب چہل پہل تھی۔گھروں میں پکوان بن رہے تھے اور سب عید گاہ جانے کی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے۔

سب سے زیادہ خوش بچے تھے۔ان کی جیبوں میں توقارون کا خزانہ رکھا ہواتھا۔انھیں دو چار پیسوں میں دنیا کی ساری نعمتیں لائیں گے۔ وہ بچے بار بار ان پیسوں کو نکال کر گنتے تھے اور خوش ہو کر دوبارہ انھیں اپنی جیب میں رکھ لیتے تھے۔ انھی بچوں میں حامد ایک چار سالہ غریب صورت بچہ تھا۔

Advertisement

جس کے والدین کا انتقال ہو چکا تھا اس کی پرورش اس کی دادی کر رہی تھی۔عید کے روز حامد کی دادی رو رہی تھی کہ عید کے دن ان کے گھر میں دانہ نہیں ہے۔ عید کا ان کے گھر میں بھلا کیا کام تھا۔عید کی نماز کے لیے جاتے جاتے حامد اپنی دادی کو تسلی دینے لگا کہ وہ گاؤں والا کا ساتھ نہیں چھوڑے گا اور انھی کے ساتھ لوٹے گا۔

مگر حامد کی دادی امینہ کوڈ رتھا کہ اس بھیڑ میں حامد کہیں کھو نہ جاۓ۔امینہ نے کپڑے سی کر آٹھ پیسے جمع کیے تھے۔ لیکن ان پیسوں کو اسے گوالن کو دینا پڑا جبکہ امینہ نے تین پیسے حامد کو دیے تھے۔ عید کا تہوار تھا اور امینہ کی اتنی ہی بساط تھی۔ شہر کا علاقہ شروع ہوا سب لوگ بڑی کوٹھیوں اور گھروں کو دیکھتے جارہے تھے۔ اتنے میں مسجد آگئی صفیں لگ چکی تھیں۔

نماز میں کسی کارتبہ یاعہدہ نہیں دیکھا جا تا۔کتنی با قاعده منظم جماعت ہے۔نماز کی ادائیگی کے بعد سب شہر میں لگے میلے کی طرف بڑھے۔ بچے کھلونوں اور مٹھائیوں کی دوکانوں پہ جانے لگے۔ مگر حامد کو اپنے جیب میں رکھے پیسوں کا احساس تھا۔ وہ کھلونا یا کھانے والی کوئی بھی ایسی چیز خرید کر پیسے ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔حامد کے ساتھ آئے ہوئے بچوں میں سے محمود نے خاکی وردی اور لال پکڑی والا سپاہی خریدا،محسن کو جھکی کمر اور پشت پر مشک والا بہشتی پسند آیا۔

نورے نے جالا چغہ سفید اچکن اور ہاتھ میں قانون کی کتاب پکڑے ہوئے ایک وکیل خریدا۔ جبکہ سمیع نے دھوبن خریدی۔ حامد یہ سب کچھ خریدنا چاہتا تھا لیکن اس نے سوچا کہ ہاتھ سے گر کر یہ کھلونے ٹوٹ جائیں گے تو کس کام کے۔حامد کو اپنی دادی کا خیال آیا کہ روٹی توے سے اتارتے اور چولہے سے آگ نکالتے ہوئے ان کا ہاتھ جل جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے حامد جیب میں رکھے ہوئے تین پیسوں سے ان کے لیے دست پناہ خرید لایا۔

لیکن بچوں نے جب حامد کے پاس دست پناہ دیکھ کر اس کا مذاق بنایا تو حامد نے ان بچوں کو دست پناہ کی خوبیاں گنوائی کہ کندھے پہ رکھو تو یہ بندوق بن جاتی ہے۔ہاتھ میں لیں تو فقیر کا چمٹا، اس کی مدد سے ان کی ناک بھی پکڑی جا سکتی ہے۔ایک چمٹا لگانے سے تمھارے سارے کھلونے ٹوٹ جائیں گے۔ حامد کا کہناتھا کہ یہ دست پناہ نہیں بلکہ اس کا بہادر شیر ہے۔

تمام بچوں کے کھلونے مٹی سے بنے ہوئے جو کبھی بھی ڈھے کے ٹوٹ سکتے ہیں جبکہ دست پناہ لوہے کا بنا ہوا ہے جسے کوئی آنچ نہیں آسکتی ہے۔دست پناہ کی اتنی ساری خوبیاں سن کر سب بچوں پہ اس کی دھاک بیٹھ چکی تھی۔سب بچے حامد کے سامنے لاجواب ہو چکے تھے۔

میلے میں گئے ہوئے سب لوگ جب گھر پہنچے تو ان بچوں کے کھلونوں کا کچھ یوں انجام ہوا کہ محسن کی بہن کے ہاتھ سے چھوٹ کر اس کا بہشتی گرا اور ٹوٹ گیا جس پر ان دونوں کو ماں سے مار بھی پڑی۔جبکہ نورے کا وکیل زمین پہ تو بیٹھ نہ سکتا اس کو طاق پہ بٹھانے کی کوشش کی گئی اور ساتھ میں پنکھا جھلا جانے لگا اس دوران وکیل صاحب بھی زمین پہ گر کر ٹوٹ گئے۔

محمود کے سپاہی کو گاؤں کا پہرا دینے کا چارج ملا۔ اندھیری رات میں ٹھوکر لگنے سے میاں سپاہی بھی اپنی بندوق سمیت گرے اور اس کی ایک ٹانگ بیکار ہوگئی۔ان کھلونوں کے لانے پہ انھیں کسی نے دعائیں بھی نہ دی تھی جبکہ دوسری طرف حامد کی دادی امینہ نے جب دست پناہ دیکھا تو انھوں نے حاند کو ڈانٹا کہ کچھ کھایا پیا نہیں اور یہ بیکار چمٹہ اٹھا لائے مگر جب حامد نے جب دادی کو بتایا کہ تمھاری انگلیاں توے سے جل جاتی تھیں جس کی وجہ سے میں تمھارے لیے دست پناہ لایا ہوں حامد کی یہ بات سن کر دادی کا غصہ شفقت میں بدل گیا۔حامد اس بات سے بہت بڑا بن گیا جبکہ امینہ خوشی سے بچوں کی طرح رونے لگی۔

سوچیے اور بتایئے:

حامد کی عمر کیا تھی؟

حامد کی عمر چار سال تھی۔

عید کے دن حامد کی دادی کیوں رورہی تھیں؟

حامد کی دادی رو رہی تھی کہ عید کے دن ان کے گھر میں دانہ نہیں ہے۔ عید کا ان کے گھر میں بھلا کیا کام تھا۔

محمود محسن ، نورے اور سمیع نے کون کون سے کھلونے خریدے؟

محمود نے خاکی وردی اور لال پکڑی والا سپاہی خریدا،محسن کو جھکی کمر اور پشت پر مشک والا بہشتی پسند آیا۔نورے نے جالا چغہ سفید اچکن اور ہاتھ میں قانون کی کتاب پکڑے ہوئے ایک وکیل خریدا۔ جبکہ سمیع نے دھوبن خریدی۔

حامد نے دست پناہ کیوں خریدا ؟

حامد کو اپنی دادی کا خیال آیا کہ روٹی توے سے اتارتے اور چولہے سے آگ نکالتے ہوئے ان کا ہاتھ جل جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے حامد ان کے لیے دست پناہ خرید لایا۔

حامد کے دوست دست پناہ سے کیوں متاثر ہوۓ؟

حامد نے ان بچوں کو دست پناہ کی خوبیاں گنوائی کہ کندھے پہ رکھو تو یہ بندوق بن جاتی ہے۔ہاتھ میں لیں تو فقیر کا چمٹا، اس کی مدد سے ان کی ناک بھی پکڑی جا سکتی ہے۔ایک چمٹا لگانے سے تمھارے سارے کھلونے ٹوٹ جائیں گے۔ حامد کا کہناتھا کہ یہ دست پناہ نہیں بلکہ اس کا بہادر شیر ہے۔تمام بچوں کے کھلونے مٹی سے بنے ہوئے جو کبھی بھی ڈھے کے ٹوٹ سکتے ہیں جبکہ دست پناہ لوہے کا بنا ہوا ہے جسے کوئی آنچ نہیں آسکتی ہے۔دست پناہ کی اتنی ساری خوبیاں سن کر سب بچوں پہ اس کی دھاک بیٹھ چکی تھی۔

دوستوں کے کھلونوں کا کیا انجام ہوا؟

محسن کی بہن کے ہاتھ سے چھوٹ کر اس کا بہشتی گرا اور ٹوٹ گیا جس پر ان دونوں کو ماں سے مار بھی پڑی۔جبکہ نورے کا وکیل زمین پہ تو بیٹھ نہ سکتا اس کو طاق پہ بٹھانے کی کوشش کی گئی اور ساتھ میں پنکھا جھلا جانے لگا اس دوران وکیل صاحب بھی زمین پہ گر کر ٹوٹ گئے۔ محمود کے سپاہی کو گاؤں کا پہرا دینے کا چارج ملا۔ اندھیری رات میں ٹھوکر لگنے سے میاں سپاہی بھی اپنی بندوق سمیت گرے اور اس کی ایک ٹانگ بیکار ہوگئی۔

دادی کا غصہ شفقت میں کیوں بدل گیا؟

حامد نے جب دادی کو بتایا کہ تمھاری انگلیاں توے سے جل جاتی تھیں جس کی وجہ سے میں تمھارے لیے دست پناہ لایا ہوں حامد کی یہ بات سن کر دادی کا غصہ شفقت میں بدل گیا۔

خالی جگہ کو صحیح لفظ سے بھریے:

  • رمضان کے پورے تیس روزوں کے بعد عید آئی ہے۔
  • ان کی جیبوں میں توقارون کا خزانہ رکھا ہوا ہے۔
  • انھیں دو چار پیسوں میں دنیا کی ساری نعمتیں لائیں گے۔
  • امینہ کوڈ رتھا کہ اس بھیڑ میں حامد کہیں کھو نہ جاۓ۔
  • نماز میں کسی کارتبہ یاعہدہ نہیں دیکھا جا تا۔
  • کتنی با قاعده منظم جماعت ہے۔
  • گیارہ بجے سارے گاؤں میں چہل پہل ہوگئی۔
  • اس کا دست پناه رستم ہند ہے۔

لکھیے:آپ عید کا دن کیسے گزارتے ہیں؟

میں اپنا عید کا دن اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھیل کود کر گزارتا ہوں۔اس دن ہم۔سب دوست اپنی عیدی کے پیسوں سے خوب ساری چیزیں خریدتے ہیں۔میں اپنے گھر والوں کے ساتھ دوستوں ،رشتے داروں کے گھر عید ملنے جاتا ہوں اور خوب مزے کے کھانے کھائے جاتے ہیں۔

آپ عیدی کس طرح خرچ کرتے ہیں؟

میں اپنی عیدی اپنی من پسند چیزوں کو خریدنے میں خرچ کرتا ہوں۔ اپنی عیدی کا ایک حصہ میں غریبوں کی مدد کرنے کے لیے الگ کرتا ہوں اور اس سے کسی غیب بچے کو اس کی من پسند چیز دلواتا ہوں۔