تعارف

بلراج مینرا 1935ء کو ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ زندگی کا بیشتر حصہ دلی میں گزارا۔ ابتدائی تعلیم سے لے کر زندگی کی آخری سانس تک میر و غالب کی طرح دلی ان کا مسکن رہا۔ اس مٹی میں ہی کچھ ایسا ہے جو یہاں آتا ہے یہیں کا ہو کر رہ جاتا ہے مگر اس مٹی، اس زمین پر چلنے پھرنے والے لوگ شاید اب وہ نہیں رہے ہیں، نہ انہیں کسی کی موت سے کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ کسی کے زندہ رہنے سے۔ بلراج مینرا جب زندہ تھے تب بھی اردو ادبی حلقوں نے انہیں لائق اعتناء جانا تھا، جو اس کی موت سے کوئی خاص فرق پڑتا۔

فکشن

لگ بھگ تیس سال سے زائد عرصے تک انھوں نے کچھ نہیں لکھا صرف 37 کہانیاں لکھیں اور اردو فکشن کو ایک نئی طرز سے متعارف کروا گئے، جس پر اس زمانے کے کئی اہم لکھنے والوں نے ایک خوبصورت عمارت تعمیر کی۔ ترقی پسند تحریک کے بعد اردو افسانے کو ایک نئی طرز عطا کرنے، پرانے دھارے کا رخ موڑنے میں بلراج مینرا، سریندر پرکاش ، انور سجاد وغیرہ نے اہم کردار ادا کیا۔

ترقی پسندی کے زمانے میں جتنا اچھا فکشن لکھا گیا، اتنی اچھی شاعری نہ ہوسکی۔ اسی زمانے کو ہم اردو فکشن کا اہم دور مانتے ہیں مگر آہستہ آہستہ یہ تحریک بھی اپنے مینی فیسٹو میں اس قدر کھوئی کہ اب ادب، ادب سے زیادہ کچھ اور لگنے لگا تھا اور ایک خاص اسلوب میں لکھے جانے والے ادب سے اب قاری اوب سا گیا تھا کچھ نیا، کچھ الگ اسے پڑھنے کو نہیں مل رہا تھا، اس کے بعد ہی عینی آپا (قرۃ العین حیدر) پیدا ہوئیں جو تاریخ کو فکشن بنانے کے فن سے واقف تھیں، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں عبداللہ حسین "اداس نسلیں” لکھ رہے تھے، ان سب کے بیچ یہ دو تین افسانہ نگار اپنی زمین تلاش رہے تھے۔ جہاں انہیں ان سب سے الگ طرح کا کچھ لکھنا تھا جو شاید یہی لکھ بھی سکتے تھے۔ زندگی میں وہی کچھ نہیں تھا جو ہمیں دکھایا جارہا تھا بہت کچھ ایسا تھا جو ہماری نظروں سے اوجھل تھا۔

علامت نگاری

مگر ہم اسے اپنے آس پاس محسوس کررہے تھے وہی جو ہمارے آس پاس تھا اسے کاغذ پر اتارا لفظوں کو زبان دی ایسے کے لفظ بول اٹھے اگر بلراج مینرا نہیں ہوتے تو ہم نہیں جان پاتے کہ علامت نگاری اور تجریدیت کا سہارا لے کر کس قدر عمدہ تحریریں لکھی جاسکتی ہیں۔ تجریدیت اور علامت نگاری کو سہارا بنا کر ایک نئی طرز کی بنیاد ڈالنا اور اس مشکل پسندی کو تحریروں کا حسن بنا دینا کوئی آسان نہ تھا۔

  بلراج مینرا اور جدید دور کے افسانہ نگاروں نے افسانے کو انسان کے اندر کی طرف کی سیر کروائی۔ اب تک کہانیاں باہر کی دنیا کی سیر پر تھیں اب جب کہانی کا رخ اندر کی طرف موڑا گیا تو ایک نیا جہان ہمارے سامنے کھل کر آیا۔ اس مشکل پسندی نے اردو میں ایک نئی طرح کی نثر لکھنے کو فروغ دیا۔ یہیں سے پرانی نثر اور نئی نثر کی بحث کا آغاز بھی ہوتا ہے۔

1971ء کے بعد بلراج مینرا نے کوئی افسانہ نہیں لکھا مگر آج بھی وہ جیتے کہانی میں ہی تھے۔ اردو میں کم مغربی ادب میں زیادہ کہ وہاں ان کی ملاقات دوستوئکی جین آسٹین سے ہوتی ہے۔ کہانی کے علاوہ بلراج مینرا کی پہچان کا ایک حوالہ ان کی ادارت میں شائع ہونے والا رسالہ ’’شعور‘‘ ہے جس کی اپنی ایک ادبی اہمیت ہے۔بلراج مینرا ایک ایسا نام جو کہانی لکھتے لکھتے خود کہانی بن گیا لگ بھگ ۳۰ سال سے کوئی کہانی نہیں لکھی۔

بلراج مینرا سطحی لکھنے والے نہ تھے، کلیشے کا طلسم توڑنے والے تھے۔ اور جب انہیں احساس ہوا کہ جدید کہانی لکھنے والے بھی بہ قول ان کے’’خود فریبی کے عظیم سرکس‘‘ کا حصہ ہو گئے تھے ، تو انہوں نے اپنا قلم ایک طرف رکھ دیا اور دنیا بھر کے عظیم ادب کے مطالعے کو ہی حرز جاں بنا لیا ۔ اپنی موت تک وہ کتابوں اور مصوری کے شاہکاروں کے بیچ رہے اور انہی کے بیچ مر گئے۔

تصانیف

بلراج مینرا کی ایک کتاب "سرخ و سیاہ” کے نام سے چھپی۔ ان پر کتابیں بھی لکھی گئیں جن میں بلراج مین ایک ناتمام سفر، دستاویز ، معیار وغیرہ نمایاں ہیں۔
ان کا انتقال ۲۰۱۶ میں ہوا۔