تعارف

ڈاکٹر مشتاق احمد وانی صاحب تحصیل و ضلع ڈوڈہ ریاست جموں و کشمیر کے محلہ سروال گاؤں بہوتہ میں 3 مارچ 1960ء میں پیدا ہوئے۔ ان کی تعلیمی قابلیت قابل ستائش ہے۔انھوں نے ایم اے ،بی ایڈ، نیٹ، پی ایچ ڈی اور ڈی لٹ کی اعزازی ڈگری  اپنے کھاتے میں جمع کررکھی ہے۔مشتاق احمد وانی مطالعہ کے ساتھ ساتھ اپنا قلمی سفر بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ قریباً گذشتہ دو دہائیوں سے تسلسل کے ساتھ لکھ رہے ہیں۔ ادب کے ساتھ ان کی رغبت ابتدا سے تھی اور ارود ادب کے ذوق و شوق میں ہی انھوں نے کئی غیر معمولی کارنامے انجام دیے ہیں۔

ادبی زندگی

ان میں لکھنے کی تڑپ ہے، جذبات و احساسات کی گہرائی تک پہنچنے کی بھوک ہے۔ یہ احساس ان کے خون میں حرارت پیدا کرتا ہے۔ آج جب ان کی تحریریں پڑھتے ہیں تو ان میں یہی حرارت نظر آتی ہے۔ تخلیق کار جب ماحول کا مشاہدہ اپنے تخلیقی روپ میں کرتا ہے تو اس کے سامنے موضوع کی بنیادی اہمیت ہوتی ہے۔ اگر اس کا موضوع حالات سے مطابقت و موافقت رکھتا ہے تو ظاہر ہے پہلے موضوع ہی قاری میں دلچسپی کا عنصر پیدا کر سکتا ہے۔ اس طرح کسی بھی تخلیقی فن پارے میں موضوع کی حیثیت اور اہمیت بنیادی ہوتی ہے۔ اس کے بعد فن پارے کی گہرائی و گیرائی پر نظر پڑتی ہے اور اگر تخلیق میں دونوں خصوصیات موجود ہیں تو تخلیق کار کی شخصیت کا قاری پر بڑا اثر پڑھ سکتا ہے۔

ڈاکٹر مشتاق احمد وانی عصری حالات و واقعات کا بڑی گہرائی سے مشاہدہ کرتے ہیں۔ وہ بالکل نئے موضوعات کو اپنی تخلیقات کا حصہ بناتے ہیں۔ ڈاکٹر مشتاق احمد وانی اپنی تخلیقی وتحقیقی کاوشوں کے علاوہ مقبول ترین افسانہ نگار بھی ہیں۔’’اردو ادب میں تانیثیت ‘‘ جیسی کتاب لکھ کر انہوں نے نہایت ہی وقیع کام انجام دیا ہے۔

قبر میں زندہ آدمی (افسانوی مجموعہ)

’’قبر میں زندہ آدمی ‘‘ ان کا چوتھا افسانوی مجموعہ ہے۔ یہ ڈاکٹر مشتاق احمد وانی کے افسانوں کا مجموعہ ہے،جس میں کل ۱۳ ؍افسانےشامل ہیں۔

  • مجھے ایک دن گھر جانا ہے،
  • انتظارِ مرگ،
  • واپسی ،
  • حاضر جواب،
  • معاوضہ ،
  • کار خیر
  • ان کے افسانوں میں سے چند ایک کے عنوانات ہیں۔ ان کی یہ کتاب معاشرے کے موجودہ حالات کو سمجھنے کے لیے بہترین آئینہ ہے۔ اختصار، حقیقت و فصاحت اس سلیقے سے اس میں شامل ہے کہ قاری کو مصنف کی تخلیقی لیاقت کا احساس ہوتا ہے۔ خاص کر وحدت تاثر جو افسانے کا ایک لازمی جز ہے،کا خاص خیال رکھا گیا ہے،کہیں پر بھی قاری کی کیفیت پر بکھرا نہیں آتا۔ مجموعی طور پر یہ کتاب اس قابل ہے کہ اردو ادب بالخصوص اردو افسانہ سے دلچسپی رکھنے والا ہر صاحبِ ذوق اس کا مطالعہ کرے۔

مجھے ایک دن گھر جانا ہے

ڈاکٹر وانی نے اس کتاب میں پہلا افسانہ ’’مجھے ایک دن گھر جانا ہے‘‘ کے نام سے تحریر کیا ہے، جس میں انہوں نے محسن نام کے آدمی کی کہانی کو بیان کیا ہے،جو اٹھائیس برس قبل ماں باپ کی مرضی کے خلاف شہر میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے آتا ہے اور شہری لڑکی سے شادی کر لیتا ہے۔ محسن شہری زندگی میں اس طرح گم ہوتا ہے کہ اپنی مشرقی روایات کو بھی بھول جاتا ہے۔

انتظارِ مرگ

’’انتظارِ مرگ‘‘ اس مجموعے کا ایک اور افسانہ ہے جس میں یہ دکھانے کی کامیاب کوشش کہ گئی ہے کہ کس طرح ایک انسان ترقی کی لالچ میں خونی رشتے کا احساس تک بھول جاتا ہے۔ بیٹا اپنے باپ کی کھانسی کے مرض کا علاج محض اس وجہ سے نہیں کرواتا تاکہ وہ رات بھر کھانستا رہے اور ہمارے گھر میں رات کو چوری نہ ہو سکے۔

واپسی

’’واپسی‘‘افسانہ میں دیارام سماجی نابرابری کی وجہ سے بدظن ہوکر مذہب اسلام کو قبول کرنا چاہتا ہے لیکن جب دیارام کو مفتی صاحب یہ کہتا ہے کہ ہمارے یہاں بھی اسلام کے نام پر مختلف فرقے وجود میں آچکے ہیں تو مفتی صاحب کی باتیں سن کر دیارام ایک ٹھنڈی آہ بھرتا ہے اور اُلٹے پاؤں واپس چلا جاتا ہے۔

حاضر جواب

’’حاضر جواب ‘‘افسانے میں ڈاکٹر صاحب نے معمار قوم کو مسمار قوم کہا ہے! وہ اس لیے کہ کس طرح ایک اُستاد معلمی کے پیشے سے انصاف نہیں کرتا۔

انتقام

اسی طرح افسانہ ’’انتقام‘‘ میں یہ دکھایا گیا ہے کہ کس طرح انسان کے اندر انتقام لینے کی آگ جل رہی ہوتی ہے، یہاں ایک خاتون پڑوسی کی مرغی چرا لیتی ہے اور پکڑے جانے پر واویلا مچاتی ہے اور جب اسے پتہ چلتا ہے کہ اس کی پڑوسن اپنے بطن میں بچی ختم کروارہی ہے تو موقع پاکر انتقاماً اسے گرفتار کروا دیتی ہے۔

عورت

’’عورت‘‘ میں مس رام دُلاری جو فیس بک استعمال کرنے والی جدید دور کی لڑکی ہے۔ سوشل میڈیا پر اپنی تصویر اپلوڈ کرنے کے بعد اسے پردے کی افادیت کا احساس ہوتا ہے۔

سب کی ماں

’’سب کی ماں‘‘ مشترکہ تہذیب کی علامت ہے۔ اس میں بہاراں نامی عورت دائی ہوتی ہے اور اس کے ہاتھوں سے یہ مشترکہ نئی نسل شکم مادر سے اس دنیا میں آئی ہے۔ جب دائی کا انتقال ہوتا ہے تو سکھ رشپال سنگھ روتے روتے کہتا ہے کہ بہاراں مائی کی موت ہم سب کی موت ہے! کیونکہ اب ہمارے قصبے میں کوئی بھی عورت بغیر آپریشن کے بچہ نہیں جنے گی۔

معاوضہ

’’معاوضہ‘‘ اس مجموعے کا ایک اہم افسانہ ہے جس میں کرم الدین کا کردار بذات خود اس مجموعے کے مصنف ہیں، کس طرح کرم الدین کی تعلیمی قابلیت کو نظر انداز کر کے ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا جاتا ہے۔ یہ افسانہ صرف کرم الدین کے ساتھ کی گئی ناانصافی کا المیہ نہیں ہے بلکہ ان جیسے کئی باصلاحیت اور با کردار لوگوں کے ساتھ صرف اس وجہ سے ہوا کہ ان کے پاس نہ زَر تھا نہ پَر تھے۔

کار خیر

’’کار خیر‘‘میں جسم فروشی کا کاروبار چلانے والی عورت کو گل محمد نامی شخص ہمت کرکے کپڑے سینے والی مشین خرید کر دیتا ہے اور خاتون سلائی مشین لے کر کار بد کا پیشہ ترک کر دیتی ہے۔

سات نمبر کا پاپوش

’’سات نمبر کا پاپوش‘‘میں بس میں بد تمیزی کرنے پر ایک خاتون معمر مرد کی سات نمبر کی جوتی سے پٹائی کرتی ہے۔

چار چہرے

’’چار چہرے‘‘میں نوٹ بندی کے معاملہ سے پیدا ہونے والی مشکلات کا بیان ہے۔ اس میں المیہ یہ ہے کہ لوگوں کی لمبی قطار میں بوڑھی بسنتی کے دونوں ہاتھ بک اور پانچ سو روپے کے نوٹ کے ساتھ مٹھیوں کی صورت میں ہمیشہ کے لیے بند ہوجاتے ہیں۔

قبر میں زندہ آدمی

ڈاکٹر مشتاق احمد وانی نے افسانوی مجموعہ’’قبر میں زندہ آدمی‘‘ میں آخری افسانہ بعنوان ’’قبر میں زندہ آدمی ‘‘ ہی تحریر کیا ہے۔ اس افسانے میں اتفاقاً یار خان بیت الخلا میں دروازے کا اندر سے ہینڈل نہ ہونے کی وجہ سے دو گھنٹے تک بیت الخلا کے اندر ہی بند رہتا ہے اور وہ قبر کے تصور سے کانپ جاتا ہے اور راہ راست پر آجاتا ہے۔

  تصانیف

ڈاکٹر مشتاق احمد وانی کی تحقیقی ،تخلیقی اور تنقیدی خدمات قابل تعریف ہے۔ انھوں نے وادی کے افسانوی ادب میں بھی اچھا خاصا اضافہ کیا ہے۔ان کی افسانوی کتابوں میں؛

  • ’’ ہزاروں غم‘‘(افسانے)،
  • ’’میٹھا زہر‘‘(افسانے)،
  • ’’اندر کی باتیں‘‘(افسانے)
  • ”قبر میں زندہ آدمی“ (افسانے)
  • خاص ہیں۔
  • ان کی تنقیدی تصانیف میں؛
  • ’آئینہ درد آئینہ‘‘(تحقیق و تنقید)،
  • ’’اعتبار و معیار‘‘(تحقیقی و تنقیدی مضامین)،
  • ’’اردو ادب میں تانیثیت‘‘(تحقیق و تنقید) اور شعور بصیرت(تحقیق و تنقید) قابل ذکر ہیں۔

ان کا ایک تحقیقی مقالہ بعنوان ”تقسیم کے بعد اردو ناول میں تہذیبی بحران‘‘ بھی منظر عام پر آچکا ہے۔

اعزازات

  • وانی صاحب کو انعام و اکرام سے نوازا جا چکا ہے۔انہیں یوپی اردو اکادمی ایوارڈ،
  • بہار اردو کادمی ایوارڈ،
  • گلوبل ایچیور ایوارڈ،
  • کرشن چندر ایوارڈ وغیرہ دیے جاچکے ہیں۔
  • حیدر آباد سینٹرل یونیورسٹی اور جموں یونیورسٹی میں مشتاق احمد وانی پر تحقیقی کام ہوا ہے۔

حرفِ آخر

ڈاکٹر مشتاق احمد وانی کی تخلیقات اور مضامین ہندوستان و بیرون ملک کے معیاری اور موقر رسائل میں چھپتی ہیں۔ وہ مختلف ریاستوں کا ادبی غرض و غایت سے دورہ بھی کر چکے ہیں۔ اگر اکیسویں صدی کے حوالے سے بات کریں تو مشتاق احمد وانی ریاست جموں و کشمیرکے پہلے ڈی لٹ اعزاز یافتگان ہیں۔ ان دنوں وانی صاحب بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر تدریسی فرائض انجا دے رہے ہیں۔ ہماری دعا ہے وہ تادیر سلامت رہیں اور اردو ادب کی خدمت کریں۔ آمین۔

Advertisements