حالات زندگی

ابن کنول (پروفیسر ناصر محمود کمال) کی پیدائش ۱۵ اکتوبر ۱۹۵۷ میں ضلع مراد آباد کے قصبہ بہجوئی میں ایک زمیندار خاندان میں ہوئی۔ والد محترم مشہور قومی شاعر قاضی شمس الحسن کنول ڈبائیوی تھے۔ ان کے اجداد شاہ جہاں کے عہد میں ہندوستان آئے اور قاضی کے عہدے سے نوازے گئے۔ حکومت کی طرف سے جاگیریں دی گئیں۔ بعد میں آپ کے بزرگ قصبہ ڈبائی میں آکر رہائش پزیر ہو گئے۔ آپ کا خاندان علمی و ادبی سرگرمیوں کی وجہ سے مشہور تھا۔

تعلیم

ابن کنول نے اپنی ابتدائی تعلیم ضلع بدایوں کے قصبہ گنور میں ایک اسلامیہ اسکول میں حاصل کی۔ اسکول اردو میڈیم تھا۔ آپ ۱۹۶۲ میں پہلی جماعت میں داخل ہوئے آپ کے پہلے استاد حاجی صفدر علی مرحوم تھے۔ پانچویں جماعت کے بعد آپ نے آگے کی تعلیم کے لیے علی گڑھ کا رخ کیا اور علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے منٹو سرکل اسکول (جو سیف الدین طاہر ہائی اسکول کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ) میں داخل ہوئے۔

۱۹۷۲ میں ہائی اسکول مکمل کرنے کے بعد پری یونی ورسٹی سائنس میں داخلہ لیا۔ آپ بتاتے ہیں کہ والدین میڈیکل کالج میں داخلہ دلانا چاہتے تھے۔ دوسرے لوگوں کی طرح ان کی بھی خواہش تھی کہ ان کا لڑکا بڑا ہوکر ڈاکٹر یا انجینئر بنے۔ مگر بقول ابن کنول ‘پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔‘ بی اے میں اردو بنیادی مضمون قرار پایا اور اس طرح والد کی علمی وراثت کو سنبھالنے کے لیے آپ نے اسی وادی میں قدم رکھا جس کے راہ رو ان کے والد محترم تھے۔ ۱۹۷۸ میں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے ایم اے کیا۔

ادبی نشو نما

ابن کنول بتاتے ہیں کہ وہ اور ان کے دوست ایک دوسرے کو اپنی تخلیقات پڑھ کر سناتے اور خوش ہوتے۔ کنول کے ادبی ذوق کو جلا بخشنے میں علی گڑھ کی ادبی و علمی فضا کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ ایم اے میں آپ ’’انجمن اردوئے معلی‘‘ کے سکریٹری رہے۔ یہ وہی انجمن ہے جس کی بنیاد مولانا حسرت موہانی نے رکھی تھی۔ اسلم حنیف سے متاثر ہوکر ابن کنول نے اس زمانے میں انسان کے چاند پر قدم رکھنے پر پہلی نظم کہی تھی جو ماہنامہ نور رامپور میں شائع ہوئی۔ لیکن جلد ہی ابن کنول نے اندازہ لگا لیا کہ ان کا حقیقی میدان افسانہ ہے۔ اس وجہ سے آپ نے اپنی توجہ اسی طرف رکھی۔ ابتدا میں ناصر کمال کے نام سے افسانے لکھتے تھے۔ لیکن ۱۹۷۵ سے ابن کنول کے نام سے افسانے لکھنے لگے۔ ابن کنول اصل میں آپ کے والد کی طرف نسبت ہے۔ باقاعدہ افسانہ لکھنے کا آغاز ۱۹۷۲ سے ہوا۔ آپ کا پہلا مطبوعہ افسانہ ’اپنے ملے اجنبی کی طرح ‘ ہے جو ۱۹۷۴ میں آفتاب سحر (سکندرآباد) نامی رسالے میں شائع ہوا۔ جب ۱۹۷۳ میں آپ نے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں بی اے میں داخلہ لیا تو قاضی عبد الستار کی سرپرستی مل گئی۔ قاضی عبد الستار کے مکان پر ماہانہ نشستیں ہوتی تھی جس میں نوجوان ادیب اپنی نگارشات پیش کیا کرتے تھے اور قاضی عبد الستار اور دیگر ان پر تبصرہ کرتے تھے۔ ابن کنول نے بتایا کہ ’بند راستے‘ جب ۱۹۷۶ میں عصری ادب میں شائع ہوا تو محمد حسن نے اس کی بڑی تعریف کی۔ طالب علمی کے زمانے میں اردو کے اس عظیم ناقد سے تحسین کے کلمات کسی سند سے کم نہیں تھے۔ دہلی یونیورسٹی میں داخل ہونے کے بعد بھی افسانہ نگاری کا سلسلہ برقرار رہا۔ یہاں آکر پروفیسر قمر رئیس اور ڈاکٹر تنویر احمد علوی کی تربیت میں آپ کے اندر تنقیدی اور تحقیقی صلاحیتیں پروان پائیں۔

ملازمت


تعلیمی سلسلہ ختم ہونے کے بعد جلد ہی آپ کو اپنے مادر علمی دہلی یونیورسٹی میں ملازمت مل گئی۔ پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد ۱۹۸۵ میں سی ایس آئی آر کی طرف سے شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی میں ریسرچ سائنٹسٹ کے طور پر آپ نے اپنی ملازمت شروع کی۔ ۲۰۰۵ سے ۲۰۰۸ تک شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی کے صدر بھی رہے۔ فی الحال وہ شعبہ اردو کی صدارت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔

انعامات و اعزازات

  • دہلی اردو اکاڈمی فکشن ایوارڈ ۲۰۰۸
  • عبد الغفورنساخ ایوارڈ، مغربی بنگال اردو اکاڈمی،کلکتہ ۲۰۱۷
  • اس کے علاوہ ابن کنول کو بےشمار اعزازت سے نوازا گیا تھا۔

تصانیف

  • بند راستے
  • داستان سے ناول تک
  • ہندوستانی تہذیب
  • انتخاب سخن
  • میرا من
  • منتخب غزلیات
  • منتخب نظمیں
  • پچاس افسانے
  • تحقیق و تدوین
  • تنقیدی اظہار
  • تنقید و تحسین
  • تیسری دنیا کے لوگ

ابن کنول کی اور بھی بہت سی تصانیف منظرِ عام پر آچکی ہے۔ یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ ایسی قابل شخصیت آج بھی ہمارے درمیان موجود ہے اور ہماری دعا کہ وہ تادیر سلامت رہیں۔

Advertisements