• سبق : شفاء الملک مرحوم
  • مصنف : چارغ حسن حسرت

تعارفِ سبق : سبق ” شفاء الملک مرحوم “ کے مصنف کا نام ”چارغ حسن حسرت“ ہے۔

خلاصہ

اس سبق میں مصنف نے شگفتہ انداز میں شفاءالملک مرحوم کی عادات و خصلت کا ذکر کیا ہے۔ شفاءالملک مرحوم طبیب بھی تھے اور ادیب بھی۔ شفاءالملک کا قد کوئی چھ فٹ کے قریب تھا۔ چوڑا سینہ، بڑے بڑے ہاتھ پاؤں، گھنی ڈارھی ، گندمی رنگت تھی۔ شفاءالملک مرحوم کو دیکھ کر ان کو ادیب ماننا بہت مشکل تھا۔

لوگوں کی نظر میں ادیب کوئی کا پتلا دبلا اور کسی روگ میں مبتلا شخص ہوتا ہے، اس لیے ان کی تصویر اخبار میں دیکھ کر لوگ ان کو صوبیدار میجر ہی سمجھا کرتے تھے۔ پطرس بخاری ان کی مزاحیہ کلام اور شوخ فقروں کی وجہ سے کہا کرتے تھے کہ کسی شادی بیاہ کا پہلا بیعانہ شفاءالملک اور ان کے دوستوں کو دیا جائے، ان کے آنے سے محفل میں چار چاند لگ جاتے تھے۔

شفاءالملک جس طرح خود صاحب کمال تھے ویسے ہی قدر شناس شخص تھے۔ ان احباب میں کوئی نظم، غزل ،مضمون یا کوئی شوخ فقرہ ہی کہہ دیتا اس کو خوب داد دیتے۔ کوئی ان پر بھی اگر فقرہ کس دیتا تو خوش دلی سے اس کو بھی داد دیتے تھے۔ کھلے دل کے فیاض شخص تھے۔ شفاءالملک نگ 65 سال کی عمر میں دنیا فانی سے کوچ کیا مگر دیکھنے والے ان کو 50 سے زیادہ کا مانتے ہی نہ تھے۔

سوال نمبر 1 : شفاءالملک مرحوم کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے اسے بیان کیجیے۔

جواب : شفاءالملک مرحوم طبیب بھی تھے اور ادیب بھی۔ شفاءالملک کا قد کوئی چھ فٹ کے قریب تھا۔ چوڑا سینہ، بڑے بڑے ہاتھ پاؤں، گھنی ڈارھی ، گندمی رنگت تھی۔ شفاءالملک تقریباً ساڑھے 65 سال کی عمر میں دنیا فانی سے کوچ کیا۔ وہ اپنی عمر سے کم ہی لگتے تھے۔

سوال نمبر 2 : ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں مصنف کا کیا خیال ہے؟

جواب : مصنف کا خیال ہے کہ ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لوگوں کا تصور یہ ہے کہ ان کا پتلا دبلا اور کسی روگ میں مبتلا ہونا بہت ضروری ہے اور پنجاب کے ادیبوں کے بارے میں لوگوں کا تصور کسی گاما پہلوان جیسا ہی تھا۔

سوال نمبر 3 : عام طبیبوں کے بارے میں مصنف نے کیا لکھا ہے۔

جواب : طبیبوں کے بارے میں مصنف نے لکھا ہے کے وہ جب تک اس کی شکل دیکھ کر یہ نہ لگے کہ وہ دنیا بھر کے امراض میں مبتلا رہ چکا ہے لوگ اسے طبیب نہیں مانتے ہیں۔

سوال نمبر 4 : مندرجہ ذیل کی تشریح کیجیے :

  • ہمیشہ کے روگی : ہر وقت بیمار یا غمزداہ رہنے والا۔
  • دھان پان : دبلا پتلا، نازک اندام۔
  • طبابت اور حذاقت : علاج معالجے میں مہارت۔
  • شکل و شمائل : سیرت و عادات۔
  • سونے پر سہاگا : کسی چیز یا بات کا لطف بڑھ جانا۔
  • وطن مالوف : پیارا وطن، وہ جگہ جہاں رہنے کی عادت پڑی ہو۔
  • نوک جھونک : طعن و طنز کی باتیں۔
  • پھبتی : جمتی ہوئی بات۔
  • طرح دے گئے : عزت دے گئے۔

سوال نمبر 5 : درج ذیل الفاظ کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔

سن و سال سن و سال اگرچہ یاد نہیں مگر جنگ عظیم اول کے وقت گرمیاں تھیں۔
قد و قامت پارک کے باہر اونچے قد و قامت والا شخص چوکیداری کررہا تھا۔
موقوف موسم خراب دیکھ کر ہم نے سیر پر جانے کا ارادہ موقوف کردیا۔
ہم سنگ حج کے سفر پر میں اپنے والد کے ہم سنگ بحری جہاز پر گیا۔
محروم لیب میں ہونے والے کیمیائی دھمکاکے کی وجہ سے وہ سماعت سے محروم ہوگیا۔
لقب حضرت ابراہیم کا لقب خلیل اللہ ہے۔
بیعانہ شیخ صاحب نے اچھا پلاٹ دیکھ کر فوراً بیعانہ جمع کروادیا۔
پھبتی اللہ تعالیٰ نے ہمیں کسی پر عیب لگانے، طنز کرنے، جملے بازی کرنے اور پھبتی کرنے سے منع کیا ہے ۔
تخلص تخلص شاعر کا مختصرً یا فرضی نام ہوتا ہے۔
تعارف ہم خوش نصیب ہیں کے روز محشر ہمارا تعارف حضرت محمد ﷺ کے امتی کے طور پر ہوگا۔

سوال نمبر 6 : مندرجہ ذیل خالی جگہوں کو مناسب لفظوں سے پر کیجیے۔

(الف) تصویر آخر تصویر ہے اس سے (سن و سال اور قد و قدمت) کا اندازہ نہ ہوتا تھا۔

(ب) حکیم صاحب کا (وطن مالوف) جگراؤں تھا۔
(ج) ان کا دہلی کا قیام (سونے پہ سہاگا) ہوگیا۔
(د) حکیم صاحب جس طرح خود (صاحبِ کمال) تھے اسی طرح (اہلِ ہنر) کے قدر شناس تھے۔
(ہ) حکیم صاحب کوئی اچھا نقرہ یا اچھی پھبتی سنیں اور (داد) نہ دیں۔
(و) آج کیا بات ہے کہ حضور نے چہرے کو (گلِ حکمت) کر رکھا ہے۔